Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

شاہ رخ جتوئی، ظاہرجعفر،عثمان مرزا:دولت بمقابلہ انصاف

SAMAA | and - Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago
Posted: Jan 13, 2022 | Last Updated: 3 days ago

پاکستان میں بدمست طاقت کے نشے میں چور ظاہر جعفر، شاہ رخ جتوئی اور عثمان مرزا چند ایسے چہرے اور کیسز ہیں جنہوں نے اپنے پیسے سے انصاف خریدنے کی کوشش کی اور اسے اپنے گھر کی لونڈی سمجھا۔

دیکھا جائے تو فوجداری مقدمات کی پیروی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے، جیسے گزشتہ روز 12 جنوری کو ریاست کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ مختلف کیسز کی پیروی کرے گی۔

عثمان مرزا کیس

پاکستان کی وزارتِ قانون و انصاف کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں جوڑے کو برہنہ کرنے، ان پر تشدد اور اُن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں ریاست 'تصدیق شدہ اور ناقابلِ تردید' ویڈیو شواہد عدالت میں پیش کرے گی اور جوڑے کو 'بھرپور سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔'

پاکستان تحریک انصاف کی رکنِ پارلیمان اور پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون و انصاف ملیکہ بخاری کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ قانون و انصاف کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم نے کی۔

کیس میں نیا موڑ

کیس میں نیا موڑ جب آیا، جب متاثرہ لڑکی نے منگل 11 جنوری کو عدالت میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کر دیا تھا، لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ نہ کسی ملزم کو پہنچانتی ہے اور نہ کسی ملزم کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔

شاہ رخ جتوئی

دوسری جانب دیکھا جائے تو سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں شاہ رخ جتوئی نے کیسے ایک بے گناہ کو قتل کیا اور سزا ملنے کے 11 ماہ بعد تک جیل کے بجائے بڑے علیشاہ کمرے میں ٹھاٹ باٹ سے پرتعیش زندگی گزارتا رہا، وہ اسپتالوں میں زیر علاج بھی رہا، سوال کیا جاتا ہے کہ آخر شاہ رخ جتوئی کو ایسی کون سی بیماری تھی جس کا علاج جیل یا سرکاری اسپتالوں میں ممکن نہ ہوسکا تھا، آخر کس کے حکم پر قتل کا مجرم 11 ماہ تک ایک نجی اسپتال میں آسائش کی زندگی گزارتا رہا۔

ظاہر جعفر کیس

نور مقدم کیس میں ظاہر جعفر پر فرد جرم عائد کی گئی تاہم عدالت نے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کردی۔

اس تمام تر سلسلے پر سینئر تجزیہ کار خالد عظیم صاحب کا کہنا ہے کہ عثمان مرزا، نورمقدم، شاہ رخ جتوئی کیس میں انصاف کہیں ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، جہاں مجرمان کے مقابلے میں جرم کا نشانہ بننے والے کمزور ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ عثمان مرزا کیس میں اب خود ریاست پیروی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر فوجداری مقدمے میں پیروی حکومت ہی کرتی ہے ایسے تمام کیسز میں مدعی ریاست ہی ہوتی ہے اور اس کا ٹائٹیل عموماً اسٹیٹ وی ایس فلاں فلاں ہوتا ہے، ایسے فوجداری کیسز کو آگے بڑھانا اور چلانا ہی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

خالد عظیم نے کہا کہ ایک طرف بالا دست لوگ ہیں کہ یعنی ان تینوں کیسز میں ایک تو مشترکا بات یہ ہے کہ تینوں کیسز میں مجرم پارٹی انتہائی بااثر اور پیسوں والی اور ان کے وسائل بے تحاشا ہیں، جب کہ عثمان مرزا کیس میں تو معاملہ ہی مکمل الگ ہے، وہ ایک نامی گرامی مگر اچھی شہرت والا نہیں ہے، اس کی دولت ان گنت ہے، لڑکا اور لڑکی جنہوں نے گزشتہ دنوں نیا بیان دیا اور حالات اور کیس کا رخ ہی تبدیل کردیا وہ عثمان مزرا کے مقابلے میں بہت کم زور لوگ ہیں۔

ان کے مطابق شاہ رخ جتوئی کے معاملے میں دیکھا جائے تو اس کا والد بھی با اثر، بہت بڑا بزنس مین ہے، اسی طرح سے اس کے مقابلے میں اورنگزیب خان ایک ڈی ایس پی تھے، جو کہ شازیب مقتول کے والد تھے، وہ اتنی زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے، اسی طرح سے مجرم ظاہر جعفر کے والد کو بھی ایک طرح سے بہت بڑے بزنس ٹائیکون کہا جا سکتا ہے، ان کے مقابلے میں شوکت مقدم ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر ہیں، عام آدمی نہیں مگر پھر بھی ظاہر جعفر کے والد کے مقابلے میں نور کے والد کی حیثیت اتنی بااؓثر نہیں ہے، جو باوسیلہ شخص ہوتا ہے وہ بہت اچھے اندازے میں کیس پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ معاملات اتنے لٹکتے رہے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کیسز سرد خانے میں جاتے ہوئے لگتے ہیں۔

خالد عظیم سے سوال کیا گیا کہ یہ ہوتا ہے کہ سست کیسز ہوتے ہیں، سماعت لٹکتی ہے شواہد پیش نہیں کیے جاتے یہ ایک الگ معاملہ ہے مگر جب سابق چیف جسٹس کے دیکھنے پر جب وہ اس مجرم شاہ رخ جتوئی سے سوال کرتے ہیں کہ تم یہاں موجود کیسے ہو ، تم کو تو ڈیتھ سیل میں ہونا چاہیئے تھا جس پر مجرم کھڑا ہو کر مسکراتا ہے، تو یہ ایک بہت بڑی بے بسی کی مثال ہے، جب ایک چیف جسٹس اتنے بے بس نظر ائے تو ادارے اور ایک عام آدمی کتنا اس ملک میں بے بس ہوگا؟

جس پر خالد عظیم صاحب نے متفق ہوتے ہوئے کہا کہ بے شک یہ بات درست ہے اور اس پر اسی وقت ایک سخت ایکشن ہونا چاہیئے تھا، نا صرف مجرم کے خلاف بلکہ اس کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت ایکشن لے کر نشان عبرت بنانا چاہیئے تھا، خبروں میں یہ بھی آیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس واقعہ پر سخت ایکشن لیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور چند دنوں میں یہ معاملہ بھی سامنے آجائے تو کہ مراد علی شاہ کے بیان میں کتنی حقیقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ ظاہر ہے شاہ رخ جتوئی بغیر کسی کی مدد کے بغیر تو نجی اسپتال میں نہیں جا سکتا تھا اور جن لوگوں کی مدد فراہم کی ظاہر ہے ان لوگوں نے اس کام کی کوئی نہ کوئی قیمت بھی وصول کی ہوگی، اس کے بدلے میں ان لوگوں نے شاہ رخ جتوئی کو یہ سہولیات دیں، اس کمرے کو دیکھ کر تو لگتا ہے کہ کوئی شاہانہ انداز سے زندگی گزار رہا ہے، اس ویڈیو کو دیکھ کر تو دوسروں نے بھی کہا کہ ہمیں بھی ایسے کمرے میں سزا دی جائے، جہاں ایک قتل کے مجرم کو انٹرنیٹ، ٹی وی اور فریج کی سہولت بھی میسر تھی۔

شاہ زیب قتل کیس کا ذکر کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار نے یہ بھی کہا کہ شاہ زیب دسمبر 2012 میں قتل ہوا تھا، اس کیس میں کئی موڑ آئے، پہلے تو شاہ رخ کو اس ملک سے بھگا دیا گیا، سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر کارروائی ہوتی رہی اور عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ کیسے اس ملزم کو بیرون ملک فرار کرایا گیا، تاہم عدلیہ کی جانب سے مکمل طریقہ سے کارروائی پر اسے بیرون ملک سے پاکستان لایا گیا اور دبئی سے گرفتار کرکے اسے یہاں لایا گیا اور اس پر مقدمہ درج کیا گیا، اس کے 6 ماہ بعد دہشت گردی کی عدالت نے اسے سزا دے دی تھی تاہم ساڑھے 8 سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ کیس ایک درخواست سے دوسری درخواست ایک کورٹ سے کورٹ تک ایک بال کی طرح اچھلتا رہا ہے۔

فواد چوہدری کے بیان پر رد عمل

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے 12 جنوری کو دیئے گئے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے بھی کہا کہ یہ سارا معاملہ نظام عدل پر ایک سوالیہ نشان ہے، مگر بحیثیت وفاقی وزیر اور حکراں جماعت سے وابستہ ہونے کے باوجود آپ خود اس معاملے کو اس سمت میں کیوں نہیں لے کر جاتے جہاں آپ کو یہ بیانات ہی نہ دینا پڑیں، اصلاح اصولی طور پر اداروں اور حکام بالا نے کرنی ہے کوئی باہر سے آکر یہاں اداروں اور لوگوں کی اصلاح نہیں کرے گا۔

انہوں نے بھی کہا کہ پروسیکیوشن کو لان تان کرنے سے کچھ نہیں ہوتا یہ سب ریاست کے زیر اثر ہے، چلیں صرف سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، تاہم دیگر 2 کیسز تو خود وفاقی دارالحکومت میں ہوئے، اس سارے معاملے کو آپ خود سلجھائیں اور حل کریں، کمزور فریق کیلئے کسی بھی بااثر شخص کے خلاف مقدمے کی پیروی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری

ان کے مطابق اس سے بھی مشکل ہے کہ وہ کہاں سے وکیل تلاش کرے گا، وہ کہاں اور کیسے گواہوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کیلئے کہاں سے وسائل لائے گا، روزانہ پیشیوں کیلئے کیسے وسائل اکھٹے کرے گا، جیسے عثمان مرزا کیس میں یہ بات اب ہو رہی ہیں کہ ڈیل ہوگئی ہے اور پیسے دیئے گئے ہیں، مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ بااثر افراد کا ویسے ہی خوف بہت ہوتا ہے، جب قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی کا کوئی 9 سال بعد بھی بال بیکا نہیں کر سکا تو پھر عثمان مرزا جیسے لوگوں کو بھی اپنی طاقت کے استعمال کیلئے تقویت ملتی ہے۔

عثمان مرزا کتنا طاقتور

164 کا بیان ریکارڈ کرایا ہے، لڑکی نے ملزمان کو شناخت کیا ہے اور کارروائی پوری ریکارڈ ہے، اس کیس میں گواہی کو مکرنا مشکل ہے، یہ بہت تگڑے شواہد ہیں، مدعی یعنی ریاست نہیں نہیں بھاگ رہی ہے اور ریاست کے پاس تمام شواہد ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ عثمان مرزا جب پہلے روز عدالت میں پیش ہوا تھا، تو اس نے کہا تھا کہ میں اس کیس سے ایسے نکلوں گا کہ جیسے اس قسم کا کوئی کیس مجھ پر بنا ہی نہیں تھا، یہ لوگ اتنے با اعتماد ہوتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ان کے حریف کمزور پڑ جاتے ہیں، مگر یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ویڈیو کا فرانزک ہو چکا ہے تو کیس مضبوط ہے، وہڈیو سے کسی نے آج تک انکار نہیں کیا تاہم کیس میں موڑ اس وقت گیا ہے جب لڑکا اور لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان ریکارڈ کرایا ہے، لڑکی نے ملزمان کو شناخت کیا ہے اور کارروائی پوری ریکارڈ ہے، اس کی گواہی کو مکرنا مشکل ہے، یہ بہت تگڑے شواہد ہیں، مدعی یعنی ریاست نہیں بھاگ رہی ہے اور ریاست کے پاس تمام شواہد ہیں۔

خالد عظیم نے کہا کہ شاہ رخ کے کیس میں جب مقتول شاہزیب کے والدین نے لکھ کر دیا کہ ہم مجرم کو معاف کر رہے ہیں تو اس وقت بھی عدالت پیچھے نہیں ہٹی تھی اور عدالت یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ فساد کرنے والوں کیلئے راضی نامے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ممکن ہے کہ لوگ مجرمان کو کسی کمزور، دباؤ اور خوف میں معاف کرتے ہوں، تو اس وقت میں ریاست ایسے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یہ معافی دینے کا وقت نہیں بلکہ جرم کا راستہ روکنے کی ضرورت ہے، ذمہ داری ہےجو پوری کرنے چاہیئے اور ایسے افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئیے، یہ ہی وجہ ہے کہ شاہ رخ پر اب تک سزا چل رہی ہے، ظاہر جعفر نے بھی اپنے آپ کو ذہنی مریض بنانے کیلئے عدالت میں گراؤنڈ بنایا مگر شکر عدالت اس کے چکروں میں نہیں آئی اور اب یہ بڑا امتحان ہے نہ صرف سندھ حکومت کو بلکہ وفاقی حکومت کا بھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube