Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

معاشرتی فکر کے پاسدار، شکیل احمد ارسلان

SAMAA | - Posted: Nov 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Nov 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago

 

فنون لطیفہ ہمیشہ سے معاشرے کے ارتقاء میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے کوئی بھی  پیغام بآسانی بہت سے لوگوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ میڈیا نہ ہی انسانی آسودگی کا سبب ہے بلکہ لاشعوری طور پر معاشرے کی راہ متعین کرنے کا ذریعہ ہے۔ اداکاری، ہدایت کاری، اسکرپٹ رائٹنگ کا شعبہ معاشرے میں ایک خاص اہمیت کا حق دار ہے۔ بہت سے ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹرز  آج بھی اپنی کاوشوں سے سے معاشرے کی اصلاح  میں میں اپنا کردار احسن انداز میں سرانجام دے رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کی ذہنی کیفیات اس معاشرے کے میڈیا سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ساری نشریات کہیں نہ کہیں معاشرتی پس منظر کی عکاس ہی ہوتی ہیں۔

 

شکیل احمد ارسلان ایک ایسے ہی ہدایت کار و اسکرپٹ رائٹر ہیں جن کی تحریریں اور ہدایت کاری ان کے ٹیلنٹ کا واضح ثبوت ہیں۔ شکیل احمد ارسلان نے نے کراچی یونیورسٹی سے سے ماس کمیونیکیشن میں  ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے متعدد اسکرپٹس ڈراموں کی شکل میں مختلف چینلز پر پر جاری ہو چکے ہیں۔ان کا انداز بیان اور موضوع معاشرتی مسائل اور مثبت سوچ کی طرف وہ قدم ہے جو ان کو کو فنون لطیفہ کے شعبے میں خاص مقام عطا کرتا ہے ۔ ان کی تحریریں اپنے اندر رمز پوشیدہ رکھتی ہیں جو ان کے لاشعوری سفر کو شعوری طور پر معاشرے میں پیش کرنے میں خوب کامیاب ہیں ۔ ان کی ہر تحریر کو لکھتے وقت وہ خاص کیفیت میں رہتے ہوئے اپنی استعجابی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہیں ۔ ان کی ہدایت کاری غیر معمولی انداز میں میں سامعین کو کو فکر کی دعوت دیتی ہے  جو عوام الناس کے لیے تربیتی سلسلے کی مانند ہے۔

 

اس کم عمری میں شکیل احمد ارسلان کا فن ان کے علم کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ شکیل احمد ارسلان ایک لکھاری، ایک ہدایت کار، ایک اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ  حساس طبعیت کے مالک ہیں۔ فلاحی کاموں سے ان کا دلی لگاؤ ان کی بشر دوستی کی واضح دلیل ہے۔ مسکان کے نام سے ایک ادارہ ان کی زندگی کا اہم اثاثہ ہے۔ اس ادارے کی بنیاد شکیل احمد ارسلان نے رکھی اور وہ اس کے  بانی ہیں۔ مسکان کے ذریعے عورتوں میں پائے جانے والے مرض  چھاتی کے کینسر کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ شکیل احمد ارسلان اس ادارے سے خواتین پاکستان کو چھاتی کے کینسر کی معلومات فراہم کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ کبھی لکھاری، کبھی ہدایت کاری کبھی اداکاری کے ذریعے وہ اس مرض پر توجہ کے لیے سخت محنت کرتے نظر آتے ہیں۔ شہر ، گاؤں ہر علاقے میں جاکر اس مہلک مرض کی معلومات دینا انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین بنالیا ہے۔ اس کار خیر میں ان کے ساتھ اور نوجوان بھی دلی جذبے کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔ شکیل احمد ارسلان کی ہداہت کاری اور اسکرپٹ رائٹنگ پر تو کئ بار قلم اٹھائے گئے مگر مسکان  ان کی شخصیت کا اہم جز ہے۔ مسکان شکیل احمد ارسلان کے نزدیک فلاحی کاموں کا ایسا ادارتی بندوبست ہے جس سے پسماندہ علاقوں کی خواتین بھی صحت کے اصولوں سے واقفیت اختیار کر سکتی ہیں۔

 

کچھ عرصہ قبل بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار, بحریہ یونیورسٹی کراچی میں کمیونٹی سپورٹ پروگرام اور میکسل اسٹوڈیوز کی شراکت سے منعقد کیا گیا. یہ  پروگرام طالب علموں اور عام و خاص کے لیے نہایت ضروری تھا۔ مہمان خصوصی سردار نادر نبیل گبول وائس پریزیڈنٹ یوتھ ونگ نے طلباء کی کوششوں کو سراہا اور میکسل اسٹوڈیوز کی جانب سے پیش کی گئی شارٹ فلم مسکان پہ اپنی مثبت رائے دی.  شکیل احمد ارسلان کے ادارے  “مسکان ” کی جانب سے پیش کی گئ فلم “مسکان” شعوری دعوت تھی جس کے ذریعے بریسٹ کینسر کی سنگینی اور التفات پر ذور دیا گیا۔  یہ مختصر  فلم پاکستان بھر کے کالجز، یونیورسٹیس اور مختلف  اداروں میں دکھائی جانی چاہیے جس سے معاشرے  میں نہ صرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی مستفید ہوسکتے ہیں.

 

بحریہ یونیورسٹی کے اس پروگرام میں ڈرامہ کمیونٹی کی طرف سے پیش کیا گیا کھیل بھی سب کی توجہ کا مرکز رہا.اسسٹنٹ مینجر سمیرا افضل اس پروگرام کی روح رواں تھیں. ان کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا. میڈیکل کنسلٹنٹ اونکولوجی ڈاکٹر مریم نعمان نے طالب علموں کو بریسٹ کینسر کے متعلق تفصیلی آگاہی دی اور ساتھ ہی ساتھ اس مرض سے بچائو کے طریقوں پر بھی روشنی ڈالی.اس فلم کے ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر خود شکیل احمد ارسلان تھے اور اس فلم کا بنیادی مقصد یہ بتانا تھا کہ پاکستان میں  ہر نو میں سے ایک خاتون اس مرض کا شکار ہوسکتی ہے۔  جلد تشخیص کے باعث 95 فیصد تک مریض اس جان لیوا مرض سے بچ سکتے ہیں.

 

طالب علموں نے سی ایس پی ٹیم کی جانب سے بریسٹ کینسر اسپتال کے قیام کے لئے چندہ اکٹھا کیا.مسکان کے ڈائریکٹر پروگرام  شکیل احمد ارسلان  نے واضح کیا کہ مسکان فقط ایک شارٹ فلم نہیں بلکہ آگاہی کی جانب میکسل اسٹوڈیوز کی طرف سے پہلا قدم ہے جس کے ذریعے ان کی ٹیم قوم و ملت کے لئے صحت اور سماجی مسائل اور ان کے حل کے لئے ایسی مزید فلمیں بنانے کا ارادہ رکھتی ہے.

 

شکیل احمد ارسلان کے کئی ایک ڈرامے مختلف چینلز پر نشر ہوچکے ہیں۔ ہر ڈرامہ اپنے اندر ایک پیغام پوشیدہ رکھتا ہے جو دیکھنے والوں کے شعور و لاشعور پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ ان کے لکھے گئے ہر ڈرامے کا خالص مقصد لوگوں میں مشاہدات و تجربات کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔مسکان کے پلیٹ فارم سے فلم ” مسکان” اس کی ایک تمثیل ہے جس کے ذریعے شکیل احمد ارسلان کی کاوشوں کا تخمینہ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے مواقع فراہم کرنا اور خواتین کے اندر پائے جانے والے امراض ان کی تحریروں کا مرکز معلوم ہوتے ہیں ۔ اس طرح کے تجربہ کار اور حساس لوگوں کا منظر عام پر آنا معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان کا ارادہ مستقبل میں فلم میکنگ میں پی ایچ ڈی کا ہے تاکہ وہ اور بہتر انداز میں اپنا پیغام لوگوں کے شعور میں منتقل کرسکیں۔ الغرض شکیل احمد ارسلان ترقی کی جانب بڑھتا ایسا ستارہ ہے جو مادہ پرستی سے ماورا موجودات کی پہرے داری کو اپنی ذمے داری سمجھتا ہے۔ ان کا عمل ان کی سوچ و فکر کی مزید نشاندہی کرتا ہے اور ان کی فکر سب کے سامنے پیش نہاد ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube