Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

اُنس جابر ٹاپ10 میں جگہ بنانےوالی پہلی عرب ٹینس کھلاڑی

SAMAA | - Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Oct 27, 2021 | Last Updated: 1 month ago

ٹینس کے عالمی افق پر عموماً امریکی اور یورپی کھلاڑیوں کی بالادستی  ہے لیکن تیونس سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ خاتون کھلاڑی اُنس مسلسل محنت اور اپنے شاندار کھیل کی وجہ سے دنیا کی ٹاپ 10  میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔

اُنس جابر اب ڈبلیو ٹی اے کی تازہ ترین عالمی درجہ بندی میں  8 ویں نمبر پر ہیں جو دنیائے عرب کیلئے ایک تاریخی کارنامہ اور اعزاز ہے ۔ اب اُنس جابر کا اگلا ہدف گرینڈ سلام سنگلز ٹائٹل کا حصول ہے ۔ اُنس جابر سے قبل مینز اور ویمنز سنگلز دونوں کیٹیگری میں کوئی عرب یا افریقی کھلاڑی ٹاپ 10  میں جگہ نہیں بنا سکا ۔ اُنس جابر افریقہ کی  نمبر ایک خاتون کھلاڑی ہیں۔

ہر وقت مسکرانے والی اُنس جابر کو تیونس میں منسٹر آف  ہیپی نیس ( خوشی کی وزیر ) کہا جاتا ہے۔ ڈبلیو ٹی اے کی نئی رینکنگ میں ٹاپ 10 میں اُنس جابر کی رسائی پر پوری عرب دنیا میں جشن منایا جا رہا ہے۔ عرب دنیا میں ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ اُنس جابر نے ایک دہائی قبل  مصری اسپورٹس صحافی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ٹینس کی ٹاپ 10  کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں ضرور کامیاب ہو گی ۔ گزشتہ دنوں انڈین ویلس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں رسائی نے اُنس جابر کے اس خواب  کو حقیقت میں بدل دیا۔

اُنس جابر کا کہنا ہے کہ گو یہ میرے خواب کی تکمیل ہے لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ ابتدا ہے  لیکن  میں اس مقام پر ہی اکتفا نہیں کروں گی بلکہ آگے بڑھوں گی ۔ مجھے کامل یقین ہے کہ میں اپنی پوزیشن کو مزید بہتر بنائوں گی ۔ میں کافی عرصے سے اچھا کھیل پیش کررہی تھی اوراس جگہ کی مستحق تھی۔

انڈین ویلس سیمی فائنل میں رسائی اُنس جابر کے کیریئر کا  بڑا کارنامہ ہے ۔ انس جابر نے انڈین ویلس کوارٹر فائنل میں اسٹونیا کی  اینٹ کونٹاویٹ کو زیر کیا تھا ۔ تیونس میں سیاسی صورت حال تلاطم خیز ہے اور لوگ مشکلات کے شکار ہیں ۔ ان حالات میں تیونس کی فٹبال ٹیم اور اُنس جابر اپنی کامیابیوں کے ذریعے عوام کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا کام کررہی ہیں۔ عرب دنیا میں ٹینس کا کھیل زیادہ مقبول نہیں ہے اور خواتین بہت ہی کم تعداد اس  کھیل میں دل چسپی رکھتی ہیں اور وہاں ٹینس کیلئے انفراسٹرکچر بھی زیادہ مستحکم نہیں ہے ۔ ان مشکل حالات میں اُنس جابر کا  ٹاپ 10 میں جگہ بنانا واقعی بڑا کارنامہ ہے۔

اُنس جابر نے سال رواں کے اوائل میں بر منگھم میں اپنے کیریئر کا پہلا ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل جیتا تھا ۔ اسٹورنامنٹ کے دوران اُنس جابر نے ایک ہی دن میں تین میچ جیتے جن میں دو سنگلز اور ڈبلز میچ تھا ۔ فائنل میں میں اُنس جابر نے روس کی ڈاریا کاسٹکینا کو شکست دے کر اپنے کیریئر کا پہلا ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل جیتا تھا اس طرح اُنس جابر نے تین سال قبل  کریملن کپ 2018  کے فائنل میں کاسٹکینا کے ہاتھوں تین سیٹ کے سخت مقابلے میں شکست کا حساب  چکا دیا تھا ۔ اُنس جابر نے اپنے کیریئر میں آئی ٹی ایف سرکٹ میں   11  سنگلز اور ایک ڈبلز ٹائٹل جیتا ہے۔

اُنس جابر رواں سال کے گرینڈ سلام ایونٹ ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھیں جہاں انہوں نے کئی ٹاپ کھلاڑیوں کو شکست سے دو چار کیا ۔ وہ ومبلڈن کوارٹر فائنل میں رسائی کرنے والی پہلی عرب کھلاڑی تھیں جہاں انہیں بیلاروس کی اریانا سبالینکا نے اُنس جابر کو سوا گھنٹے کے سخت مقابلے میں 4-6-3-6  سے ہرا کر فتوحات کا سلسلہ روک دیا تھا۔

اُنس جابر صرف ٹینس کھلاڑی نہیں بلکہ وہ ایک دردمند دل بھی رکھتی ہیں اور خیرسگالی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں ۔  کرونا وائرس پینڈامک نے دنیا کو زبردست متاثر کیا ۔ تیونس بھی کوویڈ 19 کی وجہ سے مشکلات سے دوچار تھا۔ تیونس میں کوویڈ متاثرین کی ریکارڈ تعداد تھی جس کی وجہ سے ہستپالوں پر زبردست دبائوتھا جہاں مریضوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں تھی۔

ان حالات میں اُنس جابر اپنے ہم وطنوں کی مدد میں کسی طور پیچھے نہیں رہیں اور انہوں نے اپنا ٹینس ریکٹ  نیلام کر کے رقم دوائوں اور میڈیکل آلات کی خریداری کیلئے عطیہ کر دی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میرا ملک مشکل صورت حال سے دوچار تھا تو میں صرف تماشائی بن کر ایک طرف کھڑی نہیں رہ سکتی تھی ۔ اس ریکٹ سے اُنس جابر نے ومبلڈن ٹورنامنٹ کے دوران تین گرینڈ سلام ونرز وینس ولیمز‘ گاربین موگوروزا اور ایگا سواٹیک جیسی کھلاڑیوں کو زیر کیا تھا۔

اُنس جابر نے 2008 میں ڈبلیو ٹی اے ایونٹس میں شرکت کر کے پروفیشنل ٹینس کا آغاز کیا تھا ۔  انہوں نے 2009  میں یو ایس اوپن جونیئر میں گرینڈ سلام ڈیبیو کیا تھا  ۔وہ فرنچ  اوپن 2010  کے گرلز جونئیر سنگلز فائنل میں الینا سویٹولینا نے شکست کھا گئی تھیں ۔ اگلے سال 2001 میں  وہ 16 سال کی عمر میں رولینڈ گیروس پر فرنچ اوپن جونیئر فائنل میں پورٹوریکو کی مونیکا پوئیگ کو زیر کر کے پہلا جونیئر گرینڈ سلام ٹائٹل جیتے میں کامیاب ہو گئی تھیں ۔ اُنس جابر مصر کے اسماعیل الشافی کے بعد گرینڈ سلام جونیئر ٹائٹل جیتنے والی دوسری عرب تھیں  ۔ اسماعیل نے 1964 میں ومبلڈن جونیئر ٹائٹل  اپنے نام کیا تھا ۔

اُنس جابر نے موجودہ عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی کی پارٹنر شپ میں گریڈ اے انٹرنیشنل جونیئر روہمپٹن ایونٹ بھی جیتا تھا انس جابر کو ان کی شاندار کارکردگی پر 2019  میں اسپورٹس میں عرب ویمن آف دی ائر کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

تیونسی ٹینس اسٹار نے 2020 کے پہلے گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن کے کوارٹر فائنل میں رسائی کی تھی اور وہ کسی بھی گرینڈ سلام کوارٹر فائنل میں جگہ بنانے والی پہلی عرب خاتون کھلاڑی بن گئی تھیں ۔ اس کے بعد انہوں نے سال رواں میں شاندار کارکردگی پیش کرتے ہوئے ومبلڈن کوارٹر فائنل میں جگہ بنائی تھی ۔ اُنس جابر کا کہنا ہے کہ راجر فیڈرر نے ومبلڈن 2021  میں میری شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی تھی جس سے مجھے بڑا حوصلہ ملا اور  اس مبارک باد نے میچ جیتنے کیلئے میری خواہش کو بڑھا دیا۔

سروس اُنس جابر کا مہلک ہتھیار ہے۔ وہ تمام شاٹس مہارت کے ساتھ کھیلتی ہیں ۔ پہلی سروس پر پوائنٹس حاصل کرنے میں ماہر ہیں ۔ پہلی سروس پر پوائنٹس حاصل کرنے کا تناسب  70 فیصد ہے ۔ ایشلے بارٹی سمیت کئی ٹاپ کھلاڑی پہلی سروس میں انس جابر سے زیادہ  پرفیکٹ نہیں ہیں۔  تیونسی ٹینس اسٹار ڈراپ شاٹس ‘ والی ‘ ایسز ‘فور ہینڈ ‘ بیک ہینڈ شاٹس بھی مہارت سے کھیلتی ہیں۔

 وہ اپنی فتوحات اور شاندار کارکردگی کا سہرا اپنے کوچ عصام جلالی اوراپنے شوہر و فٹنس ٹرینر کریم کامون کے سر باندھتی ہیں جو ان کے ساتھ مسلسل سفر میں رہتے ہیں ۔ کریم کامون روس میں پیدا ہوئے تھے اور تیونس میں پرورش پائی وہ سابق پروفیشنل فینسر ہیں ۔ اُنس جابر اور کریم کامون 2015 میں رشتہ ازدواج میں مسلک ہوئے تھے۔  کریم عربی ‘انگلش ‘فرانسیسی اور روسی زبان روانی سے بولتے ہیں ۔ عصام جلالی تیونس کے سابق ڈیوس کپ کھلاڑی ہیں ۔

 اُنس جابر کا کہنا ہے کہ اگرعزم صمیم ہو تو پھر کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن نہیں ہوتا ۔ انسان کے مضبوط ارادے مشکلات کو آسان بنا دیتے ہیں ۔ اُنس  جابر نے ایک دہائی قبل مصری سپورٹس صحافی کو انٹرویو کے دوران اپنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ عالمی رینکنگ میں ٹاپ 10 میں جگہ بنائے گی  اور اب اس نے اپنے خواب کو حیقیت کا روپ دے دیا ہے۔ اُنس جابر کا کہنا ہے کہ اگر میں اس پوزیشن پر پہنچ سکتی ہوں تو عرب دنیا کی دیگر ٹینس کھلاڑی بھی اس مقام کو حاصل کر سکتی ہیں لیکن اس کیلئے سچا جذبہ اور لگن انتہائی اہم ہے۔

تیونس سے تعلق رکھنے والی سلیمہ صفر نے بھی ٹینس کی دنیا میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اُنس جابر نے سلیمہ صفر  کے میچز کبھی نہیں دیکھے تھے ۔ سلیمہ صفر عالمی رینکنگ میں 75  ویں نمبر پر تھیں ۔ وہ فرانسیسی  کھلاڑی نتھالی توزیت کے ساتھ ٹریننگ کرتی تھیں ۔ تاہم مراکش سے تعلق رکھنے والے ٹینس اسٹار ہشام ارازی اپنے کیریئر میں چار مرتبہ گرینڈ سلام  کوارٹر فائنلز میں پہنچے تھے لیکن وہ رینکنگ میں ٹاپ 10 میں جگہ نہیں بنا پائےتھے۔2001 میں  ان کی بہترین رینکنگ عالمی نمبر 22 تھی ۔ ہشام بھی اُنس جابر کو کھیل کےحوالے سے مفید مشورے دیتے رہتے ہیں ۔

اُنس جابر کے آئیڈیل امریکی سابق عالمی نمبر ایک اینڈی روڈک  بھی ان کے کھیل سے متاثر ہیں اور وہ حالیہ چند برسوں میں اُنس کی کارکردگی کو حیرت انگیز اور ناقابل یقین قرار دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور اس کے کھیل میں بھی خاصی بہتری آئی ہے۔

ڈبلیو ٹی اے رینکنگ میں ٹاپ 10 میں شامل ہونے پر اُنس جابر کو ساتھی کھلاڑیوں  اور ٹینس یجنڈز نے بھی مبارکباد کے پیغامات بھیجے ہیں۔ ان میں بلی جین کنگ ‘ مارٹینا نیورا ٹیلووا ‘ ٹریسی آسٹن ‘  کرس ایورٹ ‘ وکٹوریہ آزارینکا ‘ ایشلے بارٹی ‘ ثانیہ مرزا ‘ اینڈی مرے ‘ یونس العیناوی ‘ ہشام ارازی ‘ سلوین اسٹیفنز ‘ جینیفر بریڈی ‘ کم کلسٹرز اور دیگر شامل ہیں ۔

ٹینس لیجنڈ بلی جین کنگ کا کہنا ہہے کہ اُنس جابر انتہائی باصلاحیت کھلاڑی ہے جس کی کارکردگی مسلسل بہتر ہو رہی ہے  ۔ اُنس میں عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر براجمان ہونے کی بھرپور خصوصیات ہیں اور وہ اس مقصد کیلئے درست سمت میں سفر کر رہی ہیں ۔

اُنس جابر 28 اگست 1994 کو  تیونس کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئی تھیں ۔ لیکن ان کی پرورش تیونس کے تیسرے بڑے شہر اور قرون وسطیٰ کے تاریخی شہر سوسہ میں ہوئی ۔ ان کی والدہ شوقیہ ٹینس کھیلتی تھیں اور انہوں نے ہی اپنی بیٹی کے ہاتھ میں تین سال کی عمر میں ریکٹ تھمایا تھا اور اسے ٹینس کی ابتدائی تربیت دی تھی۔  اس کے بعد وہ چار سال کی عمر میں کوچ نبیل ملیکا کی زیر تربیت رہیں جنہوں نے اُنس جابر کو ٹینس کے کھیل کی باقاعدہ تربیت دی اور کھیل کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا ۔ اُنس جابر کے کلب میں ٹینس کورٹ نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں قریبی ہوٹلز کے کورٹ میں تربیت حاصل کرنا پڑتی تھی۔

اُنس جابر کی ٹینس کے کھیل میں دل چسپی اور بہتر کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے والدین دارالحکومت تیونس چلے گئے جہاں 12 سالہ اُنس کو ملک کے باصلاحیت اور نوعمر ایتھلیٹس کیلئے قائم  نیشنل اسپورٹس ہائی سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔ جہاں وہ چند برس زیر تربیت رہیں اور ان کی صلاحتیوں میں نکھار پیدا ہوا۔ اس کے بعد اُنس جابر نے مزید تربیت کیلئے فرانس اور بلجیئم کا سفر کیا۔ ان ملکوں میں جدید سہولتوں سے آراستہ ماحول نے اُنس جابر میں ناصرف اعتماد پیدا کیا بلکہ ان کی مہارت میں بھی اضافہ کیا۔

اُنس جابر کا کہنا ہے کہ میں جب چھوٹی تھی اور اپنی والدہ کے ساتھ کھیلتی تھی تو ان سے کہتی تھی کہ میں آپ سے زیادہ باصلاحیت ہوں اور آپ کو ہرا دوں گی ۔ اُنس کا کہنا ہے کہ آج میں جس مقام پر موجود ہوں جس میں میرے والدین کی قربانیوں کا بڑا اہم کردار ہے۔ میرے والدہ پورے ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں شرکت کیلئے لے جاتی تھیں ۔ وہ کھیل کے ساتھ میری تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دیتی تھیں ۔  وہ میرے خواب کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی تھیں اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اس خواب کی تعبیر پالی ۔ وہ میری صلاحیتوں پر یقین رکھتی تھیں اور ان کی بھرپور توجہ اور رہنمائی نے مجھے کامیابی کی اس شاہراہ پر گامزن کرنے کا حوصلہ دیا۔

وہ تیونس میں ٹریننگ کے دوران لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے پروان چڑھی کیونکہ ان کے ساتھ پریکٹس کیلئے کوئی لڑکی موجود نہیں تھی۔ اُنس جابر انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلتی ہیں اور ان کے شاٹس بہت زوردار ہوئے ہیں ۔ کورٹ میں ان کے شاٹس کی کری ایٹیوٹی کی کوئی حد نہیں ہے جو ان کی کامیابی کا اہم ہتھیار ہے۔ جونیئر سے سینیئر کیٹیگری میں آنے کے بعد اُنس جابر کو میچ میں وہ نتائج نہیں مل رہے تھے جس کی انہیں توقع تھی ۔ انہیں جلد ہی اس کا احساس ہو گیا تھا کیونکہ ان کے ساتھ کھیلنے والی دوسری کھلاڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ٹاپ 100 اور ٹاپ 50 میں پہنچ رہی تھیں۔

جون 2018 میں اُنس جابر عالمی رینکنگ میں 180 ویں نمبر پر تھیں ۔ وہ 2020   کے اختتام پر 32  ویں نمبر پر تھیں لیکن 2021  کا سال ان کیلئے خوشیوں کا پیغام لے کرآیا  اور وہ زیادہ تر ٹورنامنٹس کے کوارٹر فائنل اور  سیمی فائنل میں پہنچیں اور برمنگھم میں رواں سال ہی انہوں نے اپنے کیریئر کا پہلا ڈبلیو ٹی اے ٹائٹل جیتا۔

انہوں نے ہر قسم کے امتیاز اور مشکلات کا جم کر مقابلہ کیا اور اپنی لگن اور جذبے سے یہ مقاام حاصل کیا ہے۔  میچ کے دوران اُنس جابر کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں میچ کے نتیجے کی پروا نہیں کرتی ‘ اچھا کھیل پیش کرتی ہوں اور میری مسکراہٹ  میں میرے اچھے کھیل کا راز چھپا ہے۔

ٹینس کورٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے باوجود اُنس جابر کو اسپانسر شپ کیلئے ان کے عرب النسل ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا جاتا تھا ۔ وہ میچوں کے دوران ہمیشہ اپنی  شرٹ کی آستین پر اپنے ملک کا پرچم اور دل چسپاں کرتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے تیونسی اور عربی النسل ہونے پر فخر ہے۔  اُنس جابر نے اس بنیاد پر اسپانسر شپ نہ ملنے سے پیدا ہونے والی مشکلا ت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور دل براشنہ نہیں ہوئیں بالآخر  اُنس مثالی کارکردگی اور تیز رفتاری سے ترقی کو دیکھتے ہوئے اب متعدد برانڈز نے خود ان کو اسپانسر  کرنے کیلئے آگے آئے ہیں ۔

اُنس جابر عرب خواتین کیلئے ٹریل بلیزر کی حیثیت رکھتی  ہے۔ ان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر اب  دنیائے عرب کی لڑکیوں نے ٹینس کے کھیل میں دل چسپی لینا شروع کی ہے۔

اُنس جابر کی رواں سال میں شاندار کار کردگی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ڈبلیو ٹی اے ٹور میں سب س زیادہ 48 میچ جیتنے والی کھلاڑی ہیں جبکہ کوئی اور خاتون کھلاڑی 45 فتوحات کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ لیکن ماسکو میں ہونے والے کریملن کپ کے پہلے رائونڈ میں دائیں کہنی زخمی ہونے کی وجہ سے اُنس جابر کو روسی کھلاڑی ایکٹریناالیگزینڈرا کے خلاف پہلے رائونڈ میں ریٹائرمنٹ  پر مجبورہونا پڑا۔ اس وجہ سے وہ سال رواں میں 50 میچ جیتنے والی کھلاڑی کا اعزاز حاصل نہیں کر پائیں ۔ لیکن اُنس جابر کو قوی امید ہے کہ وہ یہ کارنامہ انجام دے گی۔ انس  جابر کے اگلے ماہ نومبر میں گوڈالاجالا  کے ڈبلیو ٹی اے فائنلز میں جگہ بنانے کے بھی قوی امکانات ہیں کیونکہ عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی نے رواں سیزن میں مزید ٹورنامنٹس میں حصہ نہ لیبنے کا اعلان کیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube