Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

ٹی 20 ورلڈ کپ کی تاريخ

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سن 2007 میں ٹی ٹوئنٹی کا پہلا عالمی کپ جنوبی افریقا میں منعقد کیا گیا تو ٹیسٹ کرکٹ کے قدامت پسند ناقدین نے اس ٹورنامنٹ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور بھارت کے تين کھلاڑيوں نے ايونٹ کھيلنے سے انکار کيا جس ميں سچن ٹنڈولکر، راہول ڈراوڈ اور ساريو گنگولی شامل تھے جس سے ٹی ٹوئنٹی فارميٹ کے مستقبل پر سواليہ نشان لگ گيا تھا۔ 

اسی سال مارچ اور اپريل ميں پچاس اوورز کا عالمی کپ ويسٹ انڈيز ميں ہوا جو مالی اعتبار سے آئی سی سی کيلئے کافی نقصان دہ ثابت رہا اس کی سب سے اہم وجہ پاکستان اور بھارت کی ٹيموں کا سپر ايٹ مرحلے کيلئے کواليفائی نہ کرنا تھا۔ چار ماہ بعد ايک اور عالمی ايونٹ کرانا انٹرنيشنل کرکٹ کونسل کيلئے کسی چيلنج سے کم نہيں تھا وہ بھی اس وقت جب کئی اسٹارز ايونٹ کا حصہ نہ ہو اور آئی سی سی کو بھارت کی باغی ليگ ”آئی سی ايل” سے خطرہ ہو۔

بھارت کے تين سينئر کھلاڑيوں کی غير موجودگی ميں بھارتی کرکٹ ٹيم کی قيادت مہندر سنگھ دھونی کے سپرد کی گئی۔ تمام طر خدشات اور تحفظات کے باوجود شائقين کرکٹ نے اس عالمی کپ ميں انتہائی دلچسپی لی۔ اس کی وجہ پاکستان اور بھارت کی ٹيموں کی شاندار پرفارمنس تھی بالخصوص فائنل میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے سنسنی خیز مقابلے نے اس فارمیٹ میں نئی روح پھونک دی۔

جوہانسبرگ ميں ہونے والے فائنل ميں بھارت نے پاکستان کو 5 رنز سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کی۔ پاکستان کو ميچ جيتنے کيلئے 158 رنز کا ہدف ملا جواب ميں قومي ٹيم کی 6 وکٹيں 77 رنز پر گرچکی تھيں۔ ميچ بھارت کے ہاتھ ميں تھا مگر پھر مصباح الحق نے وہ کيا وہ کسي نے سوچا بھی نہ تھا۔ پاکستان ٹیم جیت سے صرف 13 رنز کی دوری پر تھی اور مصباح کي صورت میں امید کی کرن بھي موجود تھی۔

بھارتی کپتان دھونی نے آخری اوور تجربہ کار ہربھجن سنگھ کے بجائے چوتھا ميچ کھيلنے والے جوگيندر شرما کو ديا۔ پہلی گيند وائيڈ ہوئی۔ اگلي گيند پر کوئی رن نہيں بن سکا۔ اوور کی دوسری گيند پر مصباح الحق نے چھکا مار ديا۔

اب پاکستان کو 4 گيندوں پر 6 رنز درکار تھے مصباح الحق کو گيند ”فٹبال” جيسی نظر آرہی تھی وہ چاہتے تو جوگيندر شرما کو گراونڈ کے کسی بھی حصے ميں شاٹ مار سکتے تھے مگر تيسری گيند پر مصباح الحق نے پيڈل سوئپ شاٹ کھيلا جو سيدھا شارٹ فائن ليگ پر کھڑے شری شانت کے ہاتھوں میں گيا اور پاکستان عالمی کپ کی ٹرافی ہار گيا۔

ايونٹ ميں سب سے زيادہ (265) رنز آسٹريليا کے اوپنر ميتھو ہيڈن نے بنائے۔ بہترين بولرز کی فہرست ميں پاکستان کے عمر گل سب سے آگے رہے۔ پاکستاني پيسر نے (13) شکار کيے۔ ٹورنامنٹ کے بہترين کھلاڑی کا ايوارڈ شاہد آفريدی کو ديا گيا۔

مختصر فارميٹ کا دوسرا عالمی کپ دو سال بعد سن 2009 ميں ہوا۔ اس ايونٹ ميں پاکستان کرکٹ ٹيم کی قيادت يونس خان نے کی۔ ايونٹ ميں پاکستان کا آغاز مايوس کن تھا مگر سپر8 مرحلے ميں پاکستان نے پہلے نيوزی لينڈ اور پھر آئرلينڈ کو ہراکر سيمی فائنل ميں جگہ بنائی۔ شاہد آفريدی نے سیمی فائنل اور فائنل دونوں میں میچ وننگ نصف سنچریاں اسکور کیں اور دونوں میں ہی مین آف دی میچ رہے۔ پاکستان نے فائنل ميں سری لنکا کو 8 وکٹوں سے ہراکر ٹائٹل اپنے نام کيا۔ سری لنکا کے اوپنر تلکارتنے دلشان نے ايونٹ ميں سب سے زيادہ (317) رنز بنائے۔

جس پر انھيں ايونٹ کے بہترين کھلاڑی کا ايوارڈ ديا گيا۔ پاکستان کے عمرگل نے مسلسل دوسری بار ميگا ايونٹ ميں سب سے زيادہ وکٹيں ليں۔ گل نے (13) کھلاڑيوں کو نشانہ بنايا۔

سن 2010 ميں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے تيسرے ايڈٰيشن کی ميزبانی ويسٹ انڈيز نے کی۔ اس بار پاکستان کرکٹ ٹيم کی قيادت شاہد آفريدی کے حصے ميں آئی۔ قومي ٹيم نے سيمی فائنل ميں پہنچنے کی ہيٹ ٹرک کی۔ قومي ٹيم اس بار بھی ٹائٹل جيتنے کيلئے فيورٹ تھی مگر مائيکل ہسی نے تاريخ ساز اننگز کھيل کر پاکستان کے ارمانوں پر پانی پھير ديا۔

سيمی فائنل ميں پاکستان نے پہلے کھيلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 191 رنز کا پہاڑ کھڑا کيا۔ اکمل برادران يعني کامران اکمل نے 50 اور عمراکمل نے ناقابل شکست 56 رنز کی اننگز کھيلی۔ ہدف کے تعاقب ميں آسٹريليا کی آدھی ٹيم 105 رنز پر پويلين ميں تھی۔ آسٹریلیا کو سیمی فائنل جیتنے کے لیے اب بھی 45 گیندوں پر 87 رنز درکار تھے۔ ميچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط تھی مگر مائيکل ہسی نے تن تنہا فتح پاکستان سے چھين لی۔ آخری اوور ميں ہسی نے سعيد اجمل کو تين چھکے اور ايک چوکا لگايا۔

ايونٹ کا فائنل آسٹريليا اور انگلينڈ کے درميان کھيلا گيا جس ميں انگلينڈ نے 7 وکٹوں سے فتح سميٹی۔ يہ انٹرنيشنل کرکٹ ميں انگلينڈ کا پہلا بڑا ٹائٹل تھا۔ انگلينڈ کے کيون پيٹرسن کو پليئر آف دی ٹورنامنٹ کا ايوارڈ ديا گيا۔ آسٹريليا کے فاسٹ بالر ڈرک نينس نے سب سے زيادہ (14) وکٹيں حاصل کيں اور سری لنکا کے مہيلا جے وردھنے نے سب سے زيادہ (302) رنز بنائے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا چوتھا ايڈيشن سن 2012 ميں ہوا جس کی ميزبانی سری لنکا نے کی۔ اس بار پاکستان کے کپتان محمد حفيظ تھے۔ لگاتار چوتھی بار قومی کرکٹ ٹيم نے سيمی فائنل ميں جگہ بنائی مگر سری لنکا نے پاکستان کو ايونٹ سے باہر کرديا۔ فائنل ميں ويسٹ انڈيز کا مقابلہ ميزبان ملک سے تھا جس ميں ڈيرن سيمی کی قيادت ميں ويسٹ انڈيز کی ٹيم چيمپئن بنی۔

آسٹريليا کے شين واٹسن ٹورنامنٹ کے بہترين کھلاڑی قرار پائے۔ شين واٹسن نے ايونٹ ميں سب سے زيادہ (249) اسکور کيے۔ سب سے زيادہ (15) وکٹيں سری لنکا کے اسپنر اجنتا مينڈس نے ليں۔

سن 2014 ميں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا پانچواں ايڈيشن بنگلاديش ميں کھيلا گيا۔ پہلی بار مختصر فارميٹ کے عالمی ايونٹ ميں پاکستان کا کپتان نہيں بدلا مگر ايک چيز جو پہلی بار ہوئی اور وہ تھی قومی کرکٹ ٹيم کا سيمی فائنل تک نہ پہنچنا۔ حفيظ کی قيادت قومی ٹيم سيمی فائنل کيلئے کواليفائی نہ کرسکی۔ بھارت اور سری لنکا کے درميان فائنل کھيلا گيا۔ جس ميں سری لنکا نے بھارت کو 6 وکٹوں سے ڈھير کيا۔ ويرات کوہلی کو پليئر آف دی ٹورنامنٹ کا ايوارڈ ديا گيا۔ سب سے زيادہ (319) رنز ويرات کوہلی اور سب سے زيادہ (12) وکٹيں جنوبی افريقہ کے عمران طاہر نے ليں۔

اس فارمیٹ کا چھٹا اور آخری عالمی کپ سن 2016 میں بھارت میں کھیلا گیا۔ اس بار پاکستان کرکٹ ٹيم کی قيادت کا اعزاز شاہد آفريدی کو ملا مگر اس بار بھی قومي ٹيم سيمی فائنل کيلئے کواليفائی نہ کرسکی۔ ايونٹ کے فائنل میں ویسٹ انڈیز نے انگلش ٹیم کو 4 وکٹوں سے زير کيا۔ آخری اوور ميں ويسٹ انڈيز کو 19 رنز درکار تھے مگر کارلوس برتھ ويٹ نے بين اسٹوکس کو لگاتار چار چھکے لگاکر ہاری ہوئی بازی کو

جيت ميں بدل ديا۔ بين اسٹوکس نے انگلينڈ کيلئے ولن کا کردار نبھايا اور ریمیمبر دی نیم کارلوس برتھ ويٹ کی پہنچان بن گيا۔

ويرات کوہلی مسلسل دوسری بار ايونٹ کے بہترين کھلاڑی قرار پائے۔ رنز کی دوڑ ميں بنگلاديش کے تميم اقبال (295) رنز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے۔ افغانستان کے محمد نبی نے سب سے زيادہ (12) وکٹيں حاصل کيں۔

انتطامی وجوہات کی بنیاد پر انٹرنيشنل کرکٹ کونسل نے اعلان کیا کہ اس فارمیٹ کا اگلا عالمی کپ سن 2018 کے بجائے سن 2020 میں اکتوبر اور نومبر کے دوران آسٹریلیا میں ہوگا مگر عالمي وبا ”کورونا” کے باعث آئی سی سی نے ايونٹ ملتوی کرديا۔ رواں سال ہونے والا ورلڈ کپ بھی بھارت ميں شيڈول تھا ليکن وہاں کورونا کی خراب صورتحال کے باعث ايونٹ کو يو اے ای اور عمان منتقل کرديا گيا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا ميزبان اب بھی بھارت ہے بس وينيو تبديل کيا گيا ہے۔ ايک خاص بات جو يہاں غور طلب ہے وہ يہ ہے کہ ” آج تک کسی بھی ميزبان ملک نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہيں جيتا ہے۔”

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube