Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

عالمی چیمپئن فرانس یوایفا نیشنز لیگ ٹائٹل بھی جیت گیا

SAMAA | - Posted: Oct 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago

عالمی فٹبال چیمپئن فرانس نے میلان کے سان سیرو اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے  نیشنز لیگ 2021  کے فائنل میں  شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسپین کو1-2  سے شکست دے کر پہلی بار ٹائنل جیت لیا۔ 

فائنل میں بھی فرانس نے سیمی فائنل کی طرح خسارے میں جانے کے بعد کم بیک کیا تھا۔ فرانس کی اس فتح میں کریم بن جمعہ اور کلیان امباپے نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اسپین رنرز اپ رہا  جبکہ تیسری پوزیشن کے میچ میں میزبان اٹلی نے بلجیئم گولڈن جنریشن کو 1-2 سے شکست دی ۔ ان دونوں میچوں میں گیند پر زیادہ دیر تک قبضہ جمائے رکھنے والی ٹیموں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

فائنل میچ میں اسپین نے اپنے روایتی شارٹ پاسز کے ذریعے  گیندپر 64فیصد قبضہ جمائے رکھا ۔ پہلے ہاف میں سرتوڑ کوششوں کے باوجود دونوں ٹیمیں گول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں ۔  کھیل کے 63 وی منٹ میں فرانس کا سنہری موقع اس وقت ضائع ہو گیا جب تھیو ہرنانڈس کی شوٹ  ہسپانوی گول بار سے ٹکرا کر باہر نکل گئی  تاہم اگلے منٹ میں سپانوی ٹیم نے کائونٹراٹیک کیا جس کے نتیجے میں بوسکٹس کے  خوبصورت پاس پر اوئیرزابال نے  گول کر کے اسپین کوایک گول کی سبقت دلوا دی  لیکن یہ برتری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور 66  ویں منٹ میں  کریم بن جمعہ نے ناقابل یقین گول کر کے میچ 1-1 برابر کردیا ۔

کریم بن جمعہ کو فرانسیسی باکس ایریا میں گیند ملی تھی جنہوں نے کئی حریف کھلاڑیوں کے جمگھٹے میں شوٹ کیلئے جگہ بنائی اور انہیں چکمہ دیتے ہوئے گیند کو ہسپانوی گول پوسٹ کے ٹاپ کارنر میں  پہنچا دیا جسے یونائی سائمن کوشش کے باوجود نہ روک پائے۔

اسپین کے  فٹبالرز نے ایک مرتبہ برتری حاصل کرنے کیلئےکئی اچھی مووز بنائیں لیکن وہ مضبوط دفاعی لائن کی وجہ سے گیند کو گول میں نہیں پہنچا سکے ۔ کھیل کے 80 ویں منٹ میں  کلیان امباپے کو ہرنانڈس نے  بہترین پاس دیا جس پر انہوں نے بائیں پائوں سے گیند کو گول میں پہنچا دیا ۔ جب امباپے کو گیند ملی تو وہ آف سائیڈ پوزیشن میں تھے ۔ ہسپانوی کھلاڑیوں نے اس پر اعتراض کیا لیکن ریفری نے وی اے آر دیکھنے کے باوجود گول برقرار رکھا حالانکہ ایکشن ری پلے میں واضح طور پر امباپے آف سائیڈ نظر آرہے تھے۔

کھیل کے 88 ویں منٹ میں اسپین نے زبردست حملے کو فرانسیسی گول کیپر لورس نے ناکام بنایا جب انہوں نے اوئیرزابال کی روز دار شوٹ کو ڈائیو لگاتے ہوئے پنچ کر کے باہر پھینک دیا ۔ اضافی وقت کے آخری لمحات میں بھی ہوگو لورس نے کارنر کک پر اسپین کے یریمی پینو کی گول میں جاتی شوٹ کو روکا اور وہ ٹیم کو کامیابی سے ہم کنار کیا ۔ وہ اس میچ میں ہیرو ثابت ہوئے اور مین آف دی قرار پائے ۔ فرانس اس کامیابی کے ساتھ مسلسل 25 میچوں میں ناقابل شکست ہے۔

  فرانس نیشنز لیگ جیتنے والا دوسرا ملک ہے اولین نیشنز لیگ ٹرافی پرتگال نے 2019 میں اپنی سرزمین کرسٹیانو رونالڈو کی قیادت میں پر جیتی تھی  فرانس فیفا ورلڈ کپ ‘یوایفا نیشنز لیگ  اور یورپین چیمپئن شپ  جیتنے والا پہلا ملک بن گیا ۔ کلیان امباپے کو فائنلز کا ٹاپ اسکورر ایوارڈ اور اسپین کے بوسکٹس کو پلیر آف دی فائنلز ٹرافی دی گئی۔

یو ایفا نیشنز لیگ فرانس کا آٹھواں انٹرنیشنل اور ریجنل فٹبال ٹائٹل ہے۔ اس سے قبل فرانس نے  دومرتبہ فیفا ورلڈ کپ 1998 اور 2018 میں جیتا تھا ۔ فرانسیسی فٹبال ٹیم نے 1984 اور 2000 میں یورپین فٹبال چیمپئن شپ اپنے نام کی تھی جبکہ 1985 میں انٹرنیشنل کپ آف نیشنز کا فاتح بھی فرانس تھا ۔ فرانس نے  2001 اور 2003میں فیفا کنفیڈریشنز کپ بھی جیتا تھا۔

یوونٹس اسٹیڈیم تورن میں  میزبان اٹلی نے بلجیئم کو 1-2 سے ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کی ۔رومیلو لوکاکو اور ایڈن ایزرڈ کے بغیر ٹیم میدان میں اتری تھی جبکہ ڈی بروئنے کو بھی دوسرے ہاف میں لایا گیا تھا ۔  گو اس میچ میں  گیند پر بلجیئم کا قبضہ  60 فیصد تھا لیکن اطالوی ٹیم کے خلاف بلجیئم کی باصلاحیت گولڈن جنریشن کو گول کرنے کے مواقع میسر نہیں آئے۔ پہلا ہاف بغیر کسی گول کے برابر رہا جبکہ دوسرے ہاف میں پہلےمنٹ میں اٹلی کے بیریلا نے کارنر کک پر گول کر ک اپنی ٹیم کو سبقت دلوائی تھی جسے برابر کرنے کیلئے حریف کھلاڑیوں کی کوششیں بارآور ثابت نہیں ہوئیں ۔ اٹلی کی جانب سے 65 ویں منٹ میں دوسرا گول بیرارڈی نے پنالٹی کک پر کیا۔ بلجیئم کاواحد گول 86 ویں منٹ میں چارلس ڈی کیٹالیرا نے کیا ۔

 سان سیرو اسٹیڈیم میلان میں کھیلے جانے والے پہلے سیمی فائنل میں اسپین کے نوجوان اور پرعزم کھلاڑیوں پر مشتمل فٹبال ٹیم نے یورو چیمپئن اٹلی کو ایک کے مقابلے دو گول سے ہرا کر نا صرف یورو 2020 کے سیمی فائنل میں شکست کا حساب برابر کر دیا بلکہ اطالوی فٹبال ٹیم کے 37  میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا حالانکہ اٹلی کو اس کی مسلسل شاندار کارکردگی کے باعث فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا۔

سیمی فائنل میں ہسپانوی فٹبالرز اپنے روایتی حریف پر مکمل طور پر حاوی رہے ۔ ان کی بالادستی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ میچ کے دوران  گیند پر  75  فیصد فبضہ ان کا تھا جبکہ گیند صرف 25  فیصد اطالوی فٹبالرز کے پاس رہی۔ فاتح ٹیم کی جانب سے ان کے دونوں گول فیرن ٹورس نے پہلے ہاف میں کیے تھے۔

اسپین نے میچ کے آغاز سے ہی گیند کو اپنے کنٹرول میں رکھا اور روایتی شارٹ پاسز کے ذریعے خوبصورت مووز بنائیں ۔ گو کہ اسپین کو اس اہم ایونٹ میں اپنے نصف درجن سے زائد سینیئر کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں ہیں اس کے باوجود نوجوان کھلاڑیوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور وہ اپنے کوچ لوئیس اینرک کے اعتماد پر پورے اترے ۔  اس کے برعکس اٹلی کی ٹیم میں وہ تمام کھلاڑی موجود تھے جنہوں نے اٹلی کو یورو  کپ 2020  جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

 ہسپانوی فارورڈز نے  ابتدا سے ہی اٹلی کی گول پوسٹ پر حملے کیے لیکن گول کیپر ڈوناراما نے  ان کی کوششوں کو ناکام بنایا تاہم 17 ویں منٹ میں مائکل اویئرزابال کے خوبصورت کراس کو فیرن ٹورس  نے خوبصورت والی کے ذریعے گول میں تبدیل کر دیا اوراپنی ٹیم کو ایک گول کی برتری دلوا دی۔ اطالوف فٹبالرز نے گول کو برابر کرنے کی کوششیں کیں اور 34 ویں منٹ میں کیسا نے ہسپانوی باکس میں  گیند نے پر گول کرنے کی اچھی کوشش کی جس کو گول کیپر یونائی سائمن نے ناکام بنا دیا ۔ اگلے ہی منٹ میں  اٹلی کو ایک اور سنہری موقع ملا تھا لیکن کیسا کا لگائی گئی شوٹ ہسپانوی گول پوسٹ کے بالکل قریب سے باہر چلی گئی ۔

پہلا ہاف کے آخری منٹوں میں اطالوی کھلاڑی گول کو اتارنے کیلئے زیادہ بے چین دکھائی دیئے اور اس فرسٹریشن میں انہوں نے فائول پلے بھی کیا۔

اطالوی کپتان بنوچی کو کو ایک فائول پر یلو کارڈ دکھایا جا چکا تھا لیکن 41 ویں منٹ میں گیند حاصل کرنے کیلئے ایک فضائی چیلنج کے دوران بنوچی نے ہسپانوی فٹبالر بوسکٹس کے چہرے پر روز سے کہنی ماری جس کے نتیجے میں ایک اور یلو کارڈ دکھائے جانے پرانہیں ریفری نے باہر کر دیا جو ٹیم کیلئے بڑا دھچکہ تھا ۔ اطالوی ٹیم کو باقی میچ 10 کھلاڑیوں سے کھیلنا پڑا۔

ہسپانوی ٹیم نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پانچ منٹ بعد انجری ٹائم میں   اولونسو اور سارابیا نے اچھی موو بناتے ہوئے اویئرزبال کو پاس دیا جنہوں نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر فضا میں اچھل کر والی لگائی جس پر فیرن ٹورس نے  ہیڈ کے ذریعے گیند کو اطالوی گول پوسٹ میں پہنچانے میں کوئی غلطی نہیں کی اور اطالوی کیپر ڈونارواما اسے روکنے میں ناکام رہے۔

  دوسرے ہاف میں بھی ہسپانوی فٹبالرز نے اپنے روایتی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیند پر مکمل کنٹرول رکھا اور گول کرنے کی مسلسل کوششیں کرتے رہے ۔

دوسری جانب اٹلی کے کھلاڑیوں کو جب بھی گیند ملتی تو وہ اسے ہسپانوی گول پوسٹ تک لیجانے کی کوشش کرتے تھے لیکن  اسپین کا مضبوط دفاع ان  کیلئے آہنی دیوار بنا ہوا تھا ۔  81  ویں منٹ میں فریڈریکو کیسا نے اپنی ڈربلنگ اور برق رفتاری سے ہسپانوی دفاعی کھلاڑیوں کو چکمہ دیتے ہوئے متبادل کھلاڑی پلگرینی کو پاس دیا جنہوں نے اسے گول میں تبدیل کر دیا ۔ اس کے بعد دونوں ٹیموں کی جانب سے گول میں اضافہ کرنے کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں اور میچ  2-1  سے اسپین کے نام رہا۔ اطالوی ٹیم میچ میں اپنا روایتی کھیل پیش کرنے میں ناکام رہی  اس شکست کے ساتھ ہی یورو چیمپئن کا نیشنزلیگ جیتنے کا خواب چکنا چور ہو گیا تھا۔

ستمبر 1999 کے بعد اطالوی فٹبال ٹیم اپنی سرزمین پر کسی مسابقت والے میچ میں پہلی بار شکست سے دوچارہوئی جب اسے ڈنمارک نے 3-2 سے ہرایا تھا۔

10 ستمبر 2018 میں لزبن  کے اسٹیڈیم میں اٹلی کو آخری بار پرتگال کے ہاتھوں نیشنز لیگ کے میچ ہی  1-0 سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔  اس میچ میں پرتگالی اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو  نے خصہ نہیں لیا تھا۔ پرتگال کی جانب سے فیصلہ کن گول آندری سلوا  نے میچ کے دوسرے ہاف میں کیا تھا۔ اطالوی مینیجر رابرٹو منچینی  نے پولینڈ کے خلاف نیشنز لیگ کا افتتاحی میچ کھیلنے والی اپنی ٹیم میں نو تبدیلیاں کی تھیں۔ افتتاحی میچ 1-1 سے برابر رہا تھا۔

اٹلی کے  37 میچوں میں ناقابل  شکست رہنے کے  ریکارڈ کاآغاز یوکرائن کے خلاف 10 اکتوبر 2018 کو 1-1 گول سے برابر رہنے والے میچ سے ہوا تھا ۔ اٹلی نے برازیل اور اسپین کا مسلسل 35 میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا ریکارڈ  سینٹ جیکب پارک باسل میں سوئیزرلینڈ کے خلاف میچ میں توڑا تھا۔ سوئس ٹیم اور اٹلی کا فیفا ورلڈ کپ کولیفائنگ راؤنڈ کا یہ میچ بغیر کسی گول کے برابر رہا تھا۔

برازیلین ٹیم کے ناقابل شکست رہنے کا دورانیہ 1993-1996 اور اسپین کا 2007-2009  پر محیط تھا۔ اٹلی نے  37 میچوں میں ناقابل شکست رہنے کا یکارڈ قائم کیا ہے۔  اٹلی نے چھ دوستانہ میچ 8 یوایفا نیشنزلیگ میچ‘10 یورو 2020کوالیفائنگ راؤنڈ میچ‘سات یورو 2020 میچ6 فیفا ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میچ کھیلے۔  اٹلی نے 28 میچ جیتے اور  9 ڈرا ہوئے ۔ الجزائر کی ٹیم بھی 2018 سے  29 میچوں میں ناقابل شکست ہے۔

ان میچوں میں اٹلی نے 93گول  کیے اور اس کے خلاف صرف 12 گول ہوئے تھے۔ اس دوران جولائی میں  اٹلی نے یورو 2020 کا اعزازبھی جیتا۔  اٹلی نے 53 سال کے وقفے  کے بعد اپنا دوسرا یورو کپ جیتا  تھا۔ اٹلی نے پہلی مرتبہ 1968 میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر یورو ٹائٹل حاصل کیا تھا۔  اٹلی نے اسپین کے ہاتھوں شکست سے قبل لتھوانیا کو فیفا ورلڈ کپ کوالیفائن گراؤنڈ میچ میں 5-0 سے زیر کیا تھا جو  37 واں ناقابل شکست میچ تھا۔ اب اٹلی اپنااگلا میچ ورلڈ کپ کوالیفائنگ رراؤنڈ میں سوئیزرلینڈ کے خلاف 12نومیر کو اسٹیڈیو اولمپکو میں کھیلے گا۔ اٹلی یورپ کے گروپ سی میں 6 میچوں میں 14 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ اس گروپ  میں سوئیزرلینڈ‘ناردن آئرلینڈ‘ بلغاریہ اورلتھوانیا شامل ہیں۔

  بارسلونا سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ مڈفیلڈر گیوی نے اٹلی کے خلاف اس میچ میں اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کیا اور انہوں نے انتہائی اعتماد سے میچ کھیلا۔ حالانکہ انہوں نے بارسلونا کی جانب سے صرف تین میچ کھیلے ہیں۔ فیرن ٹورس ہپسانوی ٹیم کے نئے اسٹار کھلاڑی کے طور پر سامنے آرہے ہیں اور انہوں نے20 میچوں میں  یکم ستمبر 2020 کے بعد سے 11 گول کیے ہیں جبکہ کوئی اور کھلاڑی پانچ گول سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے۔ اوئیزربال کے پاس پر فیرن ٹورس نے پہلا گول خوبصورت والی کے ذریعے  مشکل زاویے سے کیا تھا۔

گیوی اسپین کی سینیئر ٹیم کی نمائندگی کرنے والا کم عمر ترین کھلاڑی بن گیا جس نے 17 سال 62 دن کی عمرمیں ڈیبیو کیا اس سے قبل یہ ریکارڈ اینگل زوبیٹا کے پاس تھا جنہوں نے 1936 میں 17 سال 284 دن کی عمرمیں سینیئر ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔

دوسرے سیمی فائنل میں عالمی چیمپئن فرانس نے دو گول سے خسارے میں جانے کے بعد شاندار کم بیک کرتے ہوئے رینگنگ میں عالمی نمبر ایک بلجیئم کو 3-2  سے زیر کر کے فائنل میں رسائی کی ۔

 بلجیئم کی گولڈن جنریشن نے میچ کے پہلے ہاف میں دو گول کی برتری حاصل تھی اور شروع سے ہی میچ پر ان کی گرفت خاصی مضبوط تھی لیکن  میچ کا آخری نصف گھنٹہ فرانسیسی فٹبالرز کے نام رہا جس میں انہوں نے غیر معمولی کارکردگی پیش  کی۔  کریم بن جمعہ‘  کلیان امباپے ‘  پال پوگبا ‘ انتونیو گریزمان  اور تھیو ہرنانڈس نے ریڈ ڈیولز کی سبقت ختم کر کے اپنی ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ امباپے کا یہ 50 انٹرنیشنل میچ تھا جس میں انہوں نے پنالٹی کک پر ایک گول کیا اور ایک گول کرنے میں معاونت بھی کی ۔

بلجیئم نے میچ کےآغاز سے ہی کھیل پر اپنی گرفت رکھی  اور بہترین مووز کے ذریعے بارہا فرانسیسی دفاع کو توڑا۔ چوتھے ہی منٹ میں فرانسیسی گول کیپر لورس نے باکس ایریا سے لگائی گئی رومیلو لوکاکو کی تیز شوٹ  کو روک کر یقینی گول بچایا۔ گیند  ریبائونڈ پر ڈی بروئنے کے پاس آئی لیکن ان کی کک زیادہ جاندار نہیں تھی جسے لورس نے بآسانی  پکڑ لیا ۔

رومیلو لوکاکو نے 37  ویں منٹ میں  یانک کراسکو نے گول کر کے بلجیئم کو برتری دلوائی اور تین منٹ بعد ہی اسٹار فٹبالر رومیلو لوکاکو نے دوسرا گول کردیا ۔ بہترین فارورڈ لائن پر مشتمل فرانسیسی ٹیم پہلے ہاف میں کوشش کے باوجود گول نہیں کر پائی۔  دوسرے ہاف کے ابتدائی 20 منٹوں میں بھی بلجیئم  کے فٹبالرز حاوی رہے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس بار گولڈن جنریشن فرانس کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لے گی اور اسے ٹرافی جیتنے کا موقع میسر آئے گا لیکن آخری نصف گھنٹے کے  کھیل نے میچ کا نقشہ ہی پلٹ دیا ۔

میچ کے62 ویں منٹ میں کلیان امباپے نے فرانسیسی ہاف میں گیند حاصل کی اور وہ تیزی سے بلجیم  گول پوسٹ کی جانب بڑھے انہوں نے کئی کھلاڑیوں کو خوبصورتی سے ڈاج دیتے ہوئے کریم بن جمعہ کو پاس دیا جنہوں نے  ڈربلنگ کرتے ہوئے اپنے لیے جگہ بنائی اور موقع ملتے ہی زور دار کک لگائی جو بلجیم گول پوسٹ کے نچلے حصے میں چلی گئی اور گول کیپر کورٹوئس ڈائیو لگانے کے باوجود اسے نہ روک پائے۔

ایک گول کرنے کے بعد فرانسیسی فٹبالرز کے کھیل میں تیزی آگئی اور انہوں نے گول برابر کرنے کیلئے  کئی مووز بنائیں ۔  69 ویں منٹ میں وی اے آر پر  فرانس کو پنالٹی کک ملی جس پر کلیان امباپے نے گول کرنے میں کوئی غلطی کی۔ امباپے یورو 2020  میں پنالٹ کک ضائع کر چکے تھے۔

88 ویں منٹ میں کراسکو کے پاس پرو لوکاکو نے گول کر دیا تھا لیکن وی اے آر میں پتہ چلا کہ وہ آف سائیڈ تھے جس پر گول منسوخ کر دیا یا اس کے دو منٹ بعد ہی پال پوگبا کی فری کک کراس بارکو چھوتی ہوئی باہر چلی گئی اس کے چند لمحے بعد فرانس کے تھیو ہرنانڈس نے باکس میں سے خوبصورت شوٹ کے ذریعے گول کر دیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا ۔

فرانس کیلئے 2012 کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ دو گول سے خسارے میں جانے کے باوجود ٹیم فتح یاب ہوئی ۔ فرانس نے 2012 میں آئس لینڈ کو دو گول سے خسارے میں جانے کے بعد 3-2 سے ہرایا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube