Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

پرتگال پہلی بار فٹسال کا عالمی چیمپئن بن گیا

SAMAA | - Posted: Oct 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فٹبال لیجنڈ کرسٹیانو رونالڈو تو اپنے ملک کو فٹبال ورلڈ کپ جتوانے میں اب تک کامیاب نہیں ہو سکے لیکن لیتھوانیا میں پرتگال کے فٹسالرز نے فائنل میں سخت مقابلے کے بعد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو  2-1  سے شکست دے کر پہلی مرتبہ فٹسال ورلڈ کپ کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

پرتگال کی اس فتح میں ان کے اسٹار فارورڈ پینی کا مرکزی کرادا رہا جنہوں نے فاتح ٹیم کی جانب سے دونوں گول کیے۔ کھیل کے اغٓاز سے ہی پر عزم پرتگالی فٹسالز دفاعی چیمپثن کے خلاف برق فتاری سے حملے کر رہے تھے ایک اچھی مووکے نتیجے میں 15 ویں منٹ میں پینی نے سارمینٹو کو چکمہ دے کر پہلا گول کر دیا۔

ارجنٹینا  کے کھلاڑی اسی برتری کو ختم کرنے کیلئے کوشاں رہے لیکنن پہلا ہاف پرتگال کی سبقت پر ختم ہوا دوسرے ہاف میں ارجنٹینا  کے کلاڈینو نے 28 ویں منٹ میں گول کر کے اسکور برابر کیا لیکن چند لمحے بعد ہی پرتگال کے پینی نے دوسرا گول داغ دیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔ پرتگالی کپتان ریکارڈینو کے خلاف خطرناک فائول پر ارجنٹینا کے کرسٹین بروٹو کو ریڈ کارڈ دکھا کر باہر نکال دیا گیا تھا ۔ یہ ٹورنامنٹ میں ریڈ کارڈ دکھانے کا واحد واقعہ تھا۔

پرتگال کے کپتان ریکارڈینو نے فٹسال ورلڈ کپ کے اعزاز کے ساتھ اپنے شاندار انٹرنیشنل کیریئر کا اختتام کیا ان کا کہنا تھا کہ ہم یورو فٹسال چیمپئن  کے ساتھ اب عالمی چیمپئن بھی ہیں اور یہ ہمارے کھلاڑیوں کی ورلڈ کلاس کارکردگی کا ثبوت ہے۔  ٹورنامنٹ میں شاندار کاکردگی پر 36 سالہ ریکارڈینو کو گولڈن بال کا مستحق قرار دیا گیا  جبکہ فائنل میں دو گول کرنے والے ان کے ہموطن پینی سلور بال اور برازیل کے ڈگلس جونیئر س برانز بال کے حقدار ٹھہرے۔

ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 9 گول کرنے پر برازیل کے  فیرائو کو گولڈن بوٹ 8 گول کرنے پر پینی کو سلور بوٹ اور ٹینن کو چھ گول کرنے پر برانز بوٹ کا ایوارڈ دیبا گیا۔ پینی ٹورنامنٹ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تمام چھ میچوں میں گول کیے۔  ٹورنامنٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والےارجنٹائنی گول کیپر نیکو سارمینٹو گولڈن گلو کا اعزاز لے اڑے۔ 2016 کے ورلڈ کپ میں بھی یہ ایوارڈ ان کے حصے میں آیا تھا ۔ قازقستان کو فیئر پلے ٹرافی سے نوازا گیا۔

فٹبال میں سب سے زیادہ ورلڈ کپ جیتنے والا ملک برازیل نے فٹسال میں بھی اپنی بالا دستی قائم کر رکھی ہے اور اس نے پانچ مرتبہ فٹسال ورلڈ کپ اپنے نام کبے جبکہ اسپین دو مرتبہ فٹسال چیمپئن رہا ۔ برازیل کے روایتی حریف ملک ارجنٹینا نے 2016 میں پہلی بار فٹسال ورلڈ کپ جیتا تھا  اور اب پرتگال فٹسال ورلڈ کپ جیتنے والا چوتھا ملک بن گیا ہے۔

فٹبال کا کھیل دنیا بھر میں مقبول ترین ہے لیکن اب فٹسال بھی تیزی کے ساتھ عالمی سطح پر فروغ پا رہا ہے ۔ لیتھوانیا فٹسال کے 9  ویں  ورلڈ کپ  کا میزبان ملک تھا جس میں دنیا بھر سے 24  ممالک نے شرکت کی  ۔ فٹسال ورلڈ کپ بھی فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی زیر سرپرستی  ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے ۔  شیڈول کے مطابق فٹسال ورلڈ کپ کا انعقاد 12 ستمبر سے 4  اکتوبر 2020  تک ہونا تھا لیکن کرونا وائرس پینڈامک کی وجہ سے اسے بھی فٹبال ورلڈ کپ کی طرح موخر کر دیا گیا تھا اور صورت حال میں بہتری کے بعد لتھوانیا میں منعقد کیا گیا ۔

فٹسال ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے آٹھ ملکوں کوسٹا ریکا ‘ کروشیا ‘ ایران ‘ جاپان ‘ قازقستان ‘ لتھوانیا‘ نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات نے دل چسپی کا اظہار کیا تھا ۔ ان ملکوں میں سے کسی نے بھی پہلے فٹسال ورلڈ کپ کی میزبانی نہیں کی تھی جس کا مطلب یہ تھا اس بار ورلڈ کپ کا میزبان نیا ملک ہو گا ۔ شارٹ لسٹنگ میں چار امیدوار ایران جاپان نیوزی لینڈ اور لتھوانیا باقی رہ گئے  تھے ۔26 جولائی 2018 کو کیغالی روانڈا میں فیفا  کونسل کے اجلاس میں میزبان ملک کا  قیصلہ ہوا اور قرعہ لتھوانیا کے نام نکلا تھا  ۔ فٹسال ورلڈ کپ کے میچز تین شہروں ویلینئس ‘ کائونس اور کلائی پیڈا میں کھیلے گئے ۔

جمہوریہ چیک ‘ جارجیا ‘ ہالینڈ ‘ مصر اور امریکہ نے بھی فٹسال ورلڈ کپ کی میزبانی میں دل چسپی کا اظہار کیا تھا لیکن ان ملکوں نے بڈنگ میں حصہ نہیں لیا تھا ۔

فٹسال ورلڈ کپ فائنلز کیلئے ٹیموں کا انتخاب کا طریقہ کار ورلڈ کپ جیسا ہی ہے۔ اس بار یو ایفا سے میزبان لتھوانیا سمیت سات ‘اے ایف سی سے پانچ ‘ کونکاکاف سے چار ‘ جنوبی امریکہ سے چار‘ افریقہ سے تین اور اوشینیا سے ایک ٹیم نے کوالیفائی کیا تھا ۔24  ٹیموں کو چار چار ٹیموں کے چھ  گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔

گروپ اے میں قازقستان ‘وینزویلا‘ کوسٹا ریکا اور لیتھوانیا ‘  گروپ بی میں آر ایف یو ( روس ) ‘ازبکستان ‘گوئٹے مالا اور مصر‘ گروپ سی میں پرتگال ‘ مراکش ‘ تھائی لینڈ اور سولومن آئزلینڈ‘ گروپ ڈی برازیل ‘جمہوریہ چیک ‘ ویت نام  اور پانامہ ‘ گروپ ای میں اسپین ‘ پیراگوئے ‘جاپان اور انگولا ‘ گروپ ایف میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا ‘ایران ‘ سربیا اور امریکہ  شامل تھے۔

فٹسال ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد گروپ اے سے قازقستان اور وینزویلا گروپ بی سے روس اور ازبکستان ‘ گروپ سی سے پرتگال‘ مراکش گروپ ڈی سے برازیل ‘ جمہوریہ چیک گروپ ای سے اسپین ‘ پیراگوئے  گروپ ای ارجنٹینا اور ایران نے اگلے مرحلے کیلئے والیفائی کیا جبکہ تیسرے نمبر پر رہنے والی چار بہترین کارکردگی کی حامل ٹیموں گروپ سی سے تھائی لینڈ گروپ ڈی سے  ویت نام  گروپ ای سے جاپان اور گروپ ایف سے سربیا نے بھی اگلے مرحلے میں رسائی کی ۔

فٹسال ورلڈ کپ کے رائونڈ 16  میں  مراکش نے وینزویلا کو 3-2  سے ‘ برازیل نے جاپان کو 4-2 سے ‘ روس نے ویت نام کو 3-2 سے‘  ارجنٹینا نے پیراگوئے کو 6-1 سے ہرایا ۔ اسپین نے جمہوریہ چیک کو 5-2  سے ‘ ایران نے ازبکستان کو 9-8  سے قازقستان نے تھائی لینڈ کو 7-0 سے شکست دی ۔ پرتگال نے اضافی وقت میں سربیا کے خلاف سخت مقابلے کے بعد 4-3 سے کامیابی حاصل کی ۔

کوارٹر فائنل مرحلے میں برازیل کو مراکش کو 1-0  سے زیر کرنے کیلئے زبردست  محنت کرنا پڑی۔ مراکش کے فٹسالرز نے غیر معمولی کارکردگی پیش کی ۔ برازیل کے روڈریگر اریجو نے 11 ویں منٹ میں گول کر کے اپنی ٹیم کو سبقت دلوائی تھی ۔ اس کے بعد برازیلی کھلاڑی مزید کوئی گول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جبکہ مراکشی کھلاڑیوں نے سبقت ختم کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں جو بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔ پانچ بار کے عالمی چیمپئن ملک برازیل کو مراکش کے اٹلس لائنز کی غیرمتوقع سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹورنامنٹ میں مراکش کی کارکردگی مثالی رہی ۔

فٹسال ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی کے نتیجے میں مراکش نے نئی عالمی رینکنگ میں لمبی جست لگائی اور 14 ویں نمبر پر پہنچ گئی ۔ مراکش عالمی فٹسال رینکنگ میں اتنی بہتر پوزیشن پر پہنچنے والا پہلا افریقی ملک ہے  ۔ مراکش فٹسال میں عرب کپ ہولڈر ہے ۔ فٹسال عرب کپ کے دوران مراکش کے کھلاڑیوں نے غیرمعمولی کھیل پیش کرتے ہہوئے 27 گول کیے تھے جبکہ اس کے خلاف صرف دو گول ہوئے تھے۔

کوارٹر فائنل میں ارجنٹینا اور روس  کے مابین  بھی  کانٹے کا مقابلہ ہوا ۔ میچ مقررہ اور اضافی وقت میں ایک ایک گول سے برابر رہا جس کے بعد پنالٹی ککس پر فیصلہ ہوا جس میں ارجنٹینا نے 5-4  سے کامیابی حاصل کی ۔ پرتگال نے دو مرتبہ کے چیمپئن ملک اسپین کو بآسانی 4-2  کے مارجن سے ہرایا ۔ قازقستان ایران کے خلاف 3-2  سے فتح یاب رہا تھا ۔

ارجنٹیا نے سیمی فائنل میں روایتی حریف برازیل کو 2-1 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار فائنل میں جگہ بنائی تھی  اور اسے فائنل میں پہنچانے کا تمام تر سہرا گول کیپر  نیکو سارمینٹو کے سر تھا جس نے برازیلی فٹسالرز کے 17 حملوں کو ناکام بنایا اور وہ آہنی دیوار ثابت ہوئے۔

میچ  کے 11 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے کونسٹانٹینو واپوراکی  نے پہلا گول کر کے اپنی ٹیم کو سبقت دلوائی اور دو منٹ بعد ہی ایک اچھی موو کے نتیجے میں  ارجنٹیا کی جانب سے کرسٹین بوروٹو نے دوسرا گول کر دیا۔ برازیلین کھلاڑیوں نے اس برتری کو ختم کرنے کیلئے تیز رفتاری سے حریف گول پوسٹ پر حملے کیے لیکن گول کیپر نیکو سارمینٹو ان کے آڑے آئے تاہم 17 ویں منٹ میں برازیل کے اسٹرائیکر فیرائو نے پہلا گول کر کے اسکور  2-1   کر دیا ۔ اس کے  بعد  برازیلی کھلاڑیوں نے دبائو بڑھا دیا اور گول برابر کرنے کی سرتوڑ کوششیں کیں لیکن پہلا ہاف ختم ہونے تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

کھیل کے دوسرے ہاف میں برازیل کے کھلاڑیوں نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور شاندار مووز بناتے ہوئے ارجنٹینا کے گول پر پے در پے حملے کیے لیکن گول کیپر سارمینٹو ان کی راہ میں حائل رہے  جنہوں نے  کئی یقینی گول بچائے ۔2016 کے فٹسال ورلڈ کپ میں بھی سارمینٹو نے ارجنٹینا کو عالمی چیمپئن بنوانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔ اس بار کوالیفائنگ رائونڈ میں بھی ان کی کارکردگی  غیرمعمولی تھی ۔

برازیل کے خلاف اس کامیابی سے  فٹسال ورلڈ کپ میں ارجنٹینا  کی فتوحات کی تعداد 30  ہو گئی جبکہ برازیل 57 فتوحات کے ساتھ پہلے اور اسپین 48 فتوحات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ارجنٹائنی لیجنڈ فٹبالر لیونل میسی نے برازیل کے خلاف فٹسال میح سیمی فائنل ٹی وی پر لائیو دیکھا اور ٹیم کی کامیابی کے فوری بعد مبارکباد کا پیغام بھیجا ۔ انہوں نے اپنی خوشی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماراکانا میں برازیل کو کوپا امریکہ  میں شکست دینے کے بعد ارجنٹینا کی یہ دوسری بڑی فتح ہے۔

دوسرے سیمی فائنل میں پرتگال نے قازقستان کو سخت اور دل چسپ مقابلے میں پنالٹی ککس پر 3-4 سے ہرا کر پہلی بار فائنل  کھیلنے  کا اعزاز حاصل کیا تھا ۔پرتگال کی اس فتح میں ان کا گول کیپر بیبی ہیرو ثابت ہوا جس نے 11 حملوں کو ناکام بنایا اور دو پنالٹی ککس روکیں ۔ میچ کا آغاز انتہائی تیزی سے ہوا تھا اور دونوں ٹیمیں کو کوشش تھی کہ وہ پہلی مرتبہ ورلڈ کپ فائنل میں رسائی کریں ۔ پرتگال کے پینی نے 23 ویں منٹ میں گول کر کے سبقت دلوائی تھی  جسے 40 ویں منٹ  میں قازقستان کے  نورغزن نے گول کر کے ختم کر دیا۔

دو منٹ بعد ہی قازق کھلاڑی ڈگلس جونیئر نے گول کر کے ٹیم کو ایک گول کی برتری دلوا دی جسے برابر کرنے کیلئے پرتگالی کھلاڑیوں نے سرتوڑ کوششیں کیں لیکن قازقستان کا مضبوط دفاع ان کے آڑے آیا  ۔ میچ کے آخری  دو منٹ تک ایسا لگتا تھا کہ قازق ٹیم فائنل میں پہنچ جائے گی لیکن  49 ویں منٹ میں  پرتگال کے برونو نے گول کر کے مقابلہ 2-2 سے برابر کر دیا۔

اضافی وقت میں بھی  دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی برتری کیلئے کوششیں بارآور ثابت نہیں ہو سکیں اور میچ پنالٹی ککس پر چلا گیا جس میں پرتگالی گول کیپر بیبی  نے شاندار دفاع کیا اور ڈگلس جونیئر کی پہلی پنالٹی کک روک کر  ٹیم کو ایڈوانٹیج دلوایا۔ پرتگال کی جانب سے پہلی پنالٹی پر برونو دوسری پر اینڈری نے گول کیے جبکہ پینی کی تیسری پنالٹی قازق گول کیپر نے روک لی۔ قازقستان کے ترساگولوف ‘لیو ہیوگوئیٹا اور  اقبالیکوف نے پنالٹی ککس پر گول کیے جبکہ آرنلڈ کانوب کی پنالٹی ضائع ہو گئی۔  پرتگال کے ریکارڈینو اور بریٹو نے دو پنالٹی ککس پر گول کر کے ٹیم کو فائنل میں پہنچانے کا کارنامہ انجام دیا۔

 فٹسال ہارڈ کورٹ میں فٹبال گرائونڈ سے نسبتاً چھوٹے گرائونڈ پر کھیلا جاتا ہے  اس کھیل کا آغاز مونٹی ویڈیو یورو گوئے میں 1930 میں ہوا تھا۔  ہر ٹیم پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے جس میں ایک گول کیپر ہوتا ہے۔ متبادل کھلاڑیوں کی کوئی حد مقررنہیں ہے۔ ہر ٹیم 12 کھلاڑی استعمال کر سکتی ہے۔ 20 ‘20 منٹ کے دو ہاف ہوتے ہیں جن کے درمیان  15 منٹ کا بریک ہوتا ہے اور میچ کے دوران جب بھی

گیند ڈیڈ ہوجاتی تو میچ کا وقت رک جاتا ہے ۔ فٹسال میں فٹبال کے مقابلے میں کم بائونس والی گیند استعمال کی جاتی ہے۔

مونٹی ویڈیو کے ایک استاد یوآن کارلوس اس کے موجد ہیں جنہوں  نے وائی ایم سی اے میں  1930  میں انڈور فٹبال کے نئے ورژن کا تجربہ کیا تھا ۔ یہ کھیلا ابتدا میں باسکٹ بال کورٹ پر کھیلا جاتا تھا۔ اس کی پہلی رول بک 1933 میں تیار کی گئی تھی اوراس کے قوانین فٹبال سے ہی لیے گئے تھے۔ گوروگوئے 1930  میں فٹبال ورلڈ کپ جیت چکا تھا ۔ اس سے قبل 1924  اور 1928 میں سمر اولمپکس میں فٹبال میں گولڈ میڈلسٹ تھا جس کی وجہ سے فٹبال کا کھیل وہاں بہت مقبول تھا۔ یہاں سے جنوبی امریکہ کے وائی ایم سی ایز میں  تیزی کے ساتھ اس نئے کھیل کو فروغ ملا  کیونکہ اسے ہر طرح کے موسم میں ہر شخص آسانی سے کھیل سکتا  تھا۔  فیفا سے الحاق رکھنے والی فٹسال کے انٹرنیشنل ملکوں کی تعداد 158 ہے۔

فٹسال کی تازہ ترین عالمی رینکنگ میں برازیل پہلے ‘ اسپین دوسرے ‘ ارجنٹینا تیسرے ‘ روس چوتھے ‘پرتگال پانچویں ‘ قازقستان چھٹے ‘ ایران ساتویں ‘اٹلی  آٹھویں ‘ کروشیا نویں  اور پیراگوئے  دسویں نمبر پر ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube