Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

طالبان کابینہ میں غیر پختون اراکین کون کون ہیں؟

SAMAA | - Posted: Sep 13, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 13, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago

افغان طالبان نے 7 اگست کو اپنی 33 رکنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا، جس میں اہم وزارتوں اور ملکی اداروں کے سربراہان کے نام شامل تھے تاہم توقعات کے برعکس اس میں دیگر نسلی گروہوں جیسے تاجک، ازبک، ہزارہ، خواتین اور اقلیتوں کو شامل نہیں کیا گیا۔

افغانستان کی عبوری کابینہ میں طالبان کے علاوہ دیگر فریقین کے نام شامل نہیں تھے، جس کا عالمی برادری کی جانب سے طالبان سے مطالبہ کیا جارہا تھا۔

طالبان کے معاون وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک قومیت کی بنیاد پر نہیں ہے تاہم طالبان میں تمام افغان قومیتوں کے لوگ شامل ہیں اور کابینہ میں بھی تمام قومیتوں کی نمائندگی ہے۔

نئی افغان کابینہ میں شامل 33 وزراء میں سے اکثریت کا تعلق طالبان کے جائے ظہور قندھار، ننگرہار اور حقانی نیٹ ورک کے مضبوط گڑھ پکتیا صوبوں اور گرد و نواح سے ہے۔

حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کے علاوہ نئی افغان حکومت میں 3 مزید وزراء کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے، جن میں خليل الرحمن حقانی، عبدالباقی حقانی اور نجیب اللہ حقانی شامل ہیں۔

امارات اسلامیہ افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کے علاوہ وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب، وزیر اطلاعات خیراللہ خیرخواہ اور وزیر معدنیات و پیٹرولیم ملا عیسیٰ اخوند کا تعلق بھی ایک ہی شہر قندھار سے ہے۔

اگرچہ طالبان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ قیادت سے لے کر نچلی سطح تک اس میں پختونوں کی اکثریت ہے جنہیں صرف افغانستان کے پختون اکثریتی صوبوں میں مقبولیت حاصل ہے تاہم اس بار طالبان نے تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں میں بھی اثر و رسوخ بڑھالیا۔

اگرچہ نئی افغان کابینہ میں شمالی افغانستان میں آباد غیر پشتونوں کو صرف 3 عہدے ملے ہیں، جن میں 2 تاجک اور ایک ازبک شامل ہیں تاہم طالبان کے مختلف کمیشنز اور ضلعی سطح کے کمانڈرز میں تاجک اور ازبک نسل کے لوگ اس وقت بڑی تعداد میں نظر آرہے ہیں۔

نائب وزیراعظم مُلا عبدالسلام حنفی

مُلا عبدالسلام حنفی کا شمار بھی  طالبان کے بانی اراکین میں ہوتا ہے جنہوں نے قطر سیاسی دفتر کے اہم رکن کی حیثیت سے امریکا اور طالبان مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مُلا عبدالسلام حنفی نسلًا ازبک ہیں جن  کا تعلق افغان صوبہ فاریاب سے ہے۔

انہوں نے دینی تعلیم پاکستان میں جامعہ حقانیہ سے حاصل کی اور طالبان کے سابق دور حکومت میں نائب وزیر تعلیم تھے۔

 آرمی چیف قاری فصیح الدین

قاری فصیح الدین کا شمار طالبان کے چند اہم کمانڈروں میں ہوتا ہیں اور طالبان کے اعلیٰ سطح کے کمانڈروں میں یہ واحد تاجک کمانڈر ہیں۔

طالبان میں فاتح شمال کے نام سے مشہور قاری فصیح الدین تاریخ میں پنج شیر کے صوبائی دارالخلافہ بازارک میں قدم رکھنے والے پہلے طالب رہنماء ہیں۔
قاری فصیح الدین امارات اسلامیہ افغانستان کے ملٹری کمیشن کے نائب کمانڈر ہیں اور ان کا افغانستان کے شمالی حصوں میں طالبان کے قبضے میں اہم کردار رہا جبکہ اب انہیں افغانستان کے اب تک کے واحد ناقابل تسخیر صوبے پنج شیر فتح کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہوگیا۔
قاری فصیح الدین تاجک ہیں اور وہ افغانستان کے شمال کی جانب آخری صوبے بدخشاں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی کامیاب جنگی حکمت عملی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
قاری فصیح الدین کو ڈپٹی ملٹری کمیشن کا عہدہ دینا بھی طالبان کی 90ء کی دہائی کی حکمت عملی میں تبدیلی قرار دیا جارہا ہے، اگرچہ طالبان میں پہلے بھی غیرپختون شامل تھے لیکن ماضی کی نسبت ان کو زیادہ اہم عہدے اور اختیارات دیئے جارہے ہیں۔

 وزیر اقتصادی امور قاری دین محمد حنیف

طالبان سپریم کونسل کے رکن قاری دین محمد افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں 1955ء میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق بھی تاجک نسل سے ہے۔

قاری دین محمد افغان طالبان کی جانب سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے والی قطر سیاسی ٹیم کے بھی اہم رکن رہے۔

دین محمد طالبان کے سابق دور حکومت میں منصوبہ بندی و اعلیٰ تعلیم کے وزیر رہے۔ قاری دین محمد طالبان کی مرکزی قیادت میں چند غیر پشتونوں میں سے ایک ہیں۔

قاری دین محمد سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد 1985ء میں والدین کے ہمراہ پاکستان آئے، جہاں انہوں نے خیبرپختونخوا میں دینی علوم کی تعلیم مکمل کی۔

طالبان تحریک اُبھرنے کے بعد انہوں نے باقی طلباء کی طرح تحریک میں شمولیت اختیار کی، شروع میں وہ بدخشاں کے کمانڈر  اور 2004ء میں سیاسی کمیشن کے رکن بنے اور اس کے بعد طالبان تحریک کے بانی ملا عمر  کے حکم سے وہ لیڈر شپ کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube