Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

ایما ریڈوکانو یوایس اوپن ٹینس ٹائٹل جیتنے والی پہلی کوالیفائر

SAMAA | - Posted: Sep 13, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 13, 2021 | Last Updated: 3 months ago

گرینڈ سلام ٹینس ٹورنامنٹ کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کسی مرد یا خاتون کوالیفائر کھلاڑی نے فائنل تک رسائی کی ہو لیکن اس بار سال رواں کے آخری گرینڈ سلام یو ایس اوپن میں کوالیفائنگ راؤنڈ سے آنے والی برطانیہ کی 18 سالہ امیگرنٹ لڑکی ایما ریڈوکانونے یو ایس اوپن ویمنز فائنل جیت کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

اس ایک کامیابی کے ساتھ ریڈوکانونے کئی ریکارڈ اپنے نام کیے۔ ایما رڈو کانو نے فائنل میں اپنے جیسی ہی کینیڈا کی امیگرنٹ کھلاڑی لیلیٰ فرنانڈس کو فائنل میں سخت اور دل چسپ مقابلے کے بعد 6-4,6-3 سے شکست دے کر اسٹریٹ سیٹ میں کامیابی حاصل کی۔ دونوں ان سیڈڈ کھلاڑی پہلی مرتبہ کسی گرینڈ سلام ایونٹ کے فائنل میں پہنچی تھیں اور  1999 کے بعد یو ایس اوپن کا پہلا گرینڈ سلام فائنل تھا جو ٹین ایجرز کھلاڑیوں کے مابین ہوا تھا۔

 امریکہ کی 17 سالہ سرینا ولیمز نے 1999 میں 18 سالہ سوئس مس مارٹینا ہنگز کو شکست دی تھی اور یہ سرینا ولیمز کی پہلی گرینڈ سلام ٹرافی تھی جنہوں نے اپنے شاندار کیریئر میں 23 گرینڈ سلام ٹرافیاں جیتیں۔ 1999 میں  فاتح سرینا ولیمز بھی عمر میں مارٹینا ہنگز سے ایک سال چھوٹی تھی اور ریڈوکانو بھی لیلیٰ سے ایک سال چھوٹی ہے۔ اس فائنل میں رڈوکانو اور لیلیٰ فزنانڈس نے غیر معمولی کھیل پیش کیا جو شائقین ٹینس کو طویل عرصے تک یاد رہے گا۔ ان کے کھیل سے کہیں بھی ایسا دکھائی دیا کہ یہ ٹین ایجرز پہلی بار بڑا میچ کھیل رہی ہیں۔

 ریڈوکانو روسی ساحرہ ماریہ شراپووا کے بعد گرینڈ سلام ویمنز ٹائٹل جیتنے والی کم عمر ترین کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2004 میں فانئل میں سرینا ولیمز کو شکست دے کر ٹرافی جیتی تھی۔ اس وقت ماریہ شراپووا کی عمر17 سال تھی۔

  ایما ریڈوکانو اور لیلیٰ فرنانڈس دونوں نے فائنل میچ میں شروع سے ہی اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کیا تاکہ پہلا سیٹ جیت کر سبقت حاصل کی جا سکے۔ پہلی تین گیمز میں طویل ریلیز کھیلی گئیں اور کورٹ میں چاروں جانب شرٹس کا زبردست شاٹس لگائے جس پر تماشائی انگشت بدنداں رہ گئے۔

پہلی تین گیمز  23منٹ میں ختم ہوئیں۔ پہلی دو گیم ریڈوکانو نے بیک ہینڈ اور ڈراپ شاٹس کا خوبصورت مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نام کیں تیسری گیم میں لیلیٰ نے گراؤنڈ اسٹروکس اور والی کے ذریعے ریڈوکانو کو  شکست دی تاہم ریڈوکانو نے چوتھی گیم اپنے نام کی اس کے بعد لیلیٰ نے دو گیم جیت کر مقابلہ 3-3 سے برابر کر دیا۔

اس مرحلے میں برطانوی کھلاڑی نے اپنے اٹیکنگ کھیل خاص طور پر زور دار سروس اور فور ہینڈ شاٹس کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا اور تیزی سے اپنی حریف کو دباؤ میں لیا اور تیزی کے ساتھ پہلا سیٹ 6-4 سے جیت کر ٹائٹل کی جانب پیش قدمی کی۔

 دوسرے سیٹ میں بھی ابتدا سے ہی ریڈوکانو کا پلہ بھاری رہا اور انہوں نے اپنی کینیڈین حریف کی سروس کو کئی بار بریک کیا۔ رڈوکانو نے پہلی گیم جیتی جس کے بعد لیلیٰ نے مسلسل دو گیم جیت کر ریڈوکانو کیلئے خطرے کی گھنٹی بجائی لیکن وہ ریڈوکانو کے جارحانہ کھیل کے سامنے اپنی سبقت کو قائم نہیں رکھ سکیں جنہوں نے تیزی کے ساتھ مسلسل چار گیمز جیت کر اسکور 5-2 پر پہنچا دیا تاہم  اس مرحلے پر لیلیٰ فرنانڈس نے خاصی مزاحمت کی اور وہ مزید ایک گیم اپنے نام کر پائیں۔

میچ کی فیصلہ کن گیم میں فرنانڈس کو برتری تھی لیکن پے در پے غلطیوں کی وجہ سے وہ دو مرتبہ گیم پوانٹس پر آئیں لیکن  جیتنے میں ناکام رہیں بالآخر ایما ریڈوکانو نے روز دار ایس لگا کر فائنل کو اپنے نام کرنے کا تاریخی کارنامہ انجام دے دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ خوشی کے مارے کورٹ میں لیٹ گئیں۔

ایما ریڈوکانو نے زور دار ایس لگا کر وننگ پوائنٹ حاصل کیا اور اس کو یو ایس ٹینس چیمپئن شپ کی ایس آف دی ڈے قرار دیا گیا جس نے گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کی تاریخ میں مینز اور ویمنز کیٹیگریز دونوں میں پہلی بار ایک کوالیفائر ٹین ایجر ایما ریڈوکانو کو چیمپئن بنا دیا۔ ایما ریڈوکانونے فائنل تک رسائی میں اولمپک چیمپئن بلینڈا بینچچ اور ماریہ سکاری کو شکست سے دوچار کیا۔

انہوں نے کوالیفائنگ راؤونڈ کے تین میچز میں چھ جبکہ مین راؤنڈ کے سات میچز میں  14 سیٹ میں کامیبی حاصل کی اور مجموعی طور پر20 سیٹ  جیتے اور وہ سرینا ولیمز  2014 کے بعد کوئی سیٹ ہارے بغیر یوایس اوپن ٹائٹل جیتنے والی پہلی کھلاڑی بن گئیں۔

   یو ایس اوپن فائنل سے قبل یہ دونوں کھلاڑی 2018 کے ومبلڈن  اوپن گرلز ایونٹ کے دوسرے راؤنڈ میں آمنے سامنے تھیں جس میں ایما ریڈو کانو دو سیٹ میں 6-2,6-4سے فاتح رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ کسی بھی ٹینس ایونٹ میں مد مقابل نہیں آئیں۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں جب ٹورنامنٹ شروع ہوا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ٹورنامنٹ کی دفاغی چیمپئن اور سیڈد کھلاڑی سیمی فائنل مرحلے سے پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائیں گی اور ٹورنامنٹ کا فائنل ایسی دو کھلاڑیوں کے مابین ہو گا جو کبھی زیر بحت ہی نہیں آئیں۔

لیلیٰ فزنانڈس اور ایما ریڈوکانونے پورے ٹورنامنٹ میں غیر معمولی اورشاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جسے اہل نیو یارک برسوں یاد رکھیں گے۔ جب لیلیٰ فرنانڈس اس ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے نیویارک آئی تھیں تو ان کی عالمی رینکنگ73 اورایما ریڈوکانو کی عالمی رینکنگ 150 تھی۔

  ایما ریڈو کانو اور لیلیٰ فرنانڈس دونوں میں کئی قدر مشترک ہیں دونوں کے والدین امیگرنٹس ہیں اور ان دونوں کی پیدائش بھی کینیڈا میں ہوئی۔ دونوں کی ماؤں کا تعلق ایشیا سے ہے۔ ایما ریڈوکانو کی والد ایان کا تعلق رومانیہ اور والدہ رینی کا تعلق چین سے ہے۔ ایما رڈوکانو کی عمر دو سال تھی جب اس کے والدین ٹورنٹو کینیڈا سے برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ اس کے والدین فنانس سیکٹر میں کام کرتے تھے۔

ایما نے پانچ سال کی عمر میں پہلی بارٹینس ریکٹ اٹھایا تھا اور بروملے ٹینس اکیڈمی میں ٹینس کی ابتدائی تربیت حاصل کی جہاں ملکی لان ٹینس ایسوسی ایشن نے اس میں چھپی صلاحیتوں کو جانچ کر اسے اپنی نگرانی میں لے لیا۔ لان ٹینس ایسوسی ایشن کے ساتھ اس نے بیرون ملک تربیتی کیمپوں میں شرکت کی اور اپنی ایچ گروپ کے ایونٹس میں حصہ لیا۔ایما ریڈوکانو کی رول ماڈلز میں رومانیہ کی ٹینس اسٹار سیمونا ہالیپ اور بلجیئم کی جسٹن ہینن ہیں۔

 آرتھر ایش اسٹیڈیم میں فائنل میچ دیکھنے کیلئے 24000 تماشائی موجو تھے لیکن ایما ریڈوکانو کو افسوس ہے کہ اس کے والدین ان تماشائیوں میں شامل نہیں تھے کیونکہ وہ کرونا رولز کی سخت پابندیوں کی وجہ سے امریکہ کا سفر نہیں کر سکے۔

ایما کا کہنا ہے کہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران وہ میرے دل میں موجود تھے اور ان کی دل میں موجودگی میری حوصلہ افزائی کا باعث تھی۔ ان کے اعتماد اور سپورٹ کی وجہ سے میں اس مقام پر پہنچی ہوں۔

لیلیٰ فرنانڈس کی والدہ ارینی فلپائن اور والد جارج ایکویڈور سے تعلق رکھتے ہیں۔ جارج سابق فٹبالر ہیں  ۔ لیلیٰ کو بچین ہی سے ٹینس کھیلنے کا شوق تھا اور اس شوق کی تکمیل کیلئے ان کی فیملی مانٹریال کینیڈا سے امریکہ منتقل ہوگئی تھی جہاں لیلیٰ فرنانڈس نے فلوریڈا میں ٹینس کی تربیت حاصل کی۔ لیلیٰ کی والدہ اور بڑی بہن بھی ٹینس کی کھلاڑی ہیں۔

 ایما ریڈوکانو نے کا پہلاگرینڈ سلام ایونٹ سال رواں کا ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ تھا جس میں انہیں وائلڈ کارڈ انٹری ملی تھی اور انہوں نے اس اولین گرینڈ سلام ٹورنامنٹ میں بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھے راؤنڈ میں رسائی کی تھی لیکن چوتھے راؤنڈ میں سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے انہیں آسٹریلیا کی اجلا ٹوملجانوچ کے خلاف میچ سے دستبردارہونے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

اس وقت آسٹریلوی کھلاڑی کو ایک سیٹ کی سبقت حاصل تھی اور دوسرے سیٹ میں بھی اجلا 3-0 سے برتری حاصل کیے ہوئے تھی۔ ایما ریڈوکانو کا ویمنز ٹینس ایسوسی ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کے زیر انتظام ٹورنامنٹس کے مین ڈراز میں شمولیت کا آغاز رواں سال جون میں ہوا تھا۔ ومبلڈن میں وائلڈ کارڈ انٹری ملنے سے تین ماہ قبل ایما رڈوکانو عالمی رینکنگ میں 338 ویں نمبر پر تھی۔

بائیں ہاتھ سے کھیلنے والی 19 سالہ لیلیٰ فرنانڈس نے یو ایس اوپن میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور وہ اس ٹورنامتٹ میں جانئٹ کلر ثابت ہوئی تھیں جنہوں نے دنیائے ٹینس کی نامورکھلاڑیوں کو اپنے اٹیکنگ کھیل سے شکار کیا۔ ان کا پہلا شکار دفاعی چیمپئن اور سیڈڈ 2  ناؤمی اوساکا تھیں۔

انہوں نے فائنل تک رسائی کے سفر میں  اینجلک کیربر‘ ارینا سبالینکا اور ایلینا سویٹو لینا جیسی تجربہ کار کھلاڑیوں کو اپنے زور دار بیک ہینڈ اور فور ہینڈ شاٹس اور برق رفتار سروس سے بے بس کیا اور ان کے خلاف کامیابیاں سیمیٹیں۔  وہ اوپن ایرا کی تاریخ میں تیسری کھلاڑی ہیں جنہوں نے دنیا کی ٹاپ فائیو میں سے تین کھلاڑیوں کو یو ایس اوپن میں شکست سے دوچار کیا۔

ایما ریڈوکانو کا فائنل میچ دیکھنے کیلئے برطانیہ کے سابق ٹینس اسٹار ٹم ہینمین اور گرینڈ سلام چیمپئن ورجینا ویڈ بھی آرتھر ایش اسٹیڈیم میں موجود تھیں اور ایما کی اس کامیابی پر ان دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ایما ریڈو کانو نے بھی ان کی موجودگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے میری زبردست حوصلہ افزائی ہوئی۔

ایما کو سب سے پہلے ملکہ برطانیہ نے مبارکباد کا پیغام بھیجا اورامید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی فاتحانہ کارکردگی کے ذریعے ملک کا نام روشن کریں گی۔ یہ کامیابی آپ کی سخت محنت کی عکاسی کرتی ہے۔ آپ اور آپ کی حریف لیلیٰ فرنانڈس ٹینس کھلاڑیوں کی نئی جنریشن کی  قیادت کریں گی۔

ٹینس لیجنڈ مارٹینا نیوراٹیلووا نے کہا کہ نئی ٹینس اسٹارز پید ا ہو گئی ہیں جو برسوں تک اپنی کارکردگی سے دنیا کو محظوظ کریں گی۔ سابق ومبلڈن چیمپئن نے ایما ریڈوکانو کی کامیابی پر کہا کہ اس نے دماغ میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔   ویمنز فائنل میچ ایک ایسی تاریخ 11 ستمبر کو کھیلا گیا جب پورے امریکہ میں نائن الیون کی یاد منائی جا رہی تھی کیونکہ 20 سال قبل نیویارک ٹریڈ سینٹر سے طیارہ ٹکرانے نیتجے میں سیکڑوں ہلاکتیں ہوئی تھیں اور اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر دنیا کے کئی ملکوں کو تہہ وبالا کر دیا گیا تھا۔

چند روز قبل ہی اس نام نہاد جنگ میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج ناکام و نامراد ہو کر افغانستان سے واپس چلی گئی ہیں۔ جب نائن الیون کا واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت یو ایس اوپن ویمنز فائنل کھیلنے والی دونوں کھلاڑی  لیلیٰ فرنانڈس اور ایما رڈو کانو کا اس دنیا میں وجود ہی نہیں تھا۔

دونوں کی پیدائش اس واقعے کے بعد 2002 میں ہوئی تھی  لیکن دونوں کھلاڑیوں نے میچ کے بعد اپنی گفتگو میں اس دن کی یاد کا تذکرہ کیا۔ نیویارک ٹریڈ سینٹر اور آرتھر ایش اسٹیڈیم کے درمیان صرف  12 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔

 لیلیٰ فرنانڈس نے  رنرز اپ ٹرافی حاصل کرنے کے بعد گفتگو میں ایما ریڈو کانو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ  ایما نے شاندار کھیل پیش کیا اور وہ اس فتح کی بجا مستحق تھی یہ اس کا دن تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں میں نے نیویارک میں شاندار ٹینس کھیلی اور کئی بڑی کھلاڑیوں کوزیر کیا۔

فائنل ہارنے پر افسوس ہے لیکن دو میں سے کوئی ایک کھلاڑی ہی فاتح ہوتا ہے۔ میں اگلے سال پھر جیت کے عزم سے یہاں آؤں گی۔شائقین نے جو زبردست سپورٹ دی اس پر ان کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں بھی نیو یارک کی طرح پر عزم ہوں جہاں بیس سال قبل پیش آنے والے خوفناک واقعے کے بعد ایک بار پھر پوری آب و تاب  کے ساتھ  کاروبار زندگی رواں دواں ہے۔

 ایما ریڈوکانو نے کہا کہ میں یہ سب کچھ ایک خواب لگ رہا ہے۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ میں مین راؤنڈ تک رسائی کروں گی اسی لیے میں نے اپنی ایڈوانس بکنگ کروا رکھی تھی۔ ایما کا کہنا تجا کہ لیلیٰ فرنانڈس نے شاندار کارردگی ٹیش کی اور کئی اسٹاورز کو اپنا شکار بنایا۔ فائنل میں بھی اس نے بہترین کھیل پبش کیا اور مجھے  پوائنٹس حاصل کرنے کیلئے خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔ میں اپنی اس کامیابی پر انتہائی خوش ہوں اور میری ٹیم نے بھرپور رہنمائی کی۔ میچ کے آخری لمحات میں پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے فزیو سے مدد لینا پڑی تھی۔ ایما نے کہا کہ امید ہے ہم دونوں مستقیبل میں مزید فائنلز میں آمنے سامنے ہوں گی۔

 ایما ریڈوکانو یوایس اوپن جیتنے کے ساتھ ایک لمبی جست لگا کر برطانیہ کی نمبر ایک کھلاڑی بن گئیں اور وہ عالمی رینکنگ میں بھی 23 ویں نمبر پر پہنچ گئیں۔ ایما ریڈو کانو  1968 میں ورجینا ویڈ کے بعد یوایس اوپن ویمنز سنگلز جیتنے والی پہلی برطانوی کھلاڑی ہیں جبکہ برطانیہ کی جانب سے آخری ویمنز گرینڈ سلام ومبلڈن ویمنز ٹائنل   977 میں ورجینا ویڈ نے ہی جیتا تھا اور اس کے بعد سے برطانیہ کی کوئی خاتون کسی بھی گرینڈ سلام ٹرافی کو چھونے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

برطانوی ٹین ایجر ایما ریڈوکانو نے کوالیفائنگ راؤنڈ اور مین راؤنڈ میں اپنے دس میچوں میں ایک بھی سیٹ نہیں ہارا اور نیویارک میں تین ہفتوں کے دوران وہ ایک معمولی کھلاڑی سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں اس کے ساتھ ہی وہ چمچماتی ٹرافی اور 2.5 ملین ڈالر کی انعامی رقم کے ساتھ وطن واپس لوٹی ہیں۔ امریکی ٹینس لیجنڈ بلی جین کنگ نے یہ چمچماتی ٹرافی  ایما ریڈوکانو کے ہاتھوں میں تھمائی تھی اور انہوں نے ریڈوکانو اور لیلیٰ فرنانڈس دونوں کے کھیل کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ وہ دونوں شائقین ٹینس کو طویل عرصے تک اپنے کھیل سے محظوظ کریں گی۔

امیگرنٹ ایما ریڈوکانو کی یہ کامیابی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب برطانیہ میں کھیلوں میں نسل پرستی کا معاملہ زور شور سے زیر بحث ہے۔ یورو کپ کے دوران اٹلی کے خلاف فائنل میں انگلینڈ کے سیاہ فام کھلاڑیوں کے پنالٹی ککس ضائع کرنے پر انہیں سوشل میڈیا پر نسل پرستی کا نشانہ بناتے ہوئے مغلظات  بکی گئی تھیں اور حال ہی میں یارک شائر کے پاکستان نژاد کرکٹر عظیم رفیق کے ساتھ کاونٹی میں نسل پرستانہ سلوک روا رکھنے کے الزامات کا ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے۔

امیگرنٹس نے کھیلوں کے میدان میں  برطانیہ کو گرانقدر کامیابیوں سے ہم کنار کیا ہے۔ برطانوی حکومت بھی اس کا اعتراف کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ نسل پرستی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ ایما ریڈوکانو کی یہ کامیابی کھیلوں کی دنیا میں نسل پرستانہ رویہ روا رکھنے والے کے منہ پر طمانچہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube