Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

بانو رحمت۔۔ کشمیر کی گلوکارہ کی کراچی میں پذیرائی

SAMAA | - Posted: Sep 12, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 12, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago

یہ اس زمانے کی یادیں ہیں جب ریڈیو ہی ابلاغیات کا موثر ذریعہ تھا۔ آزاد کشمیر حکومت نے بیس کیمپ میں دو ریڈیو اسٹیشن قائم کئے ہوئے تھے، تراڑکھل اور مظفرآباد ۔ ریڈیو مظفر آباد سے رات کا مقبول عام پروگرام “ضرب کلیم” جموں و کشمیر کے ہر خطہ اور ہر حصہ میں سنا اور پسند کیا جاتا۔اس پروگرام کی خاص بات کشمیر کا ملی نغمہ ۔

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

ستم شعار سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن

تھا۔ میں نے یہ نغمہ پہلی مرتبہ اسی پروگرام میں سنا جب  بہت کم عمر تھا۔ لیکن اس کم عمری میں بھی یہ نغمہ سننے کے بعد خون کھول اٹھتا کہ وطن کو ستم شعاروں سے چھڑانے کے لیے کچھ کرنا چاہئے۔  ۔ میں تو “ضرب کلیم” سنتا ہی اسی نغمہ کے لیے تھا ۔معروف براڈکاسٹر انور بہزاد گرج دار آواز میں بھارتیوں کو  للکارتا تو جذبات بے قابو ہو جاتے۔ 49 سال قبل شملہ معائدے کے بعد اس مقبول پروگرام کو بند کر دیا گیا ۔ اس پروگرام اور نغمہ کا کوئی اثر تو تھا، تب ہی شملہ میں بھارتیوں نے اس کو بند کرنے کے لئے بطور شرط رکھا ۔ مد مقابل ماننے پر مجبور تھا کہ 72 ہزار نفوس کو قید بامشقت سے چھڑانے کے لیے ایسی شرائط کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ لیکن بعد میں آنے والے حکمران اس کو بحال یا اسی طرز کا کوئی اور پروگرام شروع کر سکتے تھے۔ جو مقبوضہ کشمیر میں لڑنے والے مجاہدین کی حوصلہ افزائی کے لیے ہوتا ۔ اس نغمہ کے اشعار، آواز اور دھن اتنی دل آویز ہے کہ یہ دونوں اطراف کے کشمیری ہی نہیں پاکستانی بھی پسند کرتے ہیں ۔ کشمیری اور اردو زبان کے بول پر مشتمل اس نغمہ میں موسیقی ہی نہیں بلکہ موسیقی کی زبان میں جموں و کشمیر کے عوام کے دلوں کو گرمانے اور جدوجہد آزادی کو تیز کرنے کے لئے پیغام بھی ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے  مدد کی یقین دہانی بھی۔وطن سے مہاجرین کا عہد کہ ہم  پلٹ کر واپس آئیں گے، ستم شعاروں سے تجھے آزاد کرائیں گے ۔ یہ اس زمانے کی باتیں ہے جب شیخ عبداللہ زندہ تھا اور مقبوضہ کشمیر میں حالات اس قدر خراب نہیں ہوئے تھے ۔ ریاستی مظالم اس انتہا کو نہیں تھے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس عروج پر نہیں تھیں ۔ 1965 کے شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے 5 ستمبر 2021ء کی رات آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں کشمیری لوگ گلوکارہ بانو رحمت نے اسی نغمہ سے پروگرام کا آغاز کیا تو ریڈیو آزاد کشمیر مظفر آباد کے 50 سال پرانے پروگرام  ”ضربِ کلیم“ کی یاد تازہ ہو گئی۔ اور یہ احساس بھی کہ آج اس جیسے نغموں اور ترانوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔ ہال میں ہر فرد اس نغمے پر بانو رحمت کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر گنگناتا رہا۔ پروگرام کے آغاز پر بانو نے اپنا تعارف کرایا کہ میں مظفر آباد سے آئی ہوں میڈم نور جہاں کے نغمے سناوں گی لیکن سب سے پہلے میں اپنے وطن کا نغمہ پیش کرتی ہوں۔ نغمہ کی دھن پر ہی حال تالیوں سے گونج اٹھا۔

ستر سال پرانے نغمے کو آج بھی عوام پسند کرتے ہیں اور اسی نغمہ کے سبب کشمیری لوگ گلوکارہ کو کراچی میں زبردست پذیرائی ملی۔ آج جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  کی انتہا کی ہوئی ہے۔ معصوم اور نہتے عوام کا قتل عام ہو رہا ہے ۔ حتی کہ  بچوں، خواتین اور بھوڑوں تک کو نہیں بخشا جارہا ہے۔ ان حالات میں ایسے ملی نغموں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔ 1965 میں ملکہ ترنم نورجہاں، دیگر گلو کاروں اور شاعروں نے جوانوں کے حوصلہ بلند کرنے اور قوم کو افواج پاکستان کے ساتھ جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا اور وہ ترانے اور نغمے آج بھی معروف ہیں۔ اس آزمودہ ہتھیار کو مقبوضہ کشمیر میں برسرپیکار حریت پسندوں کے حوصلے بلند کرنے اور قوم کو ان کے ساتھ جوڑنے میں کیوں استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔ آزاد کشمیر کا محکمہ ثقافت اور کشمیر لبریشن سیل شاعروں اور گلوکاروں کی خدمات حاصل کرے نئے نغمے لکھوائے اور گلوکاروں کی خدمات حاصل کرے سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے ہر شہری تک آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام کا پیغام محبت پہنچ سکتا ہے ۔ بانو رحمت کشمیر کی لوگ گلوکارہ ہیں سریلی آواز میں کشمیری، گوجری، پہاڑی، ہند کو، سرائیکی پہنجابی اور اردو زبان میں گاتی ہیں۔ تب ہی سندھ کے محکمہ ثقافت نے اس سال 6 ستمبر کے پروگراموں کے لیے اس کا انتخاب کیا اور مظفرآباد سے کراچی بلایا ۔ بانو ملکہ ترنم کے گانوں اور نغموں کو اسی سر اور ترنم میں گاتی ہے۔ اعلی فوجی حکام کی موجودگی میں ملکہ ترنم کے گانوں کو گا کر 1965ء کی یاد تازہ کردی ۔ سندھ اور کراچی میں بانو کو بڑی پذیرائی ملی۔ متعدد پروگراموں کے علاوہ آرٹس کونسل کے اسٹوڈیو میں کشمیری، گوجری اور پہاڑی زبان میں نغمے بھی ریکارڈ کرائے۔ کراچی آرٹس کونسل میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے بانو رحمت نے کہا کہ گلوکار ترانوں اور نغموں کے ذریعے مجائدین کے حوصلے بڑھا سکتے ہیں۔

لیکن اس حوالے سے حکومت آزاد کشمیر کی کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی آرٹسٹوں کی سرپرستی ہے۔ ملک بھر میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی واحد ادارہ ہے جو حقیقی معنوں میں فن کی ترویج و ترقی اور صدر احمد شاہ فن کاروں کی سرپرستی و خدمت کر رہا ہے ۔ میں کراچی کے اور خاص طور پر آرٹس کونسل کراچی میں  فن کی ترقی اور فن کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے ہونے والا کام دیکھ کر بہت متاثر ہوئی ہوں۔ ہر صوبے اور آزاد کشمیر میں اسی طرح کام ہونے لگے تو نہ صرف ہماری ثقافت بہت جلد ترقی کرے بلکہ فن کاروں کے مسائل بھی باقی نہ رہیں ۔ بانو رحمت کراچی کے دورے کے دوران اپنی پذیرائی پر بہت خوش تھی کہا کہ کراچی کے لوگ پورے ملک میں منفرد ہیں ۔ یہاں جو محبت اور پیار ملا وہ ہمیں مظفر آباد میں بھی محسوس نہیں ہوتا ۔ کراچی ایسا نہیں جو ماضی میں اس کے بارے میں سنا تھا کراچی کے لوگ بہت محبت والے ہیں مجھے آرٹس کونسل کراچی کے لوگ اپنے خاندان کی طرح لگے ۔احمد شاہ جیسا مخلص اور آرٹسٹوں سے محبت کرنے والا شخص میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ بانو رحمت کو کراچی آرٹس کونسل کی شاندار ترقی کا راز احمد شاہ سے مل کر سمجھ آیا کہ کسی بھی شعبہ کی ترقی کا دارومدار قیادت کی صلاحیت اور اخلاص پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے فن کار خوش قسمت ہیں کہ ان کو احمد شاہ جیسے شخص کی سرپرستی حاصل ہے۔میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے فن کے ذریعہ کشمیر کی ثقافت کو روشناس کراوں اسی لئے میں کشمیر کی ہر زبان اور بولی میں نغمے گاتی ہوں۔ میں نغموں کے ذریعے دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے روشناس کرانے کی کوشش کرتی ہوں۔لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں فن اور فنکاروں کو پروموٹ کرنے کا رجحان نہیں ، حالاں کہ فن کو مجاہدین کا حوصلہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ ہمارے فن کاروں نے 1965 میں نغموں اور ترانوں کے ذریعے  اپنی فورسز کے حوصلہ بلند کئے ۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے فن کے زریعہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سے روشناس کراسکوں ،لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ 14 اگست ،6 ستمبر اور5 فروری سمیت کسی بھی قومی دن کے موقع پر ہماری خدمات سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔،میں پی ٹی آئی کی نئی حکومت سے امید کرتی ہوں کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی بھر پور کردار اداکرے گی اور ان فنکار وں کی حوصلہ افزائی کریں گےجو اپنے فن کے ذریعہ تحریک آزادی کا حصہ ہیں،آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ ہے کہ فنکار کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا لہذا کراچی آرٹس کونسل اور حکومت سندھ کی طرح  فنکاروں کو وظیفہ دیا جائے۔ بانو رحمت کی شکایت جائز ہے اور یہ مطالبہ بھی کہ حکومت سرپرستی کرے تو ہم مجائدین کے لیے ملی نغمے گا سکتے ہیں ۔۔۔ 74 کے ایکٹ میں تیرویں ترمیم کے بعد آزاد کشمیر حکومت کو وسائل کا مسئلہ نہیں ہے بس ویژن اور توجہ کی ضرورت ہے ۔۔ آزاد کشمیر میں زیادہ تر محکمے اپنی ذمہ داریوں کو انجام ہی نہیں دیتے ۔ کشمیر سیل اور وزارت ثقافت کو بانو رحمت کی شکایت اور تجویز پر غور کرنا چاہئے اگر کشمیر کی لوگ گلوکارہ کی صلاحیتوں کا حکومت سندھ اعتراف کر رہی ہے تو آزاد کشمیر حکومت اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھا رہی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube