Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

یوایس اوپن: ویمنز دفاعی چیمپئن  اور کئی سیڈڈ کھلاڑی آؤٹ

SAMAA | - Posted: Sep 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

امریکی شہر نیو یارک کے آرتھر ایش اسٹیڈیم میں سال رواں کے چوتھے اور آخری گرینڈ سلام ایونٹ یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی  اپ سیٹ کا سلسلہ جاری ہے جس کے دوران راؤنڈ تھری تک مینز اور ویمنز سنگلز کیٹیگری میں ٹاپ 32 کھلاڑیوں میں سے اکثریت شکست سے دوچار ہو کر مقابلے سے باہر ہو چکی  ہے۔

یو ایس اوپن میں ایک ہی دن میں دو بڑے اپ سیٹ ہوئے جب ویمنز سنگلز میں یوایس اوپن کی دفاعی چیمپئن  جاپانی اسٹار ناؤمی اوساکا  اور مینز سنگلز میں فرنچ اوپن فائنلسٹ اورعالمی نمبر 3  یونان کے اسٹیفانوس تیسسپاس کو  18 سال عمر کے کھلاڑیوں کے ہاتھوں سخت مقابلے کے بعد شکست اٹھانا پڑی۔ تیسرے راؤنڈ میں ہی چار گرینڈ سلام  جیتنے والی عالمی نمبر اور ٹاپ سیڈ ایشلے بارٹی کو بھی ایک غیر معروف کھلاڑی کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا نواک جوکووچ کی سال  رواں میں چوتھا گرینڈ سلام جیتنے کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔

 ٹورنامنٹ کوارٹر فائنل مرحلے میں داخل ہو گیا 18 سالہ  ہسپانوی کھلاڑی کارلوس الکاریز نے پری کوارٹر فائنل میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل دوسرے میچ میں پانچ سیٹ  کھیلے اور اپنے ہموطن رافیل نڈال کی طویل میچ کھیل کر کامیابی حاصل کرنے کی کارکردگی کو تازہ کر دیا۔

الکاریز نے پری کوارٹر فانئل میں پہلا سیٹ میں شکست کھانے کے بعد کم بیک کیا اور میچ میں دو مرتبہ اپنے حریف پیٹر گوجووسک کی برتری کو ختم کرتے ہوئے7-5,2-6 0-6  7-6,1-6,  سے کامیابی حاصل کی آخری سیٹ میں الکاریز نے انتہائی اٹیکنگ  کھیل پیش کیا جس کی وجہ سے پیٹر ایک گیم بھی نہیں جیت پائے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی الکاریر یو ایس اوپن کی  اوپن ایرا تاریخ میں کوارٹر فائنل میں رسائی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے۔

 پری  کوارٹر فائنل کے دیگرمیچوں میں یوایس اوپن کے مضوط امیداوار ڈینیل میڈیڈیف نے ڈیوڈ ایونز کو 3-6,4-6,3-6 سے ہرایا ۔ وہ جو کووچ کیلئے ٹورنامنٹ میں بڑا چیلنج ہیں۔ ہالینڈ کے وان ڈی زینچلوپ  نے سیڈڈ 11  ڈیگو شوارٹزمین کو ہرا کر اپنے کیریئر میں پہلی بارگرینڈ سام کوارٹر فائنل میں رسائی کی۔

انہوں نے شوارٹزمین کو پانچ سیٹ کے جاں گسل مقابلے میں 6-3,6-4,5-7,5-7,6-1 سے زیر کیا۔ اب  ڈچ کھلاڑی کا سامنا  کوارٹر فائنل میں  ڈینیل میڈیڈیف سے ہے۔ فیلکس اوگر الیسمی نے بھی فرانسس تیافوئے کو چارسیٹ کے مقابلے میں 6-4,2-6,6-7,4-6 سے زیر کر کے کوارٹر فائنل کھیلنے   کا اعزاز حاصل کر لیا  جہاں ان کا مقابلہ ہسپانوی اسٹار کارلوس الکاریز سے ہو گا۔

 اس سے قبل  تیسرے راؤنڈ میں کارلوس الکاریز نے ہسپانوی ٹینس لیجنڈ اور کلے کورٹ کنگ رافیل نڈال کی عدم  موجودگی میں  غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تجربہ کار اسٹیفانوس تیسسپاس کو  شکست دے کر تہلکہ مچا دیا اور مستقبل میں ٹینس کے افق پر ایک نئے ہسپانوی اسٹار کے ابھرنے کی نوبد دے دی ۔

الکاریز نے اس طویل اور جاں گسل مقابلے میں اسٹیفانوس کے خلاف پہلے سیٹ میں انتہائی جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے  6-3 سے کامیابی حاصل کی لیکن یونانی کھلاڑی نے اپنے تجربے کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کم بیک کیا اور الکاریز کے خلاف دوسرے سیٹ میں بہتر کھیل پیش کیا جس کی بدولت اسٹیفانوس نے 4-6  سے کامیابی حاصل کر کے مقابلہ 1-1 سے برابر کردیا۔ تیسرے سیٹ میں ہسپانوی ٹین ایجر کارلوس الکاریز نے جم کر  یونانی حریف کا مقابلہ کیا اور یہ سیٹ ٹائی بریکر میں  7-6(7-2) سے جیت کر پھر سبقت حاصل کر لی۔

 چوتھے سیٹ میں اسٹیفانوس یکسر مختلف روپ  نظر آئے جنہوں نے انتہائی جارحانہ کھیل پیش کیا جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سیٹ میں انہوں نے کارلوس کو ایک گیم جیتنے کا موقع بھی نہیں دیا اور چوتھا سیٹ انتہائی تیزی سے 6-0 سے جیت کر اپنے خطرناک ادارے ظاہر کر دیئے۔ پانچویں اور فیصلہ کن سیٹ میں  دونوں کھلاڑیوں نے  پوائنٹس حاصل کرنے کیلئے زبردست جدوجہد کی جس کے نتیجے میں  یہ سیٹ بھی ٹائی بریکر میں چلاگیا  اور  ہسپانوی کھلاڑی نے اپنے اعصاب پر مکمل کنٹرول  رکھتے ہوئے 7-6(7-5) سے کامیابی حاصل کر کے اسٹیفانوس کو ٹورنامنٹ سے باہر کردیا اور اپنے کیریئر میں پہلی مرتبہ گرینڈ سلام ٹورنامنٹ کے پری کوارٹر فائنل میں رسائی کی تھی۔

  الکاریز نے فرنچ اوپن میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور وہ 1992 کے بعد کلے کورٹ ایونٹ کے  تیسرے راؤنڈ  میں رسائی کرنے والا کم عمر ترین کھلاڑی تھا۔

وہ  یوایس اوپن میں بھی 1989 کے بعد  چوتھے راؤنڈ میں رسائی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی ہیں۔  یو ایس اوپن 1989 میں مائیکل چانگ   17 سال اور پیٹ سمپراس 18 سال کی عمر میں چوتھے راؤنڈ میں پہنچے تھے۔

 ہسپانوی  کھلاڑی کارلوس  الکاریز 1992 کے بعد کسی بھی گرینڈ سلام ایونٹ کے چوتھے راؤنڈ میں رسائی کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی ہیں۔1992 میں روس کے آندری میڈیڈیف نے 17 سال کی عمر میں فرنچ اوپن کے چوتھے راؤنڈ میں رسائی کی تھی۔

 فرنچ اوپن فائنلسٹ اسٹیفانوس تیسسپاس  یوایس اوپن ٹیسٹ ٹورنامنٹ میں میچوں کے دوران طویل ٹوائلٹ بریک لینے پر ناصرف تمائشائیوں بلکہ کھلاڑیوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے  اینڈی مرے کے خلاف پہلے راؤنڈ کے میچ میں بھی ٹوائلٹ بریک لیا تھا۔ جس پر اینڈی مرے نے کہا تھا کہ وہ 8 منٹ طوبل بریک لے کر دھوکہ دے رہے ہبں۔ جب اسٹیفانوس نے ٹوائلٹ بریک لیا تو اس وقت اینڈی مرے اچھا کھیل پیش کر رہے تھے۔

انہوں نے دوسرے راؤنڈ میچ میں ایڈریان مانا رینو کے خلاف میچ بھی ایسا ہی کیا تھا جب پر تماشائیوں نے ہوٹنگ کی تھی۔ تیسرے راؤنڈ میں بھی یونانی کھلاڑی نے میچ کے دوران ٹوائلٹ بریک لیا جب الکاریز ان پر حاوی تھے۔ہم عمر کارلوس الکاریزکی کامیابی سے متاثر ہونے والی کینیڈا کی18 سالہ لیلیٰ فرنانڈس نے بھی تیسرے راؤنڈ میں جاپان سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر 3 اور دفاعی چیمپئن ناؤمی اوساکا کے خلاف مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اپنی کیریئر کا سب سے بڑا میچ جیتا۔

اوساکا نے میچ کا  پر اعتماد  آغاز کرتے ہوئے پہلا سیٹ 5-7 سے جیت لیا تھا لیکن  کینیڈین کھلاڑی نے ایک سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد شاندار کم بیک کیا  اور دوسرے سیٹ میں جم کر اپنی تجربہ کار حریف کا مقابلہ کیا۔ دوسرے سیٹ میں ناؤمی اوساکا نے میچ پوائنٹ ضائع کیا اور اس غلطی کی انہیں بھاری قیمت چکانا پڑی اور لیلیٰ فرنانڈس ٹائی بریکر میں دوسرا سیٹ جیت کر میچ میں واپس آگئی۔

کینیڈین ٹین ایجر نے میچ پوائنٹ پر اوساکا کی سروس بریک کی اور ٹائی بریکر میں اوساکا نے خراب شاٹس کھیلے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مایوسی کے عالم میں اس نے دو مرتبہ اپنا ریکٹ زمین پر پھینکا۔

 تیسرے سیٹ میں لیلیٰ فرنانڈس پہلی گیم سے ہی حاوی رہی اور اس نے اپنے فورہینڈ اور بیک ہینڈ شاٹس کے ذریعے جاپانی کھلاڑی کو کورٹ میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہیں دیا اور پے در پے غلطیاں کرنے پر مجبور کیا جس کے نتیجے میں لیلیٰ نے  تیسرا سیٹ6-4 سے جیت کر اوساکا کے ٹائٹل کے دفاع کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ لیلیٰ بھی اپنے کیریئر میں پہلی بار گرینڈ سلام کے پری کوارٹر فائنل میں پہنچی۔

 کینیڈا سے تعلق رکھنے والی عالمی نمبر 77  لیلیٰ فرنانڈس اپنی اس کامیابی پر خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی  اور اس کا کہنا تھا کہ میں تے الکاریز کا میچ دیکھا جس سے بہت متثرہوئی تھی اور میں نے الکاریز جیسی کاردگی دکھانے کا عزم کیا تھا اور میں اس کو پورا کرنے میں کامیاب رہی الکاریز اور لیلیٰ فرنانڈس دونوں نے میچ جیتنے کے بعد ملاقات کی اور اپنی فتوحات کا جشن منایا۔

 ناؤمی اوساکا کو اپنے ملک جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں بھی تیسرے راؤنڈ میں شکست کا سامناکرنا پڑا تھا۔ وہ فرنچ اوپن کے بعد سے  ذہنی دباؤ کی شکارہے جہاں اسے نے پہلے راؤنڈ میں کامیابی کے بعد  میڈیا کا سامنا کرنے سے انکار کر دیا تھا جس پر اس پر منتظمین نے جرمانہ عائد کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ اگر اس نے یہ عمل  دہرایا تو اسے ڈس کوالیفائی کر دیا جائے گا۔

اس فیصلے کے بعد ناؤمی اوساکا دوسرے راؤنڈ  سے دستبردار ہو گی تھی اور اس نے مکمل آرام کرنے کا اعلان کیا تھا اسی وجہ سے اوساکا نے ومبلڈن اوپن میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔  اس کا کہنا ہے کہ  میڈیا کی جانب سے مجھ سے جو تند وتیز سوالات کیے جاتے ہیں وہ  میرے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔

 اس شکست  پر بھی ناؤمی اوساکا  انتہائی افسردہ تھی اور اس کی آنکھوں  سے آنسو رواں تھے۔ اوساکا نے ایک بار پھر ٹینس کورٹ سے دوری کا اعلان کیا اور کہا کہ مجھے پتہ نہیں کہ میں کب اگلا میچ  کھیلوں گی۔

سال رواں میں دو گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن اور  ومبلڈن اوپن جیتے  والی عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی کو امریکہ کی  29 سالہ عالمی نمبر 43 شیلبی روجرز نے ہوم کراؤڈ کے سامنے  تین سیٹ کے مقابلے میں غیر متوقع طور پر   2-6,6-1,6-7 سے ہرا کر  اپ سیٹ کیا۔

یہ روجرز کے کیریئر کی سب سے بڑی  اور بارٹی کے خلاف چھ میچوں میں پہلی کامیابی تھی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی روجرز نے ایشلے بارٹی سے  چارلسٹن میں  والو کار اوپن ٹورنامنٹ  2021 کے تیسرے راؤنڈ کے میچ میں شکست کا حساب بھی چکا دیا۔ بارٹی نے روجرز کو  تین سیٹ میں 7-6,4-6,6-4  سے ہرایا تھا۔

 ایشلے بارٹی کے  میچ کا آغاز اچھا نہیں تھا اس کے علاوہ روجرز کو ہوم کراؤڈ کی زبردست سورٹ حاصل تھی۔  پہلا سیٹ ہارنے کے بعد پارٹی نے دوسرے سیٹ میں قدرے بہتر کھیل پیش کیا اور سیٹ جیت کر مقابلے میں واپس آئی لیکن  اس کی کاکردگی مثالی نہیں تھی۔

تیسرے سیٹ میں دونوں کھلاڑیوں نے جم کر ایک دوسری کا مقابلہ کیا اور لمبی ریلیز کھیلیں۔ تیسرے سیٹ میں بارٹی نے میچ پوائنٹ ضائع کیا اور یہ سیٹ روجرز نے ٹائی بریکر میں جیت کر  یوایس اوپن کی مضوط امیدوار کے خلاف اپنے کیریئر کی بڑی فتح حاصل کی۔

اس میچ میں ایشلے بارٹی اپنے ہتھیار  فورہینڈ شاٹس کا مہارت کے ساتھ  استعمال کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے کئی غیر ادرادی غلطیاں بھی کیں۔ رواں سیزن میں یہ ایشلے بارٹی کی آٹھویں ناکامی تھی۔

 گزشتہ سال یو ایس اوپن میں بھی روجرز نے کوارٹر فائنل میں پہنچی تھی جہاں ناؤمی اوساکا نے دو سیٹ میں ہرا دیا تھا۔ روجرز نے  سال  رواں کے  ومبلڈن  اوپن کے تیسرے راؤنڈ میں  رسائی کی تھی لیکن وہ  اریانا ریبا کینا سے شکست کھا گئی تھی۔

 امریکی سیاہ فام ٹینس کھلاڑی اور  یوایس اوپن 2017 کی چیمپئن سلونی اسٹیفنز کو  جرمنی کی اینجلک کیربرکے ہاتھوں شکست کے بعد  منافرت کا انشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف  2000 سے زائد  جنسی اورمنافرت پر مبنی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے۔ اسٹیفنز کا کہنا ہے میں بھی انسان ہوں   اور ایسے شرمناک اور توہین آمیز کمنٹس پڑھنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔

ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔  ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے  اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور تنظیم کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اس معاملے پر بات کر رہے ہیں۔

 برطانوی کوالیفائر ٹین ایجر  ایما راڈوکانو  اپنے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔اس نے تیسرے راؤنڈ میں عالمی نمبر 41 سوربیس ٹورمو کے خلاف انتہائی جارحانہ کھیل پیش کیاا اور 6-1,6-0 سے کامیابی حاصل کی۔ رواں سال اپنے پہلے گرینڈ سلام ومبلڈن میں وائلڈ کارڈ انٹری ملنے کے بعد اس نے بہترین کھیل پیش کیا اور  شہ سرخیوں کی زینت بنی تھی۔

راڈوکانو نے ومبلڈن میں راؤنڈ 16 میں رسائی کی تھی۔ اب یو ایس اوپن میں  اس کا پری کوارٹر فائنل میں  امریکی کھلاڑی  روجرز سے مقابلہ ہے جس نے ایشلے بارٹی کو زیر کیا تھا۔

یوایس اوپن  مینز سنگلزمیں  ٹاپ 10 میں سے صرف چار کھلاڑی  پری کوارٹر فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے جبکہ ٹاپ32 کھلاڑیوں میں سے بیشتر سیڈڈ کھلاڑیوں کو پہلے تین راؤنڈ میں شکست کا مزا چکھنا پڑا  ہے۔ گزشتہ یوایس اوپن میں نوواک جوکووچ کے خلاف میچ میں ڈرامائی طور پر فاتح قرار دیئے جانے والے  سیڈڈ 7 پابلو سرینو بسٹا کو میکسم کریسی نے شکست دی۔ پہلے راؤنڈ میں شکست سے دوچار ہونے والے سیڈڈ کھلاڑیوں میں  ایلیکس ڈی مینوئر‘جان اسنر‘ یوگو ہیمبرٹ‘ کیرن خاچانوف‘ سام نوری‘ڈیوڈ گوفن‘ مارین سلچ ‘فابیو فوگنینی ‘الجینڈور فوکینا‘فلپ کراجینووی  شامل ہیں۔  جبکہ الیگزینڈر بوبلک‘ گریگور دیمتروف‘ ہوبرٹ ہورکاز‘ کیسپر رڈ  دوسرے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکے۔

 تیسرے راؤنڈ میں سیڈڈ 5 آندری روبیلف کو  فرانسس تیافوئے نے زیر کیا جبکہ لائیڈ ہیرس نے ڈینیل شپاوالوف کو  شکست دی۔  امریکہ کے جینسن بروکبی نے اسلان کراسٹیف کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ جانک سنر نے گاثیل مونفلز کو ہرایا۔

 راؤنڈ 16 میں عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ  کا مقابلہ  جینسن بروکبی‘ میٹیو بریٹینی کا آسکر اوٹی‘  الیگزینڈر زیوریف  کا  جانک سنر اور  ریلی اوپلکا  کا  لائیڈ ہیرس  سے سامنا ہے۔

خواتین سنگلز میں ٹاپ سیڈڈ 32 کھلاڑیوں میں سے 13 کھلاڑی  راؤنڈ 16 میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو ئی تھیں۔ پری کوارٹر فائنل میں سابق گرینڈ سلام چیمپئن گاربین موگوروزا کو باربورا کراجسیکووا نے 6-3,7-6 سے ہرایا۔ اریانا سبالینیکا نے الیسی مارٹینز کو4-6,1-6 سے زیر کیا۔ سابق عالمی نمبرایک جرمن اسٹار اینجلک کیربر بھی کینیڈین ٹین ایجر  لیلیٰ فانانڈس کے جارحانہ کھیل کی تاب نہ لا سکیں اور پہلا سیٹ جیتنے کے باوجود 6-4,6-7,2-6 سے ہار گئیں۔

کیریر دوسرے سیٹ کے آخری لمحات میں لیلیٰ کے برق رفتار کھیل کا مرثر جواب دینے میں ناکام رہی تھیں اور انہوں نے میچ پوائنٹس ضائع کیا۔ ایلینا سویٹو لینا نے سابق عالمی نمبر ایک سیمونا ہالیپ کو 6-3,6-3 سے جبکہ انستاسیا پاولیو چنکووا نے ورورا  گراچیوا کو 1-6,46 سے شکست دی۔

 پری کوارٹر فانئل میں ایگا سواٹیک کا سامنا  اولمپک چیمپئن بلینڈا بینچچ سے  شلبی روجرزکا  ایما رڈوکانو سے  ایلینا پلسکوو ا کا  انستاسیا پاؤلیو چنکووا سے اور ماریہ سکاری کا بیانکا اینڈریسکو سے مقابلہ ہے۔ کوارٹر فائنل میں باربورا کراجسیکووا کے مدمقابل اریانا سبالینیکا سے جبکہ  لیلیٰ فرنانڈس کے سامنے ایلینا سویٹولینا  ہوں گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube