Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

دنیاکا معروف شخص،بدنام جو ہونگےتوکیا نام نہ ہوگا

SAMAA | - Posted: Sep 1, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 1, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بشکریہ واشنگٹن پوسٹ

بدنام  جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا والی کہاوت آج میجر جنرل کرس ڈوناہیو پر سچ ثابت ہو رہی ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقت ور آرمی 20 سال تک افغانستان پر قبضے کی کوشش میں امریکا کا ستیاناس کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں بھاگ کھڑی ہوئی۔

 بیس سال تک لڑنے کے باوجود نہ فوجی قبضہ بحال ہوا نہ سیاسی حالاں کہ بھاگنے کو ابھی ایک دن باقی تھا لیکن رات کے اندھیرے میں بھاگ کر پسپائی کی تاریخ رقم کر دی میجر جنرل کرس ڈوناہیو آج دنیا میں سب سے زیادہ مقبول آدمی ہے۔

دنیا بھر میں ہر ذی شعور جانتا ہے کہ یہ افغانستان میں آخری امریکی فوجی ہے جو سی 17 طیارے میں سوار ہونے جا رہا ہے ۔ آخری امریکی فوجی طیارہ 30 اگست کی رات 12 بجے سے  پہلے ہی کابل ائیرپورٹ سے روانہ ہو گیا یہ طیارا دوسرے روز دن کی روشنی میں بھی جا سکتا تھا ابھی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں 24 گھنٹے باقی تھے لیکن خوف اور افراتفری کا شکار امریکا لگتا ہے موقع محل کے مطابق فیصلہ کرنے کی قوت بھی کھو بیٹھا۔

کابل سے آخری امریکی کی روانگی کا اعلان طالبان نے کیا لیکن اس کی تصدیق میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جزل مکینزی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں  امریکی مشن  مکمل ہو گیا۔ امریکا کا مشن کیا تھا۔ اس کی تفصیل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں تقریب سے خطاب میں بتائی ان کا کہنا تھا کہ”  امریکا ایشیائی ممالک میں دراندازی کے لیے مضبوط فوجی اڈہ بنانے افغانستان آیا تھا۔ آنے کی ایک اور  وجہ یہاں کے قدرتی وسائل کو لوٹنا تھا” ۔ امریکا اس میں کہاں تک کامیاب ہوا یہ مورخ ہی لکھے گا، لیکن امریکا کو تو بہت پہلے علم ہو گیا تھا کہ غلط جگہ پر ٹانگ اڑائی لی۔۔ وہ افغانیوں کو ماڈرن بنانے کے دھوکے میں آ گیا جو افغانی ماڈرن بنے وہ بلآخر یورپ اور امریکہ کے گلے میں ہی پڑھے۔

ان کے لیے  اپنے ممالک میں قیام و طام کا انتظام کرنا پڑھا باقی رہے تین لاکھ افغان تربیت یافتہ فوجی وہ طالبان کے طالبان ہی رہے ۔ جب تک امریکا قابض رہا وہ کھاتے پیتے رہے امریکا نے نکلنے کا اعلان کیا اشرف غنی اس سے پہلے نکلے، جو افغانستان میں رہے وہ پورے کے پورے ایک ہی روز میں طالبان میں بدل گئے۔

امریکیوں کو پہچان ہی نہیں رہی طالبان کون ہے اور امریکا کا تربیت یافتہ فوجی کون سا ہے ۔۔ ذبیع اللہ مجائد نے دنیا سے یہی تو کہا کہ ہمیں پہچانوں ہم کون ہیں ہمیں ساتھ لے کر چلو۔ ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں غلامی کے لیے نہیں ۔

افغان تربیت یافتہ فوج نے جو رویہ اختیار کیا، اور طالبان کو خوش آمدید کہہ کر روا رکھا۔ طالبان نے بھی محبت کا جواب محبت سے دیا اور اس فوج کو اپنے اندر ضم کرنے کا اعلان کر کے اپنے ملک اور اپنے لوگوں سے محبت کا اظہار کیا ۔۔ ماڈرن اور دقیانوسی افغانیوں کا یہ ملاپ مغرب یا وہ اقوام جو خود کو ترقی یافتہ کہتی ہیں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ اس قوم کو آپ کیسے شکست دے سکتے ہیں۔

یہ سب ایک ہیں جن کو آپ ماڈرن کہتے ہو اور جن کو دقیانوسی کہتے ہو  ۔ “ایک ہیں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے “۔ امریکا 20 برسوں میں کچھ بدل نہیں سکا نا افغان کی ذہنیت، نا زبان، و ثقافت نا مذہب کچھ بھی نہیں بدلا جیسا افغانستان طالبان سے لیا تھا 20سال بعد ویسے کا ویسے ہی واپس دیا  امریکا نے اس دوران تقریباً پچاس ہزار افغان شہری، دو ہزار پانچ سو امریکی فوجی ،چھیاسٹھ ہزار افغان فوجی اور پولیس اہلکار، چار سو ستاون برطانوی فوجی اور پچاس  ہزار طالبان و دیگر امریکا مخالف ستر سے اسی ہزار پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔

امریکی قوم کے لگ بھگ 2 کھرب ڈالر بلا وجہ خرچ کئے۔ یہ عجب بات ہے کہ یہ رقم قرض لی جس پر  سود کی مد میں 2050 تک 6 کھرب ڈالرز  ادا کرنے ہوں گے ۔ یہ تو ویت نام سے بھی مہنگی جنگ ہوئی ۔۔ امریکیوں  کو پاکستان سے شدید شکایت ہے کہ ہم اس کی وجہ سے جنگ ہارے ہیں ۔

وہ بار بار، ڈو مور کا مطالبہ کرتے رہے لیکن نہ معلوم وہ کیا چاتے تھے پاکستان کیا کرے ۔ زمینی اور فضائی راستے دئیے ہر لحاظ سے تعاون کیا جو کیا وہ بھی غلط تھا لیکن جو کیا وہ بہت تھا ۔۔۔۔ ہم اپنے اداروں پر فخر کر سکتے ہیں آئی ایس آئی،  افواج پاکستان کی ہر قیادت پر کہ بہترین حکمت عملی سے 20 سال گزر گئے پاکستان کا بہت نقصان ہوا لیکن یہ اس سے کم ہے جو امریکا چاہتا تھا۔

وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کے زمانے سے امریکیوں کو مشورہ دیتا رہا کہ افغانستان میں جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ابھی بھی امریکا کے لیے وقت ہے کہ وہ جارحیت کے عزائم سے توبہ کر لے امن سے رہے اور دنیا کو امن سے رہنے دے۔

اب دنیا جنگوں سے فتح نہیں ہو سکتی محبت سے تجارت سے اور ترقی سے کامیابی  ہو سکتی ہے ۔ یہ 2000 ارب جو امریکا نے جنگ میں پھونک دئے یہ اس وقت طالبان سے مل کر  افغانستان کی ترقی پر خرچ کئے ہوتے تو بعقول ذبیع اللہ مجائد امریکا جس مقصد کے لئے افغانستان آیا تھا وہ دونوں پورے ہوتے ایشیاء میں قیام اور افغانستان کی معدنیات کا حصول۔

لیکن لڑ کر کون کچھ لینے دیتا ہے بھارت سمیت دنیا بھر کی جارحہ اقوام کے لیے یہ پیغام ہے کہ نفرت تعصب اور جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں آج بھارت بھی خطہ میں تنہا ہو گیا ہے ۔ اس کو چاہئے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام علاقائی مسائل پر کشمیریوں سمیت تمام پڑوسیوں اور علاقائی ممالک سے بات چیت کا دور شروع کرے اور اچھے ہمسائے کی طرح اپنے رویہ کو درست کرے ۔

گزشتہ غلطی کو نہ دو رائے اور امریکا کو ریجن سے دور رکھنے میں پڑوسیوں کی آواز کے ساتھ آواز ملائے ۔ طالبان نے اپنے بارے میں خود کہہ دیا کہ مشکل دور شروع ہو چکا ۔

اگر وہ اس فلسفہ کو سمجھ گئے ہیں تو یقینا ان کے لیے کوئی مشکلات نہیں ہوں گی افغانستان میں امن علاقائی ترقی کا ضامن ہے اور خانہ جنگی تمام اسٹیک ہولڈر کے اشتراک سے ہی ختم ہو گی یا آیت اللہ خمینی کی حکمت عملی سے سب مل کر ایشیائی بلاک بنائیں اور دنیا پر حکومت کریں باقی سب کی سمجھ میں آ گیا ہے بھگوان ہندوں کی سمجھدانی بھی درست کر دے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube