Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

لیڈزٹیسٹ: انگلینڈ نےبھارت کو آؤٹ کلاس کردیا

SAMAA | - Posted: Aug 31, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 31, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

انگلینڈ نے بھارتی کرکٹ ٹیم کو ہیڈنگلے لیڈز ٹیسٹ کے چوتھے دن ہی ایک اننگز اور 76 رنز سے شکست دے کر پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کردی اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 14 پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر بھی براجمان ہوگیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم انگلش فاسٹ بولرز کےسامنے زیادہ مزاحمت کرنے میں ناکام رہی۔ انگلش کھلاڑیوں نے بھارتی ٹیم کو کھیل کے تمام شعبوں میں آؤٹ کلاس کر دیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی جو روٹ نےسب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتنے والے انگلش کپتان کا اعزاز حاصل کرلیا اور وہ 27 ٹیسٹ فتوحات کے ساتھ سرفہرست ہوگئے۔ ان سے قبل انگلینڈ کو مائیکل وان کی زیر قیادت 2003سے 2008کے دوران51 ٹیسٹ میچز میں سے  26ٹیسٹ میچوں میں کامیابی نصیب ہوئی تھی۔

جو روٹ نے 2017میں انگلش کرکٹ ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی اور ان کی زیرقیادت انگلینڈ نے 55 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ انگلش سرزمین پر جو روٹ نے کپتان کی حیثیت سے 17ویں کامیابی حاصل کی ہے۔ انگلینڈ کی وکٹوں پر سب سے زیادہ 19 ٹیسٹ میچ  بطور کپتان اینڈریو سٹراس نے جیتے ہیں۔ اب روٹ سب سے زیادہ 59 ٹیسٹ میچز میں انگلش ٹیم کی قیادت کرنے والے الیسٹر کک سے صرف چار ٹیسٹ پیچھے ہیں اور وہ رواں سال ہی سب سے زیادہ  ٹیسٹ میچوں  میں انگلش ٹیم کی قیادت کرنے والے کپتان کا اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ رواں سیریز میں دو ٹیسٹ باقی ہیں۔ روٹ کا کہنا ہے کہ انگلش ٹیم کی قیادت کرنا میرا بچپن کا خواب تھا۔ وہ آسٹریلیا کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز میں بھی انگلش ٹیم کے قیادت کا فریضہ انجام دیں گے۔

انگلینڈ اور بھارت کے مابین سیریزکا چوتھا ٹیسٹ میچ جمعرات سے اوول میں شروع ہوگا۔ سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ میچ 10ستمبر کو اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلا جائے گا۔

ہیڈنگلے لیڈز میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میں  ویرات کوہلی کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ ٹیم کیلئے تباہ کن ثابت ہوا جس کا انہیں جلد ہی احساس جلد ہو گیا۔  انگلش ٹیم لارڈز ٹیسٹ شکست کا بدلہ چکانے کے جذبے سے سرشار تھی۔ جیمز اینڈرسن اور اولی رابنسن نے  فاسٹ بولرز کیلئے سازگار وکٹ پر نئی گیند کا مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔ اینڈرسن نے ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ بولنگ کا غیر معمولی مظاہرہ کیا جس کو کھیلنا بھارتی بلے بازوں کیلئے ناممکن تھا۔ تباہ کن بولنگ کے سامنے بھارتی ٹیم صرف 78رنز پر ڈھیر ہوگئی اور صرف دو کھلاڑی دہرے ہندسے تک پہنچ پائے۔

اوپنرراہول کو  اینڈرسن نے اپنی پانچویں گیند پر پہلی گیند بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا کر بھارت کو پہلی کاری ضرب لگائی۔ اس وقت بھارت نے کھاتہ بھی نہیں کھولا تھا۔  پھر پانچویں اوور میں اینڈرسن نے انتہائی قابل اعتماد چتیشور پوجارا کو بھی بٹلر ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ کپتان ویرات کوہلی ٹیم کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالنے کیلئے آئے لیکن انہیں  بھی اولی رابنسن اور اینڈرسن کی سوئنگ بولنگ کو کھیلنےخاصی دشواری ہوئی اور وہ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹک سکے۔ کوہلی اینڈرسن کی ایک خوبصورت گیند پر بٹلر کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے صرف سات رنز بنائے۔ بھارت کا اسکور 21 رنز تھا۔

روہت شرماوکٹ کے دوسری جانب انگلش بولرز کے سامنے ڈٹے ہوئےتھے لیکن وہ بھی رنز نہیں بنا پا رہے تھے۔ انہوں نے اجنکیا ریہانے کے ساتھ مل کر چوتھی وکٹ کی شراکت میں ٹیم کا اسکور 56 رنز پر پہنچایا تو ریہانے 18 کے مجموعی اسکور پر رابنسن کی گیند بٹلر کو کیچ دے بیٹھے۔ لنچ پر بھارت کے 56رنز پر چار کھلاڑی آؤٹ تھے۔ لنچ کے بعد رابنسن کے ساتھ مل کر سام کرن اور کریگ اوورٹن  نے بھارتی اننگز کا خاتمہ صرف  78 رنز پر کردیا ۔ چھ کھلاڑی  صرف 22 رنز کا اضافہ کر سکے۔ روہت شرما 19رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے۔ اینڈرسن کے آٹھ اوورز میں پانچ میڈن تھے۔ انہوں نے چھ رنز کے عوض تین اہم شکار کیے۔ اوورٹن نے تین سام کرن اور اولی رابنسن نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔ 16 فاضل رنز بھارتی اننگز کا تیسرا بڑا اسکور تھا۔

India vs England, 3rd Test, Day 4 Highlights: England Beat India By Innings  And 76 Runs, Level Series 1-1 | Cricket News

 جواب میں انگلش اوپنرز روری برنز اور حسیب حمید نے پہلی اننگز کا پر اعتماد آغازکیا اور پہلی وکٹ کی سنچری شراکت کے ذریعے ٹیم کو مستحکم بنیاد فراہم کی جس کی وجہ سےانگلش ٹیم پہلی اننگز میں 432 رنز  بنانے میں  کامیاب ہوئی اور یہ اسکور بھارت کیلئے ناقابل تسخیر پہاڑ ثابت ہوا۔ انگلش بولرز کی طرح بھارتی گیند باز وکٹ سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ حسیب حمید اور روری برنز نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 135رنز بنائے۔ برنز 61 کے ذاتی اسکور پر محمد شامی کی گیند پر کلین بولڈ ہوئے۔ انگلینڈ کی اوپننگ جوڑی نے  بھارت کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر 10 برس بعد  سنچری پارٹنر شپ بنائی ۔ 2011 میں ایجبسٹن ٹیسٹ میں اینڈریو سٹراس اور الیسٹر کک کی جوڑی نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 186 رنز بنائے تھے۔

انگلینڈ کی جانب سے پانچ برسوں میں یہ دوسری   اوپپنگ سنچری پارٹنر شپ تھی۔ اس سے قبل سنچری اوپننگ  پارٹنر شپ بھی دورہ بھارت میں  راجکوٹ  میں بنائی تھی جس میں حسییب حمید نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں الیسٹر کک کے ساتھ مل کر انگلینڈ کی دوسری اننگز میں پہلی وکٹ کی شراکت میں 180 رنز بنائے تھے۔ حسیب نے اپنے پہلی ٹیسٹ نصف سنچری مکمل کی تھی  اور وہ 82 رنز بنا کرآؤٹ ہوئے تھے۔ یہ بھارت کا دورہ کرنے والی کسی بھی کرکٹ ٹیم کی جانب سے تیسری یا چوتھی اننگز کی سب سےبڑی ریکارڈ اوپننگ پارٹنر شپ تھی۔ برنز کے بعد حسیب حمید بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہیں ٹھہر سکے اور 68 کے ذاتی اسکور پر جدیجہ کی گھوتی ہوئی گیند کو نہ سمجھ پائے اور بولڈ ہو گئے۔

ان فارم کپتان جو روٹ نے ڈیوڈ ملن کے ساتھ ملکر جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور دونوں نے گراؤنڈ کے چاروں جانب خوبصورت اسٹروکس سے شائقین کرکٹ کومحظوظ کیا۔  بھارتی بولرز انہیں  آزادانہ رنزبنانے سے روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے تیسری وکٹ کی شراکت میں  139 رنز جوڑے۔ ملن 70 رنز پرمحمد سراج کا شکار بن گئے۔ کپتان جے روٹ نے جونی بیئر سٹوو کے ساتھ رنزبنانے کا سلسلہ جاری رکھا او ر واں سیریز میں اپنی شاندار سنچری مکمل کی۔ بیئر سٹوو 29 رنز پر محمد شامی کو وکٹ دے بیٹھے۔ جوز بٹلر  زیادہ دیر روٹ کا ساتھ نہ د۔ے سکے اور سات رنز بنا کر شامی کا نشانہ بن گئے۔ اس وقت انگلینڈ کا اسکور 360 رنز تھا۔ جو روٹ 121 رنز کو جسپرت بمرا نے کلین بولڈ کیا۔ میچ کے تیسرے روز انگلینڈ نے سام کرن 15 اور کریگ اوورٹن 32 رنز کی مدد سے 432 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا اور بھارت پر 354 رنز کی سبقت حاصل کر لی۔ محمد شامی نے چار محمد سراج جدیجہ اوربمرا نے دو دوکھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

بھارتی ٹیم کو اننگز شکست سے بچنے کیلئے اچھی اور مستحکم اوپننگ پارٹنر شپ کی ضرورت تھی لیکن روہت شرما اور راہول پر مشتمل جوڑی اس امید پر پورا نہ اتر سکی اورراہول صرف 8 رنز بناکر اوورٹن کا نشانہ بن گئے۔ متعدد بار مشکل وقت میں مرد بحراں کا کردار ادا کرنے والے چتیشور پوجارا نے شرما کے ساتھ مل کر  صورت حال کو سنبھالا اور دوسری وکٹ کی شراکت میں پر اعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے 82 رنز جوڑے۔ شرما 59 رنز بنا کر رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت بھارت کا اسکور 116 رنز تھا۔  کپتان کوہلی نے بھی اننگز کا پراعتماد آغاز کیا اور  تیسرے دن کھیل کے اختتام تک مزید کسی وکٹ کو گنوائے بغیر ٹیم کا اسکور دو وکٹوں پر 215 رنز تک پہنچا دیا تھا۔ اس مرحلے پر یہ دکھائی دیتا تھا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کی سبقت ختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

لیکن چوتھے دن اینڈرسن کی بجائے رابنسن نے نئی گیند کے ساتھ بھارتی بیٹنگ لائن کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور بھارت کے باقی آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کیلئے انگلینڈ کو صرف 20اوورز کی ضرورت پڑی۔ پجارا اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں کوئی اضافہ نہیں کر سکے اوروہ 91 کے اسکور پر رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ امپائر نے اپیل پر آؤٹ نہیں دیا۔ انگلینڈ نے ریویو لیا جس میں پوجارا کو آؤٹ قرار دیا گیا ۔

کیریئر کا چوتھا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے فاسٹ بولر اولی رابنسن کو کھیلنا بھارتی بلے  بازوں کیلئے مشکل ہو گیا تھا۔ اجنکیا ریہانے کھیلنے آئے تو ویرات کوہلی ان کا ساتھ نہ دے سکے۔ کوہلی نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جب ان کا اسکور 55 ہوا تو وہ رابنسن کی گیند پر روٹ کو کیچ دے بیٹھے۔ اس وقت بھارت نے چار وکٹوں پر 237 رنز بنائے تھے۔ ریہانے کو اینڈرسن نے شکار کیا۔ رشابھ پنت رابنسن کا نشانہ بنے۔ بھارت کے ٹاپ کے چار بیٹسمین  پہلے گھنٹے میں صرف 27 رنز میں پویلین لوٹ گئے تھے۔ اس مرحلے پر بھارت کی شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ رویندرا جدیجہ نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 30 رنز بنائے ان کے سوا مزید کوئی کھلاڑی ڈبل ہندسے میں داخل نہیں ہو سکا۔ اوورٹن‘رابنسن اور معین علی نے بھارتی بساط 278 رنز پر لپیٹ دی۔ اولی رابنسن  نے 65 رنز کے عوض پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے جو ان کی بہترین بولنگ ہے۔  اوورٹن نے تین‘معین علی اوراینڈرسن نے ایک ایک وکٹ لی۔ رابنسن کو فاتحانہ کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

India vs England, 3rd Test, Day 4 highlights: England beat India by an  innings and 76 runs to level 5-match series 1-1 - The Times of India

ویرات کوہلی کی زیرقیادت 64 ٹیسٹ میچوں میں  بھارت کو دوسری مرتبہ اننگز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل بھی روٹ الیون نے اگست 2018 میں لارڈز ٹیسٹ میں کوہلی الیون کو ایک اننگز 159  رنز سے زیر کیا تھا۔  لارڈز ٹیسٹ میں کرس ووکس نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنی  واحد اور اولین ٹیسٹ سنچری بنائی تھی۔ فاتحانہ اننگز میں   137 رنز ناٹ آؤٹ  ان کے ٹیسٹ کیریئر کا بہترین اسکور ہے۔

لیڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن نے انگلش وکٹوں پر 400  ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ اب وہ اپنی سرزمین پر زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بولرز کی فہہرست میں متھیا مرلی دھرن کے بعد دوسرے نمبر پر آگئے۔ سری لنکن جادوگر اسپنر نے 73 ٹیسٹ میچز میں 493 کھلاڑیوں کو شکار کیا تھا جبکہ اینڈرسن نے 94 ٹیسٹ میچوں میں 400 وکٹیں مکمل کی ہیں۔ بھارت میں انیل کمبلے نے 63 ٹیسٹ میں 350‘ انگلینڈ میں اسٹیورٹ براڈ نے 85 ٹیسٹ میں 341  اور  آسٹریلیا میں لیگ  اسپنر شین وارن نے 63 ٹیسٹ میں 319  کھلاڑیوں کو شکار کیا۔  رشابھ پنت  جیمز اینڈرسن کا  400 واں شکار تھے۔

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت کا یہ تیسرا کم ترین اسکور ہے۔ اس سے قبل نومبر 1987 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دہلی ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پہی اننگز میں بھارتی ٹیم 76 پر آؤٹ ہو گئی تھی۔  بھارت کے کپتان دلیپ وینگسرکار کپتان  اور ویسٹ انڈیر کے ویوین رچرڈز تھے۔ ویسٹ انڈیز نے ٹیسٹ میچ پانچ وکٹوں سے جیتا  تھا۔  اپریل 2008 میں احمد آباد ٹیسٹ میں بھی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹاس جیت کر  بھارت نے پہلے یٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور پوری ٹیم 76 پر ڈھیر ہو گئی۔ بھارتی کپتان انیل کمبلے  تھے۔  گریم اسمتھ الیون نے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز 90 رنز سے بھارت کو شکست دی تھی۔  مجموعی طور پر اننگز میں یہ بھارت کا نواں کم ترین اسکور ہے۔  بھارت نے  اننگزمیں سب سے کم اسکور  36 رنز ہے جب بھارتی اننگز کو آسٹریلوی برق رفتار بولرز نے  صرف  36 رنز پر  لپیٹ دیا تھا۔

گزشتہ 50 برسوں میں انگلینڈ کے خلاف پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے کسی بھی ٹیم کا یہ دوسراپست ترین سکور ہے۔ پاکستانی ٹیم بھی برمنگھم میں 2010 میں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے 72 پر پویلین لوٹ گئی تھی۔  یہ بھارت کا مجموعی طور پر کسی اننگز میں انگلینڈ کے خلاف تیسرا کم ترین اسکور ہے 1974 میں  بھارتی ٹیم لارڈز ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 42 اور 1952 میں اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ میں 58 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔

کرکٹ کی تاریخ میں یہ تیسرا موقع تھا جب پہلے دن پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے آؤٹ ہونے کے بعد  حریف ٹیم  نے پہلے دن کسی وکٹ کے  نقصان کے  بغیر برتری حاصل کی۔  انگلینڈ نے  2010 میں آسٹریلیا کے خلاف میلبورن  کے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں بھی یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ نیوزی لینڈ نے 2001 کے ہیملٹن ٹیسٹ میں پاکستان پہی اننگز میں صرف 104 رنز پر ڈھیر ہونے کے بعد پہلے دن بغیر کسی نقصان کے 56 رنزکی سبقت حاصل کی تھی۔

England beat India by an innings and 76 runs to level 5-match series 1-1 -  News | Khaleej Times

انگلش وکٹ کیپر جوز بٹلر نے پہلی اننگز میں شاندار وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کیا اور بھارتی ٹیم کو ضربیں لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔  انہوں  نے  بھارت کے پانچ ابتدائی کھلاڑیوں کو  کیچ آؤٹ کیا۔  ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے دوسرے وکٹ کیپر ہیں ان سے قبل  آسٹریلوی وکٹ کیپر بریڈ ہیڈن 2104 کے برسبین ٹیسشٹ میں بھارت کے پانچ ابتدائی کھلاڑیوں کو کیچ آؤٹ کیا تھا۔

لیڈز ٹیسٹ میں جیت  کے ساتھ  ہوم گراؤنڈ پر بغیر کامیابی کے چھ ٹیسٹ میچوں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ انگلینڈ نے ہوم گراؤنڈ پر آخری ٹیسٹ گزشتہ سال پاکستان کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ میں جیتا تھا۔ 1989 اور 1990 کے بعد انگلینڈ کی ہوم گراؤنڈ پر فتخ کےبغیر یہ طویل دورانیہ  تھا۔

لندن کے کننگٹن اوول گراؤنڈ پربھارت اور انگلینڈ کے مابین 13 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں۔ اس گراؤنڈ پرانگلش ٹیم کو بھارت پر واضح  برتری حاصل ہے۔ یہاں  انگلینڈ نے پانچ ٹیسٹ اور بھارت نے صرف ایک ٹیسٹ میچ جیتا ہے جبکہ سات ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔ دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ میچ 1936 میں کھیلا گیا تھا جب غیر منقسم ہندوستان کی ٹیم نے مہاراجہ آف وزیانگرام کی قیادت میں انگلینڈ کا دورہ کیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں  ہندوستان کی ٹیم کو انگلینڈ نے 9 وکٹوں سے ہرایا تھا۔ اس ٹیسٹ میں وزیر علی‘سید مشتاق علی‘ بقا جیلانی‘محمد نثار‘ جہانگیر خان اور دلاورحسین نے حصہ لیا تھا۔ انگلینڈ نے اس گراؤنڈ پر  بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے گزشتہ تین ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

دونوں ٹیمیں آخری بار  2018 میں اوول میں مد مقابل آئی تھیں جس میں جو روٹ الیون نے کوہلی الیون کو 118 رنز سے ہرا دیا تھا۔  بھارت نے اس گراؤنڈ پر واحد کامیابی 50 سال قبل اگست 1971 میں اجیت واڈیکر کی قیادت میں چار وکٹوں سے حاصل کی تھی۔ دوسری اننگز میں  لیگ اسپنر چندرا شیکھر نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 38 رنز کے عوض چھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور انگلش ٹیم 101 رنزپر ڈھیر ہو گئی تھی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube