Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

یوایس اوپن: جوکووچ چوتھا گرینڈ سلام جیتنے کیلئے کوشاں

SAMAA | - Posted: Aug 28, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 28, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

سال رواں کا چوتھا اور آخری گرینڈ سلام یوایس اوپن ٹورنامنٹ 30 اگست سے نیو یارک کے فلشنگ میڈوز میں شروع ہو رہا ہے جو دو ہفتے تک جاری رہے گا ۔ کرونا وائرس کے ماحول میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ایک سال کے وقفے کے بعد تماشائی اپنے فیورٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بچشم خود دیکھ سکیں گے۔ 

آسٹریا کے ڈومینک تھیم کو مینز سنگلز  ٹائٹل کا دفاع کرنا تھا لیکن وہ کلائی انجری کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر رہے عالمی نمبر ایک اور ٹاپ سیڈڈ نواک جوکووچ سال رواں میں اپنا چوتھا گرینڈ سلام جیتنے کی کوشش کریں گے جاپان کی ناومی اوساکا ویمنز سنگلز کی دفاعی چیمپئن ہیں لیکن انہیں کئی سخت جان حریفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس بار یو ایس اوپن میں کئی معروف اور سرکردہ کھلاڑی حصہ نہیں لے رہے جن میں یوایس اوپن کے دفاعی چیمپئن ڈومینک تھیم ‘ راجر فیڈرر ‘رافیل نڈال ‘کائیل ایڈمنڈ ‘ بورنا کورچ ‘اعجاز بڈینی‘  سرینا ولیمز ‘ وینس ولیمز ‘  سٹان واورنکا ‘میلوس راونک ‘ صوفیہ کینن‘ کرسٹین فلپکنز‘لورا سگمنڈ‘ پیٹریشیا ماریہ ٹگ‘ وانگ کیانگ اور دیگر کئی کھلاڑی شامل ہیں۔

یہ یو ایس اوپن ٹینس کا141 واں ایڈیشن ہے جس کے میچز ہارڈ کورٹ پر کھیلے جاتے ہیں ۔ کرونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ سال صرف مینز‘ ویمنز سنگلز اور ڈبلز کیٹیگری کے مقابلے ہوئے تھے جبکہ ڈبلز ایونٹ میں  کھلاڑیوں کی تعداد محدود کر دی گئی تھی  تاہم اس مرتبہ مینز‘ ویمنز سنگلز ‘ڈبلز‘ انڈر 18 گرلز ‘ بوائز سنگلز ‘ ڈبلز اور مکسڈ ڈبلز کے ایونٹس بھی ہوں گے۔

گزشتہ سال کرونا وائرس کی وجہ سے اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد تھی اور کھلاڑیوں کو بھی قرنطینہ کے سخت رولز کی پابندی کرنا پڑی تھی ۔ کوویڈ 19  کی لہر کی وجہ سے کئی کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کی تھی۔

جاپان کی نائومی اوساکا نیو یارک میں اپنے یوایس اوپن ٹائٹل کا دفاع کریں گی انہیں ٹوکیو اولمپکس میں غیرمتوقع طور پر تیسرے رائونڈ میں شکست ہوئی تھی۔ اوساکا نے اولمپکس کی تیاری کیلئے ومبلڈن ٹینس میں شرکت نہیں کی تھی جبکہ فرنچ اوپن  کے دوسرے رائونڈ میں وہ احتجاجاً دستبردار ہو گئی تھیں ۔ نائومی اوساکا کو یو ایس اوپن سے قبل  سنسناٹی ماسٹرز کے تیسرے رائونڈ میں سوئیزرلینڈ کی وائلڈ کارڈ انٹری عالمی نمبر 76 جل ٹیچمان نے حیران کن طور پر شکست سے دوچار کر دیا تھا۔

یو ایس اوپن کے کوالیفائنگ رائونڈ کیلئے تماشائیوں کے اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی تھی آرگنائزرز نے یہ فیصلہ ہیلتھ اتھارٹیز کے مشاورت سے کیا تھا ۔ کوالیفائنگ راونڈ سے 16  کھلاڑیوں کو مین راونڈ میں رسائی ملی جبکہ آٹھ کھلاڑیوں کو یوایس ٹی اے وائلڈ کارڈ انٹریز دی گئی ہیں ۔

مینز اور ویمنز سنگلز کیلئے 128‘128  کھلاڑیوں کے ڈراز نکالے گئے، مینز کیٹیگری میں 35  ملکوں کے کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں جن میں 10 امریکی ہیں ۔  2017  کی یو ایس اوپن سیمی فائنلسٹ کوکو وینڈیگھے کو بھی دیگر سات خواتین کے ساتھ وائلڈ کارڈ انٹری ملی ہے۔

سویڈن کے سٹان واورنکا کی جگہ برطانیہ کے اینڈی مرے کو مین ڈرا میں شامل کیا گیا ۔ واورنکا بائیں پاوں کی سرجری کے بعد ریکوری کے مرحلے میں ہیں اس لیے انہوں نے اپنا نام واپس لے لیا۔

واورنکا نے 2016 میں یو ایس اوپن جیتا تھا وہ مارچ کے بعد سے کورٹ سے باہر ہیں اینڈی مرے سابق یو ایس اوپن چیمپئن ہیں انہوں نے اپنے کیریئر کا پہلا گرینڈ سلام یو ایس اوپن 2012 میں نیویارک میں جیتا تھا۔ اینڈی مرے نے ٹوکیو اولمپکس میں ٹینس سنگلز کے دفاعی چیمپئن تھے لیکن ران میں تکلیف کی وجہ سے وہ پہلے رائونڈ سے قبل ہی دستبردار ہو گئے تھے۔

دفاعی چیمپئن اور عالمی نمبر 6  ڈومینک تھیم نے سال رواں میں صرف 18 میچ کھیلے وہ جون میں مالورکا ٹینس چیمپئن شپ میں کلائی انجری کا شکار ہوئے تھے اور تاحال صحتیاب نہیں ہو سکے۔

انہوں نے پہلے ایک بیان میں اپنے ٹائٹل کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن پھر ان کے ڈاکٹرز نے انہیں مزید آرام کرنے کا مشورہ دیا جس کی وجہ سے تھیم نے یو ایس اوپن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا اور وہ باقی سیزن  کورٹ سے دور رہیں گے۔  انجری کی وجہ سے انہوں نے ومبلڈن اور ٹوکیو اولمپکس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

ڈومینک تھیم کی کلائی انجری بالکل ویسی  ہی ہے جس سے رافیل  نڈال 2016 میں دوچار ہوئے تھے آسٹریلین اوپن کے چوتھے رائونڈ میں تھیم کو دیمتروف نے زیر کیا تھا۔ دوہا اوپن کے سیمی فائنل میں وہ زیوریف سے ہار گئے تھے فرنچ اوپن کے پہلے رائونڈ میں پابلو ایلبا نے آسٹرین کھلاڑی کو  پانچ سیٹ کے مقابلے میں باہر کردیا تھا حالانکہ ڈومیبنک تھیم نے پہلے دو سیٹ جیت کر برتری حاصل کر لی تھی۔

آسٹریا سے تعلق رکھنے والے ڈومینک تھیم نے گزشتہ سال اپنے دوست اور موجودہ اولمپک چیمپئن الیگزینڈر زیوریف کو یہ ایس اوپن فائنل میں پانچ سیٹ کے  جاں گسل مقابلے میں شکست دے کر اپنا پہلا گرینڈ سلام اعزاز جیتا تھا ۔

اسی طرح سوئس لیجنڈ رافیل نڈال نے بھی پائوں میں انجری کی وجہ سے یو ایس اوپن سمیت باقی ٹینس سیزن میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے ریکوری اور مکمل فٹنس کیلئے کچھ وقت چاہیے۔  انہوں نے فرنچ اوپن میں شکست کے بعد  ٹوکیو اولمپکس اور ومبلڈن میں شرکت نہیں کی تھی پھر انہوں نے کینیڈین اوپن اور سنسناٹی اوپن سے بھی اپنا نام آرام کو بنیاد بناتے ہوئے واپس لے لیا تھا ۔

نڈال نے فرنچ اوپن کے سیمی فائنل میں جوکووچ کے ہاتھوں شکست کے بعد صرف دو میچ کھیلے ۔ نڈال کے کیریئر میں2012-13 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وہ  مسلسل دو گرینڈ سلام ایونٹس میں غیر حاضر ہیں۔

 ٹینس میں 20 گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والے سوئس لیجنڈ راجر فیڈررنے بھی  گھٹنے کی سرجری کی وجہ سے یوایس اوین میں شرکت سے معذوری ظاہر کی ہے وہ گھٹنے کی دو سرجریز کی وجہ سے کئی ماہ ٹینس کورٹ سے دور رہے تھے۔ انہوں نے یو ایس اوپن کی تیاری کے سلسلے میں ٹوکیو اولمپکس سمیت دیگر کئی ایونٹس میں شرکت نہیں کی تھی لیکن ان کی تکلیف مزید بڑھ گئی جس کی بنیاد پر انہوں نے باقی ٹینس سیزن میں عدم شرکت کا اعلان کیا۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ کو فیورٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔  وہ سال رواں کے تین گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن‘ ومبلڈن اوپن اور فرنچ اوپن جیت چکے ہیں اور اب وہ سال کا چوتھا گرینڈ سلام بھی اپنے نام کرنے کیلئے پر عزم ہیں لیکن ان کیلئے راستہ آسان نہیں ہو گا۔ انہیں زیوریف ‘ تسسیپاس ‘ میڈیڈیف اور میٹیمو بریٹینی جیسے کئی نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کا سامنا درپیش ہوگا اگر جوکووچ یوایس اوپن ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ ایک ہی سال میں چار گرینڈ سلام  جیت کر سپر سلام حاصل کرنے والے تیسرے مرد کھلاڑی ہوں گے۔

ٹینس سپر سلام  کا  کارنامہ پہلی بار  1938  میں ایمیچر ایرا میں امریکہ کے ڈان بج نے انجام دیا تھا ۔ ڈان بج  لگاتار چھ گرینڈ سلام جیتنے والے واحد کھلاڑی ہیں ۔  راڈ لیور نے 1962 اور 1968  میں دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا ۔ خواتین ٹینس ایمیچر ایرا میں 1953 میں امریکہ کی مورین کونلی برنکر جبکہ اوپن ایرا میں آسٹریلیا کی مارگریٹ سمتھ کورٹ نے 1970  اور جرمنی کی اسٹیفی گراف نے 1988 میں چاروں گرینڈ سلام اعزازت جیت کر سپر سلام کا کارنامہ انجام دیا تھا۔

امریکہ کی سرینا ولیمز 2015  میں سپر سلام کا  کارنامہ انجام دینے کے قریب پہنچ گئی تھیں لیکن یوایس اوپن  کے سیمی فائنل میں اٹلی کی روبرٹا ونچی نے شکست سے دو چار کر دیا تھا۔

ٹوکیو اولمپکس میں شکست کی وجہ سے جوکووچ  کے ہاتھ سے گولڈن سلام جیتنے کا موقع نکل گیا ۔ انہیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریف نے سیمی فائنل میں شکست دے کر ان کا اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا تھا اور 34  سالہ ٹینس اسٹار جوکووچ کو زندگی میں دوبارہ ایسا سنہری موقع نہیں ملے گا کیونکہ وہ اس وقت بھرپور فارم میں تھے۔ جوکووچ ‘ راجر فیڈرر  اور رافیل نڈال نے 20‘ 20  گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتے ہیں ۔

یو ایس ٹی اے بلی جین کنگ نیشنل ٹینس سینٹر پر کھیلا جانے والا یہ ٹورنامنٹ ان تینوں  کھلاڑیوں کیلئے اہمیت کا حامل تھا لیکن رافیل نڈال اور راجر فیڈرر کی عدم شرکت کی وجہ سے جوکووچ کے پاس سب سے زیادہ گرینڈ سلام اعزازات جیتنے والے کھلاڑی بننے کا بہترین موقع ہے۔

 جوکووچ گزشتہ سال بھی یو ایس اوپن ٹائٹل کیلئے فیورٹ تھے لیکن ایک غیر متوقع واقعہ کے نتیجے میں وہ ٹورنامنٹ سے ڈس کوالیفائی کر دیئے گئے تھے ۔ ہسپانوی کھلاڑی پابلو سرینو بسٹا کے خلاف کوارٹر فائنل میچ کے دوران پوائنٹس ضائع ہونے پرمایوسی اور غصے کے عالم میں جوکووچ نے بغیر دیکھے گیند ریکٹ سے پیچھے کی جانب پھینکی تھی جو خاتون لائن جج  کی گردن پر جا لگی تھی اور وہ درد کی شدت سے کراہتے ہوئے زمین پر گر گئی تھی ۔

جوکووچ نے اس غلطی پر فوری معذرت کی تھی لیکن منتظمین نے کافی بحث و مباحثہ کے بعد رولز پرعمل کرتے ہوئے جوکووچ کو ڈس کوالیفائی کر دیا تھا  اور ان کے حریف کو فاتح قرار دے دیا تھا۔

 امریکہ کی40 سالہ ٹینس لیجنڈ سرینا ولمیز آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ کا 24 ویمنز سنگلز گرینڈ سلام ٹائنلز کا عالمی ریکارڈ برابر کرنے کیلئے زبردست جدوجہد کر رہی ہیں اور صرف ایک ٹرافی کی دوری پر ہیں لیکن سرینا نے ہمسٹرنگ انجری کی وجہ سے اپنا نام یو ایس اوپن سے واپس لے لیا  ان کا کہنا ہے کہ میں نے ڈاکٹروں کی ایڈوائس کے بعد یہ فیصلہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یو ایس اوپن میں شرکت نہ کرنے کا افسوس ہے میں اپنے مداحوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی۔ میں فٹنس کے بعد ایک بار پھر ان کے درمیان موجود ہوں گی۔

سرینا ولیمز ومبلڈن اوپن کے دوران انجری کا شکارہوئی تھیں  سرینا  نے اپنا آخری گرینڈ سلام ٹائٹل اپنی بیٹی کی پیدائش سے قبل  2017  کے  آسٹریلین اوپن فائنل میں اپنی بڑی بہن وینس ولیمز کو ہرا کر جیتا تھا اس کے بعد وہ مسلسل چار گرینڈ سلام ٹورنامنٹس  میں حصہ نہیں لے سکی تھیں۔

سرینا ولمیز کے یو ایس اوپن سے دستبردار ہونے کے بعد وینس ولیمز نے بھی ٹانگ میں انجری کی وجہ سے  ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے اس بار سابق یو ایس اوپن چیمپئن وینس ولیمز کو بھی وائلڈ کارڈ انٹری دی گئی تھی ۔ 2003 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں بہنوں میں سے کوئی ایک بھی اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کر رہی ہے۔

سرینا ولیمز کو  2015  کے یو ایس اوپن سیمی فائنل میں وبرٹا  ونچی  جبکہ 2016  کے سیمی فائنل میں کیرولینا پلسکووا  اور  2018 کے فائنل میں نائومی  اوساکا نے زیر کیا ۔ 2019  کے فائنل میں کینیڈا کی اینڈریسکو اور  2020  کے یو ایس وپن سیمی فائنل  میں وکٹوریہ آزارنیکا نے سرینا کو ہرایا تھا ۔

سرینا ولیمز نے گزشتہ  13 گرینڈ سلام ایونٹس میں کوئی ٹائٹل نہیں جیتا ۔ اس دوران انہیں چار مرتبہ فائنل اور دو بار سیمی فائنل میں شکست اٹھانا پڑی ۔  ان کے کیریئر میں  گرینڈ سلام  ٹائٹل نہ جیتنے کا دورانیہ کبھی اتنا طویل نہیں رہا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد 2018 کے فرنچ  اوپن میں ٹینس کورٹ میں واپس آئی تھیں لیکن تیسرا رائونڈ جیتنے کے بعد چوتھے رائونڈ سے دستبردارہو گئی تھیں جس کے نتیجے میں روسی ساحرہ ماریہ شراپووا کو واک اوور مل گیا  تھا۔

یو ایس اوپن  قدیم ترین ٹینس چیمپئن شپ میں سے ایک ہے۔  اولین  یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ اگست 1881 میں منعقد ہوا تھا  جو نیوپورٹ کے کیسینو  نیوپورٹ میں گراس کورٹ پر کھیلا گیا تھا ۔ اس اولین ٹورنامنٹ میں صرف یو ایس نیشنل لان ٹینس ایسوسی ایشن کے رکن کلبوں کو انٹری کی اجازت دی گئی تھی۔

رچرڈ سیئرز پہلے یوایس اوپن چیمپئن تھے اور انہوں نے مسلسل سات برس تک اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کیا اور سات بار چیمپئن بنے جو ریکارڈ ہے۔  1915میں اس ٹورنامنٹ کو نیو یارک منتقل کر دیا گیا تھا  جہاں ویسٹ سائیڈ ٹینس کلب فاریسٹ ہل کوئنز نے میزبانی کی ۔ اس مقام پر 1977  تک ٹورنامنٹ کا انعقاد جاری رہا  جس کے بعد ٹورنامنٹ کو نئے تعمیر کردہ یو ایس نیشنل ٹینس سینٹر  فلشنگ میڈوز منتقل کر دیا گیا جو اب اس کی میزبانی کر رہا ہے۔

یو ایس اوپن مینز سنگلز اور ویمنز سنگلز میں امریکی کھلاڑیوں کو مکمل طور پر بالادستی حاصل رہی ہے۔ امریکہ کے کھلاڑیوں نے  88  مرتبہ مینز سنگلز ٹائٹل جیتا ہے۔ آسٹریلیا 18  اسپین اور سوئیزرلینڈ چھ ‘چھ  جبکہ برطانیہ پانچ بار یو ایس اوپن سنگلز چیمپئن  رہا ۔  امریکہ کے رچرڈ سیئرز ‘بل ٹلڈن اور ولیم لارنڈ نے سات سات مرتبہ یوایس اوپن سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیا ہے ۔ اوین ایرا میں امریکہ کے جمی کونرز ‘پیٹ سمپراس اور سوئیزرلینڈ کے  راجر فیڈرر پانچ پانچ  مرتبہ یو ایس اوپن چیمپئن بنے۔

یو ایس اوپن میں  و یمنز ایونٹ1887 میں پہلی بار متعارف کروایا گیا تھا اس میں بھی امریکی خواتین کو سبقت حاصل رہی ہے۔ امریکی کھلاڑیوں نے سب سے زیادہ 92 مرتبہ ویمنز سنگلز اعزارت جیتے جبکہ آسٹریلیا  اور جرمنی کی خواتین چھ ‘چھ اور بلجیئم کی کھلاڑی پانچ بار یو ایس چیمپئن بنی ہیں۔

ایمیچر ایرا میں نارویجین امریکن مولا میلوری  نے سب سے زیادہ آٹھ  ویمنز سنگلز ٹائٹل جیتے جو ریکارڈ ہے۔  اوپن ایرا میں امریکی لیجنڈز کرس ایورٹ اور سرینا ولمیز چھ چھ بار ویمنز سنگلز چیمپئن رہیں ۔

گزشتہ18 سال سے کوئی بھی امریکی مرد کھلاڑی اپنے ہوم گراونڈ  پر ہونے والے اس یو ایس اوپن ٹورنامنٹ کو جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ آخری بار  امریکہ کے  اینڈی روڈک 2003 میں  یو ایس جیتا تھا ۔ 2005  میں اگاسی اور 2006 میں روڈک نے فائنل کھیلا تھا لیکن دونوں مرتبہ ان پر راجر فیڈرر حاوی رہے تھے لیکن اس کے بعد کوئی امریکی کھلاڑی فائنل میں بھی رسائی نہیں کر پایا  ۔ فیڈرر نے 2004 سے 2008  تک مسلسل پانچ ٹائٹل جیتے۔ ارجنٹینا کے مارٹن ڈل پوٹرو نے 2009  میں فیڈرر کو فائنل میں غیر متوقع طور پر زیر کر کے ان کی ڈبل ہیٹ ٹرک کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔

فیڈرر 2015 کے یو ایس اوپن فائنل میں جوکووچ سے شکست کھا گئے تھے۔  اس کے بعد وہ  یو ایس اوپن کے  فائنل میں رسائی نہیں کر سکے۔  2019 کے یو ایس اوپن کوارٹر فائنل میں انہیں بلغاریہ کے گریگور دیمتروف نے پانچ سیٹ کے جاں گسل مقابلے میں زیر کیا تھا فیڈرر نے  اپنا آخری گرینڈ سلام 2018 میں آسٹریلین اوپن جیتا تھا۔

 امریکہ کی سلونی اسٹیفنز 2017  میں یو ایس اوپن ویمنز ٹائٹل سنگلز جیتنے والی آخری امریکی کھلاڑی تھی  جنہوں نے اپنی ہم وطن میڈیسن کیز کو فائنل میں ہرایا تھا۔

اس کے بعد کوئی امریکی  ویمنز ٹائٹل نہیں جیت پائی ۔ سرینا ولیمز کو مسلسل دو سال 2018 اور 2019 میں فائنل میں بالترتیب اوساکا اور بیانکا اینڈریسکو کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی ۔ یوایس اوپن ویمنز سنگلز میں کوئی بھی خاتون چیمپئن  2014  کے بعد اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کر پائی ہے۔ سرینا نے 2012 سے 2014 تک مسلسل تین ٹائٹل جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی ۔ 2015 میں فلاویا پنیٹا ‘2016 میں  اینجلک کیربر ‘2017 میں سلونی اسٹیفز اور 2019 میں  بیانکا اینڈریسکو نے ویمنز سنگلز ٹائٹل جیتے جبکہ جاپان کی نائومی اوساکا نے 2018 اور 2020  میں ویمنز سنگلز ٹائٹل اپنے نام کیے ہیں۔

یوایس اوپن کے ڈراز کے مطابق عالمی نمبر ایک اور ٹاپ سیڈ نواک جوکووچ پہلے رائونڈ میں کوالیفائر سے مقابلہ کریں گے جبکہ اگلے مراحل میں انہیں سخت حریفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سابق چیمپئن اینڈی مرے کا پہلے رائونڈ میں مقابلہ یونان کے اسٹیفانوس تیسسپاس سے ہوگا ۔ الیگزینڈر زیوریف کا سام کورے ‘ کیرن خاچانوف کا لائیڈ ہیرس ‘ ڈینیل میڈیڈیف کا  رچرڈ گیسکوئٹ ‘ ڈینس شاپوالوف کا فریڈریکو ڈیلبونیس ‘ جانک سنر کا میکس پرسل ‘ کیسپر رڈ کا جو ولفریڈ سونگا ‘ گائیل مونفلز کا فریڈریکو کوریا ‘ جان اسنر کا برینڈن ناکاشیما ‘ میٹیو بریٹینی کا جیرمی چارڈی ‘رابرٹو بٹسٹوٹا آگوٹ کا مقابلہ نک کرگیوس ‘ڈیگو سبساسٹین شوارٹزمین کا رچرڈ برانکس ‘گریگور دیمتروف کا سام ریفائیس ‘کیمرون نوری کا کارلوس الکاریز‘ آندرے روبیلیف کا کوالیفائر سے مقابلہ ہوگا۔

 ویمنز سنگلزمیں عالمی نمبر ایک ایشلے بارٹی کا پہلے رائونڈ میں ویرا زونو ریوا ‘میڈیسن کیز کا سلونی اسٹیفنز ‘ ایلینا سویٹو لینا کا اینا بوگڈن ‘وکٹوریہ آرارنیکا کا ترزا مارٹنکووا ‘ پیٹراکیوٹوا کا پولونا ہرکوگ ‘ سیمونا ہالیپ کا کامیلا جیورجی ‘ اریانا سبالینیکا کا نینا سٹوجانوچ ‘ گاربین موگوروزا کا ڈونا وکچ ‘ایلینا ریباکینا کا الیگزینڈرا ساسنووچ ‘یوہانا کونٹا کا کرسٹینا ملاڈونووچ ‘ کیرولینا پلسکووا کا کیٹی میکنلی ‘  انس جابر کا ایلزے کورنٹ ‘ دفاعی چیمپئن نائومی اوساکا کا میری بوزکووا‘ بلینڈا بینچچ کا ارنترزا رس ‘ ایگا سواٹیککا کوالیفائزر سے ‘پائولیو چنکووا کا ایلیسن رسکی ‘جلینا اوسٹاپنکوکا نادیہ پوڈوروسکا ‘ماریہ سکاری کا مارٹا کوسٹیوک ‘بیانکا اینڈریسکو کا  وکٹوریجا گولوبچ سے مقابلہ ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube