Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

کنگسٹن ٹیسٹ: پاکستان نے موسم اور ویسٹ انڈیز کو ہرادیا

SAMAA | - Posted: Aug 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago

 مقابلہ اگر سخت ہو تو جیتنے میں بھی مزا  آتا ہے لیکن جب جیت کیلئے وقت  اور موسم سے مقابلہ ہو تو پھر حوصلہ اور قوت فیصلہ کا کردار مرکزی ہوتا ہے۔

کنگسٹن جمیکا میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایسی ہی صورت حال درپیش تھی جب پاکستانی کپتان بابر اعظم نے میچ جیتنے کے عزم کے ساتھ دوسری اننگز جلد ڈیکلیئر کر دی تھی کیونکہ کم روشنی اور بارش کے خطرات سر پر منڈلا رہے تھے۔

 جب بابراعظم نے دوسری اننگز ڈیکلیئر کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا تو کچھ مبصرین نے اس فیصلے کو جلد بازی قرار دیا۔ ان کے خیال میں مزید 25 یا 30 رنز کا اضافہ کر کے اننگز ڈیکلیئر کرنی چاہیے تھی کیونکہ ویسٹ انڈیز کا مطلوبہ ٹارگٹ329 رنز فی اوور تین رنز بنتا تھا جو حاصل کیا جا سکتا تھا۔

بابر اعظم  کے جرات مندانہ  فیصلوں اور بولرز کے درست استعمال نے کنگسٹن کے سبینا پارک میں  دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 109 رنز سے فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کامیابی کے ذریعے  پاکستان نے میزبان ٹیم سے پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا حساب بھی چکا دیا اور سیریز برابر کر کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کیلئے قیمتی پوائنٹس حاصل کر لیے۔ بھارت14 پوائنٹس  کے ساتھ پہلے پاکستان 12 پوائنٹس دوسرے اورویسٹ انڈیز 12 پوائنٹس تیسرے نمبر پر ہے۔

انگلینڈ دو پوانٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ انگلینڈ اور بھارت کے مابین  پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بھارت کو ایک ٹیسٹ کی برتری حاصل ہے جبکہ  تیسرا ٹیسٹ لیڈز میں  ابھی کھیلا جا رہا  ہے جس میں انگلش ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے کم بیک کیا ہے۔

 پاکستان کی سبینا پارک کنگسٹن میں یہ تیسری فتح تھی۔ پاکستان نے  اس گراؤنڈ پر پہلی ٹیسٹ کامیابی 2005 میں 136  رنز سے حاصل کی تھی جبکہ دوسری مرتبہ پاکستان نے 2017 میں ویسٹ انڈیز کو 2017 میں سات وکٹوں سے ہرایا تھا۔

ویسٹ انڈیز نے بھی پاکستان کے خلاف اس گراؤنڈ پر تین ٹیسٹ میچ جیتے ہیں۔ اس طرح  اس اسٹیڈیم میں دونوں ٹیموں  کے  مابین تمام ٹیسٹ میچ فیصلہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف مسلسل سات  ٹیسٹ سیریز میں شکست نہیں ہوئی۔ پاکستان 2000 کے بعد سے کسی بھی فارمیٹ میں ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز نہیں ہارا ہے۔

 دوسرے ٹیسٹ میچ  میں ویسٹ انڈین  کپتان کریگ براتھ ویٹ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی اننگز کا آغاز انتہائی تباہ کن انداز میں ہوا جب پہلے اوور میں  اسکور بورڈ پر صرف دو رنز تھے تو کیمر روچ نے عابد علی کو بلیک وڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا کر پاکستان کو پہلا  جھٹکا دیا۔

ابھی  اسکور بورڈ پر کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی کہ  کیمرروچ نے اگلے اوور میں پاکستان کوایک اور کاری ضرب لگائی اور خوب صورت گیند پر اظہر علی کو وکٹ کیپر جوشوا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا کر دیا جو اپنا کھاتہ بھی نہیں کھول پائے کپتان بابر اعظم وکٹ پر آئے تو پہلے ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرنے والے بولر جیڈن سیلز نے عمران بٹ کو  جوشوا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروا دیا صرف  دو رنر پر پاکستان کے  تین اہم کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

  اس نازک مرحلے پر فواد عالم میدان میں اترے جنہوں نے کپتان بابر اعظم کے ساتھ مل کر پاکستانی ٹیم کی ڈوبتی کشتی کو سنبھالا دیا اور ویسٹ انڈین بولرز کی تباہ کاریوں کے سامنے اپنی پر اعتماد بیٹنگ سے بند باندھا۔ دونو ں بلے بازوں نے جم کراعتماد کے ساتھ ویسٹ انڈین بولنگ اٹیک کا سامنا کیا اور ان گیندوں پر جارحانہ اسٹروکس بھی کھیلے۔

بابراور فواد موقع ملنے پر گیند کو باؤنڈری پار بھیجنے میں کوئی رعایت نہیں برتی اور اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ انہوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں شاندار 158 رنز جوڑے فواد عالم ٹانگ کا پٹھہ کھنچ جانے کی وجہ سے ریٹائر ہو کر پویلین چلے گئے۔

فواد عالم نے 11 چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنائے تھے۔ ان کی جگہ نائب کپتان محمد رضوان بیٹنگ کرنے آئے اور انہوں نے بھی انتہائی اعتماد کے ساتھ کھیل کا آغاز کیا لیکن دوسری جانب بابر اعظم زیادہ دیر تک اپنے نائب کا ساتھ نہ دے سکے اور وہ بھی کمیر روچ کی برق رفتاری کا شکار ہوئے۔ انہیں  75 رنز پر جیسن ہولڈر نے کیچ آؤٹ کیا۔ اس وقت پاکستان کا اسکور 168  تھا۔

فہیم اشرف نے بھی پراعتماد اننگز کا آغازکیا اور رضوان کے ساتھ مل کر اسکور  آگے بڑھایا۔ پہلے روز خراب روشنی کی وجہ سے کھیل  16 اوور قبل ہی ختم کر دیا گیا تھا اس وقت پاکستان کا اسکور 212 رنز تھا ۔ رضوان 22 اور فہیم اشرف 23 رنز بیٹنگ کر رہے تھے۔

میچ کے دوسرے دن صبح سے ہونے والی بارش کی وجہ سے کھیل نہیں ہوا تھا  تیسرے دن محمد رضوان اور فہیم اشرف نے اعتماد کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا اور فہیم اشرف26 رنز پر سیلزکی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔

 فواد عالم دوبارہ وکٹ پر آئے اور اپنی نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی  لیکن محمد رضوان ان کا زیادہ ساتھ نہ دے سکے اور 31 رنز پر جیسن ہولڈر کا شکار ہو گئے۔ نعمان علی ہولڈر کی اگلی گیند پر جوشوا کو کیچ دے بیٹھے۔ حسن علی وکٹ پر آئے۔

اس دوران فواد عالم نے اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری مکمل کی۔ حسن علی 9  کے ذاتی اسکور پر رن آؤٹ ہو گئے۔ شاہین آفریدی نے 9 ویں وکٹ کی شراکت میں فواد کے ساتھ مل کر 35  قیمتی رنز کا اضافہ کیا۔  شاہین 19 رنز پر سیلز کا نشانہ بن گئے۔ پاکستانی کپتان بابر اعظم نے 302 رنز 9 کھلاڑی آؤٹ پر پہلی اننگز ڈیکلیئر کر ی۔ فواد عالم 124 رنز پر ناقابل شکست رہے۔

 پاکستان کی طرح ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کا آغاز بھی مایوس کن انداز میں ہوا جب شاہین آفریدی نے 9 رنز پر ویسٹ انڈین کپتان براتھ ویٹ اور کیرن پاؤل کو پویلین کی راہ دکھا دی تھی۔ پاکستانی فاسٹ بولرزنے سبینا پارک کی وکٹ اور ہوا کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی سوئنگ کرتی  برق رفتار گیندوں کے حریف بلے بازوں کو جم کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ ویسٹ انڈیز کے صرف چار کھلاڑی دہرے ہندسے میں جا سکے۔

بونر 37‘ جرمین بلیک وڈ 33‘ جیسن ہولڈر 26 اور  روسٹن چیز 10 رنز بنا پائے۔ ویسٹ انڈین ٹیم صرف 150 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔  شاہین آفریدی نے 51 رنز دے کر چھ کھلاڑی آؤٹ کیے جو ان کی ٹیسٹ اننگز میں بہترین بولنگ ہے۔ شاہین نے تیسری مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ محمد عباس نے 44 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کو پہلی اننگز میں 152  رنز کی بھاری سبقت مل گئی تھی۔

 آسمان پر منڈلاتے سیاہ بادلوں اور بارش کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی  بلے بازوں نے دوسری اننگز میں ابتدا سے ہی جارحانہ اندازاختیار کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ون ڈے میچ  کھیل رہے ہیں۔ پاکستانی اوپنز عابد علی اور عمران بٹ نے 50 رنز چھٹے اوور میں بنالیے۔ پاکستان کی پہلی وکٹ 10 ویں اوور میں 70 رنز پر گری جب الزاری جوزف کی گیند پر عابد علی 29 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے۔

عمران بٹ 37 رنز بنا کر مائرز کا نشکار بنے۔ اس وقت پاکستان کا اسکور 13  اوورز میں 90 تھا۔ ان کے بعد آنے والے پاکستانی بلے بازوں نے بھی جارحانہ کھیل پیش کیا  اور اس کوشش میں  اظہر علی 22 بابر اعظم 33 حسن علی  فہیم اشرف 9 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ محمد  رضوان 10 پر ناٹ آؤٹ  رہے۔  پاکستان نے 27.2 اوورز 176 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پراننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔ اس طرح پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کیلئے 329رنزکا ٹارگٹ ملا جس کو حاصل کرنے کیلئے ویسٹ انڈیز کے پاس  چوتھے دن کا آخری سیشن اور پورا پانچواں دن تھا۔

ویسٹ انڈیز کے پاس 130  اوورز تھے جس میں اسے یہ ہدف پورا کرنا تھا لیکن  پاکستانی کپتان نے اٹیکنگ حکمت عملی اختیار کی  کیونکہ ان کا مقابلہ ویسٹ انڈین بلے بازوں کے ساتھ ساتھ  خراب ب  روشنی اور بارش  کے امکانات سے بھی تھا۔

 بابراعظم چوتھے روز ویشٹ انڈیز کے  کچھ کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھانے کے خواہاں تھے تاکہ آخری روز میچ کو جلد از جلد نمٹایا جا سکے۔ ان کی یہ حکمت عکمی کارگر ثابت ہوئی۔    ویسٹ انڈین  اوپنرز براتھ ویٹ اور پاؤل نے دوسری اننگزکاآغاز اعتماد کے ساتھ کیا اورابتدا میں ان کے انداز سے لگتا تھا کہ وہ لمبی  اننگزکھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 34 رنز بنائے۔

پاؤل کو  تیسرا رن لینے کی کوشش میں کریز میں پہنچنے میں ناکام رہے اور  شاہین آفریدی کی براہ راست تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔  اس وقت آسمان پر بادل منڈلانے لگے تھے اورروشنی کم ہورہی تھی۔ ویسٹ انڈیز نے صورت حال کو بھانپتے ہوئے نائٹ واچ مین کے طور پر الزاری جوزف کو بھیجا۔  19 ویں اوور کے اختتام پر کم روشنی کی وجہ سے  چوتھے دن کا کھیل ختم کر دیا گیا حالانکہ ابھی 20 اوورز باقی تھے ویسٹ انڈیزکا اسکور ایک وکٹ پر 49 رنز تھا۔

کھیل کا پانچواں دن  پاکستانی بولرز کیلئے انتہائی سازگار رہا جس میں پاکستانی فاسٹ بولرزکے علاوہ اسپنر نعمان علی نے بھی   بہترین کارکردگی دکھائی۔ ویسٹ انڈیز کااسکور 65 پر پہنچا تو   الزاری جوزف 17 رنز بنا کر شاہین آفریدی کا شکار ہوگئے۔ اس کے بعد پاکستان کو مختصر وقت میں  یکے بعد دیگرے دو اہم کامیابیاں ملیں۔

حسن علی کو بونر کو دو رنرز اور روسٹن چیز کو صفر پر آؤٹ کر دیا۔ جرمین بلیک وڈ نے کپتان براتھ ویٹ کے ساتھ مل کر ویسٹ انڈیز کی لڑکھراتی بیٹنگ کو سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا اور اسکور کو 101 رنز پر پہنچادیا۔ اس موقع پر بلیک وڈ  نعمان علی کی گھومتی ہوئی گیند پر رضوان کوکیچ دے بیٹھے۔ کائل مائرز کھیلنے کیلئے آئے جنہوں نے پر اعتماد بیٹنگ کا آغازکیا لیکن  انتہائی محتاط انداز میں کھیلنے والے کپتان براتھ ویٹ بھی 39 رنز پر نعمان علی کی گیند پر فواد عالم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

جیسن ہولڈر نے مائرز کے ساتھ مل کر اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا  جب 65.3 اوورزمیں اسکور 159 رنز پہنچا تو ویسٹ انڈیز کے ساتویں  کھلاڑی  مائرز(32 رنز)  کو شاہین آفریدی نے  پویلین پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی  تو تیزی سے  گہرے سیاہ بادل آسمان پر پھیلنے لگے اور  کھیل روک دیا گیا جو پاکستان کیلئے پریشان  کن  اور ویسٹ انڈیزکیلئے باعث اطمینان تھا  کیونکہ پاکستان کی جیت اب  یقینی ہو چکی تھی اور دوسری جانب شدید بارش کی  پیش گوئی کی جا رہی تھی۔ تاہم بارش  ہوئی لیکن موسلادھار نہیں تھی۔ بارش کی وجہ سے چائے کا وقفہ جلد کر دیا گیا تاکہ کھیل کیلئے وقت بچایا جا سکے۔

  بارش رکنے اور مطلع صاف ہونے کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو  پاکستان کو باقی مادہ تین وکٹوں کا صفایا کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ جیسن ہولڈر 47 رنز نے جوشوا کے ساتھ مل کر آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 40 رنز کا اضافہ کیا ۔

ہولڈر نعمان علی کی گیند پر فواد عالم کو کیچ دے بیٹھے۔ پھر کمیر روچ  سات رنز او جوشوا  15 رنزکو شاہین آفریدی نے شکار کر کے ویسٹ انڈین اننگز 219 رنز پر لپیٹ دی اور پاکستان کو 109 رنز سے کامیابی دلوا دی۔ آفرید نے دوسری اننگز میں چار نعمان علی نے تین اور حسن علی نے دوکھلاڑی آؤٹ کیے آفریدی نے ٹیسٹ میچ میں پہلی بار 10 وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا۔ ویسٹ انڈین سرزمین پر کسی مہمان ٹیم کے فاسٹ بولر نے 10 سال بعد ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ بھارتی فاسٹ بولر ایشانت شرما نے 2011 میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

 پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ  تاریخ میں  یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں دو رنز یا اس سے کم  رنز پر اپنی  ابتدائی تین وکٹیں گنوانے کے بعد ٹیسٹ  میچ میں فاتح  کی حیثیت سے  گراؤنڈ سے  باہر آئی۔ اس سے قبل2006 میں یونس خان کی قیادت میں کراچی ٹیسٹ میں پاکستان اسی صورت حال کا شکار ہونے کے بعد میچ 341 نزسے جیت گیا تھا۔

بھارتی فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے میچ کے  پہلے ہی اوور  میں  آخری تین گیندوں پر سلمان بٹ یونس خان اور محمد یوسف کو پویلین بھیج کر سنسنی پھیلا دی تھی  اور پاکستان نے کوئی رن نہیں بنایا تھا ۔

 ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف آخری مرتبہ ٹیسٹ سیریز 2000 میں جیتی تھی جب جمی ایڈمز کی قیادت میں میزبان ٹیم نے اپنی سرزمین پر پاکستان کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0 سے زیر کیا تھا۔ پاکستان کے کپتان معین خان تھے۔

ویسٹ انڈیز نے جارج ٹاؤن میں آخری ٹیسٹ میں مہمان ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے ہرایا تھا۔ وسیم اکرم نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری اننگز میں پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔216  رنز کے ہدف حاصل کرنے کی جدوجہد میں ویسٹ انڈیز  چھ کھلاڑی دہرے ہندسے میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔

وسیم اکرم  ٹیسٹ میں 11  وکٹیں حاصل کر کے پلیئر آف دی میچ  قرار پائے تھے۔ اس ٹیسٹ سیریز میں فاسٹ بولرز نے شاندارکارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 66 کھلاڑیوں کواپنی برق رفتار گیندوں سے شکار کیا جو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں فاسٹ بولرز کی دوسری بہترین کارکردگی ہے۔  بھارتی  ٹیم کے 2013-14 کے دورہ نیوزی لینڈ میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں  دونوں ٹیموں کے فاسٹ بولرز نے 67 شکار کیے تھے جبکہ اسپنرز صرف چار وکٹ حاصل کرپائے تھے۔

 شاہین آفریدی نے دو ٹیسٹ میچوں میں مجوعی طور پر 213 رنز دے کر 18 وکٹیں حاصل کیں ۔ دوٹیسٹ میچوں کی  سیریز میں پاکستان کی جانب سے آف اسپنر تقلین مشناق نے بھارت کے خلاف 1998-99 میں 20 وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ لیگ اسپنر مشناق احمد نے  دو ٹیسٹ کی سیریز میں دو مرتبہ 18 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا۔

 شاہین آفریدی دو ٹیسٹ کی سیریز میں 18 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی فاسٹ بولرہیں۔  فاسٹ بولر محمد آصف نے 2005-6 میں سری لنکا اور محمد عباس نے 2017-18 میں آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ میچزکی سیریز میں 17,17 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

 شاہین شاہ آفریدی کو ان کی فاتحانہ کارکردگی کی بنیاد پر ناصرف  پلیئر آف دی میچ کا اعاز ملا بلکہ وہ پلیئر آف دی سیریز کا ایوارڈ بھی لے اڑے۔ یہ  پاکستان کی جانب سے  تقریباً 15 سال بعد  فاسٹ بولر کی جانب سے بہترین کارکردگی تھی۔ پاکستان کی جانب سے اپریل 2006 کے کینڈی ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کے خلاف محمد آصف نے 71 رنز دے کر 11 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

اس دوران  محمد عباس اور حسن علی نے بھی 10‘10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ 21 سال 136 دن کی عمر میں شاہین آفریدی 21 ویں صدی میں میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے والے تیسرے کم عمر بولر ہیں۔ بھارت کے عرفان پٹھان  نے 20 سال 44 دن کی عمر میں  دسمبر 2014 میں ڈھاکہ ٹیسٹ میں  بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ کے کیگیسو ربادا  نے 20 سال 242 دن کی عمر میں جنوری میں 2016 سنچورین ٹیسٹ میں انگلینڈ کے خلاف10 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

 فاسٹ بولر  وسیم اکرم‘ وفار یونس اورمحمد زاہد کے بعد شاہین آفریدی  ٹیسٹ میچ میں دس وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستان کے چوتھے کم عمر فاسٹ بولر ہیں۔ وسیم اکرم نے  فروری 1985 میں ڈونیڈن ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 18سال 251 دن کی عمر میں 128 رنز کے عوض دس کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

وفار یونس نے18 سال 336 دن کی عمر میں   اکتوبر 1990 میں لاہور ٹیسٹ میں 106 رنز دے کر 10 وکٹیں حاصل کی تھیں وفار یونس نے آٹھ دن بعد فیصل آباد ٹیسٹ میں بھی 10 وکٹیں حاصل کرنے کاکارنامہ انجام دیا تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم اور سابق  کپتان عمران خان نے 24 سال 101دن کی عمر میں جنوری 1977 میں آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں   165رنز دے کر 12 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

ویسٹ انڈین سرزمین پر شاہین آفریدی پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچ میں 10 یا زائد وکٹیں حاصل کرنے والے چوتھے بولر ہیں۔  ویسٹ انڈیز  میں   پاکستان کی جانب سے پہلی بار ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ عمران خان نے انجام دیا تھا جب انہوں نے 1988 میں جارج ٹاؤن ٹیسٹ میں 121 رنز دے کر 11 کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔

اس کے 12 سال بعد وسیم اکرم نے 2000 میں اینٹیگا  ٹیسٹ میں 110 رنز دے کر گیارہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ کرشماتی  لیگ اسپنر سعید  اجمل نے 2011 میں پرویڈنس  ٹیسٹ میں 111 رنز کے  11ویسٹ نڈین بلے بازوں کو پویلین بھیج دیا تھا۔

پاکستان کی فتح میں اپنی شاندار بولنگ سے کلیدی کردار ادا کرنے والے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے آئی سی سی کی بولنگ رینکنگ میں بھی لمبی جست لگائی اور پہلی مرتبہ ٹاپ 10 میں جگہ بنالی وہ اب عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر پہنچ گئے۔ شاہین آفریدی نے کنگسٹن ٹیسٹ میں 94 رنز دے کر 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس سے قبل شاہین آفریدی 18 ویں نمبر پر تھے اور  وہ کنگسٹن جمیکا  کے  پہلے ٹیسٹ میچ میں آٹھ کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھانے کے بعد اس پوزیشن پر پہنچے تھے۔ پہلے ٹیسٹ میں آفریدی نے 109 رنز دے کر آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

آئی سی سی کی نئی بولنگ رینکنگ میں  آسٹریلوی فاسٹ بولر  پیٹ کمنز  پہلے‘بھارت کیروی چندرن ایشون دوسرے‘ نیوزی لینڈ کے ٹم ساؤتھی تیسرے‘ آسٹریلیا کے ہیزل وڈ چوتھے‘ نیوزی لینڈ کے نیل ویگنر پانچویں‘ انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن چھٹے‘ جنوبی افریقہ کے کیگیسو ربادا ساتویں‘  ویسٹ انڈیز کے جیسن ہولڈر نویں  اور انگلینڈ کے کرس براڈ 10 ویں نمبر پر ہیں ۔

پاکستان کی پہلی اننگزمیں سنچری بنانے والے فواد عالم کی پوزیشن بھی  آئی سی سی بیٹنگ رینکنگ میں پوزیشن بہتر ہو گئی  اور وہ  34 ویں نمبر سے لمبی چھلانگ لگا کر 21 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ مئی میں فواد عالم 47ویں نمبر پر تھے۔ پاکستانی  کپتان بابراعظم ساتویں اورنائب کپتان محمد رضوان  19 ویں نمبر پر آگئے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن بدستور پہلی پوزیشن پر براجمان ہیں۔ انگلش کپتان جو روٹ دوسرے‘آسٹریلیا کے اسٹیون اسمتھ تیسرے ‘مارک لبوشین چوتھے‘بھارت کے ویرات کوہلی پانچویں‘ روہت شرما چھٹے‘ رشابھ پنت آٹھویں‘ آسٹریلیا کے   وارنر نویں اور جنوبی افریقہ کے  ڈی کوک دسویں نمبر پر ہیں۔

 ویسٹ انڈین ٹیم کی بیٹنگ لائن بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے۔  ویسٹ انڈیز نے جنوبی افریقہ اور پاکستان کے خلاف آٹھ ٹیسٹ اننگز میں  زیادہ سے زیادہ اسکور 253  بنایا۔  کوئی بھی  ویسٹ انڈین بیٹسمین  سنچری اسکور نہیں کر سکا صرف پانچ نصف سنچریاں بنیں۔

بہترین اسکور پاکستان کے خلاف کپتان براتھ ویٹ کی 97 رنز کی اننگز ہے۔ پانچوں نصف سنچریاں پانچ  مختلف کھلاڑیوں  جیسن ہولڈر‘ بلیک وڈ‘ روسٹن چیز‘براتھ ویٹ اور پاؤل  نے اسکور کی ہیں۔ جرمین  بلیک وڈ نے   8 اننگزمیں سب سے زیادہ 3 22 رنز بنائے جن کا اوسط 27.87 ہے جو ویسٹ انڈین بلے بازوں میں  بہترین ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube