Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

کنگسٹن ٹیسٹ‘ ویسٹ انڈیز ایک وکٹ سے فتحیاب

SAMAA | - Posted: Aug 18, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 18, 2021 | Last Updated: 4 months ago

 مشہور کہاوت ہے کہ کرکٹ کا کھیل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے شائقین کرکٹ نے ایسے کئی میچز دیکھے ہیں جن میں لمحہ بہ لمحہ صورت حال تبدیل ہوتی رہتی ہے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین سبینا پارک کنگسٹن جمیکا میں کھیلا جانے والے بارش زدہ پہلا ٹیسٹ میچ بھی انتہائی سنسنی خیز رہا جس میں صورت حال ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوتی رہی اور کھلاڑیوں کے چہروں پر تنائو سے اس  کی واضح عکاسی ہوتی تھی ۔

 ویسٹ انڈیز کے ٹیل انڈر کیمار روچ اور جیڈن سیلز پر مشتمل جوڑی نے اس جاں گسل اور اعصاب شکن مقابلے میں اپنے حواس پر کنٹرول رکھتے ہوئے10  ویں وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 17  رنز جوڑے اور  164  رنز کا مطلوبہ ہدف 9  وکٹوں پر حاصل کر کے ٹیم دو ٹیسٹ کی سیریز میں 0-1   سے برتری دلوا دی۔ کنگسٹن کے سبینا پارک میں ٹیسٹ میچوں میں ویسٹ انڈیزکے ہاتھوں پاکستان کی یہ تیسری شکست تھی۔

  اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کیلئے قیمتی پوائنٹس بھی حاصل کر لیے۔ اب دونوں کرکٹ ٹیمیں نئے عزم کے ساتھ جمعہ 20  اگست کو اسی سبینا پارک میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔

کھیل کے آخری مراحل میں پاکستانی فیلڈرز نے تین کیچ ڈراپ کیئے  جو میچ کا پانسہ پلٹ سکتے تھے لیکن قسمت کے لکھے سے کون لڑ سکتا ہے۔  حسن علی نے شاہین آفریدی کی گیند پر کیمار روچ کا آسان کیچ اس وقت ڈراپ کیا جب ان کا ذاتی اسکور 16 رنز تھا ۔

اسی طرح وکٹ کیپر رضوان سے بھی ایک کیچ ڈراپ ہوا جب گیند ان کے گلوز سے ٹکرا کر نکل گئی تھی ۔ اسی طرح محمد عباس بھی ایک کیچ تھامنے میں ناکام رہے۔ تاہم محمد رضوان نے جومل وریکن کا شاندارکیچ لیا جس کیلئے وہ کافی دور تک دوڑے تھے اگر پاکستان میچ جیت جاتا تو اس کیچ کا اس کامیابی میں ضرور تذکرہ ہوتا۔

 پاکستانی کپتان بابر اعظم نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ ڈراپ کیچز میچ کا پانسہ پلٹ سکتے تھے لیکن سنسنی خیزی ہی کرکٹ کا حسن ہے۔ ہمارے بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا  لیکن بیٹنگ لائن بولرز کی طرح اچھی پرفارمنس دینے میں ناکام رہی اگر بیٹنگ لائن مزید کچھ رنز جوڑ لیتی تو  نتیجہ ہمارے حق میں ہو سکتا تھا۔ یہ ایک فائٹنگ میچ تھا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا یہ میچ واقعی ایک پریشر گیم تھا جس میں  دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ساتھ دیکھنے والے شائقین کرکٹ بھی زبردست دبائوکے شکار تھے جس کا اظہار لمحہ بہ لمحہ سوشل میڈیا پر دیئے جانے والے کمنٹس سے ہو رہا تھا ۔ ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اس دبائو میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کے ناخن دانتوں سے کتر بیٹھا۔

 ویسٹ انڈین کپتان براتھ ویٹ نے ٹاس جیت کر بارش زدہ وکٹ پر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی  اور ان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوا کیونکہ وکٹ اور فضا میں موجود نمی ویسٹ انڈین بولرز کیلئے سازگار ثابت ہورہی رہی تھی۔ پاکستان نے فواد عالم 56‘ فہیم اشرف 44‘ بابر اعظم 30 محمد رضوان 23 کی مدد سے 217 رنزبنائے۔ ویسٹ انڈیز کے کیمار روچ نے دو جیسن ہولڈر اور جیڈن سیلز نے تین تین کھلاڑیوں کو آڑوٹ کیا۔ جواب میں پاکستانی بولرز کی بہترین بولنگ کے سامنے ویسٹ انڈین بلے بازوں کو بھی رنزبنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کپتان براتھ ویٹ کی97 جیسن ہولڈر 58‘ جرمن بلیک وڈ 22 اور روسٹن چیزاور جوشوا ڈا سلوا کے 21‘21 رنز کی بدولت میزبان ٹیم 253 رنز بناا پائی۔ اور اسے  پاکسنتان  پر  صرف 36 رنزکی سبقت ملی۔

دوسری اننگز میں بھی پاکستان کی صورت حال کوئی مختلف نہیں تھی۔پاکستانی ٹیم کی بساط 203 رنزپر لپٹ گئی کپتان بابر اعظم 55‘ عابد علی 34 ‘ محمد رضوان 30‘ اظہرعلی 23‘ فہیم اشرف 20 اور حسن علی 28 رنزکے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان کی آخری پانچ وکٹیں صرف 35 نز کے اضافے پر گریں جن میں حسن علی کے دو چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے قیمتی 28رنزشامل تھے۔جیڈن سیلز نے پانچ اور کیمار  روچ نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ویسٹ انڈیز کوجیتنے کیلئے 168 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن اس وکٹ پر یہ کوئی آسان ٹارگٹ نہیں تھا۔

 جب ویسٹ انڈین ٹیم بیٹنگ کیلئے وکٹ پر آئی تو پاکستانی فاسٹ بولر شاہین آفریدی کی  برق رفتار گیندیں ان کیلئے قہر ثابت ہوئیں۔ شاہین نے 16 رنز کے مجموعی اسکور پر  کیرن پاؤل‘ کپتان براتھ ویٹ  اور بونر کو کو پویلین بھیج کر پاکستانی کیمپ میں خوشی کی لہر دوڑا دی تھی اور جیت کے امکانات روشن کر دیئے تھے پھر روسٹن چیزاور جرمین بلیک ود نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 68رنز جوڑ کر میزبان ٹیم میں امید کی کرن پیدا کردی تھی  لیکن فہیم اشرف نے روسٹن چیزاورکائل مائر ز کو آؤٹ کر کے سنسنی پھیلا دی۔

چیز 22 رنزبنا پائے جبکہ مائرز کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے۔ اس وقت ویسٹ انڈیر کے 92 رنز پر پانچ کھلاڑی پولیلن لوٹ گئے تھے۔ جرمین بلیک وڈ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہیں ٹھہر پائے لیکن 55 فیمتی رنز بنا کر ویسٹ انڈین اسکور 111 پر پہنچا دیا تھا۔ تین رنز بعد ویسٹ انڈیز کی امیدوں کا مرکز اور مشکل حالات میں بارہا  ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے والے جیسن ہولڈر بھی  16 نز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

کیمار روچ جب کھیلنے کبلئے آئے تھے تو ویسٹ انڈیز کے سات کھلاڑی 114 رنز پر پویلین لوٹ چکے تھے  اور ان حالات میں  ویسٹ انڈیز کی امیدوں کا مرکز  پہلے سے موجود وکٹ کیپر بیٹسمین جوشوا ڈا سلوا تھے لیکن وہ بھی وکٹ پر زیادہ  دیر نہ ٹھہر پائے اور 13 رنز بنا کر  شاہین آفریدی کی گیند پر رضوان کو کیچ دے بیٹھے۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کو میچ جیتنے کیلئے 26 رنز درکار تھے اور پاکستان کو دو اچھی گیندوں پر دو وکٹوں کی ضرورت تھی۔

تاہم کیمار روچ نے اپنی ٹیم کو فتح سے ہم کنار کرنے کا بیرا اٹھایا  کیونکہ جومل وریکن اور جیڈن سیلز  نے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کیا  تھا تاہم کیمارروچ نے  اپنے دونوں جونیئر ساتھیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے مرکزی کردارادا کیا اور  اپنی ٹیم کو فتح سے ہم کنار کیا۔

 جومل وریکن جب آؤٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیز کو 17رنز کی ضرورت تھی۔ کیمار روچ کا کہنا ہے کہ یہ رنز  پہاڑ جیسے لگ رہے تھے  کیونکہ جیڈن سیلز  نیا کھلاڑی تھا۔ میں نے اسے  مشرہ دیا کہ سیدھی گیند کو انتہائی احتیاط سے کھیلنا اور تمہارا کام وکٹ پر کھڑے رہنا اور اپنی وکٹ کو محفوظ رکھنا ہے کیونکہ سیدھی آنے والی گیند نیچی رہتے کی وجہ سے خطرناک تھی ۔

جیڈن نے اس پر عمل کیا اور ٹیم کو جیت کی منزل تک پہنچانے میں میرا ساتھ دیا۔ کیمار روچ نے 30  رنز ناٹ آؤٹ کی یادگار اننگزکھیلی جس کو وہ مدتوں فراموش نہیں کر سکیں گے۔

کیمار روچ کو  اپنی 13 سالہ پروفیشنل لائف میں کبھی ایسی مشکل صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ کیمار روچ نے کہا کہ میں ٹیل انڈر کا حصہ تھا اور  سینیئر ہونے  کی بناء مجھ پر بوچھ آگیا تھا۔  مجھے خوشی ہے کہ اس جیت میں میرا کردار اور شراکت اہم رہی۔ کیمرروچ نے کہا کہ مین آف دی میچ جیڈن سیلز کا مستقبل روشن ہے اور وہ ویسٹ انڈین بولنگ کیلئے اثاثہ ثابت ہو گا۔  اس نے دونوں اننگز میں پاکستان کے بہترین  بلے بازوں کواپنا ہدف بنایا۔

 کیمار روچ  نے اس ٹیسٹ میچ میں اپنے ایک ہزار رنز بھی مکمل کیے اور وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک ہزار سے زائد رنز بنانے اور دو سو وکٹیں حاصل کرنے والے چوتھے ویسٹ انڈین کھلاڑی بن گئے۔ ان سے قبل سرگیری سوبرز‘ میلکم مارشل اور سر کرٹلی ایمبروز یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔  وہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے 43 ویں کھلاڑی ہیں۔

 پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں شکست ہوئی لیکن پاکستانی اوپنر عمران بٹ نے اپنی شاندار فیلڈنگ کی وجہ سے ایک اعزازاپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ے انہوں نغ دوسری اننگز میں تین ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کو کیچ آؤٹ کیا۔

اس طرح وہ اپنے ابتدائی پانچ  ٹیسٹ میچوں میں 15 کیچ پکڑنے والے دنیا کے  دوسرے کھلاڑی بن گئے۔ عمران بٹ سے 100 سال قبل 1920 میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے آسٹریلیا کے جیک گریگوری نے یہ کارنامہ انجام دینے والے واحد ٹیسٹ کرکٹر تھے۔

ویسٹ انڈین کپتان براتھ ویٹ نے  اپنی ٹیم کی کامیابی پر کھلاڑیوں کو مبارکباد پیش کی جن کی  محنت اور  بہترین کاکردگی کی وجہ سے یہ فتح ممکن ہوئی۔

پاکستانی بولرز نے شاندار پرفارمنس پیش کی اور ہمارے کھلاڑیوں کیلئے مشکلات پیدا کیں۔میچ  میں صورت حال مسلسل بدل رہی تھی اور سب کیلئے پریشان کن تھی لیکن ہم نے امید کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ اس لو اسکورنگ میچ میں  ہماری ٹیل انڈرز  پاکستان کی فتح کی راہ میں حائل ہوئی۔ ہمارے کھلاڑیوں کا تحمل اور وکٹ پر کھڑے رہنا کامیابی کا باعث بنا۔

براتھ ویٹ پہلی اننگز میں 97 رنزبناکر آؤٹ ہوئے تھے اور انہیں تین رنزکی کمی سے سنچری مکمل نہ کرنے کا افسوس ہے لیکن ان کے قیمتی رنزوں نے ویسٹ انڈین ٹیم کو پہلی اننگز میں پاکستان کے خلاف سبقت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جو ان کی جیت میں معاہن ثابت ہوئے۔  براتھ ویٹ نے کہا کہ فتح سے زیادہ کوئی خوشی اہم نہیں سنچری کا موقع پھر مل جائے گا۔

 ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سات مواقع ایسے ہیں جب ٹیموں نے چوتھی اننگز میں آخری وکٹ پر 17  سے زائد رنز بنا کر کامیابی حاصل کی ۔ ویسٹ انڈیز نے2000 میں سینٹ اینٹیگا میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف آخری وکٹ پر 19 رنز بنا کر کامیابی حاصل کی تھی ۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیتنے کیلئے 216  کا ٹارگٹ دیا تھا جو کورٹنی والش نے کپتان  جمی ایڈمز کے ساتھ مل کر حاصل کیا تھا ۔

پاکستان نے بھی دو مرتبہ ٹیسٹ میچوں میں ایک وکٹ سے  فتح کو اپنے نام کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے ۔

سلیم ملک کی زیر قیادت پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1994  کے کراچی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد 314 رنز کا ہدف حاصل کرتے ہوئے ایک وکٹ سے شمکست دی تھی ۔ پاکستانی بیٹنگ لیجنڈ انضمام الحق نے لیگ اسپنر مشتاق احمد کے ساتھ مل کر آخری وکٹ کی ناقابل شکست شراکت میں 57 رنز بنائے تھے۔  انضمام نے 58 اور مشتاق نے 20  رنز ناٹ آئوٹ بنائے تھے۔ پاکستان نے ستمبر 2003  کے ملتان ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کو بھی ایک وکٹ سے زیر کیا تھا ۔ پاکستان کو جیتنے کیلئے 261 رنز کا ہدف ملا تھا ۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں مجموعی طور پر ایک وکٹ سے کامیابی کا یہ 15  واں واقعہ ہے۔ ویسٹ انڈین ٹیم نے پاکستان کے خلاف دو مرتبہ ایک وکٹ سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کو بھی  ایک وکٹ سے زیر کیا تھا ۔ ویسٹ انڈیزکو 1951  میں آسٹریلیا اور 1980  میں نیوزی لینڈ نے ایک وکٹ سے شکست دی تھی ۔

انگلینڈ کو سب سے زیادہ چار مرتبہ ایک وکٹ سے ٹیسٹ میچ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو سب سے زیادہ چھ ٹیسٹ میچوں میں  ایک وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آخری وکٹ کی شراکت میں 15  فتوحات میں سے 12   میزبان ٹیموں کے نام رہی ہیں جبکہ تین بار مہمان ٹیمیں ایک وکٹ سے فتح سے ہم کنار ہوئیں ۔ 1908  میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرایا تھا ۔ انگلینڈ نے 1923  میں جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی جبکہ 2019  میں سری لنکن کرکٹ ٹیم نے ڈربن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کوزیر کیا ۔

اس میچ میں آخری وکٹ پر 78 رنز کی ریکارڈ شراکت 78  ہوئی تھی جو فرنانڈو اور کوسل پریرا کے مابین تھی ۔ کوسل پریرا نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 153  رنز پر ناقابل شکست تھے۔ انگلینڈ کے بین اسٹوکس اور جیک لیچ نے آسٹریلیا کےخلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں 72  رنز بنائے تھے ۔

ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم فتح کیلئے درکار 200  رنز کے ٹارگٹ کے 62  مواقع میں کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوئی ۔ ویسٹ انڈیز نے 56  مواقع پر مطلوبہ ہدف حاصل کر کے کامیابیا ں سمیٹیں اور چھ ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔

ان کی20   کامیابیوں میں ٹارگٹ 100  سے 150 کے درمیان تھا ۔ 10 ٹشیسٹ میچوں میں جیت کیلئے ہدف 150 سے زیادہ تھا ۔ ویسٹ انڈین ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف 204  رنز کا ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تھی جو اس کی کم ترین ہدف والی شکست ہے ۔

 کنگسٹن ٹیسٹ میں پاکستانی فاسٹ بولرز کی کارکردگی شاندار رہی جنہوں نے 18 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ پاکستانی کرکٹ تاریخ میں 19  موقع تھا جب پاکستانی فاسٹ بولرز نے 18  یا زائد کھلاڑیوں کو شکار کیا ۔ لیکن ایسی کارکردگی والے ٹیسٹ میچوں میں یہ پاکستان کی شکست ہے۔ 1985  میں ڈونیڈن ٹیسٹ کا نتیجہ بھی ایسا رہا تھا جس میں پاکستانی فاسٹ بولرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا ۔

 ویسٹ انڈیز کے  19 سالہ فاسٹ بولر جیڈن سیلز نے دوسری اننگز میں پاکستان کے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کا راستہ دکھایا اس کے ساتھ ہی وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے ویسٹ انڈیز کے کم عمر ترین بولر بن گئے ۔ جیڈن سیلز کی عمر  19 سال 336 دن ہے اور وہ اپنا تیسرا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے  جس میں انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ کھلاڑیوں کو شکارکیا ۔

جیڈن سیلز سے قبل یہ اعزاز ایلف ویلنٹائن کے نام تھا جنہوں نے   1950 میں  20 سال 41  دن کی عمر میں  انگلینڈ کےخلاف پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں ۔

ویسٹ انڈین وکٹ کیپر جوشوا ڈا سلوا نے وکٹوں کے پیچھے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور آٹھ کھلاڑیوں کو کیچ کیا ۔ ویسٹ انڈین تاریح میں وکٹ کیپر کے آٹھ یا زائد کیچ پکڑنے کا یہ پانچواں موقع ہے ۔ ویسٹ انڈیز کے ڈیوڈ مرے ‘ کورٹنی برائون اور ریڈلے جیکبز وکٹوں کے پیچھے 9*9  کیچ پکڑنے کا کارنامہ انجامہ انجام دے چکے ہیں ۔

 بابراعظم کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ میں ہونے والی غلطیوں کا خمیازہ شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے اس ناکامی کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ میچ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے اچھی کاکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن اگر ایک دو اچھی پارٹنرشپس ہو جاتیں تو ہماری پوزیشن بہتر ہوتی ہم اگلے میچ میں بھرپور تیاری کے ساتھ اتریں گے اور  کامیابی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube