Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

لیمونٹ مارسیل جیکب: دنیا کا تیز ترین انسان

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago

ٹوکیو اولمپکسں میں ایک ایسے ایتھلیٹ کو دنیا کے تیز ترین انسان کا اعزاز حاصل ہو گیا جو کہیں بھی 100 میٹر اسپرنٹ کے ممکنہ فاتح کے طور پر نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی اس کا نام کہیں زیر بحث تھا۔

ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم میں اٹلی سے تعلق رکھنے والے 26  سالہ لیمونٹ مارسیل جیکب حیران کن طور پر 100 میٹر کا فاصلہ 9.80  سیکنڈ میں طے کر کے نئے اولمپک چیمپئن بن گئے۔

لیمونٹ مارسیل جیکب اطالوی تاریخ میں  100  میٹر ریس میں عالمی اعزاز جیتنے والے پہلے ایتھلیٹ ہیں۔ اس تاریخی فتح کے ساتھ  مارسیل جیکب نے  100  میٹر ریس میں اٹلی کے کم ترین وقت کا نیا قومی ریکارڈ بھی قائم کر دیا اور   100  میٹر ریس کا یورپی ریکارڈ بھی اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیا ہے۔

مارسیل جیکب  100 میٹر فائنل ریس میں دوسری لین میں تھے اور ریس کے آغاز سے ہی وہ انتہائی تیزی سے آگے نکلے۔ 30 میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ان کی برق رفتاری مزید بڑھ گئی تھی  ان کی نظریں فنشنگ لائن پر مرکوز تھیں۔

انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جیکب نے  جب لائن عبور کی تو سامنے ان کا ہم وطن  گولڈ میڈلسٹ  ایتھلیٹ جیان مورکو ٹمبیری موجود تھا جس نے  چند منٹ قبل لانگ جمپ میں قطر کے معتز عیسیٰ برشیم کے ساتھ مشترکہ گولڈ میڈل جیتا تھا۔

جیکب اور ٹمبیری دونوں حیرت کے جذبات اور گرم جوشی کے ساتھ ایک دوسرے سے گلے ملے۔ دونوں نے ایک ہی اطالوی پرچم اپنے گرد لپیٹ کر تھوڑی دور گشت کیا۔ دونوں کی خوشی دیدنی تھی۔

 فائنل 100 میٹر ریس میں امریکہ کے  فریڈ کرلی‘ کینیڈا کے آندرے ڈی گریسی‘ جنوبی افریقہ کے اکانی سمبینی‘ امریکہ کے رونی بیکر‘ چین کے سو سنگٹیان‘ نائیجیریا کے اینوچ  اوبالووا ایڈیگوک اور برطانیہ کے ژارنل ہیوز نے حصہ لیا۔

جب 100 میٹر ریس کا آغاز ہوا تھا تو یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سیمی فائنل میں اپنے گروپ میں تیسرے نمبر پر آنے والا اطالوی ایتھلیٹ مارسیل جیکب خود سے زیادہ برق رفتار حریفوں کو پیچھے چھوڑ دے گا۔

امریبکہ کے فریڈ کرلی نے 9.84   سیکنڈ میں فاصلہ طے کر کے سلور اور کینیڈا کے آندری ڈی گریسی نے 9.89  سیکنڈ نے برانز میڈل جیتا۔ تاہم برطانوی ایتھلیٹ ژارنل ہیوز کو غلط سٹارٹ پر ریس سے ڈس کوالیفائی  کر دیا گیا تھا۔ جبکہ نائیجیرین ایتھلیٹ ریس مکمل نہیں کر سکا تھا۔

جمیکا کے یوہان بلیک لندن اولمپکس 2012  میں سلور میڈلسٹ تھے لیکن وہ ابتدائی راؤنڈ میں ہی باہر ہو گئے تھے۔

ٹوکیو اولمپکس اسٹیڈیم کے ٹریک پر اطالوی اسپرنٹر مارسیل جیکب کی اوسط رفتار 22.93میل فی گھنٹہ جبکہ فریڈ کرلی کی رفتار  22.84  میل  اور آندری  ڈی گریسی کی 22.73  میل فی گھنٹہ تھی۔

گزشتہ 15  برسوں سے جمیکن لیجنڈ اسپرنٹر یوسین بولٹ کی 100  میٹر ریس میں بالادستی قائم تھی۔ بیجنگ اولمپکس 2008‘ لندن اولمپکس 2012 اور ریو اولمپکس 2016 میں جمیکا کے  یوسین بولٹ نے 100 میٹر ریس میں گولڈ میڈل جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔

ٹوکیو اولمپکس میں مارسیل جیکب کی صورت میں یوسین بولٹ کا جانشین اور  100  میٹر ریس کا نیا اولمپک چیمپئن سامنے آیا ہے۔ لیمونٹ مارسیل جیکب نے تماشائیوں سے خالی ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم میں کئی فیورٹ ایتھلیٹس کو اپنی برق رفتاری سے پیچھے چھوڑ دیا تھا حالانکہ جیکب کو بڑے ایتھلیٹکس ایونٹس میں 100 میٹر ریس میں شرکت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

لیمونٹ مارسیل جیکب پہلی بار ٹوکیو اولمپکس کے دوران توجہ کا مرکز اس وقت بنے جب وہ 100 میٹر ریس کے سیمی فائنل میں دو تیز ترین شکست خوردہ ایتھلیٹس میں سے ایک تھے اور اسی وجہ سے جیکب کو 100 میٹر فائنل ریس میں جگہ ملی تھی۔

وہ اپنے گروپ میں سیمی فائنل میں تیسرے نمبر پر تھے اور انہوں نے 100 میٹر ریس میں بہترین یورپین وقت 9.84  سیکنڈ بھی اپنے نام کر لیا تھا۔ جنوبی افریقن ایتھلیٹ اکانی سمبانی چوتھے نمبر تھے۔

اٹلی سے ٹوکیو اولمپکس کیلئے 100  میٹر ریس میں جیکب کیساتھ  فلپو ٹورٹو نے بھی  کوالیفائی کیا تھا۔ جیکب نے 100 میٹر ریس کیلئے  انٹری سیٹینڈرڈ ٹائم  10.05  سیکنڈ کی بنیاد پر جگہ بنائی تھی جبکہ ٹورٹو کا انتخاب ورلڈ رینکنگ پر ہوا تھا۔ 100 میٹرریس کیلئے چار کوالی فیکیشن کیٹیگریز تھیں جن میں انٹری سٹینڈرڈ ٹائم‘ ورلڈ رینکنگ‘یونیورسٹیز کے ایتھلیٹس  اور ریفیوجیز انٹریز شامل تھیں۔  100 میٹر ریس میں دنیا بھر سے مجموعی طور پر 83 ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔  برطانیہ‘جمیکا‘ جاپان‘نائیجیریا‘جنوبی افریقہ اور امریکہ سے تین تین ایتھلیٹس نے کوالیفائی کیا تھا۔

مارسیل جیکب برطانیہ کے لنفورڈ کرسٹی کے بعد 100 میٹر میں اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے  یورپی ایتھلیٹ ہیں۔ کرسٹی نے 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا جب انہوں نے نمبیا کے فرینکی فریڈرکس اور امریکہ کے ڈینس مچل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

ریو اولمپکس میں یوسین بولٹ کا 100 میٹر ریس جیتنے کا وقت 9.81 سیکنڈ تھا امریکہ کے سلور میڈلسٹ جسٹتن گیٹلن نے  9.89  سیکنڈ اور کینیڈین  برانز میڈلسٹ ڈی گریسی نے 9.91  سیکنڈ میں فاصلہ طے کیا تھا۔ اس طرح جیکب کا وقت  بولٹ کی ریو اولمپکس  ٹائمنگ سے بھی بہتر رہا۔

مارسیل جیکب ملٹی سپورٹ ایتھلیٹ ہے۔ انہوں  نے سال روں کے اوائل میں اٹلی  کا 100 میٹر ریس کا ریکارڈ 9.95 سیکنڈ کے ساتھ اپنے نام کیا تھا اور اسی بنیاد پر اس نے ٹوکیو اولمپکس کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔

مارسیل جیکب کی پیدائش امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے الپاسو میں ہوئی تھی۔ ان کے والد مارسیل جیکب سینیئر امریکی اور والدہ ویویان ماسینی اطالوی ہیں۔ جیکب سینیئر امریکی فوج میں ملازم تھے۔

ان کی والدہ علیحدگی کے بعد اٹلی واپس آگئی تھیں اور انہوں نے تن تنہا اپنے بیٹے کی پرورش کی اور وہ کہتی ہیں کہ میں ہی جیکب کی ماں اور باپ دونوں ہوں۔  اٹلی آنے کے بعد جیکب کا اپنے والد سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا تھا جو ایک سال قبل ہی بحال ہوا ہے۔ والد کی کمی جیکب کو شدت سے محسوس ہوتی تھی۔

جیکب نے فیس بک کے ذریعے اپنے والد کو تلاش کیا لیکن ابھی تک دونوں کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم اب  ٹیکسٹ میسجز اور فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔

ٹوکیو اولمپکس 100 میٹر فائنل سے قبل بھی  جیکب سینیئر نے اپنے بیٹے کو فون کر کے کہا تھا کہ یہ ریس تم جیتو گے‘حوصلہ بلند رکھو اور اپنی نظریں اپنے ہدف پر مرکوز کرو۔ جیکب کا کہنا ہے کہ والد کے ان کلمات نے میری ہمت کو بڑھایا اور اعتماد میں زبردست اضافہ کیا۔

جیکب کو بچپن سے ہی کھیلوں کا شوق تھا۔ انہوں نے ابتدا میں فٹ بال اور باسکٹ بال میں حصہ لیا تھا لیکن بعد میں لانگ جمپ میں ان کی دل چسپی بڑھ گئی اور انہوں نے اپنے کوچ  کے مشورے پر لانگ جمپ کی پریکٹس شروع کر دی۔

مارسیل جیکب نے اٹلی کی جانب سے جونیئر اور سینیئر لیول پر یورپی اور بین الاقوامی سطح پر لانگ جمپ مقابلوں میں حصہ لیا۔ وہ کئی سال تک اس ایونٹ میں اٹلی کی نمائندگی کرتے رہے لیکن چند برس قبل انہیں لانگ جمپ کی وجہ سے گھنٹوں کی انجریز کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے  مختصر فاصلے کی ریس پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔

لیمونٹ ارسیل جیکب نے اٹلی کو ٹریک اینڈ فیلڈ میں ایک اور طلائی تمغہ دلوانے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جب انہوں نے اطالوی ایتھلیٹس کے ساتھ مل کر  x4   100 ریلے ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ برطانیہ نے دوسری اور کینیڈا نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

 امریکہ میں پیدائش کی وجہ سے جیکب امریکہ اور اٹلی دونوں ملکوں کی شہریت کا حامل ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میں امریکہ میں پیدا لیکن میں سو فیصد اطالوی ہوں۔  مجھے اپنے وطن سے بیحد محبت ہے اورمجھے بین الاقوامی سطح پر اس کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے۔ گو میرے خون میں امریکی خون شامل ہے۔

میرے مضبوط مسلز مجھے اپنے والد سے ورثے میں ملے ہیں مگر اٹلی  میں پروان چڑھا اور اس ملک نے مجھے شناخت دی  ہے۔ جیکب نے 10 سال کی عمر میں ایتھلیٹکس میں حصہ لینا شروع کیا  تھا لیکن  اس کی دل چسپی لانگ جمپ میں تھی۔

اس نے لانگ جمپ میں مہارت حاصل کی اور وہ 2016 کی اطالوی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں لانگ جمپ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد جیکب کی کارکردگی میں مسلسل بہتری آئی۔ ان کی بہترین کارکردگی 8.07 میٹر کی لمبی چھلانگ تھی جو آئی اے اے ای (جو اب ورلڈ ایتھلیٹکس ہے) میں 10 ویں نمبر پر ہے۔

انڈور سیزن میں وہ 2017 تک اس کیٹیگری میں سرفہرست تھا۔  مارسیل جیکب نے انڈر 23  اٹلین چیمپئن شپ 2016  میں 8.48 میٹر لمبی جمپ لگائی تھی جو اٹلی کیلئے ان کی بہترین کارکردگی تھی لیکن ان کی اس کارکردگی کو   بوجوہ  نیشل ریکارڈ کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے جیکب 2016 کے ریو اولمپکس میں حصہ نہیں لے سکا تھا۔

  مارسیل جیکب  نے 2018 میں گھٹنوں  کی تکلیف کے بعد اسپرنٹ  کی ٹریننگ شروع کی اور جلد ہی  مقامی سطح پر اپنا نام بنایا۔  انہوں نے 60 میٹر ریس میں  میڈلز جیتے۔

وہ اس کیٹیگری میں ناصرف  اطالوی ریکارڈ ہولڈر ہیں بلکہ  60 میٹرریس میں پورپی چیمپئن کا اعزاز بھی ان کے نام سے منسلک ہے۔انہوں نے یہ مقابلہ مارچ 2021 میں توروری پولینڈ میں منعقدہ انڈور یورپی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیتا تھا۔  انہوں نے 6.47 سیکنڈ کے ساتھ ناصرف بہترین اطالوی یورپی بلک ورلڈ وائیڈ سیزن کے بہترین وقت کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

وہ 2018 سے رواں سال 2021 تک مسلسل چار سال سے 100 میٹرریس کے اطالوی چیمپئن ہیں۔

مارسیل جیکب کی والدہ ویویانا  ماسینی کا کہنا ہے کہ بیٹے کی اس شاندار کامیابی پر خوشی کو بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔   اس نے بڑی  مخنت اور قربانیوں کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔

جب وہ چھوٹا تھا تو میں  اسے  امریکی لیجنڈ ایتھلیٹ کارل لوئیس اور جمیکن لیجنڈ یوسین بولٹ کے بارے میں بتایا کرتی تھی۔  مجھے یقین تھا کہ وہ ٹوکیو اولمپکس میں کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دے گا۔ اس نے 100 میٹر اور ریلے ریس میں دو گولڈ میڈلز جیت کر اپنے ملک کا پرچم بلند کیا ہے۔

ویویانا کو امید ہے کہ ان کا بیٹا اپنے 100 میٹرریس کے وقت کو مزید بہتر بنائے گا انہیں  نے اپنے بیٹے کی تاریخی کارکردگی  کے مناظر کو  اٹلی میں ہی ایک ہوٹل میں  دیکھا جہاں ان کے اہل خانہ اور دیگر قریبی احباب موجود تھے۔ ویویان کا کہنا ہے کہ جب جیکب کا نام  پہلی پوزیشن کے ساتھ سکرین پر نمایاں ہوا تو ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔  میں جیکب کی صورت میں نیا یوسین بولٹ دیکھ رہی ہوں۔

مارسیل جیکب  اولمپک چیمپئن تو بن گئے اور اب انہیں اپنی بالادستی قائم رکھنے کیلئے سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا پہلا امتحان اسی ماہ یعنی 21 اگست کو امریکہ میں اوریگن میں ہونے والی  ڈائمنڈ لیگ میٹ میں ہو گا جہاں فریڈ کرلی‘ کیروون گلیپسی‘ رونی بیکر‘ جسٹن گیٹلن اور دیگر کئی ایتھلیٹ ان  کے مدمقابل ہو ں گے۔

اس دورہ امریکہ میں ان کی اپنے والد جیکب سینیئر سے پہلی فیس ٹو فیس ملاقات کے بھی امکانات ہیں۔ ڈائمنڈ لیگ میٹ کا دوسرا مرحلہ سوئیزرلینڈ میں 26 اگست کو ہوگا جبکہ 3 ستمبر کو  برسلز میں ڈائمنڈ لیگ کا میلہ سجے گا۔ یہ مقابلے لیمونٹ مارسیل جیکب کی صلاحیتوں  کا بڑا امتحان ہوں گے اور ان کے نتائج ہی جیکب  کے سو میٹر ریس کے حقیقی چیمپئن ہونے کا تعین کریں گے۔۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube