Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

کیا جنسی ہراسگی کا ملزم کانسٹیبل عبدالقدیرصاف بچالیاجائےگا؟

SAMAA | - Posted: Aug 10, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 10, 2021 | Last Updated: 2 months ago

عبدالقدیر فرزند زمین نہ تھا اور نہ ہی کشمیر کی زبان و کلچر سے واقف مگر شیر کشمیر سمیت بڑے بڑے حکام، سیاست کے سورما، ملا مولوی، پیر، فقیر سب اس کی عزت اور شہرت کے سامنے یوں تھے جیسے سورج کے سامنے چراغ رکھے ہوں۔ تیرہ جولائی 1931 کو اس مرد قلندر کے خلاف سری نگر میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی کہ وہ لوگوں کو اکساتا ہے۔
اس واقعے کے 90 برس بعد سات اگست 2021 کو کشمیر کے شہر باغ کے تھانے میں ایک اور قدیر پر ایف آئی آر نمبر 170 درج ہوئی کہ وہ لڑکیوں کو اکساتا ہے ڈراتا، دھمکاتا ہے لیکن دونوں قدیروں پر درج کیے جانے والے مقدمات کی نوعیت مختلف ہے۔
وہ عبدالقدیر عوام کو آزادی مانگنے اور اس کے لیے لڑنے پر اکساتا تھا لیکن آج کے دور کا یہ قدیر لڑکیوں کو اکساتا ہے، ڈراتا، دھمکاتا ہے کہ اس کی ہوس اور جرائم میں تعاون کرو۔ سوچتا ہوں ہم سے سری نگر والے عبدالقدیر جیسا کام کیوں نہیں ہوتا ہم اس والے قدیر جیسا کام کیوں کرتے ہیں۔ اس کا جواب شاید یہ ہے کہ کبھی کبھار انسان کی مت ماری جاتی ہے۔
ان دونوں قدیروں کے افعال، کردار اور سوچ میں کتنا فرق ہے۔ شیکسپیئر نے بھی کیا خوب کہا تھا ، “نام میں کیا رکھا ہے” گلاب کو کوئی سا بھی نام دیں، وہ گلاب کا پھول ہی رہے گا اور خوشبو ہی بکھیرے گا۔ سری نگر والے عبدالقدیر کی پھلائی ہوئی خوشبو 90 سال بعد بھی کم نہیں ہوئی۔ اس کو حکومت سزا دینا چاہتی تھی لیکن عوام دیوار بنے کھڑے رہے کہ عبدالقدیر بے گناہ ہے۔ مورخ کہتا ہے عبدالقدیر جیت گیا اور ایشیا کا سب سے بڑا بدمعاش ڈوگرہ کشمیر ہار گیا۔ بے شک وہی جیتتا جو خوشبو کا سوداگر تھا۔ لیکن باغ کے پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر نے ایسا تعفن پھیلایا کہ خلق خدا، ناک اور منہ ڈھانپے قدیر کو پکڑنے اور روکنے کی دہائیاں دے رہی ہے تاہم انتظامیہ اور پولیس دیواریں چن رہی ہے کہ قدیر کے جرم پر مٹی ڈالو۔ قدیر خود پولیس کا کارندہ جو ٹھہرا۔ کیا معلوم پوٹلی کھلنے سے تاریں کہاں کہاں جا کر ملیں اور کوئی پنڈورا باکس ہی کھل جائے۔
جرم پر مٹی ڈالنے والے سیاست دان بھی میدان میں کود پڑے، سول سوسائٹی کے کچھ نمائندے بھی، بیوروکریسی اور انتظامی پرزے بھی۔ پھر تھانے میں اجلاس اتنا طویل جیسے مسئلہ کشمیر حل ہو رہا ہو یا طالبان امریکہ مذاکرات۔ بالآخر ارباب اختیار و اقتدار نے راہ نکالی۔ سارے شیر و شکر ہو جاؤ ایک جان دو قالب کی طرح رہو اور کام جیسے چل رہا تھا چلتا رہے۔ تھانے سے رات کے اندھیرے میں لڑکیاں گھروں کو روانہ ہوئیں۔ مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے کے عوض سائل کے والد سے ویڈیو بیان بھی ریکارڈ ہوا۔ بقول میر بے طاقتی دل نے سائل بھی کیا ہم کو، پر میر فقیروں کی یاں کون صدا مانے۔
یہاں پھر عوام نے سائل کی صدا سنی اور ایسے کھڑے ہوئے کہ باغ تھانے میں ایف آئی آر بھی درج ہوئی گرفتاری بھی لیکن کیا اتنا کافی ہے۔ لگتا ہے مٹی پانے کا کام اب بھی جاری ہے۔ اس کیس کو ایک خاتون کے ساتھ پولیس اہلکار کے جنسی تعلقات تک ہی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ بلکہ تحقیقات ہونی چاہیے کہ اس کے پیچھے جرائم کا کوئی بڑا نیٹ ورک تو نہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ معاملہ صرف جنسی تعلقات کا نہیں۔ مزید لڑکیوں کی طلب اور اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ کہ لڑکی کو کچھ شریف لوگوں کے نمبر دے کر ان کو مخصوص جگہ پر بلوانا۔ لڑکی کے ساتھ ملاقات کے وقت پولیس کا چھاپہ مار کر ان کو گرفتار کرنا پھر لاکھوں روپے کے عوض ان کو چھوڑنا۔ یہ کام تو بڑے شہروں میں پولیس کے تعاون اور سرپرستی میں ہی ہوتا ہے۔ یہی گروہ اغوا برائے تاوان کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔
اس کیس میں بھی ایسے اشارے ملتے ہیں کہ پولیس کانسٹیبل عبدالقدیر اکیلا کچھ نہیں پردے کے پیچھے بڑے پولیس یا انتظامی افسران اور باثر افراد بھی ہو سکتے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ کیس اتنا سادہ نہیں کہ قدیر لڑکی کو بلیک میل کر رہا تھا بلکہ غیر جانبدار تحقیقات کی جائے تو کوئی بڑا نیٹ ورک سامنے آنے کا قوی امکان اور لڑکی سیمت کئی شخصیات کے ملوث ہونے کا اندیشہ ہے۔ چند سال قبل مجھے بتایا گیا کہ راولاکوٹ میں جعلی کرنسی اور نان پیڈ کسٹم 35 لاکھ کی گاڑی 10 لاکھ میں فروخت ہو رہی ہے۔ میرے کالم پر اس وقت کے کمشنر نے غیر جانبدار تحقیقات کی تو 12 پولیس اہلکاروں کا ایک گروہ اس کام میں سرگرم پایا گیا۔ باغ والے کیس میں تو کچھ بھی خفیہ نہیں بلکہ سمجھنے کے لیے قدیر کا پولیس اہلکار ہونا ہی کافی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube