Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

برازیل مینز اولمپک فٹبال ٹائٹل کے دفاع میں کامیاب

SAMAA | - Posted: Aug 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago

یوکوہاما میں مینز اولمپک فٹبال فائنل میں برازیل نے سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد اضافی وقت میں اسپین کو 1-2 سے شکست دے کر اپنے اعزاز کا دفاع کیا اور مسلسل دوسرے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔

دونوں ٹیموں نے  فائنل میچ سے قبل اپنے تمام میچز میں بہترین کارکردگی پیش کی تھی اور فائنل میچ میں سخت مقابلے کی توقع تھی۔ فائنل میں ابتدا ہی سے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کیا اور اچھی مووز بنائیں۔

 38ویں منٹ میں برازیل کو  برازیل کو سبقت حاصل کرنے کا سنہری موقع ملا تھا لیکن ان کے قابل اعتماد اور اسٹار فارورڈ  ریچارلیسن پنالٹی کک پر گول کرنے میں ناکام رہے جب گیند بار سے ٹکرا کر باہر چلی گئی تاہم پہلے ہاف کے آخری لمحات  انجری ٹائم میں میتھیوز کونا نے گول کر کے برازیل کو برتری دلیوا دی۔

  دوسرے ہاف میں بھی دونوں ٹیموں کے فٹبالرز نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا اور مربوط مووز بنائیں ۔ 61 ویں منٹ میں ہسپانوی اسٹار فٹبالر اویر زابل نے خوبصورت والی کے ذریعے گول کر کے میچ برابر کر دیا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے فٹبالرز نے سبقت حاصل کرنے کی کوششیں کیں اور اچھی مووز بنائیں۔

ہسپانوی فٹبالرز نے اپنے روایتی انداز شارٹ پاسز کے ذریعے گیند کا کنٹرول اپنے پاس  تو رکھا لیکن وہ گول کے مواقع میں کامیاب نہ ہو سکے۔

برازیلین ٹیم کو ایک موقع ملا لیکن وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے اسی طرح مقررہ وقت ختم ہونے سے چند لمحے قبل اسپین کے متبادل کھلاڑی برائن گلییلو نے طویل فاصلے سے روز دار کک لگائی جو برازیلین گول بار سے ٹکرا گئی۔ میچ برابر ہونے پر اضافی وقت میں  چلا گیا جس میں برازیلین کھلاڑیوں نے زیادہ پر اعتماد کھیل کا مظاہرہ کیا۔

اضافی وقت کے پہلے  ہاف میں بھی کوئی ٹیم گول نہ کر سکی۔ دوسرے ہاف میں برازیل کے متبادل کھلاڑی میلکم  نے 108 ویں منٹ میں گول کر کے برازیل کو 1-2  سے برتری دلوا دی جو فیصلہ کن ثابت ہوئی اور اس کی وجہ سے برازیل اپنے اعزاز کے دفاع میں کامیاب رہا۔

 مینز فٹبال ایونٹ  میں میکسیکو نے جاپان کو بآسانی 3-1 سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیت لیا اور میزبان ٹیم کی اپنی سرزمین پر فٹبال ایونٹ میں میڈل حاصل کرنے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔

میکسیکو  کے فٹبالرز جنہوں نے پورے ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا پورے میچ کے دوران  میزبان کھلاڑیوں پر حاوی رہے۔ میکسیکو نے اس فتح  سے  جاپان کے ساتھ 53 سال پرانا حساب بھی چکا دیا جب میکسیکو اولمپکس 1968 میں کانسی کے تمغے کیلئے فٹبال میچ میں جاپان نے میزبان میکسیکو کو 2-0 سے شکست دی تھی۔

سباستین کارڈووا نے میکسیکن  ٹیم کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔  انہوں نے 13 منٹ میں پنالٹی کک پر گول کر کے ٹیم کی فتح کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد  اپنے شاندار کھیل سے مزید دو گول کرنے مں کھلاڑیوں کی معاونت کی ۔  کارڈووا کی مدد سے 22 ویں منٹ میں ویسکوئس نے دوسرا گول کیا اور پہلا ہاف میکسیکو کی 2-0 کی برتری پر ختم ہوا۔

 دوسرے ہاف میں کھیل کے 58 ویں منٹ میں  کارڈووا کی خوبصورت موو کے نتیجے میں ویگا نے تیسرا گول کیا ۔  جاپان کو میکسیکن دفاع اور گول کیپر اوچوا کو چکمہ دینے میں کامیابی نہ ہو سکی تاہم جاپان کی جانب سے 78 ویں منٹ میں کائرو میٹوما نے  گول کیا جس کے بعد  جاپانی کھلاڑی مزید کوئی گول نہیں کر پائے۔

کینیڈا نے اولمپک ویمنز فٹبال فائنل میں  ریو اولمپکس کی رنرز اپ سویڈش ٹیم کو سخت  مقابلے کے بعد پنالٹی ککس پر 2-3  سے شکست دے کر پہلی بار اولمپک چیمپئن بن گئی اور گولڈ میڈل جیت لیا جبکہ سویڈش خواتین مسلسل دوسرے اولمپک میں چیمپئن بننے سے محروم رہیں ۔

کینیڈین ٹیم نے  پہلی بار ویمنز فٹبال میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ اس کامیابی میں کینیڈین گول کیپر لیبی نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ فائنل میں توقعات کے مطابق دونوں ٹیموں کی فٹبالرز نے  شان دار کھیل کا مظاہرہ کیا کیونکہ دونوں ملکوں کی ٹیمیں پہلی بار گولڈ میڈل  اپنے نام کرنے کی کیلئے پر جوش تھیں ۔  عالمی چیمپئن امریکہ کو شکست دینے کے بعد کینیڈین کھلاڑیوں کے عزائم بہت بلند تھے  سویڈن کی فٹبال ٹیم ریو اولمپکس 2016 میں گولڈ میڈل  جیتنے میں ناکام رہی تھی جب فائنل میں اسے جرمنی نے شکست سے دوچار کیا تھا  اور  سویڈن کو چاندی کا تمغہ  ملا تھا۔

 ویمنز فائنل کا آغازانتہائی تیزی کے ساتھ ہوا اور دونوں ٹیموں  کی فٹبالرز نے برتری حاصل کرنےکی کوششیں کیں ۔ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل سویڈش ٹیم کو 34 ویں منٹ میں ایما بلیک سٹینیئس نے گول کر کے برتری دلوا دی۔

سویڈش کپتان سٹینیئس نے کوسوویری اسلانی کے پاس پر فوری طور پر گیند کو نیچی کک کے ذریعے کنیڈین گول پوسٹ میں پہنچایا جسے لیبی روکنے میں ناکام  رہی  تھی ۔  کینیڈا نے اس برتری کو ختم کرنے کیلئے کئی کوششیں کیں لیکن سویڈش دفاع کی مراحمت کی وجہ سے پہلے ہاف کے خاتمے تک انہیں کامیابی نہیں ہوئی ۔

کھیل کے 68 ویں منٹ میں ایمنڈا  ایلسٹڈ نے کینیڈین کپتان کرسٹین سنکلیئر کے خلاف باکس ایریا میں فائول کیا تو پنالٹی کک ملی جس پر گول کرنے میں فلیمنگ نے کوئی غلطی نہیں کی۔

روسی ریفری انستاسیا نے پہلے کینیڈا کی اپیل کو مسترد کر دیاتھا لیکن  کھلاڑیوں کے اصرار پر وی اے آر دیکھنے کے بعد پنالٹی کک دی جس میں یہ صاف پتہ چلتا تھا کہ سنکلیئر کو  باکس ایریا میں بال پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے پیچھے سے کک ماری گئی تھی۔

اس کے بعد دونوں ٹیمیں سرتوڑ کوششوں کے باوجود مقررہ وقت کےخاتمے تک کوئی اور گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ نصف گھنٹے کا اضافی وقت بھی فیصلہ کن ثابت نہیں ہوا جس کی وجہ سے میچ پنالٹی ککس پر چلا گیا جس میں کنیڈین گول کیپر میں پورے ٹورنامنٹ کی اپنی شاندار کارکردگی کو برقرار رکھا۔

دونوں ٹیموں کو پانچ پانچ پنالٹی ککس دی گئی تھیں  لیکن اس میں بھی فیصلہ نہیں ہوا اور میچ سڈن ڈیتھ پنالٹی کک میں چلا گیا ۔ کینیڈا کی جانب سے پہلی پنالٹی کک لگائی گئی جس پر جیسی فلیمنگ نے گول کر دیا جبکہ سویڈن کی اسلانی کی پنالٹی ضائع ہو گئی۔

اس کے بعد کینیڈا کی ایشلے لارنس کی پنالٹی ضائع ہوئی  ۔ سویڈن کی نتھالی نے  اگلی پنالٹی کک گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا ۔ ونیسا جائلز اور ایڈریانا لیون بھی کینیڈا کی جاتب سے گول نہ کر پائیں۔ اولیویا سکوف نے گول کر کے سویڈن کو سبقت دلوا دی۔

پانچویں پنالٹی پر کینیڈا کی  ڈیانا سنتھیا نے گول کر کے  مقابلہ 2-2 سے  برابر کر دیا ۔ اس کے بعد آخری کک پر سویڈن کی سارہ سیجرکے پاس ٹیم کو گولڈ میڈل جتوانے کا سنہری موقع تھا لیکن انتہائی تجربہ کار کیرولین سیجر کی پنالٹی کک کراس بار کے اوپر سے باہرچلی گئی جس کے بعد سڈن ڈیتھ پنالٹی کا مرحلہ شروع ہوا جس پر گروسو نے کینیڈا کی جانب سے گول کیا لیکن سویڈن کی اینڈریسا گول کرنے میں ناکام رہی اور اس طرح کینیڈا  پہلی مرتبہ ویمنز فٹبال گولڈ میڈل جیت گیا۔

سڈن ڈیتھ پنالٹی کک پر کینیڈا کو فتح سے ہمکنار کرنے والی  گروسو اس وقتپیدا بھی نہیں ہوئی تھی جب کنیڈین کپتان کرسٹین سنکلیئر نے 2000 میں اپنا انٹرنیشنل فٹبال ڈیبیو کیا تھا۔ گروسو کی پیدائش اس کے پانچ ماہ بعد ہوئی تھی۔

 کینیڈین ٹیم  نے بڑی تیزی کے ساتھ  اولمپکس ویمنز فٹبال میں ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ 1996 سے 2004 تک تین اولمپکس میں کینیڈین ویمنز ٹیم کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس نے پہلی مرتبہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں کوالیفائی کیا تھا جہاں ٹیم  آٹھویں نمبر پر تھی۔

کینیڈین خواتین نے 2012 لندن اولمپکس اور 2016 ریو اولمپکس میں مسلسل کانسی کے تمغے جیتے تھے اور اب   ٹوکیو میں گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ اس طرح چار شراکت میں کینیڈین ٹیم تین بار میڈلز جیتنے میں کامیاب ہوئی جو اس کی شاندار کارکردگی کا منہ بولتا  ثبوت ہے۔

سویڈش ٹیم نے اولمپکس فٹبال میں ساتویں مرتبہ حصہ لیا تھا ۔ ایتھنز اولمپکس  2004 میں کانسی کے تمغے کبیلئے میچ  میں سویڈن کو  جرمنی نے 1-0 سے ہرایا تھا جبکہ ریو اولمپکس میں برازیل نے فائنل میں سویڈن کو شکست دی تھی۔

سویڈش ویمنز ٹیم  نے 2004 اور 2008 کے اولمپکس میں کوراٹر فائنل کھیلا  تھا ۔ 1996 اور 2000 کے اولمپکس میں سویڈش ٹیم  گروپ مرحلے میں باہر ہو گئی تھی۔

 ویمنز فٹبال ورلڈ چیمپئن امریکہ نے آسٹریلیا کو سخت مقابلے میں مقررہ وقت میں 4-3  سے  شکست  دے کر  کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔  امریکہ کو غیر متوقع طور پر سیمی فائنل میں کینیڈا نے ہاتھوں  زیر کیا تھا۔

آسٹریلیا کے خلاف امریکی ٹیم نے  برق رفتاری سے کھیل  شروع کیا  جس کے نتیجے میں آٹھویں منٹ میں  تجربہ کار فٹبالر36 سالہ  میگن راپینوئی نے گول کر کے امریکہ  کو سبقت دلوا دی جس کے بعد آسٹریلوی ٹیم نے اچھی مووز بنائیں اور 17 ویں منٹ میں کپتان سمانتھا کیر نے گول کر کے میچ 1-1 سے برابر کر دیا لیکن جلد ہی  21 ویں منٹ میں راپینوئی نے دوسرا گول کر کے امریکہ کی کی برتری پھر قائم کر دی۔

اس کے بعد امریکی فٹبالرز حریف کھلاڑیوں پر حاوی ہو گئیں اور انہوں نے  زیادہ تر گیند کو اپنے کنٹرول میں رکھا۔ پہلے ہاف کے اختتام سے قبل انجری ٹائم میں امریکہ کی انتہائی تجربہ کار کارلی لائیڈ نے گول کر کے امریکی سبقت کو 3-1 کر دیا۔

دوسرے ہاف  میں بھی ابتدا سے ہی امریکی فٹبالرز نے جارحانہ انداز اپنایا جس کے نتیجے میں کارلی لائیڈ نے 51 ویں منٹ میں گول کر کے امریکی سبقت کو 4-1 کر دیا۔ اس مرحلے پر امریکی  فٹبالرز کھیل پر مکمل طور پر چھا ئی نظر آرہی تھیں لیکن 54 ویں منٹ میں آسٹریلوی کھلاڑی کیٹیلن فروڈ نے گول کر کے امریکی کیمپ میں ہلچل مچا دی۔

امریکی فٹبالرز  دفاع میں چلی گئیں اور  انہوں نے آسٹریلوی  کھلاڑیوں کیلئے امریکی باکس ایریا میں رسائی  مشکل بنا دی ۔  سرتوڑ کوششوں کے باوجود آسٹریلوی ٹیم کوئی گول نہ کرپائی میچ مقررہ  وقت میں اختتامی منٹوں میں داخل ہو گیا کہ 90 ویں منٹ میں آسٹریلیا کی برق رفتار موو کے نتیجے میں ایمیلی جیلنک نے گول کر کے اسکور 4-3 کر دیا جس پر امریکی فٹبالرز کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں  ہو گئے۔

امریکی  کھلاڑیوں نے اپنی تمام تر توانائیاں گیند کو اپنے کنٹرول میں رکھنے اور گول پوسٹ کے دفاع میں لگا دیں اور آسٹریلوی کھلاڑیوں کو گول کرنے کا  مزید کوئی  موقع نہیں دیا۔

عالمی چیمپئن  امریکہ کی ٹیم گولڈ میڈل کیلئے فیورٹ کے طور پر ٹوکیو آئی تھی  امریکی ٹیم میں شامل کئی تجربہ کار کھلاڑیوں کیلئے یہ آخری اولمپکس تھا اس لیے وہ کسی اور رنگ کا تمغہ جیتنے کی خواہش لے کر یہاں آئی تھیں۔ ٹوکیو اولمپکس سے قبل  امریکہ نے چار مرتبہ اولمپکس فٹبال میں گولڈ میڈل جیتا اور  سڈنی اولمپکس 2000 میں  سلور میڈل اس کے حصے میں آیا تھا۔ امریکی ٹیم میں شامل آٹھ کھلاڑیوں کی عمریں 32 سال سے زائد ہیں اور امکان ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کھلاڑی اگلے ویمنز فٹبال ورلڈ کپ میں امریکی فٹبال ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گی۔

ویمنز ایونٹ میں کھیلے گئے 26 میچوں میں 101 گول ہوئے۔ ہالینڈ کی  ویویانی میڈیما 10 گول کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہیں ۔ آسٹریایا سمانتھا کیر‘ انگلینڈ کی  ایلن وائٹ اور زیمبیا کی  باربرا بانڈا نے چھ چھ گول کیے باربرا بانڈا کو ایک اونٹ میں دو ہیٹ ٹرکس کرنے کااعزاز حاصل ہوا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube