Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

کیا حکومت ناراض بلوچوں سے سنجیدہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے؟

SAMAA | - Posted: Aug 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 4, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کو درپیش مسائل میں ایک نہایت حساس اور نازک معاملہ رہا ہے، اس مسئلے کے حقیقی اور ممکنہ محرکات اب کوئی پوشیدہ راز نہیں رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چٹختی سنگلاخ سر زمین بلوچستان، اپنی بھوک، افلاس،غربت، بے چارگی اور مجبوری کی دردناک داستان سنارہی ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں بچوں کی صحت، حلیہ، چہرے، بال اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی کئی دہائیاں گزار چکے تھے۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم بچے زندہ تو ہیں مگر زندہ سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہ روٹی، کپڑا، پانی، صحت اور تعلیم سے محروم ہیں۔

قدرت کے عطاء کردہ معدنی خزانوں سے لبریز صوبہ بلوچستان سماجی، معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے، بلوچستان کی داستان الم بہت پرانی ہے جس میں ٹوٹے ہوئے وعدوں کی کہانی بھی ہے، بلند و بانگ دعوے بھی ہیں اور حکمرانوں کی معافیاں اور بے وفائیاں بھی ہیں۔

       مختلف سوچ، مختلف ذہن اور مختلف خیالات رکھنے والے لوگ اس خطے میں آباد ہیں ہر انسان بلوچستان کے مسئلہ کا حل اپنی سوچ اور سیاسی شعور کے مطابق نکالنے کی بات کرتا ہے۔ کچھ لوگوں نے غوث بخش بزنجو کی طرح جمہوری طریقے سے بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کی اور آج بھی جدوجہد کررہے ہیں۔ کچھ لوگ نو روز خان کی طرح پہاڑوں پر گئے اور بندوق اُٹھاکر ریاست سے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کی۔

بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کا آغاز یوں تو محمد علی جناح کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا، جب 1948ء میں خان آف قلات کے بھائی آغا عبدالکریم اپنے سیکڑوں ساتھیوں کے ساتھ جھالاوان کی پہاڑیوں پر چڑھ گئے تھے۔ یہ بلوچستان میں مزاحمتی تحریک کا آغاز تھا، تب سے مزاحمتی تحریک کا سلسلہ جاری ہے، اس وقت بلوچ اپنے حقوق کی پانچویں مزاحمتی تحریک چلارہے ہیں۔ اس کی وجہ قیامِ پاکستان کے بعد سے سویلین اور فوجی حکمرانوں کی عدم توجہ، سیاسی، معاشی اور سماجی حقوق سے بلوچوں کی محرومی ہے۔

بلوچوں کی احساس محرومی کی کئی وجوہات ہیں مگر ایک بڑی وجہ 1972ء میں پیپلز پارٹی کے ہاتھوں بلوچوں، پختونوں کی منتخب حکومتوں کے خاتمہ اور اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل کے بعد نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور پھر اس کے 56 قائدین پر ’حیدرآباد سازش کیس‘ کے نام پر بننے والے مقدمات اور بلوچ قائدین کو پابند سلاسل کرنا تھا۔ 10 فروری 1973ء کے بعد بلوچستان میں قبائلی بغاوت ایک بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہوگئی، بلوچستان پیپلز لبریشن فرنٹ میں 60 ہزار کے قریب عسکریت پسند شامل ہوئے، فوجی آپریشن، جمہوری حکومتوں کی برطرفی، سیاسی مقدمہ ایسے بڑے سانحات و واقعات تھے جس کے اثرات بعد کے برسوں میں بلوچستان پر اتنے گہرے ہوئے کہ ان کا ازالہ آج تک نہیں ہوسکا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر بگٹی کو جس طرح مارا گیا اس نے بلوچستان میں سلگتی ہوئی آگ کو اور بھڑکا دیا، جس کی تپش آج بھی محسوس کی جاتی ہے۔

       گوادر جسے سی پیک کا جھومر کہا جاتا ہے، وہاں پر کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر ہورہا ہے، انٹرنیشنل ہوٹل تعمیر کئے جارہے ہیں، اربوں روپے کی زمینوں کی خرید و فروخت ہورہی ہے، ایئرپورٹ بن رہا ہے، ملٹی نیشنل ادارے کاروبار کررہے ہیں، گوادر کو دبئی اور سنگاپور بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوادر کی ترقی سے بلوچستان میں خوشحالی آئے گی، بلوچوں کو نوکریاں ملیں گی، ان کی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔ تمام دعوؤں کے باوجود گوادر کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ آج بھی وہاں کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ یہ مسئلہ صرف گوادر تک محدود نہیں، یہ مسئلہ پورے بلوچستان کا ہے، مائیں اور بہنیں پانی کیلئے کئی میل سفر طے کرتی ہیں، گھروں میں جو پانی آرہا ہے وہ پینا تو دور کی بات ہاتھ منہ دھونے کے لائق بھی نہیں مگر لوگ مجبوراً وہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

       ایک رپورٹ کے مطابق گوادر میں ’روزانہ کی بنیاد پر اسپتال میں 80 فیصد مریض پیٹ کی بیماری اور ٹائیفائیڈ کی شکایت لیکر آتے ہیں‘۔ گزشتہ  حکومتوں کی طرح تحریک انصاف بھی اپنے 3 سالہ دور اقتدار میں بلوچستان میں کوئی بڑا منصوبہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ پانی کی شدید قلت کے باوجود 3 سال میں تحریک انصاف ’ڈی سیلینیشن پلانٹ‘ کا ایک بھی منصوبہ مکمل نہیں کرسکی۔ مقامی صحافی کے مطابق ’ڈی سیلینیشن پلانٹ گوادر شہر سے 35 کلومیٹر دور نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے پاس واقع ہے اور ایک ارب کی لاگت سے لگایا گیا تھا۔ اس سے 20 لاکھ گیلن پانی روزانہ صاف ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا‘۔ اس منصوبے سے بھی گوادر کے پرانے باسیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

گوادر میں اربوں ڈالر کے میگا پروجیکٹ بن رہے ہوں مگر وہاں کے رہنے والے پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں سمندر کے کھارے پانی کو صاف کرنے کیلئے ایک پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’میں ناراض بلوچوں سے بات کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘، ملک کے وسیع تر مفاد میں یہ ایک ایسی سوچ ہے جس کا ہر محبِ وطن پاکستانی خیر مقدم کرے گا لیکن وزیر اعظم صاحب کیا بلوچستان کا مسئلہ اتنا غیر اہم تھا کہ 3 سال کے بعد آپ کو خیال آیا کہ ناراض بلوچوں سے بات کی جائے۔ اگر ہمارے حکمرانوں کی جانب سے بلوچستان کو یوں ہی نظر انداز کئے جانے کی روایت قائم رہے گی تو پھر بلوچوں کا ناراض ہونا فطری حق ہے۔

سینئر سیاستدان سردار اختر مینگل قومی اسمبلی میں بلوچستان کے حقوق کیلئے آواز اُٹھاتے رہے مگر ان کی بات پر توجہ نہ دی گئی۔ سردار اختر مینگل نے تحریک انصاف کی حکومت کا اتحادی بننے سے پہلے معاہدہ کیا تھا، جسے پورا کرنے کا وزیراعظم عمران خان نے وعدہ بھی کیا تھا، جس میں سرفہرست مسئلہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا تھا، جب وعدے وفا نہ ہوئے تو سردار اختر مینگل مایوس ہوکر حزب اختلاف کی بینچوں پر بیٹھنے پر مجبور ہوئے۔ جب یہی سوچ پروان چڑھتی ہے کہ حکمران بلوچستان کے نمائندوں سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے تو پھر ناراضگی پیدا ہوتی ہے اور یہ ناراضگی مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم، پاکستان سے غربت کے خاتمے کی بات تو کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ چاروں صوبوں میں سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان ہے۔ غربت کی انتہائی سطح پر رہنے والی آبادی میں پنجاب میں 26 فیصد، سندھ میں 38 فیصد، خیبر پختونخوا میں 29 فیصد اور بلوچستان میں 48 فیصد ہے جبکہ یہاں مردوں میں خواندگی کی شرح 23 فیصد اور خواتین میں صرف 7 فیصد ہے۔ ایک انگریزی اخبار کے مطابق بلوچستان کے ہر دو افراد میں سے ایک خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ لہٰذا بلوچستان پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے یہی صوبہ سب سے زیادہ نظرانداز کیا جارہا ہے۔

       ناراض بلوچوں سے مذاکرات اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی پہلے بھی کوششیں کی گئی ہیں مگر یہ معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھتا چلا گیا ہے۔ وزیراعظم صاحب! ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے فیصلے سے منسلک جزئیات قدرے پیچیدہ اور مشکل ہیں، جن کیلئے آپ کو سیکیورٹی اداروں‘ مقامی آبادی‘ بلوچ نمائندوں اور مثبت فکر کے حامل دیگر طبقات سے مشاورت کی ضرورت ہوگی۔ اس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ حکمرانوں کی سنجیدگی، ریاضت، اعتدال پسندی، رواداری، تدبر و فراست اور عوام کی اقتدار میں حقیقی معنوں میں شراکت کے بغیر معلامات کا درست سمت میں آنا ممکن نہ ہوگا۔

       بلوچ یقیناً، بلوچستان کے ساحل و وسائل پر اختیار اور سیاسی و اقتصادی فیصلہ سازی کا حق چاہتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب بلوچستان میں دائمی امن قائم ہوگا اور بیرونی مداخلت اور سازشوں کا خاتمہ ہوگا اور یہ جب ممکن ہے جب وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ہوں گے۔ ماضی کے مقابلے اس وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں مثالی ذہنی ہم آہنگی ہے بلکہ قومی مفادات سے منسلک فیصلوں میں دونوں ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔
عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے قوم سے بہت سے وعدے کئے تھے وہ اب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوئے، انہوں نے ایک وعدہ بلوچستان کے لاپتہ خاندانوں سے بھی کیا تھا جو آج بھی بلوچستان کا سب سے اہم  مسئلہ ہے اگر وزیراعظم ناراض بلوچوں سے مذاکرات کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس سے جڑے کئی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

بلوچستان طویل عرصے سے اندورنی اور بیرونی دونوں خطرات کا سامنا کررہا ہے۔ بلوچوں کی مزاحمتی تحریک، علیحدگی پسندوں کو ملنے والی بیرونی سپورٹ اور بھارت کی مسلسل مداخلت نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنادیا ہے جبکہ بڑی طاقتوں کی عقابی آنکھوں میں بلوچستان ایک عرصے سے کھٹک رہا ہے، ریکوڈک جیسے قیمتی ذخائر کے عیاں ہونے کے بعد دشمن قوتیں بلوچستان میں مزید پنجے گاڑنا چاہتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتہائی قیمتی ذخائر کی موجودگی کے باعث بلوچستان کو دنیا بھر میں ہاٹ کیک سمجھا جارہا ہے۔ اس کیک میں اپنا اپنا حصّہ بنانے کیلئے بہت سی طاقتیں سر جوڑ رہی ہیں مگر پاک فوج کی لازوال قربانیوں اور محب وطن جمہوری قوتوں کی وجہ سے دشمن اب تک اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

حقوق بلوچستان کے نام پر مزاحمتی تحریک چلانے والوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے حل ہوگا یہ مسئلہ جنگ یا لڑائی سے حل نہیں ہوگا۔ حکومتی اداروں کو بھی ماضی کی تلخیاں بھلاکر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے اور اس سے قبل ایسے ٹھوس اقدامات اُٹھانے چاہئیں جس سے نظر آئے حکومت واقعی مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube