Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

جی ہاں افغانستان کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا

SAMAA | - Posted: Aug 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Aug 2, 2021 | Last Updated: 2 months ago

درست کہا وزیر اعظم نے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ نہ صرف افغانستان، بلکہ دنیا کے جتنے بھی ممالک کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی نتائج اُس طرح سامنے نہیں آئے جیسے تصور کیے گئے تھے۔ ویت نام ، افغانستان یا عراق میں مختلف حیلوں بہانوں سے جو کھیل کھیلا گیا اُس کے نتائج اس بات کے گواہ ہیں کہ کسی بھی علاقے کی تاریخ و ثقافت اور رسم و رواج سے ناواقف ہوتے ہوئے اُسے فتح کرنے کی کوشش کی جائے یا وہاں کے عوام کو مالی فوائد کا لالچ دے کر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی جائے تو یہ ایسی سطحی اور کمزور کوشش ہوتی ہے ،جس کے اچھے نتائج کبھی سامنے نہیں آ سکتے ۔ ہمیں بہت پہلے اس بات کا فیصلہ کر لینا چاہیے تھا کہ داخلی طور پراپنے ملک میں امن و امان کے لیے جو جنگ لڑ رہے ہیں اُس میں ہمیں کتنی کامیابی ملی ہے ۔ جس کے بعد ہی کسی دوسرے  ملک کی جنگ میں کودنے کا کوئی نہ کوئی جواز پیدا ہو سکتا تھا ۔

دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات کے خاتمے کے باوجود پڑوسی ملکوں کی سرحدیں اتنی محفوظ نہیں جتنی اس سے پہلے تھیں یا تصور کی جاتی تھیں ۔ ایران ، افغانستان اور بھارت کی سرحدیں  آئے روزہماری افواج کے مالی ہی نہیں جانی نقصان کا بھی باعث بنتی ہیں اور ہم ہر وقت حالت جنگ میں رہتے ہیں ۔ ان واقعات کا خاتمہ نہ صرف  ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے بلکہ اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی مشکلات کے بارے میں سوچنے سے پہلے اپنے داخلی امن کو ترجیح دینا کہیں ضروری ہے ۔  موجودہ دور توپوں اور تلواروں سے لڑنے کا ہے اور نہ ہی جدید ترین اسلحے سے کسی ملک کو فتح کیا جا سکتا ہے ۔ اس فتح کے لیے معاشی طور پر مضبوط ہونا ہی کسی ملک کی سب سے بڑی کامیابی ہو سکتی ہے مگر ہماری در آمدی اور بر آمدی پالیسیاں اُس سطح کو نہیں چھو رہیں جس کی ضرورت پائی جاتی ہے ۔ یہ ضرورت تب ہی پوری ہو سکتی ہے جب مذکورہ ممالک سے تجارت میں پیش رفت ہو اور سرحدی امن و امان کی صورت حال بہتر ہو۔   داخلی اور معاشی لڑائی کے بجائے اگر کسی بڑی طاقت کا منظور نظر بن کر دوسروں کی تباہی کے لیے میدان میں کودا جائے تو اس کے نتائج بالکل ویسے ہی نکلتے ہیں جیسے ماضی میں ایک غیر ملکی طاقت کا مہرہ بن کر افغانستان میں جانے کے بعد سامنے آئے تھے ۔ اس مداخلت کی طرف داری کے نقصانات ایک دو سال نہیں بلکہ تین دہائیوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں جن سے جان چھڑانا  ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ کورونا کی تباہی تو ابھی چند برسوں کی کہانی ہے ، لیکن اس وبا سے پہلے بھی ہمارے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ اُن پر فخر کیا جا سکتا۔

اب تو دنیا کے بڑے اور امیر ممالک کی معیشت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ، لہذا قرضے یا امداد کا کاسہ توڑ ہی دیا جائے تو بہتر ہے ۔ اس لیے کہ کسی بڑی طاقت سے قرضہ لیتے وقت اُس کی بہت ساری ایسی شرائط بھی ماننا پڑتی ہیں جو عام حالت میں نہیں مانی جا سکتیں ۔  یہ درست ہے کہ اس خطے کے انتہائی اہم ملک افغانستان کو اُس کے حال پر نہیں چھوڑا جا سکتا ، مگرافغانستان کے مسائل میں جس طرح اس سے قبل ٹانگ اڑائی گئی تھی اُس سطح پر جائے بغیر بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے ۔ اگر پہلے سے ملک میں بسنے والے افغان مہاجرین کی با عزت واپسی کا انتظام کیا جائے اور مزید پناہ گزینوں کو آنے سے روکا جائے تو یہ عمل بھی دونوں ممالک کی بہتری کی طرف بہت بڑا قدم ہو سکتا ہے ۔  وزیر اعظم کا کہنا درست ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے یہ بات شاید کسی بڑی طاقت کے لیے کہی ہو ، مگر ہمارے خیال میں یہ بات افغانستان کے پڑوسی ممالک پر بھی صادق آتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube