Tuesday, September 21, 2021  | 13 Safar, 1443

ٹوکیو اولمپکس:برق رفتار یوسین بولٹ کی جانشینی کیلئے کشمکش

SAMAA | - Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اولمپک گیمز میں دنیا بھر کے ہزاروں کھلاڑی مختلف ایونٹس میں حصہ لیتے ہیں لیکن شائقین کھیل کی توجہ اور دل چسپی کا مرکز مختصر فاصلے کی دوڑ ہوتی ہے۔ ہر شخص کی اس میں دل چسپی ہوتی ہے کہ اولمپک گیمز میں 100 میٹر کی دوڑ جیت کر کس ملک کا ایتھلیٹ تیز ترین انسان کا اعزاز حاصل کرتا ہے۔

گزشتہ 3 اولمپکس میں جمیکا کے یوسین بولٹ 100 میٹرز دوڑ میں ناقابل شکست رہے تھے۔ وہ سن 2008 کے بیجنگ اولمپکس، سن 2012 کے لندن اولمپکس اور سن 2016 کے ریو اولمپکس میں 100 میٹر اور 200 میٹر دوڑ میں گولڈ میڈل اپنے نام کرتے رہے ہیں اور انہیں دونوں ایونٹس میں اولمپک ہیٹ ٹرک مکمل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے نہ صرف اولمپکس بلکہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ اور دیگر ایونٹس میں بھی متعدد بار اپنی برق رفتاری سے خود کو دنیا کا تیز ترین انسان ثابت کیا ہے۔ اس عرصے میں وہ جتنے بھی ایونٹس میں شریک ہوئے فتخ ان کا مقدر رہی ہے۔ ٹوکیو اولمپکس پہلاعالمی ایونٹ ہے جو ان کے بغیر ہو رہا ہے۔ شائقین کا موضوع بحث اور دلچسپی اس میں ہے کہ یوسین بولٹ کا جانشین کون بنتا ہے۔ مینز 100 میٹرز دوڑ کا پہلا مرحلہ 31 جولائی کو ٹوکیو اولمپک اسٹیڈیم میں شروع ہو گا۔

چار اولمپک گیمز میں جمیکا کی نمائندگی کرتے ہوئے یوسین بولٹ نے مجموعی طور پر 8 گولڈ میڈل جیتے ہیں۔ 18 سال کی عمر میں یوسین بولٹ نے پہلی بار سن 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں حصہ لیا تھا اور ان کی برق رفتاری کو دیکھتے ہوئے امید کی جا رہی تھی کہ وہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن بد قسمتی سے 200 میٹر کی دوڑ کے دوران وہ زخمی ہو گئے اور انہوں نے لنگڑاتے ہوئے ریس مکمل کی تھی اور وہ اس انجری کی وجہ سے مقابلوں میں مزید حصہ نہیں لے سکے تھے۔ یوسین بولٹ نے ایتھنز او لمپکس سے قبل ہی نیویارک سٹی میں ہونے والی ریبوک گراں پری میں 100میٹر کا فاصلہ 9.72 سیکنڈ میں طے کر کے عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا تھا۔

چین میں ہونے والے بیجنگ اولمپکس سن 2008 میں یوسین بولٹ نے 100 میٹر زکی دوڑ میں 9.69 سیکنڈ میں طے کر کے اپنا عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنایا اور اس کے ساتھ 200 میٹر ریس بھی 19.30 سیکنڈ میں جیت کر دو گولڈ میڈل اپنے نام کر لیے۔ سن 2012 کے لندن اولمپکس میں یوسین بولٹ کا جادو سرچڑھ کر بولا جہاں انہوں نے 100 میٹرز 200 میٹرز اور 4×100 میٹرز ریلے ریس میں 3 گولڈ میڈلز جیتے۔ جمیکن اسپرنٹر بولٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.63 سیکنڈ اور 200 میٹرز کا فاصلہ 19.32 سیکنڈ میں طے کر کے اولمپک ریکارڈ کو مزید بہتر ینایا تھا۔ سن 2016 کے ریو اولمپکس میں بھی یوسین بولٹ نے اپنا سکہ جمائے رکھا اور کوئی بھی ایتھلیٹ ان کی برق رفتاری کو چیلنج نہیں کر پایا گو برازیل میں یوسین بولٹ نے 100 میٹر زکا فاصلہ کچھ زیادہ وقت 9.81 سیکنڈ اور 200 میٹرز 19.78 سیکنڈ میں طے کیا اور 4×100 میٹرز ریلے ریس جیت کر اس بار بھی تین گولڈ میڈل اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

یوسین بولٹ نے سن 2009 میں برلن میں منعقدہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 100 میٹر زدوڑ 9.58 سیکنڈ میں جیت کرکرہ ارض کے تیز ترین انسان کا اعزاز حاصل کیا تھا جواب تک ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یوسین بولٹ نے ریو اولمپکس کے بعد ایتھلیٹکس کی دنیا سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی تھی اوروہ ایونٹس میں کم حصہ لے رہے تھے انہوں نے سن 2017 کے آخر میں ایتھلیٹکس سے مکمل ناطہ توڑ لیا تھا۔ بولٹ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب کئی ایتھلیٹس میں ان کی جانشینی کیلئے کش مکش جاری ہے۔

ٹوکیو اولمپک یوسین بولٹ کے جانشین کا فیصلہ کرنے کیلئے ایک اہم ایونٹ ثابت ہو گا جس میں کئی انتہائی باصلاحیت اور برق رفتار ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں۔ اس بار ٹوکیو اولمپکس میں 100 میٹر ریس کا نہ تو کوئی دفاعی چیمپئن ہے اور نہ ہی کوئی ورلڈ چیمپئن ہے کیونکہ اولمپک چیمپئن بولٹ ریٹائر ہو چکے اور ورلڈ چیمپئن کولمین پر پابندی عائد ہے۔ گوکارکردگی کے اعتبارسے امریکی ایتھلیٹ 100 میٹر ریس میں فیورٹ کے طور پر آغازکریں گے۔ کینیڈا کے آندرے ڈی گریسی، ایرون براؤن، نائیجیریا کے ڈیوائن اوڈو ڈورو، امریکہ کے ٹریون برومل، رونی بیکر، فریڈ کرلی۔ جنوبی افریقہ کے اکانی سمبینی، گفٹ لیوٹلیلا، جمیکا کے یوہان بلیک، ٹیکوئینڈو ٹریسی، اٹلی کے مارسیل جیکب، برطانیہ کے ژارنل ہیوز، چین کے ژن ژی، بنگٹیان سو، جاپان کے شوہئی ٹاڈا، سوئیزرلینڈ کے ایلکس ولسن اور دیگرکئی باصلاحیت اسپرنٹز گولڈ میڈل جیتنے کے لیے ٹوکیو اولمپکس میں ٹریک پر اپنی برق رفتاری کا مظاہرہ کریں گے۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والے 100 میٹرز کے عالمی چیمپئن کرسٹین کولمین پابندی کی وجہ سے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ نہیں لے رہے ورنہ وہ گولڈ میڈل کیلئے ہاٹ فیورٹ تھے۔ کولمین نے 9.76 سیکنڈ میں 100 میٹرزکا فاصلہ طے کیا تھا اور وہ 5 سال میں 9.80 سیکنڈ سے کم وقت میں فاصلہ طے کرنے والے پہلے اتھلیٹ تھے۔ ان پر ممنوعہ دواؤں کے استعمال کی وجہ سے پابندی عائد نہیں کی گئی تھی بلکہ انتباہ کے باوجود تین مرتبہ ڈرگ ٹیسٹ دینے میں ناکامی پر دو سال کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اپیل پر دو سال کی پابندی کو کم کر کے 18ماہ کر دیا گیا لیکن وہ بھی نومیر 2021 میں ختم ہو گی۔ کولمین کے ہموطن مچل راجرز اور جسٹن گیٹلن بھی ٹوکیوگیمز میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ امریکہ کے نوح لائلز کو بھی 100 میٹرز کیلئے فیورٹ تھے لیکن امریکی ٹرائلز کے دوران وہ 100 میٹرز ریس کیلئے کوالیفائی نہیں کر سکے تاہم وہ 200 میٹرز دوڑ میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کریں گے۔

طویل عرصے تک اولمپک گیمز میں مختصر فاصلے کی ریسز میں امریکی ایتھلیٹس کی بالادستی قائم رہی ہے لیکن دو دہائیوں سے امریکی ایتھلیٹ 100 میٹرز اسپرنٹ منیز اور ویمنز میں گولڈ میڈل جیتنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ امریکہ نے 100میٹرز مینز ریس میں آخری گولڈ میڈل ایتھنز اولمپکس 2004 میں جیتا تھا جب جسٹن گیٹلن فاتح تھے۔ اسی طرح 100 میٹرز ویمنز ریس میں امریکہ کے لیے آخری بار گولڈ میڈل گائیل ڈیورس نے جیتا تھا جب انہوں نے اپنی سرزمین پر اٹلانٹا اولمپکس 1992 میں جمیکا کی میرلین اوٹے کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

امریکی اسپرنٹر ٹریون برومل اس بار مینز 100 میٹر ریس میں گولڈ میڈل کیلئے ممکن فیورٹ سمجھے جا رہے ہں۔ وہ سن 2016 میں ورلڈ انڈور 60 میٹرریس کے عالمی چیمپئن تھے اور انہوں نے 100 میٹرریس بھی اس موسم گرما میں 9.90 سیکنڈ میں جیتی ہے۔ بیجنگ اولمپکس میں 100 میٹر میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ سن 2021 میں برومل کا بہترین وقت 9.77 سیکنڈ ہے۔ کینیڈا کے آندرے ڈی گریسی 100میٹرریس میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کو 5 گلوبل میڈل جتوائے ہیں۔ انہوں نے ریو اولمپکس میں 100میٹر میں کانسی اور 200 میٹر ریس میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ 100 میٹرریس میں ان کا بہترین وقت 9.90 سیکنڈ گزشتہ سال تھا۔ نائیجیریا کے ڈیوائن اوڈو ڈورو بھی اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کا 100 میٹر ریس کا بہترین وقت 9.86 سیکنڈ ہے۔ اوڈو ڈورو این سی سی اے 2019 کے 100 میٹراور 200 میٹرکے چیمپئن ہیں۔

برطانوی اسپرنٹر زیڈ ہیوز 2018 کے 100 میٹر دوڑ کے یورپی چیمپئن ہیں۔ ان کا بہترین وقت 9.91 سیکنڈ ہے لیکن انہوں نے اس عزم کا اظہارکیا ہے کہ ٹوکیو گیمزمیں وہ 9.75 سے 9.80 میں 100میٹر کا فاصلہ طے کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ جنوبی افریقہ کے اکانی سمبینی بھی برق رفتاری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کا 100 میٹر کا بہترین وقت 9.89 سیکنڈ ہے وہ گزشتہ سال ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 100 میٹردوڑ میں چوتھے نمبر پر رہے تھے۔

اولمپک گیمزمیں پہلی مرتبہ ویمنز 100 میٹرز اسپرنٹ کو 1928 میں ایمسٹرڈیم ہالینڈ میں ہونے والے اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا اور اولین گولڈ میڈل امریکہ کی ہائی اسکول کی 16 سالہ طالبہ بیٹی رابنس نے 12.2 سیکنڈ میں 100 میٹرز کا فاصلہ طے کر کے جیتا تھا۔ اس کی کارکردگی اس لیے حیران کن تھی کہ اس نے چند ماہ قبل ہی رننگ شروع کی تھی اور یہ اس کی دوسری ریس تھی اور پہلا آؤٹ ڈور مقابلہ تھا جس میں اس نے نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔ ماڈرن اولمپکس میں 100 میٹرز ویمنزاسپرنٹ شائقین کھیل کی توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ اس بار بھی دنیا بھر سے باصلاحیت اور تیزرفتار ایتھلیٹ وکٹری اسٹینڈ پر پہنچنے کی کوشش کریں گی جس کے لیے وہ گزشتہ چار برسوں سے زبردست محنت کررہی ہیں۔

چوتھائی صدی سے کوئی امریکی خاتون ایتھلیٹ 100 میٹرز ریس میں اولمپک گولڈ میڈل نہیں جیت سکی ہے۔ امریکہ کو اس بار 21 سالہ شا کیری رچرڈسن سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں جو ورلڈ انڈر 20 میں 100 اور 200 میٹرز کی ریکارڈ ہولڈر ہے لیکن بد قسمتی یہ رہی کہ یوایس اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے ماری جوانا کے استعمال کے جرم میں شاکیری رچرڈسن پر ایک ماہ کی پابندی عائد کر دی جس کی وجہ سے اب وہ ٹوکیو گیمز میں شرکت نہیں کر رہی حالانکہ اس نے ٹرائلز میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اولمپکس کیلئے کوالیفائی کر لیا تھا۔ شاکیری پر پابندی کا اطلاق 28 جون سے ہوا اور یہ پابندی اولمپکس میں ویمنز 100 میٹر ریس کے 30 جولائی کو آغاز سے دو روز قبل 28 جولائی کو ختم ہو جائے گی۔ اس پابندی نے امریکی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ رچرڈسن نے یہ منشیات کسی مقابلے میں استعمال نہیں کی تھی لیکن 16 جون کو ٹرائلز کے دوران ہونے والے ڈوپ ٹیسٹ میں اس کے استعمال کے شواہد ملے تھے۔

جمیکن اسپرنٹ لیجنڈ یوسین بولٹ ٹوکیو گیمزمیں حصہ نہیں لے رہے لیکن خواتین کی 100 میٹرز دوڑ میں ان کی ہم وطن 34 سالہ شیلی این فریزر پرائس کو گولڈ میڈل کیلئے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے اور بولٹ نے بھی شیلی کو ہاٹ فیورٹ قرار دیا ہے۔ شیلی اپنی برق رفتاری کی وجہ سے پاکٹ راکٹ کے نام سے شہرت رکھتی ہیں۔ ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کرنے والی تمام ویمنز ایتھلیٹس میں 100 میٹر کا فاصلہ انہوں نے سب سے کم وقت میں طے کیا ہے ان کا بہترین وقت 10.63 سیکنڈ ہے اور وہ امریکن فلورنس گریفتھ جوائنر کے بعد تاریخ کی دوسری تیز ترین خاتون ہیں۔ 1988 میں فلورنس گریفتھ جوائنر نے 10.49 سیکنڈ میں یہ فاصلہ طے کیا تھا۔ جمیکا کی ساتھی ایتھلیٹ ایلینی تھامپسن ہیراہ 10.71 سیکنڈ کے ساتھ دوسرے اور امریکہ کی شا کیری رچرڈسن 10.72 سیکنڈ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ شیلی نے رواں سال جون میں کنگسٹن میں اولمپک ٹرائلز کے دوران یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس سے قبل 2012 میں شیلی کا بہترین وقت 10.70 سیکنڈ تھا۔

شیلی 2017 میں بیٹے کی پیدائش کے بعد ایک سال تک ٹریک اینڈ فیلڈ سے دور رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی جمیکن اسپرنٹ کوئین نے ٹریک پر دوبارہ قدم رکھا تو ان کو فتوحات حاصل کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی۔ شیلی نے 2019 میں دوحہ میں 100 میٹرز ریس میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ شیلی این فریزر نے سال رواں میں 100 اور 200 میٹرز کا فاصلہ سب سے کم وقت میں طے کیا ہے اور وہ ان دونوں کیٹیگری کیلئے فیورٹ ہیں۔ شیلی نے 100 میٹرز دوڑمیں اپنا پہلاگولڈ میڈل سن 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں جیتا تھا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی جمیکن خاتون ایتھلیٹ تھیں پھر 2012 میں لندن میں شیلی نے اپنے 100 میٹرز ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا۔ سن 2016 کے ریو اولمپکس میں 100 میٹرز ریس شیلی کو برانز میڈل پر اکتفا کرنا پڑا تھا جبکہ پہلے نمبر پر ایلینی تھامپسن اور دوسرے پر امریکہ کی ٹوری بووی تھیں۔ اگر ٹوکیو میں شیلی 100 میٹرز ریس جیت گئیں تو وہ 100 میٹرز ریس میں تین گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی خاتون ایتھلیٹ ہوں گی مردوں میں ان کے ہموطن یوسین بولٹ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے۔

ٹوکیو گیمز میں شیلی این فریزر کیلئے ان کی ہموطن اور دفاعی اولمپک چیمپئن ایلینی تھامپسن، شیریکا جیکسن، برطانیہ کی ڈینا ایشر اسمتھ، آئیوری کوسٹ کی میری جوزی ٹالوو، بہاماس کی شیوانے ملر یوائیبو، نائیجیریا کی بلیسنگ اوکاگیبری 100 میٹرز ریس میں بڑی چیلنجر ہوں گی۔ اکتیس سالہ میری جوز ی کی کارکردگی ریو اولمپکس میں بھی بہتر تھی اور انتہائی معمولی فرق سے وکٹری اسٹینڈ پر پہنچنے سے رہ گئی تھی۔ ویمنز 100 میٹرزاسپرنٹ کا پہلا راؤنڈ 30 جولائی کو شروع ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube