Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

کچی آبادی کے رہائشیوں کیلئے بارش ایک زحمت؟

SAMAA | - Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 6 months ago

شہر کراچی کی کچی آبادیوں (بالخصوص جھونپڑیوں اور جھگیوں ) کے غریب رہائشی پچھلے سال کی بدترین بارش اور شہری سیلاب کے باعث انتہائی خوف کا شکار نظر آتے ہیں اور رواں سال ممکنہ مون سون بارشوں کے حوالے شدید پریشانی کا شکار ہیں، کیونکہ پچھلے سال سال مون سون کی بارشوں کے سبب کراچی شہر بڑی حد تک زیر آب آگیا تھا- نظام زندگی درہم برہم ہوگیا تھا اور شہر کی صورت حال کئی دنوں تک خراب رہی، نہ صرف سڑکیں ندیوں میں تبدیل ہوئیں بلکہ کئی مکانات تباہ ہوگئے تھے، حتی کہ بہت سے مقامات پر لوگوں کو پناہ گاہیں تلاش کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

کچی آبادیوں (بالخصوص جھونپڑیوں اور جھگیوں ) کے رہائشیوں کی اگر بات کی جائے تو یہ وہ پسماندہ طبقہ ہے جو پہلے ہی مختلف طرح کے مسائل سے دوچار ہے ایک جانب سرکاری ادارے ہیں جو تجاوزات کے نام پر ان کے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے گھر کر رہے ہیں، تو دوسری جانب کرونا جیسا وبائی مرض اور لاک ڈاؤن ہے جو ان کے معاش اور روزگار کو ختم کر رہا ہے، پھر سونے پر سہاگہ یہ شدید بارشیں ، مکانات کی تباہی اور شہری سیلاب جیسے خدشات ان کی زندگیوں کو جہنم بنانے کو کافی ہیں۔ اکثر آبادیاں ایسی ہیں جہاں کے رہائشی بارشوں کے موسم میں سونے کا تصور نہیں کرسکتے، کیونکہ ان کے مکانات کی چھتیں بے تحاشا ٹپکتی ہیں اور گرمی کے دنوں میں سخت محنت کے بعد رات کو جب انہیں نیند کی اشد ضرورت ہوتی ہے تو وہ سو نہیں سکتے بلکہ رات بھر بارش کے تھمنے کا انتظار کرتے ہیں اور بارش کے تھمتے ہی گھر میں جمع ہوجانے والے پانی کی نکاسی کا انتظام کرنے میں لگ جاتے ہیں، جبکہ وہ جانتے ہیں کہ اگلی صبح انھوں نے پھر معاش اور روزگار کی تلاش میں نکلنا ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ کم آمدنی والا طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ جو کراچی جیسے بڑے شہر کےکچی آبادی والے علاقوں میں رہتے ہیں مون سون کے موسم اور بارش سے لطف اندوز بھی نہیں ہوسکتے ،کیونکہ انہیں مسلسل خوف ہے کہ بارش کے پانی اور شہری سیلاب سے ان کے مکانات اور سامان تباہ ہوجائیں گے۔ مزید یہ کہ بارش کے دوران کچے مکانات اور جھگیوں کے رہائشیوں کے لئے تو روزمرہ کے معمولات بھی ایک کٹھن اور دشوار گزار مرحلہ بن جاتے ہیں جیسے شہر کراچی میں جھگیوں پر مشتمل ایک آبادی الیاس گوٹھ کے رہائشی کھلے آسمان تلے کھانا پکا تے ہیں جو کہ بارش کے دوران ناممکن ہوجاتا ہے۔

موسیٰ کالونی کی رہائشی ،سمیرا کے مطابق، ہم گرمیوں کی شدید گرمی برداشت کرسکتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے گھروں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے ، لیکن بارش کا موسم ہمارے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ ہمارا گھر گجر نالے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے پورے گھر میں نالے کا پانی بھر جاتا ہے اور رہی سہی کسر تجاوزات کے نام پر ہونے والی مسماری و بے دخلی مہم نے کردی اور ہماری آبادی کے درجنوں خاندان بے گھر ہوگئےاور اکثر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں – یہ وہ غریب خاندان ہیں جنہیں ترقی کے نام پر ان کے گھروں سے بے دخل کر کے سردوگرم موسم کی سختیاں جھیلنے کے لئے بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا- انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے موسم میں صرف وہی لطف اندوز ہوسکتا ہے جن کو اپنے کھانے اور رہائش کے معاملات سے خوف نہیں ہوتا ہے۔

دوسری جانب الیاس گوٹھ کی رہائشی ، شانتی کے مطابق، موسم کی سختیوں کے مقابل ہماری جھگیاں ناکافی ہیں کیونکہ یہ ترپال اور بانسوں سے بنی ہوئی ہیں، نہ ہم گرمیوں کی شدید گرمی برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی شدید سردی اور بارش ہمارے لئے ایک بھیانک تجربہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ شدید بارشوں میں ہمیں اپنے گھروں اور سامان کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے اور لیاری ندی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے بارش کا موسم ہمارے لئے بہت زیادی مشکلات کا باعث بن جاتا ہے کیونکہ اگر ندی بھر جائے تو ہمیں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر تین ہٹی کے پل پر جا کر وقت گزارناپڑتا ہے جب تک ندی میں پانی کی سطح عام حالات جیسی نہ ہوجائے اور اس دوران میں اکثر ہیرونچی ہمارا سامان اٹھا کر لے جاتے ہیں اور جو سیلابی ریلے کےوقت موجود نہ ہو اس کا سامان ندی میں بہہ جاتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے تین کروڑ آبادی کے شہر کی تقریبا65 فی صد آبادی غیر رسمی بستیوں اور کچی آبادیوں میں رہنے پر مجبور ہے یعنی مجموعی طور ایک کروڑ نوے لاکھ افراد ایسے ہیں جو کہ کمزور مالکانہ حقوق یا سرے سے زمین کی ملکیت کی مضبوط میعاد نہیں رکھتے ا سی مناسبت سے ان کے گھروں کا طرز تعمیر ہوا کرتا ہے ہیں عمومی طور پر جن کے پاس کچی آبادی یا بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے جاری کردہ لیز کی دستاویزات موجود ہیں ان کے گھر اچھے اور بہتر انداز میں بنے ہوئے ہیں اور بارشوں اور موسم کی سختیوں سے انھیں محفوظ رکھتے ہیں، جب کہ وہ آبادیاں جن کے پاس زمین کی ملکیت کے حوالے سے کوئی  دستاویزات سرے سے موجود نہیں ان کے گھروں کی چھتیں سمینٹ کی یا لوہے کی چادروں سے بنی ہوتی ہے جس میں سے اکثر بارش کا پانی ٹپکتا رہتا ہے اور ان کے گھر کو جل تھل کردیتا ہے جبکہ وہ خاندان جو اسی شہر کراچی میں جھگی جھونپڑیوں میں رہائش پزیر ہیں بارشوں کے موسم میں انتہائی سخت مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایسی ہی جھگی جھونپڑیوں پر مشتمل آبادی کے رہائشی روشن نے بتایا کہ بارش کے دوران ہم تمام گھر والے اپنی جھگی کی دیواروں کے ساتھ لگ کر بیٹھے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی طرح وقت گزارتے ہیں کیونکہ ہر جانب سے پانی آرہا ہوتا ہےایسے حالات میں جو سامان ڈھک دیتے ہیں بس وہی بچ پاتا ہے۔ کراچی شہر میں 575 سے زائد بستیاں ‘ سندھ کچی آبادی اتھارٹی’ کے تحت رجسٹرڈ ہیں- یہ وہ کچی آبادیاں ہیں جن کی کچھ حد تک معلومات سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے پاس موجود ہیں تاہم ان میں رہنے والے افراد اور بنیادی سہولتوں سے متعلق معلومات موجود نہیں، جب کہ800 سے زائد گوٹھ ‘ سندھ گوٹھ آباد اسکیم کے تحت رجسٹرڈ ہیں- اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں جھگی جھونپڑیاں، کئی کچی آبادیاں اور گوٹھ ایسے ہیں جن کے متعلق اعداد و شمار حکومتی اداروں کے پاس بھی نہیں ہیں۔

کراچی شہر میں کئی سو کچی آبادیاں ایسی ہیں جو شہر کے تین بڑے نالوں یعنی گجر نالے، اورنگی نالے اور محمودآباد نالے کے کنارے پر واقع ہیں۔ یہ وہ آبادیاں ہیں جو بارشوں کے موسم میں شہری سیلاب کے خطرے سے براہ راست دو چار ہیں اور نالوں کے بھر جانے کی صورت میں گندا پانی ان آبادیوں کے گھروں میں بھر جاتا ہے جبکہ گھروں کی چھتوں کی حالت بہتر نہ ہونے کے سبب بارش کا پانی انہیں علیحدہ پریشان کرتا ہے،کہیں لوہے کی چادریں اڑ جاتی ہیں تو کہیں دیواریں گر جاتی ہیں جبکہ بارشوں کے موسم میں کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں تو گویا معمول کی بات ٹہری۔

کچی آبادیوں میں گلیاں تنگ ہونے کے سبب امدادی کاروائیوں میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چند گھنٹوں کی شدید بارش کے بعد ان گلیوں کی صورتحال اتنی خراب ہوجاتی ہے کہ چلنے کے راستے کیچڑ میں گم ہوچکے ہوتے ہیں اور ابلتے ہوئے گٹروں کے باعث گندگی کی بوعروج پر پہنچ جاتی ہے، جب کہ بعض مقامات پر پوری کی پوری آبادی تالاب کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ایسے حالات ان کچی آبادیوں کے رہائشیوں کی ملازمتوں کو غیر یقینی بنا دیتے ہیں جو پہلے ہی غیر رسمی ہوا کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی دنوں تک بجلی بحال نہیں ہوپاتی کیونکہ جب تک پانی کھڑا رہتا ہے ادارے والے بجلی بحال نہیں کرتے اور ان کچی آبادیوں کے رہائشی بے یارو مدد گار انتہائی خوف اور اضطراب کی حالت میں بارش کے تھمنے کی دعائیں مانگتے نظر آتے ہیں۔

اکثر گھروں میں سارے بستر اور گدے گیلے ہوجاتے ہیں جبکہ چھتیں کئی جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں یا کم از کم بری طرح ٹپک رہی ہوتی ہیں ۔ایسے حالات میں کیونکہ کھانا پکانے کی جگہ نہیں ہوتی تو اکثر خاندان بارش کے تھمنے کے بعد کھانا پکانے کا اہتمام کر پاتے ہیں اسی طرح بارش کی وجہ سے روزانہ اجرت پر مزدوری کرنے والوں کو کوئی کام نہیں مل پاتا تو اکثر کے پاس سودا سلف کے پیسے تک نہیں ہوتے۔ پچھلے سال ہونے والی تباہ کاریوں اور شہری سیلاب کے باعث کراچی شہر کچی آبادی کے رہائشی با لخصوص جھگیوں کے رہائشی اور نالوں کے کناروں پر آبادیوں کے مکین رواں سال سخت خوفزدہ ہیں کہ مون سون کی موسلا دھار بارش ان کیلئے مزید تباہی لائے گی، کیونکہ بارشوں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے حکومتی اقدامات ناقص اور ناکافی نظر آرہے ہیں۔

نوٹ: محمد توحید بحیثیت اربن پلانر اور ریسرچر کراچی اربن لیب آئی بی اے سے وابستہ ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube