Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

کشمیریوں کی سوچ غلامانہ نہیں باغیانہ ہے

SAMAA | - Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فائل فوٹو

تڑتڑاہٹ، شدید ہنگامہ آرائی اور بائی کاٹ کے شور میں پاکستان کی 3 سیاسی پارٹیوں کے درمیان منعقد ہونے والے آزاد جموں و کشمیر کے 11 ویں انتخابات عمران خان کی پی ٹی آئی 44 میں سے 25 نشتیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہی۔

باغ کی نشست کے لیے سردار تنویر الیاس خان کا اعلان ہے کہ یہ سیٹ جیتنا پی ٹی آئی کے لیے بہت اہم ہے۔ اسمبلی میں ممبران کی تعداد کے مد نظر پی ٹی آئی مخصوص 8 میں سے 7 نشستیں جیت کر 53 کے ایوان میں 32 یا 33 ممبران والی پارلیمانی پارٹی ہو گی۔

پیپلزپارٹی نے 11 نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے یہ ایک نشست جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔ پی پی پی اگر راجہ یاسین کی جانب سے خالی کی جانے والی نشت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تو پھر اس کی عددی تعداد یہی رہے گی۔

آزاد کشمیر کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن ووٹوں کے تناسب میں تو لگ بھگ پونے 5 لاکھ ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہی لیکن اس کو ایوان میں 6 نشتیں ملی ہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام نے تحریک آزادی کشمیر کے دو بڑے رہنماؤں  سردار محمد ابراہیم خان اور سردار عبدالقیوم خان کے ناموں کی لاج رکھتے ہوئے سردار عتیق احمد خان اور سردار حسن ابراہیم خاں کو بھی کامیاب کروایا۔ ان دونوں رہنماؤں کی نشانی کے طور پر ان کی آل اولاد بھی اسمبلی میں موجود رہے گی۔

مریم نواز نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے سن 2018 کے نتائج کو بھی تسلیم نہیں کیا۔ مریم بی بی کے نزدیک بہترین جمہوریت خود کا جیتنا ہے،  جہاں ہارے وہاں شکست تسلیم نہیں کریں گی۔۔ یہ تو نئی مثال نہیں،  جب سے یہ خاندان سیاست میں آیا ہے اپنے مخالف پاکستان میں کسی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ اس سے بھی زیادہ افسوس کن امر یہ ہے کہ مسلم لیگی رہنماء اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کو یہ بدترین  شکست برداشت نہیں ہو رہی۔ آزاد  کشمیر کے عوام پر لعن تعن اور بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگ آج بھی غلامانہ سوچ سے نہیں نکل سکے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کشمیر ڈھائی سو سال سے غلامی میں ہے وہ پہلے مغلوں کی غلامی میں گیا پھر پٹھانوں کی غلامی میں گیا پھر سکھوں کی غلامی میں گیا  پھر ڈوگرہ کے غلام رہے، تو آزادکشمیر والوں سے غلامانہ سوچ نکل ہی نہیں رہی یہ جو الیکشن ہے یہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

راجہ صاحب ایک ذمہ دار فرد اور بڑے خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ جس خاندان کا تحریک آزادی میں بڑا کردار ہے۔ راجہ حیدر خان غلامانہ سوچ کے ہوتے تو ڈوگرہ کے خلاف بغاوت کیوں کرتے۔ لگتا ہے راجہ فاروق حیدر تاریخ سے نابلد ہیں۔ انہیں پورے کشمیر یا آزاد کشمیر کی تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں اپنے والد محترم کی جدوجہد آزادی اور والدہ محترمہ کی پارلیمانی خدمات ہی یاد ہوتی تو جذبات اور مایوسی کے عالم میں بھی ان کے منہ سے ایسے الفاظ نہ نکلتے۔ راجہ صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم کہ غلامانہ سوج کیا ہوتی ہے اور باغیانہ افکار و نظریات اور طرز زندگی  کسے کہتے ہیں۔ صدیوں غلام رہنے کے باوجود کشمیر کے معاشرے میں کبھی غلامانہ سوچ پروان نہیں چڑھی۔ غلامانہ سوچ کا حامل  معاشرہ انقلابی ہو ہی نہیں سکتا بلکہ حاکم وقت کے سامنے ہر ظلم پر سر تسلیم خم کرتا ہے۔

کشمیریوں نے ان سب ادوار کے دوران بد ترین ریاستی مظالم بربریت تشدد کے سامنے سر کٹا دیا تسلیم خم نہیں کیا۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیریوں نے ہر قابض کے سامنے مزاحمت کی۔ اسی مزاحمت میں زندہ کشمیریوں کی کھالیں تک اتاری گئیں اور اسی دوران 5 روپے سکہ راج الوقت میں کشمیریوں کے سر بھی فروخت ہوئے۔ انہیں نے سر کٹانا مناسب جانا لیکن جھکایا نہیں۔ مزاحمت کے دوران 22 کشمیریوں نے جان دے کر آذان مکمل اور اللہ کا نام بلند رکھا۔ اسی مزاحمت میں کشمیری خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں ۔اسی مزاحمت کا نتیجہ تھا کہ بغیر کسی بیرونی مدد کے سن 1947 میں ڈوگرہ کی طاقتور حکومت کے خلاف جنگ شروع کی اور آزاد کشمیر آزاد کرایا۔ ان سب حقائق کے ذریعے کشمیریوں کی غلامانہ نہیں بلکہ باغیانہ سوچ کی عکاسی ہوتی۔ سن 1947 سے اب تک 7 لاکھ جوان قربان کر دیے لیکن بھارت کی سپر پاور کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ برصغیر کی 565 دیسی ریاستوں میں سے کشمیر واحد ریاست جس کے انقلابی بغیر کسی بیرونی مدد کے 74 سال سے ظالموں اور جابروں کے ساتھ لڑ رہے ہیں ۔ ہزاروں افراد جیلوں کے ٹارچر سیل میں قید کی سزا بھگت رہے ہیں، ایک لاکھ نوجوانوں نے جان دے دی۔ غلامانہ سوچ ہوتی تو بھارت کے سامنے جھکنے میں کتنی دیر لگتی۔

ہاں لیکن کچھ عرصے سے راجہ صاحب نے خاندانی روایت اور مزاج سے ہٹ کر غلامانہ طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ریاست کی مضبوط جماعت کو توڑا قائد اعظم محمد علی جناح کی کشمیر پالیسی اور طرز سیاست اور فرمان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریاست کی عزت اور وقار کو تخت لاہور کی گود میں ڈال کر غلامانہ سوچ کی عکاسی کی۔ جب یہ وزیر اعظم تھے تو ایک رات بھارتی فورسز نے 24 شیر دل جوانوں کو مار کر ان کی لائشوں کو شوپیاں کی شاہراہ  پر پھینکا ہوا تھا ۔ سری نگر کی مساجد سے پاکستان کے ترانہ بلند ہو رہے تھے۔ اور آسیہ اندرابی ویڈیو کلپ میں  رو رو کر مدد کی اپیل کر رہی تھی۔ راجہ صاحب نوازشریف کے استقبال کے لیے کشمیر کا قومی جھنڈا لگی گاڑی کے ساتھ لاہور کی گلیوں میں گھوم رہے تھے۔ کشمیر کی بیٹی کے والد نواز شریف جب روس میں نریندر مودی سے ملے تو مشرکہ اعلامیہ میں کشمیر کا نام غائب تھا۔ محترم نواز شریف نے دلی کا دورہ کیا تو روایت سے ہٹ کر کشمیری قیادت سے ملاقات گوارہ نہیں کی۔ مودی  کو جب جاتی امراء بلا کر تحائف دیے جا رہے تھے تو وادی کشمیر میں ہمارے 6 بچوں کی زمین پر پڑی لائشیں کو اٹھانے اور نماز جنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ نواز شریف صاحب تو گاڑی خود ڈرائیو کر کے شاہی مہمان کو ایئرپورٹ چھوڑنے آئے لیکن اس دوران مہمان سے کشمیر میں مظالم کی بات تک نہ کی۔ بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمیشنر عبدالباسط اور وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ نواز شریف کی ہدایت تھی کہ کشمیر کے بارے میں زیادہ نہ بولا جائے۔ اس صورت حال کا مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت نے سخت نوٹس لیا اور مختلف اوقات میں ویڈیو کلپ کے ذریعے اس پر احتجاج اور مذمت بھی کی۔ آزاد کشمیر کے عوام نے ان انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ دے کر غلامانہ سوچ کی عکاسی نہیں کی بلکہ نواز شریف کی ان پالیسیوں کے خلاف ردعمل اور کشمیریوں کی پشتی بان افواج پاکستان کے خلاف نواز کے بیانیے کو مسترد کر کے باغیانہ سوج کا مظاہرہ کیا۔ مریم بی بی تسلیم کریں یا نہ کریں کشمیریوں نے فیصلہ دے دیا۔

تینتیس نشتوں کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت قائم کرنے جا رہی ہے آئندہ اس کا کیا طرز عمل ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ راجہ فاروق حیدر خان کے لیے مشورہ ہے کہ ان کے پاس رجوع کرنے کا اب بھی وقت ہے کیوں کہ جب ۔ سردار سکندر حیات رجوع کرسکتے ہیں تو راجہ فاروق کیوں نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube