ٹوکیواولمپک:برازیل کوفٹبال کے سخت حریفوں کا سامنا

SAMAA | - Posted: Jul 20, 2021 | Last Updated: 3 days ago
SAMAA |
Posted: Jul 20, 2021 | Last Updated: 3 days ago

 کرونا وائرس کی وبا کے باعث ایک سال تاخیر سے جاپان میں کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ ٹوکیو اولمپکس سج رہا ہے جس میں دنیا بھر سے ہزاروں کھلاڑی مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے اور گولڈ‘سلور‘ برانز میڈلز اپنے گلے کی زینت بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کا نام بھی روشن کریں گے۔ دنیا کا مقبول ترین کھیل فٹبال بھی اولمپک گیمزکا اہم ایونٹ ہے لیکن فٹبال کے عالمی افق پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور کامیابیاں سمیٹنے والی ٹیموں کو اولمپکس میں زیادہ کامیابیاں نصیب نہیں ہوئی ہیں۔ اس بار برازیل کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کررہی ہے جس نے ریو اولمپکس میں پہلی مرتبہ فٹبال میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ برازیل نے جرمنی کو فائنل میں پنالٹی ککس میں شکست دی تھی۔ اس بار بھی برازیل کو اپنے اعزاز کے دفاع میں جرمنی، اسپین، ارجنٹائن،جاپان، آئیوری کوسٹ جیسے حریفوں کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اولمپک گیمز میں فٹبال کے کھیل کو پہلی بار 1900 میں متعارف کروایا گیا تھا جس میں 3 ممالک  برطانیہ،بلجیئم اور فرانس کے کلب کی ٹیموں نے نمائندگی کی تھی اور صرف 2 میچ کھیلے گئے تھے۔ برطانیہ کو اولین اولمپک چیمپئن قرار دیا گیا تھا جبکہ فرانس کو سلور اور بلجیئم نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

ایتھنز اولمکپس 1896 اور لاس اینجلس کیلی فورنیا امریکہ میں ہونے والے اولمپکس 1932 میں فٹبال کے ایونٹس منعقد نہیں ہوئے تھے۔ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہونے والے اولمپکس سے قبل مجموعی طور پر سمر گیمز میں 26 مرتبہ فٹبال ایونٹس منعقد ہوئے ہیں جن میں یورپ کو بالادستی حاصل رہی ہے۔ یورپی ملکوں کی فٹبال ٹیموں نے 17 مرتبہ گولڈ میڈل جیتے ہیں جن میں ہنگری اور برطانیہ نے تین تین مرتبہ گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔ جنوبی امریکہ کے ملکوں نے پانچ جبکہ افریقہ کے ملکوں اور نارتھ اینڈ سینٹرل امریکہ کے ملکوں نے دو، دو مرتبہ گولڈ میڈل جیتے ہیں۔

اولمپکس میں مردوں اور خواتین کے فٹبال ایونٹس منعقد ہوتے ہیں جن میں فیفا کے رکن ممالک سے ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ کی طرح کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر اولمپک گیمز تک رسائی کرتی ہیں۔ ان میچزمیں انڈر 23کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔ اس بار مینز فٹبال کیلئے ایشیا سے میزبان جاپان سیمت 4 یورپ سے 4 افریقہ سے3 جنوبی امریکہ2 نارتھ امریکہ 2 اور اوشینیا سے 1 ٹیم نے اولمپکس کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔
اولمپکس کیلئے خواتین ٹیم میں کھلاڑیوں کی عمر کی کوئی قید نہیں ہے جبکہ اس بار مردوں کی ٹیم میں کھلاڑی کی عمر کی حد 24 سال ہے جو یکم جولائی 1997 کے بعد پیدا ہوا ہو تاہم تین زائد عمر کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کی اجازت ہے۔ روایتی طور پر مینز ٹیم کے کھلاڑیوں کی عمر کی حد 23 سال مقرر ہے لیکن ٹوکیو گیمز کے انعقاد میں ایک سال کی تاخیر کی وجہ سے اس حد میں اضافہ کر دیا گیا۔ فیفا نے اس بار اولمپکس میں وی اے آر کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

برطانیہ نے پیرس اولمپکس میں پہلی بار فٹبال کے ایونٹ میں 1900 گولڈ میڈل جیتا تھا پھر اس نے 1908 اور 1912 میں سونے کے تمغے جیتے تھے اس کے بعد برطانوی مینز فٹبال ٹیم کبھی فٹبال میں میڈلز ٹیبل پر نہیں پہنچ پائی۔ ہنگری نے تین بار1952‘1964 اور 1968 میں گولڈ میڈل جیتے تھے۔ ہنگری نے 1972 میں چاندی اور 1960 میں کانسی کا تمغہ بھی اپنے نام کیا تھا۔ جنوبی امریکی ملک یوروگوئے نے دو مرتبہ 1924 اور 1928 میں فٹبال گولڈ میڈلز جیتے۔ سوویت یونین 1956 اور 1988 میں گولڈ میڈلز اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا۔ ارجنٹینا کو دنیائے فٹبال میں ایک بڑے پاور ہاؤس کا درجہ حاصل ہے لیکن اس ملک کو اولمپک گیمزمیں گولڈ میڈل جیتنے کیلئے طویل مدت لگی۔ ارجنٹینا نے اپنا پہلا گولڈ میڈل 2004 اور دوسرا گولڈ میڈل 2008 میں جیتا تھا۔ 2004 کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارجنٹائنی ٹیم میں ایسے کئی فٹبالر شامل تھے جنہوں نے بعد میں دنیائے فٹبال کو اپنے شاندار کھیل سے گرویدہ بنایا۔ ان میں کارلوس ٹیویز، ژیویئر مشیرانو،سیزر ڈلگاڈو، رابرٹو ایال، گیبریل ہینز، ولفرڈو کابالیرو شامل ہیں۔ 2008 کی فاتح ارجنٹائن ٹیم میں لیونل میسی، اینجل ڈی ماریا، پابلو زابالیٹا، لوتارو اکوسٹا اور میشرانو شامل تھے۔

اولمپک فٹبال میں نائیجریا، کیمرون، میکسیکو، پولینڈ،اسپین، فرانس، سویڈن، چیکوسلواکیہ،مغربی جرمنی، یوگوسلاویہ، بلجیئم، اٹلی، کینیڈا اور دفاعی چیمپئن برازیل نے ایک ایک بار گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ برازیل کو دنیا میں فٹبال کی بہترین ٹیم گردانا جاتا ہے لیکن یہ سپر ٹیم 2106 تک اولمپکس میں گولڈ میڈل نہیں جیت پائی تھی۔ 2016 میں اپنی سرزمین پر منعقد ہونے والے ریو اولمپکس میں برازیلین فٹبال ٹیم پہلی مرتبہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اس فاتح برازیلین ٹیم کا حصہ نیمار، فلپی اینڈرسن، ولیم فرتاڈو، گیبریل جوسس،ماکوس مارکوئنہوس،روڈریگو سائیو بھی تھے جو برازیل کی قومی ٹیم میں نمائندگی کررہے ہیں۔ برازیلین ٹیم فٹبال میں 3 سلور میڈل اور ایک دو برانز میڈل جیت چکی ہے۔ ریو اولمپکس میں ہنڈوراس کے خلاف سیمی فائنل میں برازیل کے نیمار نے 14 ویں سیکنڈ میں گول کر دیا تھا جواولمپکس کی تاریخ کا تیز ترین گول ہے۔ ڈنمارک کی فٹبال ٹیم تین مرتبہ اولمپکس فائنل میں پہنچی۔ امریکہ‘بلغاریہ‘ جرمنی‘ سوئیزرلینڈ‘ آسٹریا اور پیراگوئے کو ایک ایک بار اولمپکس فٹبال فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔
ٹوکیو اولمپک گیمز فٹبال ایونٹ میں 16 ملکوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کو چار چار ٹیموں کے چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے گروپ اے میں میزبان جاپان‘ جنوبی افریقہ‘ فرانس اور میکسیکو گروپ بی میں نیوزی لینڈ‘جنوبی کوریا‘ ہنڈوراس اور رومانیہ‘ گروپ سی میں مصر‘ اسپین‘ارجٹینا اور آسٹریلیا گروپ ڈی میں دفاعی چیمپئن برازیل‘جرمنی‘ آئیوری کوسٹ اور سعودی عرب کو رکھا گیا ہے۔ جاپان کے سات مختلف شہروں میں گروپ میچز کا آغاز 22 جولائی سے ہوگا اور گروپ میچز کا مرحلہ 25 جولائی کو مکمل ہو جائے گا۔ افتتاحی میچ مصر اور اسپین کے مابین کھیلا جائے گا۔ اس روز تمام گروپوں کے آٹھ میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے دو ٹاپ ٹیمیں کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔ مینز کوارٹر فائنل 31 جولائی سیمی فائنلز 3 اگست اور فاائنل 7 اگست اور تیسری پوزیشن کا میچ 6 اگست کو ہوگا۔

ویمنز فٹبال میں 12 ملکوں کو چار چار کے تین گروپوں میں رکھا گیا ہے۔ 2016 کے ریو اولمپکس میں جرمنی کی خواتین ٹیم نے فٹبال گولڈ میڈل جیتا تھا۔ سویڈن نے جرمنی کو ورلڈ کپ کوارٹر فائنلز میں 2-1 سے شکست دے کر اس کے ٹوکیو اولمپک گیمز کے امکانات کو ختم کر دیا تھا۔ اس شکست کے نتیجے میں جرمن ویمنز ٹیم ٹوکیو اولمپکس کیلئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔ میزبان جاپان کے سوا دیگر 11 ملکوں کی ٹیمیں چھ براعظوں کی کنفیڈریشنز سے کوالیفائی کر کے آئی ہیں۔کسی بھی گروپ میں فیفا کی ہر کنفیڈریشن کی ایک ٹیم سے زائد شامل نہیں ہے۔ گروپ ای میں جاپان‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور چلی ‘گروپ ایف میں چین‘ زیمبیا‘ ہالینڈ اور برازیل گروپ جی سویڈن‘ امریکہ‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ کو رکھا گیا ہے۔ خواتین کے گروپ میچزکا آغاز 21 جولائی سے ہوگا۔

تینوں گروپوں میں سے دو دو ٹاپ ٹیمیں کوارٹر فائنل میں رسائی کریں گی جبکہ تینوں گروپوں میں تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیموں سے دو بہترین کارکردگی والی ٹیمیں بھی کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔ ویمنز کوارٹر فائنلز 30 جولائی‘سیمی فائنلز 2 اگست اور فائنل 6 اگست جبکہ کانسی کے تمغے کیلئے میچ 5 اگست کو کھیلا جائے گا۔

فٹبال کے کھیل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ویمنز فٹبال کو پہلی مرتبہ اٹلانٹا اولمپکس میں شامل کیا گیا تھا جس میں امریکی خواتین نے چین کو فائنل میں ایک کے مقابلے میں دو گول سے ہراکر گولڈ میڈل جیتا تھا اور ناروے کی ٹیم تیسرے نمبر پر رہی تھی جس نے برازیل کو 2-0 سے شکست دی تھی۔ اس اولین ویمنز فٹبال ایونٹ میں آٹھ ملکوں نے کوالیفائی کیا تھا۔ ایشیا سے چبن‘ جاپان جنوبی امریکہ سے برازیل‘یورپ سے جرمنی ناروے سویڈن ڈنمارک جبکہ نارتھ اینڈ سینٹرل امریکہ سے میزبان امریکہ نے شرکت کی تھی۔

ویمنز اولمپک فٹبال میں امریکی ٹیم کو بالادستی حاصل ہے جو چار مرتبہ گولڈ میڈل جیت کر ٹاپ پر ہے جبکہ ناروے اور جرمنی نے ایک ایک بار اولمپک چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے برازیلین ٹیم دو مرتبہ رنرز اپ رہی ہے۔ 2016 میں جرمن خواتین نے فائنل میں سویڈن کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی تھی۔ اس بار بھی امریکی خواتین ٹیم کوفیورٹ سمجھا جا رہا ہے لیکن برازیلین خواتین کی ٹیم ٹوکیو اولمپکس میں اس کیلئے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube