Tuesday, September 21, 2021  | 13 Safar, 1443

  گرینڈ سلام ٹائٹلز جوکووچ اب فیڈرراور نڈال کے ہم پلہ

SAMAA | - Posted: Jul 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سربیا کے 34 سالہ نواک جوکووچ نے سال رواں کا تیسرا گرینڈ سلام ومبلڈن اوپن ٹینس چیمپئن شپ جیت کر ناصرف اپنے اعزاز کا  کامیاب دفاع کیا بلکہ  اب وہ سب سے زیادہ 20 گرینڈ سلام سنگلز  ٹائٹل جیتنے والے مرد کھلاڑیوں راجر فیڈرر اور رافیل نڈال کے ہم پلہ ہوگئے۔

آل  انگلینڈ کلب کی سینٹر کورٹ پر  فائنل میں  جوکوو چ نے اٹلی کے میٹیو بریٹینی کو سخت مقابلے کے بعد چارسیٹ میں    6-7(4-7) 6-4,6-4,6-3 سے شکست دے کر مسلسل تیسرا  ومبلڈن جیت کر ہیٹ ٹرک مکمل کی ۔

مجموعی طور پر یہ ان کا چھٹا ومبلڈن سنگلز ٹائٹل تھا، سال رواں کے اب تک ہونے والے تینوں گرینڈ سلام ایونٹس آسٹریلین اوپن ‘ فرنچ اوپن اور ومبلڈن کی ٹرافیاں سرب کھلاڑی کے نام  ہیں اب نیو یارک میں ہونے والا  سال رواں کا آخری ٹینس  ٹورنامنٹ یو ایس اوپن ان کا اگلا ہدف ہے لیکن اس سے پہلے وہ ٹوکیو اولمپکس میں ٹینس میں گولڈ میڈل جیتنے کیلئے کورٹ میں اتریں گے۔

 نواک جوکووچ کو 20 واں گرینڈ سلام جیتنے پر روایتی حریف راجر فیڈرر نے مبارک باد دیتے ہوئے اپنے پیغام  میں کہا کہ مجھے اس پر فخر ہے کہ ٹینس کے چیمپئنز کے سنہری عہد میں مجھے کھیلنے کا موقع ملا ہے آپ کی کارکردگی شان دار اور مثالی رہی ہے۔

 اگر جوکووچ  اپنے ملک سربیا کی نمائندگی کرتے ہوئے جاپان میں ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں حصہ لیتے ہیں اور ٹینس کا گولڈ میڈل ان کے گلے کی زینت بنتا ہے اور اس کے بعد وہ یوایس اوپن کی ٹرافی بھی اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ گولڈن سلام جیتنے والے ٹینس کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔

 رواں سال جوکووچ آسٹریلین اوپن‘ فرنچ اوپن  اور ومبلڈن اوپن کی ٹرافیاں  اپنے نام کر چکے ہیں جوکووچ نے ومبلڈن جیتنے کے بعد کہا تھا کہ سخت شیڈول کی وجہ سے ان کے ٹوکیو اولمپکس میں  شرکت کے ففٹی ففٹی چانسز ہیں کیونکہ وہ ٹینس کے سخت شیڈول اور قرنطینہ پابندیوں کی وجہ سے  اکتا چکے ہیں  لیکن اب انہوں نے ٹوکیو گیمز میں حصہ  لینے کا اعلان کر دیا ہے۔

نواک جوکووچ  چوتھی مرتبہ اولمپکس میں اپنے ملک  سربیا کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے ہر گرینڈ سلام اور اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ٹائٹل کم از کم دو مرتبہ جیتا ہے لیکن وہ صرف  2008 کے بیجنگ اولمپکس میں  کانسی کا تمغہ جیت سکے جب رافیل نڈال نے انہیں سیمی فائنل میں شکست سے دوچار کر دیا تھا ۔

  2016کے ریو اولمپکس میں  یوآن مارٹن ڈل پوٹرو نے پہلے رائونڈ میں جوکووچ کو ناک آئوٹ کر کے سنسنی پھیلا دی تھی۔ 2012کے لندن اولمپکس میں بھی جوکووچ کو ڈل پوٹرو نے ہرایا تھا ۔

اس بار جوکووچ کی اولمپکس گیمز میں کامیابی کے روشن امکانات نظر آتے ہیں کیونکہ رافیل نڈال ‘راجر فیڈرر ‘ڈومینک تھیم  ‘نک کرگیوس سمیت کئی اچھے کھلاڑی ٹوکیو اولمپکس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں اور اگر کوئی اپ سیٹ نہ ہوا تو گولڈ میڈل تک ان کی رسائی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔

رواں سال  ومبلڈن گراس کورٹ پر  سرب اسٹار جوکووچ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا فائنل میں انہوں نے اپنے اطالوی حریف میٹیو بریٹینی کو  ایک سیٹ  سے خسارے میں جانے کے بعد شکست سے دوچارکیا۔

بریٹینی نے پہلا سیٹ ٹائی بریکر میں  6-7(4-7) سے جیت کر بہترین انداز میں  فائنل کا آغازکیا تھا۔ پہلے سیٹ میں میٹیو نے  ٹینس کورٹ کے چاروں جانب شاندار شاٹس کھیلے تھے جن سے ان کے خطرناک عزائم کا اظہار ہوتا تھا۔

یہ بریٹینی کی زندگی کا پہلا گرینڈ سلام فائنل تھا اور ان کا مدمقابل ایک زیرک اور سخت جاں حریف تھا جو  زندگی میں ایسی مشکل صورت حال کا کئی بار سامنا کر چکا تھا اور اپنے تجربے کی بنیاد پر اس نے متعدد بار بازی بھی  پلٹ دی۔

 میٹیو بریٹینی نے رنرز اپ شیلڈ وصول کرتے ہوئے کہاکہ نواک جوکووچ تاریخ رقم کررہے ہیں۔ میں نے اس بار  ومبلڈن میں اپنے کیریئر کی بہترین ٹینس کھیلی ہے۔  میرے احساسات اورجذبات ناقابل یقین ہیں ۔

میں ان احساسات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا کیونکہ بہت سی چیزوں کو ہینڈل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ جوکووچ  یقفینی طورپر مجھ سے بہتر کھلاڑی ہیں جس کا ثبوت انہوں نے ایک سیٹ ہارنے کے بعد دیا۔

وہ ٹورنامنٹ میں اپنے شاندارکھیل کی وجہ سے اس ٹرافی کے بجا طور پر مستحق تھے۔ مجھے فائنل میں اپنے کھیل پر خوشی ہے اس سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے جو مستقبل میں میرے کام آئے گا ۔

نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن سے ہی ٹرافیوں کا شوق تھا اور میں سات سال کی عمر میں  اپنے کمرے میں پرانے میٹریل سے  ٹرافی بناتا تھا۔ مجھے  فیڈرر اور  نڈال  کا ریکارڈ برابر کرنے پر خوشی ہے وہ دونوں اسپورٹس لیجند ہیں اور میں جو کچھ بھی ہوں ان کی وجہ سے ہوں کیونکہ ان کی کامیابیوں  نے ہی مجھ میں ان جیسا مضبوط اور اچھا کھلاڑی بننے کا شوق پیدا ہوا ۔

یہ دونوں میرے لیے انتہائی اہم کھلاڑی ہیں کیونکہ مجھے ان سے ہی مقابلہ کرنے میں مزا آیا اور میں نے ٹائٹلز کیلئے ان  دونوں سے ہی مقابلہ کیا ہے۔ اب ہم تینوں برابر ہیں اور ہم  رکیں گے نہیں ۔ ان دنوں کھلاڑیوں نے مجھے یہ راستہ دکھایا کہ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے مجھے جسمانی اور تیکنیکی اعتبار سے بہتر بننے کی ضرورت ہے۔  ایک دہائی کی کارکردگی میرے لیے انتہائی گرانقدر ہے۔

 سرب سپر اسٹار نے کہا کہ میرے لیے ومبلڈن ٹورنامنٹ بہت اہم تھا۔ میں بچپن سے ہی اس کوجیتنے کا خواب دیکھتا تھااوراب میرے ومبلڈن اعزازات کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔ فائنل اور سیمی فائنل اس لیے یاد رہیں گے کہ نئی جنریشن کے کھلاڑیوں نے سخت مزاحمت کی۔

فائنل میں میٹیو بریٹینی نے جم کر مقابلہ کیا اور آسان سے شکست نہیں مانی جبکہ سیمی فائنل میں کینیڈین ڈینس شپافولوف نے پانچ سیٹ میں تھکا دینے والا مقابلہ کیا ۔ جوکووچ نے 13 سال قبل اس کورٹ پراپنا پہلا آسٹریلین اوپن فائنل میں  ولفریڈ سونگا کو شکت دے کر جیتا تھا جبکہ پہلاومبلڈن ٹائٹل 2011 میں دفاعی چیمپئن رافیل نڈال کویر کر کے حاصل کیا تھا۔

 2011سے 2021 تے جوکووچ نے مجموعی طور پر 41 گرینڈ سلام ٹورنامنٹس میں حصہ لے کر 19  ٹرافیاں اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنائی ہیں اور ان کی فتوحات کا تناسب   تقریباً49 فیصد ہے جو ایک دہائی میں گرینڈ سلام ایونٹس میں ان کی بالادستی  کا واضح ثبوت ہے ان کے علاوہ کوئی اور کھلاڑی ایک دہائی میں گرینڈ سلام ایونٹس میں اتنی کامیابیاں نہیں سمیٹ سکا ہے۔

ٹینس کی تاریخ میں مردوں اور خواتین میں سب سے زیادہ  24  سنگلز گرینڈ سلام اعزازات جیتنے کا ریکارڈ آسٹریلیا کی لیجنڈ  مارگریٹ کورٹ کے نام ہے جبکہ امریکی لیجنڈ سرینا ولیمز 23 سنگلز ٹائٹلز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں ۔ وہ مارگریٹ کورٹ کا ریکارڈ برابر کرنے کی کوشش میں مسلسل لگی ہوئی ہیں اور اس دوران انہیں  چار مرتبہ گرینڈ سلام سنگلز  فائنل میں شکست اٹھانا پڑی ہے۔

سرینا ولمیز  کی عمر  40 سال ہو چکی  ہے اور  بیٹی کی پیدائش کے بعد انہیں فٹنس مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے  جس کا اثر ان کی کارکردگی پر پڑا اور اب وہ پہلے جیسا فاتحانہ کھیل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں ۔ سرینا نے اپنا آخری گرینڈ سلام 2017 میں آسٹریلین اوپن جیتا تھا۔

اس کے بعد وہ 2018 کے ومبلڈن اور یوایس اوپن کے فائنلز اور پھر 2019 می بھی ومبلڈن اور یوایس اوپن کے فائنلز میں شکست کھا بیٹھی تھیں ۔ جرمنی کی اسٹیفی گراف نے 22 گرینڈ سلام اپنے نام کیے ہیں۔

 راجر فیڈرر رافیل نڈال اور جوکووچ کے گرینڈ سلام اعزازات کی تعداد 20,20 ہے۔ راجر فیڈرر کی عمر 40 سال ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ فٹنس مسائل کا بھی شکار ہیں جبکہ رافیل نڈال میں بھی پہلے سے کچھ ماند پڑ گئے ہیں۔

جوکووچ کی فٹنس اور فارم کو دیکھتے ہوئے  قوی امکانات ہیں کہ وہ  مارگریٹ کورٹ کے 24 گرینڈ سلام  اعزازات کے ریکارڈ کو توڑ سکتے ہیں۔  امریکہ کے سابق ٹینس اسٹار جان میکنرو کو یقین ہے کہ وہ گرینڈ  سلام ٹرافیوں کی تعداد کو 25 تک پہنچا کر نئی تاریخ رقم کر دیں گے۔

ان کا کہناکہ اگر ان کی موجودہ فارم اور فٹنس برقراررہی تو وہ مستقبل کم ازکم پانچ گرینڈ سلام اعزازات مزید اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس وقت اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہیں ۔

سابق ومبلڈن چیمپئن بورس بیکر نواک جوکووچ کو جنگجو قراردیتے ہیں جو آخری لمحے تک جم کر مقابلہ کرنا ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتا ۔  بورس بیکر کو توقع ہے کہ جوکووچ  مستقبل میں  مینز اور ویمنز ٹینس میں سب سے زیادہ گرینڈ سلام ٹائٹلز جیتنے والا کھلاڑی بن جائے گا ۔

بیکر نے 2013  سے 2016 کے درمیان نواک جوکووچ کی کوچنگ کی تھی اور 20 میں سے چھ گرینڈ سلام جتوانے میں ان کی رہنمائی  کی تھی۔

فرنچ اوپن کے فوری بعد ومبلڈن ٹائٹل جیت کر جوکووچ بھی راڈ لیور ‘بورگ ‘نڈال اور فیڈرر کی صف میں شامل ہوگئے ۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پانچویں مردکھلاڑی ہیں۔

ان سے قبل گرینڈ سلام اوپن ایرا میں سب سے پہلے راڈ لیور نے 1969 میں یکے بعد دیگرے فرنچ اور ومبلڈن ٹائٹل جیتے تھے ۔ دونوں ٹورنامنٹس مختلف سرفیس پر کھیلے جاتے ہیں ۔ فرنچ اوپن کلے کورٹ پر ہوتا ہے جبکہ ومبلڈن گراس کورٹ پر کھیلا جاتا ہے۔

دونوں ٹورنامنٹس کے انعقاد میں  وقفہ بہت کم ہو تا ہے۔  دو ما کے کلے کورٹ سیزن کے فوری بعد گراس کورٹ پر کھیلنا  اور ایڈ جسٹ کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ راڈ لیور کے بعد  سویڈن کے بیجورن بورگ نے 1978 اور 1980 میں دو مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔

رافیل نڈال نے بھی 2008  اور 2010  میں  بورگ کی تقلید کی۔ سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر نے 2009 میں فرنچ اور ومبلڈن ٹائٹل جیتے۔  نواک جوکووچ 14 سال بعد گراس کورٹ پر مسلسل تین ٹورنامنٹ جیت کر ہیٹ ٹرک کرنے وال۔ پہلے کھلاڑی ہیں  ۔

آخری بار راجر فیڈرر نے2003  سے 2007 تک ومبلڈن کورٹ پر مسلسل پانچ ٹائٹل جیتے تھے۔ نواک جوکووچ  نے اوپن ایرا میں سال کے ابتدائی تینوں گرینڈ سلام جیتے والے دوسرے کھلاڑی ہونے کا بھی اعزاز حاصل کر لیا ان سے قبل  راڈ لیور نے 1969  میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا ۔

 جوکووچ 30 سال یا اس سے زائد عمر میں سب سے زیادہ گرینڈ سلام جیتنے والے کھلاڑی  بھی بن گئے۔  یہ ان کا  آٹھواں ٹائٹل تھا۔ رافیل نڈال نے چھ  ‘ بل ٹلڈن نے پانچ ‘ راجر فیڈرر ‘ راڈ لیور کین روز ویل اور  ونٹورتھ گور  ہربرٹ لافورڈ نے چار چار گرینڈ سلام جیتے تھے۔

جوکووچ کو  اپنے کیریئر میں 30 گرینڈ سلام فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جن میں وہ 10 مرتبہ شکست سے دوچار ہوئے انہیں سب سے زیادہ پانچ مرتبہ رافیل نڈال اور دو دو مرتبہ اینڈی مرے اور  سٹان واورنکا نے ہرایا جبکہ وہ راجر فیڈرر سے صرف ایک مرتبہ 2007 میں اپنے پہلے گرینڈ سلام یوایس اوپن کے فائنل میں ہارے تھے۔

نواک جوکووچ نے اپنے 20 گرینڈ سلام ٹائٹل کے فائنلز  میں  راجر  فیڈرر کو چارمرتبہ‘ ایڈی مرے کو پانچ مرتبہ ‘ رافیل نڈال کو چار مرتبہ جبکہ جوولفریڈ سونگا‘  ڈومینک تھیم ‘اسٹیفانوس  تیسسپاس ‘ کیون اینڈرسن ‘ ڈینٹیل میڈیڈویف ‘یوآن مارٹن ڈل پوٹرو اور میٹیو بریٹینی کو ایک ایک بار شکست دی ہے ۔

 نواک جوکووچ  سب سے زیادہ ہفتے عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر فائز رہنے والے مرد کھلاڑی بن گئے ۔ انہوں نے سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر کا 310  ہفتے کا عالمی ریکارڈ توڑا  اور اب وہ 311 ویں ہفتے میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ 4 جولائی  2011  کو عالمی نمبرایک کی پوزیشن پر فائز ہوئے تھے ۔

نواک جوکووچ کا عالمی نمبر ایک کا طویل ترین  دورانیہ 7 جولائی 2014 سے 6  نومبر 2016 تھا جس  میں وہ 122 ہفتے ٹاپ پوزیشن پر براجمان رہے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube