Thursday, September 16, 2021  | 8 Safar, 1443

افغانستان میں خانہ جنگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں

SAMAA | - Posted: Jul 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بشکریہ نیویارک ٹائمز

افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا طے شدہ شیڈول سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔ افغانستان میں دہشتگرد کارروائیاں بھی تیز ہوچکی ہیں اگرچہ طالبان تازہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے عسکری قدم اور کابل پربازور طاقت قبضہ کرنے کی صورت میں مختلف گروپ میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں پڑوسی ممالک کو مہاجرین کے نئے سیلاب کا سامناہوگا جبکہ پناہ گزینوں کی آمد سے پاکستان کی امن اور سلامتی کو سخت خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو اس کا اثر پاکستان پر سب سے زیادہ ہوگا۔ سن 1979 میں افغانستان میں سوویت یونین کے حملے یا پھر سن 2001 میں امریکہ اور نیٹو فورسز کا یہاں آنا۔ پاکستان کو اس کا براہ راست نقصان اُٹھانا پڑا تھا۔ ان جنگوں کے نتیجہ میں پاکستان نے 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں کو تین دہائیوں سےمہمان بنا رکھا ہے۔ موجوہ صورتحال میں پاکستان نے پناہ گزینوں کے حوالے سے یہ طے کر لیا ہے کہ اگر وہ آئیں گے تو ان کو سرحد کے قریب رکھیں گے اور انہیں ملک کے اندر نہ آنے دیں گے لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہم نے دیکھا کہ پاکستان بھر میں افغانی پناہ گزینوں نے جائیدادیں بھی خریدیں اور کاروبار بھی کررہے ہیں۔
دوسری طرف امریکا کو خطے میں فوجی اڈوں کی تلاش ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے علاوہ ازبکستان، تاجکستان، قازقستان اور کرغزستان کے نام سامنے آرہے ہیں۔ مشرف دور میں پاکستان امریکا کو ایک ایئربیس استعمال کرنے کی اجازت دے چکا ہے اور اس کے نتائج بھی بھگت چکا ہے۔ اگر پاکستان امریکہ کے دباؤ میں فوجی اڈے دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس صورت میں افغان طالبان کی ناراضگی اور انتقامی کارروائیوں کا خطرہ موجود ہے اور کابل انتظامیہ کے ساتھ پہلے ہی بات چیت تقریباً بند گلی میں ہے اس طرح کا فیصلہ قومی سلامتی کے لیے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ امریکہ کی بات نہ مانے پر بھی اُس کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ انتہائی پیچیدہ اور سنجیدہ صورت حال ہے۔ سول اور عسکری قیادت کو ہر قدم بہت ہی سوچ سمجھ کر اور دانش مندی سے اُٹھاناہوگا۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر میجر جنرل بابر افتخار نے واضح طور پر پیغام دیا ہے کہ’ افغانستان کو کیسے آگے بڑھانا ہے اس کا فیصلہ افغانیوں کو کرنا ہے۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ بندوق سے نہیں کیا جاسکتا، اگر اسے کرنا ہوتا تو 20 سال میں ہوجاتا لہٰذا افغان مسئلے پر فیصلہ بیٹھ کر ہی کرنا ہوگا۔‘
کابل انتظامیہ میں پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں ایک اشرف غنی اور ان کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں جس نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا تھا۔ افغان حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں۔ خود بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔
افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی ہوگی تاکہ علاقائی سیکورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔ خطے کے ممالک میں خاص طور پر ایران، ترکی، چین، روس، تاجکستان اور ازبکستان یہ ممالک جب تک علاقائی حکمت عملی اختیار نہیں کرتے اس وقت تک افغانستان خانہ جنگی کی آگ میں جلتا رہے گا اور پاکستان کو بھی اس آگ سے نقصان پہنچے گا۔پاکستان اس وقت ترکی، چین، ایران اور امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ جو بھی ملک یا ادارے مثلا آئی سی او یا اقوام متحدہ ہے جو بھی علاقائی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہے ہیں پاکستان کو یقینی طور پر ان کے ساتھ ایک بہت متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ہی خطے سے امریکی کی اجارہ داری کے خاتمے کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ روس اور چین کے صدور کے بیانات واضح اشارہ ہیں۔ روس کے صدارتی محل کے ترجمان نے مارچ میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہـا ’روس امریکا یا کسی اور ملک کو طاقت کی زبان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ماسکو نے واضح کردیا کہ اب امریکا کی اجارہ داری برداشت نہیں کی جائے گی۔اس ہی طرح کا ایک بیان چائنا کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 100 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کے دوران چینی صدر شی جن پنگ دے چکے ہیں۔ ’چین کو دھمکانے کا وقت گیا، کسی طاقت نے دھونس جمانے کی کوشش کی تو اس کا سر دیوار چین پر مار کر پاش پاش کردینگے، بیرونی طاقتوں کے خلاف پنجہ آزمائی میں کوئی ہمیں طاقت اور اختیار میں کم نہ سمجھے، اپنی افواج کو طاقتور بنا رہے ہیں غیر ملکی افواج کو بدمعاشی نہیں کرنے دینگے، ہمارے ڈیڑھ ارب عوام کمزور نہیں پڑینگے۔‘ طالبان نے اگر بہتر حکمت علمی کے ساتھ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر رکھا تو چین افغانستان میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو تیز رفتاری سے بڑھا سکتا ہے اگر چین افغانستان میں فعال ہوا تو یورپی طاقتوں کے علاوہ بھارت بھی افغانستان سے باہر ہوجائے گا۔ڈی جی، آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں افغانستان میں بھارت کی انویسٹمنٹ ڈوبتی نظر آرہی ہے۔
طالبان کے آگے بڑھنےکا انحصار اس پر ہے کہ دوحہ میں بات چیت کیسے آگے بڑھتی ہے۔ اگر امریکہ اور طالبان میں افغانستان میں حکومت سازی کے حوالے سے کوئی پس پردہ معاہدہ ہوا ہے تویہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہوگی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے دوحہ معاہدہ کر کےطالبان کو بین الاقوامی طور پر افغانستان کی ایک قوت منوایا ہے۔ اسی قوت کی بنیاد پر طالبان افغانستان کے تقریباً 70 سے 80 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرچکے ہیں، ترکمانستان، تاجکستان اور ایران کے سرحد پر کچھ اہم علاقے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے تقریباً 160 اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان کے قبضے میں آنے والے 100 سے زیادہ اضلاع افغانستان کے شمالی صوبوں میں ہیں جو نائن الیون سے قبل افغان طالبان کے مخالف شمالی اتحاد کے مضبوط گڑھ رہے ہیں۔ صوبہ بدخشاں کے تمام اضلاع طالبان کے کنٹرول میں ہیں جس میں ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔ طالبان نے افغانستان کے ایران، ترکمانستان اور تاجکستان سے لگنے والے اہم سرحدی تجارتی مراکز اور بندر گاہوں پر بھی قبضہ کیا ہے جن میں سرفہرست اسلام قلعہ، تور غونڈی، نصر فراہی اور شیر خان بندر ہیں۔
جس طرح افغان طالبان طاقت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہے ہیں ،کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کےمطابق دولت آباد میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی میں افغان کمانڈوز نے گولہ بارود ختم ہونے کےبعد سرینڈرکیا، طالبان نے سرینڈر کرنے والے 22 افغان کمانڈوز کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ اس طرح کے واقعات سے یقیناً امریکہ کو ایک بار پھر افغانستان میں مداخلت کا موقع ملے گا۔ افغانستان سمیت خطے میں خانہ جنگی کے خطرات بڑھ جائیں گے.

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube