Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

افغانستان، انخلاء و تخریب

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

افغانستان سے قابض غیر ملکی فوج کا انخلا جاری ہے۔ صوبہ پروان کے علاقے بگرام کا معروف فوجی اڈہ کابل انتظامیہ کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ افغان آزادی پسندوں نے بھی پیش قدمی تیز کردی ہے، کابل کی فورسز جنگ سے گریزاں ہیں، وہ اسلحہ رکھ کر گھروں کی راہ لے رہے ہیں۔ انہیں ہر لحاظ سے امن اور تحفظ حاصل ہے، ملک کا ایک وسیع و غالب حصہ طالبان کے تصرف میں ہے، البتہ شمال کے گروہ جنگ کیلئے پر تول رہے ہیں۔ یہ ان کا خاصہ رہا ہے، ان ہی کی وجہ سے افغانستان وحدت کے بحران سے دوچار ہے۔

جنرل رشید دوستم نے کابل کی فوج میں طالبان کے حامی حلقوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور چھان بین کا کہا ہے، اُن کے زیر اثر اشرف غنی سے فوج، بیورو کریسی اور حکومتی حلقوں میں انتقامی عمل بعید نہیں۔ ایسا ڈاکٹر نجیب اللہ نے بھی کیا تھا، جو پرچم پارٹی اور شمال کے جنگجوﺅں کے کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ اقلیت کی سرایت، بالادستی اور کابل پر حکمرانی کیخلاف پشتون جنرل، جنرل شاہنواز تنئی نے نجیب، پرچم پارٹی کے فارسی زبان بولنے والے جنرلوں اور رہنماﺅں کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے فوجی بغاوت کردی تھی، جو ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نجیب حکومت نے فوج، بیوروکریسی اور حکومت میں شامل 600 پشتون افسروں اور رہنماﺅں کو انتقام کا نشانہ بنایا۔ وہ نوکریوں سے برخاست کئے گئے، جیلوں میں ڈالے گئے، کئی کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا، کئی فرار ہوگئے۔ یوں میدان ڈاکٹر نجیب، پرچمی جماعت کے فارسی زبان بولنے والے جنرلوں اور دوسرے جنگجوﺅں کیلئے صاف ہوگیا۔

ڈاکٹر نجیب چار و ناچار استعفیٰ دینے پر راضی ہوئے، بینن سوان امن اور انتقالِ اقتدار پلان تسلیم کرلیا مگر اس سے قبل ڈاکٹر نجیب کے ذریعے کابل شمال کی شوریٰ نظار، گلم جم اور دوسری ملیشیاﺅں کے سپرد ہوچکا تھا۔ پیش ازیں ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب ماسکو سے افواج نہ نکالنے اور مزید فوجیں بھیجنے کی التجائیں کرتے، ببرک کارمل کو ماسکو نے صدارت سے ہٹاکر ڈاکٹر نجیب کو حکمران بنایا، راندۂ درگاہ کئے جانے کے بعد ببرک کارمل سچ زبان پر لائے، وہ چلاّتے رہتے کہ افغان دوسروں کے آلۂ کار کبھی نہ بنیں، پھر انہیں اعصابی عارضہ لاحق ہوا اور ذلت و گمنامی کی موت مرے۔

شمال کے آگے سربسجود ڈاکٹر نجیب اللہ بھی مکافاتِ عمل کا شکار ہوئے، وہ جن کا ہر حکم بجا لاتے اُن ہی لوگوں نے انہیں کابل سے فرار نہ ہونے دیا، نہ ماسکو مدد کو پہنچا، نہ بھارت کسی کام آیا، وہ اقوام متحدہ کے دفتر میں طویل عرصہ پناہ گزین رہے، یہاں تک کہ طالبان نے انہیں پھانسی دے دی۔

یہی مشق کابل کے موجودہ صدر اشرف غنی دہرا رہے ہیں، برسوں پہلے حامد کرزئی جب صدر تھے، انہوں نے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے قیام کی راہ روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا۔ اپنی اسکیم کے تحت واشنگٹن جاکر تب کے امریکی صدر بارک حسین اوباما کو طالبان سے بات چیت اور قطر میں دفتر کی اجازت نہ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ کرزئی کی مخالفت پر قطر دفتر عارضی طور پر بند ہوا تھا۔ قطر میں دفتر کھولا گیا تو حامد کرزئی نے احتجاجاً قطر سے افغان سفیر خالد احمد زکریا کو واپس بلالیا تھا۔

دوسری بون کانفرنس میں امریکا اور جرمنی نے سیاسی دفتر کے نمائندوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر حامد کرزئی کی مخالفت کی وجہ سے وہ شریک نہ ہوسکے، وہ دوسرے ممالک کے اندر امن کانفرنسوں میں طالبان کی شرکت روکنے کی کوشش کرتے۔ کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور دوسرے، حزبِ اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے بھی خواہاں نہ تھے۔ یہ ضرور ہے کہ حامد کرزئی اپنی دوسری مدتِ صدارت میں کئی حوالوں سے امریکیوں کے آگے کھڑے رہے۔ رات کے اوقات میں آپریشن، چھاپوں، شہری آبادیوں پر بمباری، شہریوں کو بلاجواز عقوبت خانوں میں ڈالنے، بگرام میں کابل حکومت کی دسترس سے باہر امریکی قید خانوں کی موجودگی جیسے مسائل پر کڑھتے اور احتجاج کرتے اور کہتے کہ امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی سے فائدہ افغانستان کی اقلیتی آبادیوں کو حاصل ہے جبکہ پشتون غالب آبادی والے علاقے تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہیں۔ کرزئی یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان غیروں کے قبضے میں ہے۔

صدر بننے سے پہلے اشرف غنی بھی کہا کرتے کہ حلف اٹھاتے ہی وہ طالبان سے رو برو بالمشافہ ملاقات کریں گے مگر انہوں نے وعدہ ایفاء نہ کیا۔ البتہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جی ایچ کیو گئے۔ مقصد طالبان پر اسلام آباد کے ذریعے دباﺅ ڈالنے کی بے کار کوشش تھی۔ اشرف غنی نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور وا شنگٹن سے افواج کے عدم انخلا کیلئے منتیں شروع کردیں، نیز اقوام متحدہ سے طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ اور دوسرے رہنماﺅں کے نام بلیک لسٹ میں ڈالنے کی درخواستیں کیں۔ ان تمام حربوں اور جتن کے باوجود طالبان نے امریکا کے ساتھ ایک میز پر مذاکرات کے مراحل طے کر ہی لیے۔ چناں چہ 29 فروری 2019ء کو ہونے والے قطر معاہدے سے ان سب پر سکتہ طاری ہوا، لیکن باز پھر بھی نہ آئے اور معاہدے کو غیر مؤثر بنانے کی تدبیروں اور سازشوں میں لگ گئے، نکات پر عملدرآمد کو طوالت دی، اس کے ساتھ کمیونسٹ حکومتوں کی تقلید کرتے ہوئے شمال میں ملیشیاﺅں کی تنظیم و تربیت شروع کردی گئی۔ بالآخر جو بائیڈن کے صدر بننے کے بعد واشنگٹن نے 11 ستمبر 2021ء تک انخلاء کا اعلان کر ہی دیا۔

کابل حکومت کے صدر اشرف غنی اور اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے واشنگٹن کو منانے کی کوشش بھی کرلی۔ وفد لے کر 24 جون کو امریکا پہنچ گئے تھے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور دوسرے حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ نائب صدر امر اللہ صالح، وزیر خارجہ حنیف اتمر، قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب اور اشرف غنی کی اہلیہ رولا غنی بھی ہمراہ تھیں، انہیں بہر حال کامیابی نہ ملی۔

طالبان دوحہ معاہدے پر قائم ہیں۔ کابل اور شمال کی جماعتیں اور شخصیات اس راہ میں روڑے اٹکا رہی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ امریکا نے بھی کابل حکومت کو معاہدے پر عمل کا پابند نہیں کیا ہے، وہ بغیر سیاسی در و بست کے، افغانستان سے نکل رہا ہے۔ اس لحاظ سے حالات کی ابتری کا ذمہ دار امریکا ہی ہے۔

دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے بین الافغان مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا ہے۔ اس کیلئے اُن کی شرط معاہدے پر اُس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اِن دنوں بھی جب کابل کی حکومت شکست و ریخت سے دوچار ہے، قطر سیاسی دفتر پوری طرح فعال ہے اور مذاکرات کے تسلسل کی جانب توجہ دلا رہا ہے۔ عیدالفطر کے بعد جب بات چیت کا آغاز ہونا تھا، کابل حکومت کے نمائندے نہیں گئے۔ پچھلے دنوں جو چند افراد کابل کے موجود تھے انہوں نے بھی عدم دلچسپی دکھائی۔

قطر دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کہتے ہیں کہ اوّل تو کابل حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی تعداد مکمل نہیں ہے، دوئم کابل کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے کچھ لوگ طالبان کیخلاف لڑنے کیلئے جاچکے ہیں، یعنی اس پورے عرصے میں لیت و لعل اور تخریبی حربے استعمال ہوئے ہیں۔ قطر دفتر بڑی ذمہ داری سے کہتا ہے کہ تمام غیر ملکی قونصل خانے، سفارت خانے اور ان کے اہلکار حفاظت میں ہونگے، لہٰذا انخلاء کیلئے دی گئی تاریخ کے بعد امریکی فوجیوں کی کسی بھی صورت موجودگی ردعمل کا باعث بنے گی، امریکا انخلاء کے ساتھ تخریب کا سلسلہ ترک کردے، الغرض طالبان کو اقتدار ہاتھ میں لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube