Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

آزاد کشمیر کابجٹ اجلاس، راجہ فاروق حیدر کا جارحانہ انداز

SAMAA | - Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 6, 2021 | Last Updated: 3 months ago

گزشتہ مالی سال ختم ہونے سے ایک دن قبل مسلم لیگ ن نے آئندہ مالی سال 2021-22 کا میزانیہ منظور کر کے آزاد کشمیر کو مالی بحران سے بچا لیا۔ اس سے قبل 16 جون کو اسمبلی کا بلایا گیا بجٹ اجلاس اس وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے 5 ارب روپے وزیر امور کشمیر کی صوابدید کے لیے رکھے ہیں جو غیر قانونی ہیں۔ خدشہ ہے کہ یہ رقم پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے دوران استعمال کی جائے گی۔ رقم آزاد کشمیر کے میزانیہ میں مختص کیے بغیر ریاست کا بجٹ منظور نہیں کیا جا سکتا۔ انتیس جون کے اسمبلی اجلاس میں مسلم لیگ ن نے آخری بجٹ پیش کیا اور بغیر بحث کے منظور بھی کر لیا۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے 1کھرب 41 ارب 40 کروڑ روپے کے بجٹ کو عوام دوست، تاریخی اور ٹیکس فری بجٹ قرار دیا۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے 28 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے میزانیہ کا حجم 1کھرب 39 ارب 50 کروڑ روپے تھا جب کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھےمیں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ مالی سال 20-2019 کے 1 کھرب 21 ارب روپے کے بجٹ میں ترقیاتی مد میں لگ بھگ 21 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ مالی سال 19-2018 کے لیے قانون ساز اسمبلی کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کیے جانے والے بجٹ کا کل حجم ایک کھرب 8 ارب روپے تھا جن میں سے ترقیاتی بجٹ 25 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیا گیا۔ اسی سال نواز شریف کی ہدایت پر وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے آزاد کشمیر کے عوام کے پرانے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر کونسل کے اختیارات آزاد کشمیر اسمبلی کو منتقل کیے جس سے آزاد کشمیر حکومت کے وسائل میں اچانک کئی گناہ اضافہ اور بجٹ کا حجم ایک کھرب روپے سے زائد ہوا۔
مالی سال 2017-18 کے 94 ارب 41 کروڑ روپے کے میزانیہ میں ترقیاتی میزانیہ کے لیے 22 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی اس طرح مجموعی طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت نے 5 سال کے دوران کل چار کھرب 62 ارب 90 کروڑ روپے استعمال کیے جن میں سے براہ راست ترقیاتی منصوبوں پر 93 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ جب کہ بیرونی امداد اور وفاقی حکومت کے منصوبے اس سے الگ ہیں۔
مسلم لیگ ن کی واحد حکومت ہے جس کو عوام کی خدمت اور سماجی ترقی کے لیے وسیع موقع اور کثیر سرمایہ دستیاب ہوا۔ گو کہ مرکز میں دو سال بعد عمران خان کی حکومت آ گئی تھی۔ ممکن ہے اس نے خاطر خواہ سرپرستی نہ کی ہو لیکن کشمیر کونسل کے اختیارات ملنے کے بعد ریاست کے وسائل اتنے کافی تھے کہ دیانت داری کے ساتھ استعمال کر کے سماجی ترقی خاص طور پر صحت، تعلیم اور ذرائع نقل و حمل کو بہتر کیا جا سکتا تھا۔ لیکن آج بھی بڑے شہر، پانی سیوریج، صفائی سمیت مضافاتی علاقوں کی سڑکیں خستہ حال ہیں اور ادارے معیار پر نہیں۔
راجہ فاروق حیدر خان 5 سالہ کارکردگی کے ساتھ دوبارہ اپنی ٹیم کے ہمراہ عوام کے پاس آئے ہیں اور عوام ہی بہتر جج ہیں۔ پچیس جولائی کو عوام فیصلہ کریں گے کہ مسلم لیگ ن کی کارکردگی ایسی ہے کہ آئندہ بھی اقتتدار اسی کے حوالے کیا جائے۔ عمران خان اور جماعت چھوڑنے والوں پر راجہ صاحب شدید برہم اور جارحانہ سیاسی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ بجٹ سیشن کے موقع پر اس وقت ایوان میں قہقہے بلند اور دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب انہوں نے احمد رضا قادری کو کہا کہ 5 سال کے دوران انتقال کرنے والوں کے علاوہ مسلم لیگ ن چھوڑنے والوں کی بخشش کی دعا بھی کی جائے۔ واضح رہے کہ 5 سال تک وزیراعظم کے دائیں بائیں رہنے والے پیر علی رضا بخاری، چوہدری شہزاد، سردار میر اکبر و دیگر مسلم لیگی رہنماء انتخابات کا اعلان ہوتے ہی پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں جس سے مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا لگا۔
بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران صدر مسلم لیگ ن نے عمران خان کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کشمیری شہیدوں کا خون بھولنے کا کہا جا رہا ہے لیکن ہم ان کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ عمران خان نے وزیر اعظم پاکستان کی کرسی کو متنازعہ بنا دیا۔ راجہ صاحب نے پہلی مرتبہ زبان کھولی کہ 5 اگست کا واقعہ مودی اور عمران خان کے صلاع مشورہ سے رونما ہوا۔ بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیر کی نیم خود مختاری کے خاتمے کے فوری بعد گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا اعلان دونوں جانب سے ایک جیسا اقدام ہے۔ ہم گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر فتح نہیں ہونے دیں گے۔ آزاد جموں و کشمیر سے لفظ آزاد نکالنے کے لیے کہا گیا اس لفظ کا وسیع مفہوم ہے۔ یہ لفظ ختم ہونے سے آزادی کا مقدمہ ختم ہو جائے گا۔
فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کو کسی صورت صوبہ نہیں بننے دیں گے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر کی اسمبلی سے بھی کوئی قرار داد منظور کرا کر کشمیر کی تقسیم کی راہ ہموار کی جائے گی لیکن یاد رہنا چاہیے کہ سن 1953 میں اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی قرار داد کو مسترد کر چکی جس نے بھارت کے ساتھ الحاق کی قرار داد منظور کی تھی۔ صرف وزیراعظم آزاد کشمیر ہی نہیں پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں بھی عمران خان کی حکومت پر الزامات لگاتی ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ سودے بازی کی ہے۔
بلاشبہ عمران خان کے رفقاء کو آزاد کشمیر کے ایکٹ 74 کی تیرہویں ترمیم ہضم نہیں ہوتی جو غیر جمہوری رویہ ہے۔ وزراء نے چودہویں ترمیم کے لیے فاروق حیدر خان پر شدید دباؤ ڈالا کہ کشمیر کونسل کے اختیارات واپس کیے جائیں وہ آزاد کشمیر حکومت کو بائی پاس کر کے عوام پر حکومت کرنا چاتے ہیں۔ لیکن فاروق حیدر خان نے دباؤ کو برداشت اور ریاست کے جائز حق کا تحفظ جاری رکھا اور ان کی یہ کوشش اور اقدام قابل تعریف ہے۔ جہاں تک آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کے اشارے ہیں وہ پی ٹی آئی کے اس کتابچے میں بھی ملتے ہیں جو انتخابی منشور کے طور پر جاری کیا گیا ہے ۔ اس کی تفصیل آئندہ کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube