Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

جام کمال کا کمال انکشاف

SAMAA | - Posted: Jul 1, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Jul 1, 2021 | Last Updated: 3 months ago

بلوچستان کے وزیر اعلی جام کمال نے انکشاف کیا ہے کہ بجٹ اجلاس سے قبل بلوچستان کا بجٹ خود کابینہ نے نہیں دیکھا تھا تو اپوزیشن کو کیا دکھاتے۔ جام کمال خان واحد وزیر اعلیٰ ہیں جن کے والد جام یوسف اور دادا جام غلام قادر بلوچستان کے طویل عرصہ تک وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے تھے۔

جام کمال نے گزشتہ ہفتہ کوئٹہ میں اسمبلی کے اجلاس کے بعد حزب اختلاف کی بجٹ کے حوالے سے احتجاجی تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اپوزیشن احتجاج کرتی تو اور بات تھی بجٹ تو اس وقت ہم نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ بلوچستان کی انتظامیہ کے چیف ایگزیکٹو کے اس بیان کے بعد کہ صوبائی کابینہ نے بجٹ تیار نہیں کیا یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ یہ بجٹ کس نے کہاں تیار کیا کہ وزیر اعلیٰ اوروزراء بھی بجٹ کی تیاری جیسے بنیادی معاملات میں شریک نہیں کیے گئے۔

بلوچستان میں گزشتہ 15 دن سے زیادہ عرصہ سے حزب اختلاف احتجاج کررہی ہے کہ حزب اختلاف کے اراکین کی بجٹ تجاویز پر حکومت نے توجہ نہیں دی۔ حزب اختلاف نے اپنے احتجاج کو مزید تقویت دینے کے لیے بجٹ والے دن اسمبلی ہال کے دروازہ پر تالے لگ دیے تھے اور حزب اختلاف کے اراکین نے اسمبلی کے سامنے گھنٹوں دھرنا دیا تھا۔ بلوچستان کی حکومت نے حزب اختلاف کے اراکین کے مطالبات پر توجہ نہ دی۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری نے بکتربند گاڑی کے ذریعہ اسمبلی ہال کے دروازے توڑے۔ وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے اراکین سنگینوں کے سائے میں اسمبلی ہال میں داخل ہوئے تھے اور ایک ہنگامہ خیز صورتحال میں بجٹ پیش ہوا تھا۔ پولیس اور ایف سی کے نوجوانوں کی بندوقوں سے کئی منتخب اراکین زخمی ہوئے تھے۔ پھر حکومت نے حزب اختلاف کے اراکین کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی۔

حزب اختلاف کی اپیل پر جمعہ 25 جون کو کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی۔ کاروباری مراکز بند رہے۔ پھر حزب اختلاف کے اراکین نے تھانہ بجلی گھر میں گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا جہاں ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ مگر پولیس نے منتخب اراکین کو حراست میں نہیں لیا۔ اب بلوچستان کے وزیر اخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اراکین کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی جائے گی۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے جام کمال کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ کا بجٹ ان ہی لوگوں نے تیار کیا ہے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) بنائی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کا زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ اختر مینگل کا کہنا ہے کہ جام کمال خان نے انجانے میں سچ اگل ہی دیا کہ وزیر اعلی سمیت پوری کابینہ بے خبر تھی۔

صوبہ بلوچستان سن 1960 تک کراچی کی مرکزی حکومت اور اس کے بعد سے اب تک اسلام آباد کی وفاقی حکومت کے سیاسی تجربات کا مرکز رہا ہے۔ سن 2013 کے انتخابات کے بعد پہلے نیشنل پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی تھی، پہلی دفعہ متوسطہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزیر اعلی کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے طالب علمی کے زمانہ سے بلوچستان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں اصلاحات کی کوشش کی۔ ڈاکٹر مالک کے دور میں 6 یونیورسٹیاں اور میڈیکل کالجز قائم ہوئے اور اس سے پہلے بلوچستان میں ایک یونیورسٹی اور ایک میڈیکل کالج تھا۔

ڈاکٹر مالک کی حکومت نے صحت کے بجٹ اپنے اقتدار کے پہلے سال 3 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد اور تعلیم کا بجٹ 4 فیصد سے بڑھا کر 26 فیصد کیا تھا۔ اسی طرح ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی۔ انہوں نے سڑکوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی۔ جب ڈاکٹر مالک نے حکومت سنبھالی تو امن و امان کی صورتحال بہت خراب تھی۔ ڈاکٹر مالک کی کوششوں سے شیعہ زائرین پر حملے ختم ہوئے، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آئی، مذہب اور سیاسی بنیادوں پر قتل کرنے والے جنونی لشکروں کو منتشر کیا گیا۔ ان کے دور میں خضدار کے قریب اجتماعی قبر سے کئی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس مقام پر ایک قبائلی لشکر کی کمین گاہیں تھیں جو خودکش حملوں اور ٹارگیٹ کلنگ میں مشہور تھا۔ پھر ڈاکٹر مالک نے یورپی ممالک میں جلاوطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کیے۔ انہوں نے پیرس میں مقیم خان آف قلات کو اس بات پر تیار کیا کہ وہ اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے اپنے وطن واپس آجائیں تو ان کے مطالبات مان لیے جائیں گے مگر ابھی ڈاکٹر مالک ان اہم مسائل کو حل کرہی رہے تھے کہ ان کی حکومت ختم ہوگئی اور مسلم لیگ ن کے ثناء اللہ زہری وزیر اعلی بن گئے۔ مگر 2018ء کے انتخابات سے قبل بلوچستان کی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کیا گیا۔

جام کمال جو میاں نواز شریف کی حکومت میں وزیر مملکت کے اپنے عہدہ سے مستعفی ہوئے اور بلوچتسان کے رکن اسمبلی سعید احمد ہاشمی نے ایک نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا اور وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی باپ پارٹی میں شامل ہوئے اور عبدالقدوس بزنجو نگراں وزیر اعلیٰ بن گئے۔ پھر سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی اس جماعت میں شامل ہوگئے۔ صادق سنجرانی کی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے حمایت کی۔ نئے انتخابات میں پھر بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہوئی اور جام کمال کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال باقی صوبوں سے زیادہ خراب ہے۔ چند ماہ قبل مچھ میں کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کئی مزدوروں کو رات گئے نامعلوم افراد نے خنجروں سے ذبح کیا۔ جب ہزارہ برادری کے افراد نے کوئٹہ میں دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ عمران خان کوئٹہ آئیں اور ان مزدوروں کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے یقین دہانا کرائیں تو وزیر اعظم نے کوئٹہ جانے سے انکار کیا۔ انہوں نے ماتم کرنے والے ہزارہ برادری کے افراد پر بلیک میلنگ کا الزام لگایا۔ مظاہرین میتوں کے ساتھ ایک ہفتہ تک سخت سردی میں احتجاج کرتے رہے مگر وزیر اعظم کوئٹہ نہیں گئے۔ پھر جب میتوں کی تدفین ہوئی تو وزیر اعظم کوئٹہ گئے اور قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی مگر ماضی کی طرح ہزارہ برادری کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے۔ گزشتہ ہفتہ پھر نامعلوم افراد نے کوئٹہ کے قریب کام کرنے والے مزدوروں کو اغواء کیا ہے مگر پولیس مزدوروں اور اغواء کرنے والے افراد کا پتہ چلانے میں ناکام رہی ہے۔

یہ صوبہ تعلیم، صحت، ذرائع مواصلات، معیشت اور امن و امان کے حوالہ سے پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ ہے۔ بلوچستان میں 10 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے۔ خواندگی کا تناسب کم ہے۔ خشک سالی اور صنعتیں نہ لگنے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کی بناء پر ترقی کی رفتار سست ہے۔ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوپارہی۔ ایک طرف پاکستانی طالبان خودکش حملے کرتے ہیں تو دوسری طرف بلوچستان کی آزادی کے خواب دیکھنے والے جنگجو گروہ گوریلا جنگ کی پریکٹس کرتے ہیں۔ اس بناء پر پورے صوبہ میں برسوں سے آپریشن جاری ہے۔

چین کی مدد سے تعمیر ہونے والے سی پیک منصوبہ کے تحت گوادر سے کراچی اور گوادر سے خضدار، رتو دیرو روڈ پر معیاری سڑکیں تعمیر ہوئیں۔ مگر کراچی سے کوئٹہ جانے والی سڑک یکطرفہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم ترین سڑک پر تیز رفتار ٹریفک کی بناء پر حادثات کی شرح زیادہ ہے۔

کرونا کے وائرس نے بلوچستان کو بھی متاثر کیا ہے۔ مگر مکران ڈویژن میں اب بھی کرونا ٹیسٹ کی سہولت نہیں ہے۔ اسی طرح کوئٹہ کے علاوہ باقی صوبہ کے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر اور جان بچانے والے مشینیں موجود نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا 40 فیصد بجٹ انتظامی پسماندگی کی بناء پر خرچ نہیں ہوپاتا۔ اس صورتحال میں عوامی نمائندوں کی بجٹ جیسے اہم ترین معاملہ میں نگرانی نہ ہونے سے بہت سے حقائق عیاں ہوتے ہیں۔

ایک صحافی کا کہنا ہے کہ سندھ کا وزیر اعلیٰ ہاؤس زرداری ہاؤس سے کنٹرول ہوتا ہے، لاہور اور پشاور کے وزیر اعلی ہاؤس وزیر اعظم ہاؤس سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے وزیر اعلی ہاؤس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو راولپنڈی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جام کمال نے اس انکشاف سے مریم نواز اور بلاول بھٹو کی اس بات میں حقیقت نظر آنے لگی ہے کہ یہ تمام سلیکٹڈ ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube