Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

مودی کی نام نہاد کشمیری لیڈروں کو نئی ہدایات

SAMAA | - Posted: Jun 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago

پانچ اگست 2019 کے بعد پہلی مرتبہ گپکار گینگ اور مودی کا نئی دہلی میں ساڑھے 3 گھنٹے کی بیٹھک میں آمنا سامنا رہا۔ بلا ایجنڈا 24 جون 2021 کو دہلی طلب کیے گئے نام نہاد کشمیری لیڈروں کی وہ فوج ظفر موج مودی کی نئی ہدایت لے کر سری نگر واپس لوٹ آئی۔
دو سال تک جیلوں اور گھروں میں بند ان لوگوں کی مودی کو اچانک کیا ضرورت پڑی اور یہ لوگ بھی کیا سادہ تھے کہ جس کے سبب بیمار ہوئے اسی سے دوا لینے پہنچ گئے۔ بھارتی قیادت سے ملاقات اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں لائن میں لگنا اور دوڑ لگانا ہند نواز قیادت کے لیے کوئی نیا کام نہیں بلکہ نسل در نسل وہ یہی کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔
اس اجلاس سے سوائے مودی کے ساتھ گروپ فوٹو کے کیا لے کر لوٹے یہ اہم سوال ہے۔ چار اگست 2019 کو گینگ کے سینئیر لیڈر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ گپکار پر انہی افراد اور جماعتوں کا اجتماع ہوا تھا جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ لگ بھگ 18 سیاسی رہنما شریک ہوئے۔
اس اجتماع میں اتفاق رائے سے 3 نکات کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ اول: ریاست میں وجود رکھنے والی سب سیاسی جماعتیں ریاست کی خصوصی پہچان، نیم خود مختاری اور ریاست کوحاصل خصوصی درجے کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے خلاف یکجا ہیں۔ دوئم: دفعہ 370 و 35 اے کو کسی صورت بھی منسوخ نہیں کیا جاسکتا اور مزید یہ کہ ریاست کسی بھی تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام پر چڑھائی کے مترادف ہوگا۔ سوئم: صدر ہند و وزیراعظم ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کو ریاستی و مرکزی آئین کے تحت حاصل کردہ حقوق کی پاسداری یقینی بنائیں۔
اس اعلان کو گپکار ڈیکلریشن کا نام دیا گیا تھا۔ کیا ڈیکلریشن میں درج مسائل حل ہو چکے یا ان کو اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا۔ جب یہ ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھے تو مودی کے دیدار کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس صورت حال میں اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سری نگر، نئی دہلی ملاقات کسی ایک کی نہیں دونوں کی خواہش اور ضرورت تھی۔ اسی لیے ملاقات کے لیے دونوں جانب سے کسی ایک نے بھی ایجنڈے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مقبوضہ کشمیر میں خراب صورت حال پر پردہ ڈالنا۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور نام نہاد جمہوریت کی بحالی مودی کی مجبوری بن چکی۔
گزشتہ 2 سال کے دوران مودی حکومت کو تجربہ ہو چکا کہ ان کے بغیر شاید بات بننے والی نہیں۔ جب کہ یہ سب لوگ گزشتہ 2 برسوں سے بے روز گار اور عوام سے دور ہیں۔ ان کو کچھ سختیاں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ ہر کوئی سری نگر کی گدی پر بیٹھنا چاہتا ہے خواہ کتنی ہی بے توقیری کیوں نہ جھیلنی پڑے۔ دونوں کی اپنی اپنی مجبوریوں اور کمزوریوں نے ایک آواز پر آپس میں مل بیٹھنے پر تیار کیا۔
کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے صاحبزادے عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی، غلام نبی آزاد، تارا چند ، غلام احمد میر، سجاد غنی لون ،مظفر حسین بیگ، الطاف بخاری، رویندر رینہ، نرمل سنگھ اور کویندر گپتا، محمد یوسف تاری گامی اور پروفیسر بھیم سنگھ شامل تھے۔
باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ مودی نے بغیر کسی تمہید کے کہا کہ وفاق کے اقدامات کو تسلیم کریں اور انتخابی عمل میں شامل ہوں۔ وفاق کے اقدامات کا مقصد کئی پلان ہیں۔ تقسیم اور نئی حلقہ بندیوں کا پلان بہت اہم ہے جس سے وادی کشمیر کی نشستیں کم اور جموں سے زیادہ کی جاسکیں گی جس سے ہندو وزیر اعلی کے انتخاب کی راہ ہموار ہو گی۔ مندوبین کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ان لوگوں نے گپکار ڈیکلریشن پر کوئی بات کی۔ حکومت ہند نے اس حوالے سے کوئی خبر جاری نہیں کی اور نہ ہی کسی رہنماء نے کوئی بیان دیا۔ تاہم ڈوڈا جموں سے تعلق رکھنے والے کانگریسی لیڈز غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم مودی کے سامنے 5 بڑے مطالبات رکھے ہیں۔ کشمیر کو ریاست کا درجہ جلد ملنا چاہیے، الیکشن جلد از جلد منعقد کروائے جائیں، ڈومیسائل قوانین، زمینی ملکیت اور نوکریوں کے حوالے سے گارنٹی، کشمیری پنڈتوں کو واپس لا کر کشمیر میں آباد کیا جائے اور سیاسی قیدیوں اور احتجاج کرنے والوں کو رہا کیا جائے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گپکار ڈیکلریشن کے ترجمان محمد یوسف تاری گامی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا کوئی ایجنڈا فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اس معاملے پر کچھ برف پگھلی ہے، اب کم از کم ہم اکٹھے بیٹھ کر اس مسٔلے پر بات تو کر رہے ہیں۔
کانفرنس کے بعد فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی زبان بند ہے۔ اجلاس سے قبل محبوبہ مفتی نے کشمیر کی نیم خود مختاری کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ البتہ فاروق عبداللہ کی پارٹی نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر آغا روح اللہ جو خود تو اجلاس میں موجود نہیں تھے لیکن کانفرنس کے 3 دن بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ کشمیریوں کو بے وقوف بنایا۔
نریندر مودی کی زیر صدارت کل جماعتی اجلاس بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں جن رہنماﺅں کو مدعو کیا گیا تھا انہوں نے لوگوں کے لیے کوئی امید نہیں چھوڑی۔ ان رہنماﺅں سے کہا گیا کہ وہ حد بندی کے عمل میں شریک ہوں اور انتخابات کے لیے تیار رہیں۔ جب کہ رہنماؤں نے وہاں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی کہ جموں و کشمیر نے 5 اگست کو کیا کھویا۔ آغا روح اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے رہنماؤں کو انتخابات سے پہلے ریاست کی بحالی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا۔
کشمیریات کے ماہرین کا خیال ہے کہ روح اللہ کا بیان فاروق عبداللہ کی پارٹی پالیسی ہے ۔ باپ بیٹا جو بات مودی کے سامنے نہیں کہہ سکے تیسرے فرد کے توسط سے میڈیا کے ذریعے پہنچانا چاتے ہیں کہ وہ تو مودی کی ہدایت پر سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی پارٹی نہیں مانتی۔
بہر حال مودی بہت جلد نئی حلقہ بندیوں کے ساتھ کشمیر میں انتخابات کا اعلان کرنے والے ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں سے جموں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے گا، پیر پہنجال کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ردوبدل اور ہندو اکثریتی علاقوں کے ساتھ ملا کر مسلمانوں کی اکثریت کو کم کیا جائے گا۔ وادی میں جن غیر کشمیریوں کو آباد کیا گیا ہے ان کے الگ حلقے قائم کیے جائیں گے۔
اس طرح مسلم اکثریتی ریاست کا اقتدار غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ جموں و کشمیر کا آئندہ وزیر اعلی جموں کا ہندو ہو سکے۔ پاکستان اور کشمیریوں کی حقیقی قیادت حریت کانفرنس نے اس بات چیت اور منصوبہ کو مسترد کر دیا ہے۔ لیکن خالی مسترد کرنے کے بیان سے کچھ نہیں ہونے والا۔ پاکستان اور حریت کانفرنس باہمی مشورے سے کشمیر پالیسی کا ازسر نو تعین کریں بصورت دیگر بھارت کشمیر فتح کر لے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube