Thursday, September 16, 2021  | 8 Safar, 1443

افغانستان میں خانہ جنگی کے اثرات

SAMAA | - Posted: Jun 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Jun 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago

وزیراعظم عمران خان سعودی نژاد اسامہ بن لادن کو شہید قرار دیتے رہے ہیں اور انہوں نے ایک غیر ملکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں بھی اسامہ کو دہشت گرد قرار دینے سے انکار کیا۔

جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے افغانستان کے ایک ٹی وی چینل کے اینکرپرسن نے سوال کیا تو وزیر خارجہ نے فرمایا کہ وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا مگر پھر اینکرپرسن نے شاہ محمود قریشی سے یہ سوال دہرایا کہ اسامہ دہشت گرد ہے یا نہیں تو انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے انٹرویو پاکستان کی افغان پالیسی کے بنیادی خدوخال کو ظاہر کررہے ہیں۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں طالبان کے حملے بڑھتے جارہے ہیں ان حملوں کا نشانہ اسکول، کالج اور افغان معاشرہ میں متحرک خواتین بن رہی ہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کے ساتھ افغانستان میں لڑائی تیز ہوجائے گی۔

افغانستان کے حالات پر گزشتہ 50 برسوں سے گہری نظر رکھنے والے خیبر پختونخوا کے سینئر سیاسی کارکن مختار باچہ کا تجزیہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی مدد سے پاکستان کی سرحد کے قریب صوبہ پکتیہ اور غزنی کے علاقوں میں اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر ایسا ہوا تو افغانستان میں مذہبی اور نسلی جنگ ایک دفعہ پھر شدت اختیار کرجائے گی افغانستان کی حکومت کے سیکیورٹی کے مشیربار بار الزام عائد کررہے ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں طالبان کی عسکری قوت کو ایک بار پھر منظم کرنے میں تکنیکی مدد فراہم کررہی ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے مگر امریکہ اور یورپی یونین شاہ محمود قریشی کی تردید پر یقین نہیں کررہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا پاکستان کے بارے میں رویہ سخت ترین ہوتا جارہا ہے امریکہ نے ماحولیات کے بارے میں عالمی سربراہی کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان کو مدعو نہیں کیا۔

صدر بائیڈن نے افغان مسئلہ پر بھارت اور دیگر ممالک کے سربراہوں سے تو ٹیلیفون پر بات کی مگر وہ وزیر اعظم عمران خان سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

ایک امریکی سینیٹر نے صدر بائیڈن کی اس پالیسی پر سخت تنقید کی ہے مگر اس پالیسی کے پس پشت محرکات کے جائزے اور اس کے پاکستان کے متوقع نقصانات پر معروضی انداز میں تجزیے سے کسی درست نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ صدر بائیڈن اور افغان صدر کے درمیان مذاکرات کا دور پورا ہوگیا ہے اور افغان صدر نے واضح کیا ہے کہ طالبان کابل پر قبضہ نہیں کرسکتے۔

وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں لکھا ہے کہ نائن الیون کے بعد غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت سے افغانستان کی صورتحال بگڑی۔

عمران خان کہتے ہیں کہ کوئی بھی گروہ فوجی طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ کرتا ہے تو خانہ جنگی ہوگی۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر طالبان نے بھی زبردستی کابل پر قبضہ کیا تو حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

عمران خان کہتے ہیں کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت میں طالبان کو بھی شامل ہونا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان کے اس آرٹیکل پر رائے دینے سے پہلے افغانستان کی تاریخ کی جائزہ لینا ضروری ہے افغانستان میں ثور انقلاب کے آخری حکمران ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ افغان مجاہدین کی ایک حکومت کابل پر قائم ہوئی مگر یہ حکومت مجاہدین کے باقی گروہوں کو اطاعت پر مجبور نہ کرسکیں۔

اس دوران سویت یونین کی فوجیں افغانستان سے چلی گئیں پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں اس کے وزیر خارجہ میجر جنرل ریٹائرد نصیر اللہ بابر پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کے دور کے افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے مخالف گروپوں سے رابطے میں تھے۔

پاکستان کے مدرسوں میں زیر تعلیم طالب علموں کو منظم کیا گیا اور طالبان کی فوج قائم کی۔ اسی فوج نے کابل پر قبضہ کیا اور ملا عمر کی خلافت وجود میں آئی۔

سعودی منحرف اسامہ بن لادن اس حکومت کے مشیر ہوئے طالبان نے قرون وسطیٰ کی ریاستوں کی طرز پر خلافت قائم کی۔ ملا عمر کا دور خواتین اور اقلیتوں کے لیے بدترین دور ثابت ہوا۔ پھر اسامہ بن لادن نے القاعدہ بنائی جس نے نیویارک کے ٹوئن ٹاور کو اپنے فدائین کے ذریعہ تباہ کیا۔

اس طرح ڈکشنری میں نائن الیون کا لفظ شامل ہوا پھر امریکہ اور اتحادی افواج نے ملا عمر کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

جنرل مشرف نے دو رخی پالیسی اختیار کی ایک طرف اتحادی افواج کے لیے ہوائی اڈے فراہم کیے اور لاجسٹک مدد دی جس کے عوض اربوں ڈالر وصول کیے تو دوسری طرف طالبان کی مدد کرنی شروع کردی۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب آن دی لائن آف فائر میں اس بات کا اقرار کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں کابل میں لڑی جانے والی جنگ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے راستے کراچی پہنچ گئی۔

اس دہشت گردی کے نتیجے میں کئی ہزار بے گناہ جاں بحق ہوئے صرف فوج، رینجرز اور پورے ملک کی پولیس کے ہزاروں جوان اور افسران دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں شہید ہوئے۔

امریکہ، افغانستان اور نیٹو فورس کے کمانڈنٹ الزام لگاتے رہے کہ اسامہ پاکستان میں روپوش ہے اور طالبان کی کوئٹہ شوریٰ پاکستان کے مختلف علاقوں میں متحرک ہے۔

جنرل پرویز مشرف اور فوج کے سربراہ جنرل کیانی اس الزام کی تردید کرتے رہے مگر پھر گیریزن سٹی ایبٹ آباد پر امریکی میرین فوج کے جوانوں کے حملے میں اسامہ اپنے دو معاونین کے ساتھ ہلاک ہوئے۔

ان کی چار بیواؤں اور درجن بھر بچوں کو جو اسامہ بن لادن کے ساتھ کئی برسوں سے مقیم تھے بعد میں سعودی عرب اور یمن بھیجا گیا۔ پھر امریکہ اور یورپی ممالک میں دہشت گردی کی متعدد وارداتیں ہوئیں جن کے بارے میں تحقیقات سے پتہ چلا کہ دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں ملوث افراد نے پاکستان میں تربیت حاصل کی۔

اس صورتحال میں پاکستان پر داغ لگے اور نتیجے میں ایف اے ٹی ایف کی پابندیاں لگنے لگیں پاکستان کی حکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکل سکا۔

اب وزیر اعظم نے امریکی جریدے کو ایک انٹرویو میں پھر کہا ہے کہ پاکستان طالبان پر حملہ میں فریق نہیں بنے گا اور طالبان کو کابل پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے مگر طالبان کے کابل پر قبضے کی خبروں کے بعد ترکی، ایران اور ترکستان کو بھی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ فیصلہ درست ہے کہ امریکہ کو پاکستان میں کسی صورت اڈے نہیں دیے جائیں گے مگر اسامہ بن لادن کے بارے میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا مثبت رویہ کچھ اور حقائق آشکار کررہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان نے اسٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی ترک کردی ہے یہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے اس فیصلہ پر عملدرآمد سے ہی پاکستان افغانستان میں امن کو مستحکم کرنے میں کوئی کردار ادا کرسکتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ ماضی سے سبق حاصل کیا جائے پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ سرکاری سطح پر اور غیر سرکاری سطح پر طالبان اور دیگر متحارب گروہوں کو دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

غیر ریاستی عناصر کو افغان طالبان کے لیے مالیاتی اور عسکری پائپ لائن کو منظم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو غیر ریاستی کردار اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لاہور میں کالعدم لشکر طیبہ کے قائد حافظ سعید کی قیام گاہ کے قریب حالیہ دھماکہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ اگر پاکستان، ایران، ترکی، تاجکستان، روس اور چین کی قیادت کے ساتھ مل کر کوئی متفقہ حل نکالتا ہے تو افغانستان میں امن کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اگر درست فیصلے نہیں ہوئے تو افغانستان کی خانہ جنگی ایک دفعہ پھر کراچی تک پہنچ جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube