بیس سالہ افغان جنگ کو 11 ستمبر کا انتظار

SAMAA | - Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو

نئے امریکی صدر نے منصب صدارت سنبھالتے ہی افغانستان سے رخت سفر باندھنے کا اعلان تو کردیا، تاہم پینٹاگون کے حالیہ بیان نے امریکی صدر کے اعلان کو شک و شہبات میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کابل ایئرپورٹ اور پاکستان میں فوجی اڈوں کی حوالگی کے تنازعے کے باعث اب یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا امریکا واقعی رواں سال ستمبر کی 11 تاریخ کو افغانستان کو الوادع کہہ دے گا یا پھر یہ معاملہ گومگو کی صورت حال سے نبرد آزما ہوگا۔

فائل فوٹو

سال 2001 میں شروع ہونے والی اس جنگ میں کئی اہم موڑ بھی آئے، جن کا چیدہ چیدہ خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔ امریکا کی افغانستان میں جنگ کا آغاز2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں سے ہوا۔ جب امریکا میں دہشت گردوں نے ٹوئن ٹاور سمیت متعدد املاک کو طیاروں کے ذریعے دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حملوں میں 3 ہزار افراد ہلاک، جب کہ ہزاروں زخمی ہوئے۔

فائل فوٹو

حملوں کے بعد ٹھیک دوسرے روز یعنی 2 ستمبر دو ہزار ایک (2001) کو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے قوم سے خطاب میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ کا اعلان کیا۔

ستمبر 20 سال دو ہزار ایک میں ہی جارج بش نے افغانستان میں اس وقت برسر اقتدار طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور بصورت دیگر سخت نتائج کی دھمکی اور حملے کا اعلان کیا۔

اسی سال دو ہزار ایک میں 7 اکتوبر کو طالبان حکومت کے انکار پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں فضائی حملوں کا آغاز کیا۔

اکتوبر 19 سال 2001 میں امریکا نے اتحادیوں کیساتھ ملکر فضائی حملوں کے بعد زمینی حملوں اور آپریشنز کا آغاز کیا۔

نومبر 9 سال 2001 میں افغانستان میں موجود مقامی جماعت شمالی اتحاد جس کا جھکاؤ امریکا کی جانب تھا، اس نے اقتدار میں موجود طالبان حکومت کو مزار شریف کے شہر میں شکست دے کر قبضہ کرلیا۔ یہ افغانستان کا چوتھا بڑا شہر ہے جو صوبہ بلخ میں مغرب کی جانب واقع ہے۔

امریکا اور اس کے ساتھیوں نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے 13 نومبر 2001 میں افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا اور اس پر قبضہ کرلیا۔

دسمبر 7 2001 میں کابل پر قبضے کے بعد امریکا کی اتحادیوں کے ہمراہ اگلی منزل قندھار کا علاقہ تھا۔ جنوب میں واقعہ قندھار بھی طالبان کے ہاتھوں سے نکل کر امریکا کے قبضے میں چلا گیا اور یوں ایک حد تک اہم علاقوں میں طالبان کا زور کم ہونے لگا۔

دسمبر 6 2001 میں امریکا نے مشرقی افغانستان میں صوبہ ننگرہار میں واقع تورا بورا کے مشہور مگر پیچیدہ پہاڑوں میں قائم القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں پر شدید بمباری شروع کی۔

افغانستان کے بڑے حصے پر قبضے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان کو ایک روایتی ملک کے طور پر ابھارنے کیلئے عبوری حکومت کا پلان پنایا اور اس سلسلے میں امریکی نواز حامد کرزئی کو 22 دسمبر 2001 میں ملک کا عبوری سربراہ چنا گیا۔

فائل فوٹو

افغان جنگ میں بڑا ٹرن اس وقت آیا جب سال 2003 کی یکم مارچ کو امریکی اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شہر راول پنڈی سے القاعدہ کے اہم رہنما خالد شیخ محمد کو گرفتار کیا ہے، جسے 9 11 کا ماسٹر مائنڈ کہا جاتا ہے۔

سال 2004 جون کی 18 تاریخ کو امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے جنگجو نیک محمد کو مارا گیا۔ یہاں ان کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ پاکستانی علاقے میں روپوش تھے۔ بقول طالبان ذرائع کے نیک محمد بگرام ایٹر پورٹ پر نوکری کیا کرتے تھے اور افغان طالبان کی تحریک اور ان کے نظریات سے متاثر تھے۔

سال 2004 میں 16 ستمبر کو اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی اپنے اوپر ہونے والے جان لیوا حملے میں بال بال بچے۔ حملے کے وقت وہ ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔ مقامی گروپ حامد کرزئی کے سخت مخالف تھے۔

امریکا اور اتحادیوں نے عبوری حکومت کو مکمل حکومتی ڈھانچے میں ڈھالنے کیلئے الیکشن کا انعقاد کرایا اور 9 اکتوبر 2004 میں حامد کرزئی اس وقت افغانستان کے صدر منتخب ہوئے۔

افغان جنگ میں نان نیٹو اتحادی کا درجہ پانے والے پاکستان کی فورسز کا افغان فورسز سے 13 مئی سال 2007 میں ڈیورنڈ لائن پر ٹکراؤ ہوا۔

سال 2009 یکم دسمبر کو اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے مزید 30 ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا۔

پاکستان اور امریکی تعلقات میں ایک بڑی تبدیل اس وقت آئی جب سال 2011 میں 2 مئی کو پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فورسز کے خفیہ آپریشن میں اسامہ بن لادن کو مارا گیا۔

سال 2013 میں 18 جولائی کو نیٹو نے افغانستان کی سیکیورٹی ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان سیکیورٹی فورسز کو سونپی۔ تاہم اب بھی مختصر تعداد میں نیٹو کے فوجی افغانستان میں موجود افغان فورسز کی ٹریننگ میں مصروف ہیں۔

سال 2014 میں 27 مئی کو سابق امریکی صدر براک اوباما نے 22 ہزار فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلانے کا اعلان کیا۔

سال 2014 میں 28 دسمبر کو امریکا نے افغانستان میں اپنا جنگی مشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے صرف 10 ہزار فوجی ہی افغانستان میں رکھنے کا اعلان کیا۔

سال 2015 میں 11 جنوری کو اس وقت تیزی سے ابھرتی دہشت گرد تنظیم داعش نے افغانستان اور پاکستان میں اپنے مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا۔

سال 2015 میں 29 جولائی کو افغان طالبان کی جانب سے سال 2013 میں انتقال کرنے والےافغان طالبان رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق سامنے آئی۔

جولائی 29 کو اسی سال 2015 میں افغان طالبان کی جانب سے ملا اختر منصور کو نیا امیر بنانے کا اعلان سامنے آیا۔

تاہم ایک سال میں ہی 21 مئی 2016 کو ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے۔

مئی 25 اسی سال افغان طالبان کے نئے امیر کا اعلان ہوا اور ملا ہیبت اللہ کو تیسرا امیر مقرر کیا گیا۔

جولائی 28 کو سال 2018 میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوا۔

سال 2020 میں 29 فروری کو امریکا اور طالبان قیادت کے درمیان قطر کے شہر دوحا میں کامیاب مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کی اہم شق افغانستان سے غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا تھا، جو مئی 2021 میں شروع ہونا تھا۔ معاہدے کی ایک اور اہم شق، افغان حکومت کی جانب سے قید کیے گئے 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی کو ان 1000 افراد کی رہائی سے بھی مشروط کیا گیا جو طالبان کی قید میں تھے۔

دوحا میں ہونے والے اس اہم معاہدے کے موقع پر فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ طالبان اس بات کی ضمانت دیں گے کہ افغان سرزمین کسی دہشت گردی کے مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوگی۔ جس کے بعد دونوں جانب سے افغانستان میں معاملات ہلکی رفتار میں آگے بڑھنے لگے کہ اسی دوران امریکا میں نئی حکومت آنے کے بعد نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے جنوری 2021 میں امریکا ور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ دیا۔

بائیڈن کا بیان خطے کی مرکزی سیاست اور خود افغانستان کیلئے ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔ امریکی صدر کی جانب سے 14 اپریل 2021 کو افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کرتے ہوئے 11 ستمبر کی تاریخ دے دی گئی۔ یہ انخلا نائن الیون کی 20 ویں برسی پر ہوگا۔ جس کے ساتھ ہی مرحلہ وار امریکی فوجیوں کی افغانسان سے واپسی کا سلسلہ شروع ہوا اور یکم مئی سے 3 ہزار فوجیوں کو واپس بلالیا گیا۔

دیکھا جائے تو امریکی تھنک ٹینک رپورٹ کے مطابق اس 20 سالہ جنگ کے دوران 2 لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جس میں امریکی بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں 71 ہزار 344 عام شہری، 2 ہزار 442 امریکا کے فوجی اہلکار، 78 ہزار 314 افغان سیکیورٹی اہلکار اور 84 ہزار 191 مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔

اس جنگ پر اب تک امریکا کے 22 کھرب 60 ارب ڈالرز خرچ ہوئے ہیں۔ ان مالی اخراجات میں افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے آپریشنز بھی شامل ہیں۔ امریکی صدر کے احکامات کے وقت تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی اور 16 ہزار کنٹریکٹرز، جن میں سے زیادہ تر امریکی تھے افغانستان میں موجود تھے۔

افغان جنگ کے دوران سال 2001 سے لے کر پاکستان افواج نے تقریباً 2600 کلو میٹر کے علاقے میں متعدد فوجی اپریشنز کیے۔ ان آپریشنز میں سے انہیں افغانستان میں موجود بین الاقوامی افواج کی مدد بھی حاصل رہی۔ ان آپریشنز میں پاکستان کی مالی مدد کیلئے امریکا کی جانب سے کولیشن سپورٹ فنڈ کا اجرا بھی کیا گیا۔

تمام تر تاریخ اور تاریخوں کے اعلانات اپنی جگہ تاہم حالیہ دنوں میں امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا اشارہ کسی اور ہی بات کا اشارہ دے رہا ہے۔ ترجمان پینٹاگون جان کربی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن برقرار رہے گی تاہم انخلا کے عمل کو صورت حال کی مناسبت سے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

کربی کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع پر حملوں اور تشدد کی کارروائیوں کے بعد صورت حال تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر کسی بھی دن یا ہفتے کے دوران فوجیوں کے انخلا کی رفتار میں تبدیلی کی ضرورت پڑی تو ہم اس ضمن میں لچک کا مظاہرہ کریں گے۔

فائل فوٹو

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا واقعی امریکی افواج کا انخلا مقررہ تاریخ پر ہوسکے گا یا پھر ان تعلقات میں مزید کوئی نیا موڑ آئے گا۔ کیا پھر ماضی کی طرح فوجی انخلا تعطل کا شکار ہوگا اور ویتنام کی طرح افغانستان سنڈروم بھی امریکیوں کی نفسیات کو متاثر کرے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube