Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

کراچی میں موسم گرما کے پھولوں کی بہار

SAMAA | - Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 22, 2021 | Last Updated: 1 month ago

لگنم کے پھو ل کسی کلاسیکی دستی کڑھائی کے طرح پتوں میں کھلے ہوئے ہیں۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں لگنم کو تراش کر پھولوں کی دیوار یا پارٹیشن بھی بنا یا جا تا ہے۔ تصاویر : شازیہ تسنیم

کراچی میں موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی رنگ برنگے پھولوں سے شہر کا ماحول پرکشش اور خوبصورت ہو گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں میں لگے ہوئے خوش رنگ پھول کسی عظیم مصور کے شاہکاروں کا منظر پیش کر رے ہیں۔ یہ پھول زیادہ تر گھروں کے باہر کیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔

سفید گلابی رنگوں میں کھلا ہوا رنگون کریپر جسے جھمکا یا سحرا بیل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پھول گچھے دار ہوتے ہیں اور سفید، گلابی یا سرخ رنگوں کا مرکب ہوتے ہے۔

مختلف پھولوں کے کھلنے کے ساتھ فطرت نے ایک نیا روپ دھار لیا ہے۔ شہر قائد کے باسی جب گرمی کی شدد ت، بجلی اور پانی کے بحران سے  پریشان ہوں تو ایسے میں باغبانی کے لیے اضافی پانی کا استمال ان کے لیے تقریباً نا ممکن ہو جاتا ہے۔ مگر بظاہر نازک نظر آنے والے موسم گرما کے یہ پھول قدرتی طورپر زیادہ پانی اور نگہداشت بغیر ہی سخت موسم میں بھی کھل سکتے ہیں۔

انتہائی دلکش سدا بہار یا تارا پھول کا رنگین غالیچہ۔ ہر موسم میں کھلنے والا ونکا نسل کا یہ پھول زمین سے تھوڑا ہی اوپر کھلتا ہے اور اس کا پودہ بلا جھجھک اپنے چاروں طرف پھیل جاتا ہے۔

گھر چھوٹے ہوں یا بڑے پھولوں کے پودے اگانا سب ہی کو پسند ہوتا ہے ۔ جس طرح لوگوں کو اپنے گھروں سے محبت ہے اسی طرح پھولوں سے بھی۔

 سورج کی تیز روشنی کی سمت کھلا ہوا سرخ کا مبریٹم یا پاؤڈر پف کا مبریٹم ۔۔۔ یہ کریپر فیملی کا ایک منفرد پھول ہے۔

ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان کا گھر خوبصورت نظر آئے مگر کم کشادہ گھروں میں جگہ محدود ہونے کی وجہ سے لوگ  گملوں میں پھولوں کے پودے لگاتے ہیں۔

.ڈیلونکس ریجیا ، جسے عام طور پر گل موہر کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنے خوبصورت پھولوں کے لیے مشہور ہے۔ اس کے نارنجی سرخ رنگ کے پھولوں سے متاثر ہو کر شاعروں نے بھی کئی اشعار کہے۔

کراچی دھول اور آلودگی سے متاثرہ شہر ہے۔ یہ بھیڑ اور میکانائزڈ شور کا شہر ہے اور یہاں کی سڑکوں پر بھاگتی ہوئی تیز رفتار گاڑیوں کا شور کبھی بھی انسانی کانوں پر مہربان نہیں ہوتا۔ پولیس وین اور ایمبولینس کی چیختی چنگھاڑتی سائرن کی آواز انسانی اعصاب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ لیکن کروڑوں کی آبادی کے اس کراچی کی اپنی شناخت ہر دم قائم رکھی ہے کہ یہ زندگی کا، روشنیوں کا شہر ہے جہاں بسنے والے لوگ بھی زندہ دلی کی مثال ہیں۔

شدید گرمی میں دیوار پر پھیلے سفید بوگین ویلیا کے پھول انسانی آنکھوں کو ٹھنڈک و سکون بخشتے ہیں۔

پورے دن کی شدید گرمی کے بعد جب اس ساحلی شہر میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، بجلی کی بندش سے پریشان شہری گرمی سے بچنے کیلئے گھروں سے باہر نکل کر قدرتی مناظر میں ہی سکون تلاش کرتے ہیں۔

سفید سدا بہار چھوٹے بڑے ہر گھر میں نظر آتا ہے۔ اس کے پودے قبرستانوں میں لگائے جاتے ہیں جس کے سبب مالیوں میں قبرستان کا پھول کے نام سے مشہور ہے۔

سبز پتوں کے پس منظر پر سفید چمپا کا خوبصورت گچھا۔ اس کا تعلق پلومیریہ نسل سے ہے اور کئی رنگوں میں دستیاب ہوتا ہے۔

ہلکا اور ٹھوس گلابی رنگوں مے گھلا ہو کنیر کا پھول قدرت کا ایک دلچسپ تخلیقی شاہکار ہے۔ کنیر ، جسے اویلینڈر پلانٹ بھی کہا جاتا ہے ، جھاڑی دار پودایا8 سے 10 فٹ اونچائی کا چھوٹا درخت ہے۔ اس کے پھول ۔ سفید ، سرخ ، گلابی ، گہرا گلابی ، یا پیلے رنگ وں مے بھی پایے جاتے ہیں۔

مکمل کھلے ہوئے گہرے سرخ رنگ کے جیٹروفا پھول کے گچھے کسی تصویر کی طرح خوبصورت نظر آتے ہیں۔

بوگین ویلیہ ایک نکٹاجینے سیائی قسم کا سجاوٹی درخت ہے جو جھاڑیوں اور اور بیلوں کی شکل میں ہوتا ہے۔

 سورج کی تیز روشنی کی سمت کھلا ہوا سرخ کا مبریٹم یا پاؤڈر پف کا مبریٹم ۔۔۔ یہ کریپر فیملی کا ایک منفرد پھول ہے۔

پھولوں سے بھرا ہوا جیٹروفاش نسل کا جھاڑی دار پودہ بغیر کسی محنت تیار ہو جاتا ہے اور مالیوں کو بھی بہت پسند ہے۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. فوزیہ  June 22, 2021 10:52 pm/ Reply

    بہترین

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube