شرح خواندگی، شبعہ صحت میں پاکستان پیچھے کیوں؟

SAMAA | - Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago

فائل فوٹو

پاکستان کے قیام کے بعد پیش ہونیوالے پہلے بجٹ میں جو ترجیحات طے ہوئیں 72سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کم و بیش بجٹ کی وہی ترجیحات ہیں۔ پاکستان نے ایٹم بم بنالیا، سن 1960ء کی دہائی سے پاکستانی شہری روزگار کیلئے برطانیہ جانے لگے پھر دیگر یورپی ممالک نے بھی پاکستانیوں کیلئے روزگار کے دروازے کھول دیئے۔

سن 70ء کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور لبنان میں پاکستانیوں کو ملازمتوں کے مواقع ملے اور یوں ان پاکستانیوں کی محنت کی کمائی سے آنیوالے زرمبادلہ نے ملکی معیشت کو مستحکم کیا مگر بجٹ کی ترجیحات تبدیل نہ ہوئیں۔

برسر اقتدار حکومتوں کے پیش کردہ تمام بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے سب سے کم رقوم مختص ہوئیں۔ اسی طرح غربت کے خاتمے کیلئے پالیسیاں تیار نہیں ہوئیں، جن کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح اس طرح نہیں بڑھی جس طرح بھارت، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان سے علیحدہ ہونے والے بنگلہ دیش میں بڑھی۔

اقوام متحدہ کے تعلیم کے شعبے پر کام کرنیوالے ادارے یونیسکو نے 90ء کی دہائی میں جی ڈی پی کے 5 فیصد سے زائد حصے کو تعلیم کیلئے مختص کئے جانے کی ضرورت پر زور دینا شروع کیا لیکن ہمارے ملک میں اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2 کروڑ کے قریب بچے اسکول نہیں جاتے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، پھر پانچویں جماعت تک طلبہ کی تعداد کم ہوجاتی ہے کیونکہ بہت سے بچے تعلیم ترک کردیتے ہیں۔

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم مسلسل بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ سال اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی کردی گئی تھی جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں اپنی بدحالی کی بناء پر تحقیق پر توجہ نہیں دے پاتیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی سے تعلیمی معیار براہ راست متاثر ہوا ہے اور یونیورسٹیاں تحقیق جیسا بنیادی فریضہ انجام نہیں دے پاتیں۔

ایچ ای سی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی پبلک سیکٹر کی 250 یونیورسٹیوں میں سے صرف 100 کے قریب یونیورسٹیاں آن لائن ایجوکیشن کے جدید آلات سے آراستہ ہیں، پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی 500 یونیورسٹیوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

یہی صورتحال صحت کے شعبہ کی ہے۔ ملک کے چند بڑے شہروں میں بڑے اسپتال قائم ہیں جن میں سے کچھ وہ ہیں جو انگریز دور سے ورثے میں ملے تھے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں قائم سرکاری اسپتالوں میں چھوٹے شہروں اور دیہاتوں سے آنیوالے مریضوں کا زبردست دباؤ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور گاؤں میں اسپتالوں میں بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ نجی شعبے کے چھوٹے بڑے جدید اسپتال علاج کی جدید سہولتیں فراہم کرتے ہیں مگر عام آدمی کیلئے ان اسپتالوں سے علاج کرانا ممکن نہیں ہے۔

اب بھی ملک میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے ویکسین تیار نہیں ہوتی۔ کرونا کیخلاف مزاحمت کیلئے تیار ہونیوالی ویکسین کا پلانٹ اسلام آباد میں لگایا گیا، جس کیلئے مشینری اور خام مال چین نے فراہم کیا اور یہاں صرف یہ ویکسین پروسیس ہوگی۔ فی الحال آبادی کے بیشتر حصے کو یہ ویکسین نہیں لگی مگر ملک میں ویکسین کی قلت پیدا ہوگئی ہے، بچوں کو اپاہج ہونے سے بچانے کے پولیو کے قطرے عالمی ادارہ صحت بطور عطیہ فراہم کرتا ہے۔

اسی طرح ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو بجلی، گیس اور انکم ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسوں میں چھوٹ نہیں دی جاتی، جس کی بناء پر ان کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں کے بڑھانے کا اختیار ہے۔ وزارت صحت کا ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا ادارہ اتنا کمزور ہے کہ اگر وہ نئی دوائی کی قیمت کم مقرر کرتا ہے تو یہ دوائی بازار سے غائب ہوجاتی ہے۔

ہر سال غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی کی تیسری حکومت میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور موجودہ حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کو وظائف دینے شروع کیے۔ اس طرح بڑے شہروں میں فٹ پاتھ پر سونے والوں کیلئے پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں مگر یہ سب بگڑتی ہوئی صورتحال کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ ہفتے جو بجٹ پیش کیا وہ پرانی ترجیحات کے مطابق ہی ہے۔ دفاعی بجٹ کیلئے 1.37 ٹریلین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ بجٹ کے اعداد و شمار کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دفاعی بجٹ میں 6.2 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹر نے لکھا ہے کہ گزشتہ سال وفاقی بجٹ میں دفاع میں 4.72 فیصد اضافہ کیا گیا تھا مگر مالیاتی سال کے اختتام تک یہ اضافہ 6.33 فیصد تک پہنچ گیا۔ گزشتہ برس ریٹائرڈ فوجیوں کی پنشن کی ادائیگی کیلئے 360 ارب روپے مختص کئے گئے لیکن اس رقم کو دفاعی بجٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ رقم سول حکومت کے ذمہ آئی۔

پھر خاصی رقوم سیکریٹ پروگراموں کیلئے مختص کی گئی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بار دفاعی بجٹ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ بری، بحری اور فضائی افواج کے بجٹ میں یکساں 6 فیصد کے قریب اضافہ ہوا۔ پہلے دفاعی بجٹ کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش نہیں کی جاتی تھیں مگر اس مرتبہ یہ تفصیلات ظاہر کی گئی ہیں مگر قومی اسمبلی کے گزشتہ برسوں کے بجٹ اجلاسوں کی کارروائی کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ایوانوں میں نہ تو حکومتیں اور نہ حزب اختلاف کے اراکین اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان ایک کامیاب خارجہ پالیسی چلارہے ہیں، اب پاکستان تنہائی کا شکار نہیں ہے، پاکستان نے امریکا، روس، چین اور یورپی ممالک سے خوشگوار تعلقات قائم کئے ہیں، پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کے نتیجے میں بھارت تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔ امریکی فوجیں افغانستان سے جارہی ہیں اور امریکا اور پاکستان افغانستان کے حل کے بارے میں متفق ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان کے ترقی کے انڈیکیٹر ثابت کررہے ہیں کہ پاکستان تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے معاملے میں امریکا، روس اور چین کا تو خیر کیا ذکر پڑوسی ممالک سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ حالیہ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش بھی ترقی کی دوڑ میں پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی ترقی کی ایک بنیادی وجہ تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی کیلئے زیادہ رقم مختص کرنا اور دفاع کیلئے کم رقم رکھنا ہے۔

تاریخ سے یہ سبق سیکھا جائے کہ جو ملک تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مضبوط ہوگیا اور جدید صنعتی ممالک کی فہرست میں شامل ہوا، اس کا دفاع مستحکم ہوا، پاکستان کی ترقی کی بنیاد صد فی صد خواندگی، صحتمند قوم اور غربت کی شرح صفر کرنے میں مضمر ہے اور یہ سب کچھ بجٹ کی ترجیحات کی تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube