عدلیہ اور غریب

SAMAA | - Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago

گجر اور اورنگی نالے سے ملحقہ گھروں کو مسمار کردینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے نے سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں کی اِس رائے کومزید صحیح ثابت کردیا ہے کہ  کراچی کی پلاننگ اور پالیسی سازی ایک شدید غریب مخالف سوچ کے تحت  کی جاتی ہےاوراس میں عدلیہ بھی شامل ہے۔کم آمدنی والی کمیونٹیوں کے لیےنظامِ عدلیہ تک رسائی حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔اگر کچھ ایسے وکیل نہ ہوتے کہ جوعوام کے ہمدرد ہوں تو متاثرکمیونٹیوں کی نمائندگی ممکن نہیں ہوتی۔اگریہ کمیونٹیاں چندہ جمع کرکے وکیل کر بھی لیتی ہیں تو کورٹ انتظامیہ کی جانب سے ان کے ساتھ  بے پرواہی کا سلوک اور مشکوک  رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ان سے کورٹ کی ایسی سماعتوں میں حاضری دینے کے لیے کہا جاتا ہے کہ جن کی تاریخ میں تبدیلی کسی اطلاع کے بغیر کردی جاتی ہے۔درخواست گذاروں کو یہ بھی شکایت رہتی ہے کہ انھیں اکثر کورٹ میں کاروائی کے دوران اندر داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

سپریم کورٹ نےنالوں سے ملحقہ لیز شدہ گھروں کو مسمار کرنے کا بھی حکم جاری کردیا ہے کیونکہ عدالت کے خیال میں یہ تمام لیز جعلی ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ کویہ بات بغیرکسی تفتیش کے کس طرح معلوم ہوئی۔یہاں یہ سوال پوچھنا بھی بجا ہے کہ کیا سپریم کورٹ متوسط آمدنی والےاورامیر علاقوں میں لیز شدہ گھروں کو مسمار کرنے کا حکم  لیز کے صحیح یا جعلی ہونے کی تفتیش کےبغیر جاری کردے گا۔

غریبوں اور امیروں کے متعلق فیصلوں کے مختلف معیارات ہیں۔ مثلاً، بحریہ ٹاؤن پر 460 بلین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا اور وہ زمین، جس پر اس نے ناجائز قبضہ کِیا تھا،اس کو اصل قیمت کے نہایت چھوٹے سے حصے پر با قاعدہ(ریگولرائز) کردیا گیا۔اتنے بڑے زمین کے فراڈ سے منسلک کسی بھی شخص کو گرفتار یا اس پرالزام عائد  نہیں کِیا گیا۔ پولیس اورسول انتظامیہ کے وہ اراکین کئی برس  سے بالکل آزاد ہیں اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی جنہوں نے زمین کے مالکان پر زبردستی کی کہ وہ زمین بحریہ ٹاؤن کے حوالے کردیں اور جن کے خلاف قتل کی ایف آئی آر بھی درج کی جاچکی ہیں۔

وزیرِاعظم عمران خان کی بنی گالا   کی ناجائز رہائش کو 6.66 فی مربع گز پر باقاعدہ کردیا گیا اور ایسا ہی معاملہ حیّات ریجنسی  کے اسلام آباد ماسٹر پلان  کی  خلاف ورزی کے ساتھ ہوا۔ لیکن کچی آبادی کے رہائشیوں  کی ریگولرائزیشن کی درخواستوں کو مسلسل مسترد  کیا جاتا رہا ہے۔

کراچی کے نالوں سے متصل گھروں کو مسمار صرف تیکنیکی مسائل کے سبب نہیں جارہا بلکہ ان کےسیاسی پہلو بھی ہیں۔منظور کالونی نالے سے ملحقہ  1205 آبادیاں مسمار ہونے والی تھیں لیکن اب یہ تعداد صرف 56 ہوگئی ہے کیونکہ جو 30 فٹ کی سڑکیں دونوں اطراف تعمیر ہونے والی تھیں ان کو منسوخ کردیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ تبدیلی اس لیے ہوئی کیونکہ مقامی ایم پی اے کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور اس کے پاس صوبائی حکومت  اثر و رسوخ تھا۔

گجر اور اورنگی نالوں سے متصل جو آبادیاں مسمار کی جارہی ہیں،وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے حلقوں میں شمار  ہوتی ہیں اور رہائشیوں کا یہ کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف نے  ان کی مدد کے لیے کوئی مداخلت نہیں کی۔ ان نالوں سے ملحقہ تعمیرات کو مسمار کرنے کی تعداد اتنی زیادہ اس وجہ سے ہے کیوں کہ ان کے دونوں اطراف 30 فٹ کی سڑکیں تعمیر ہورہی ہیں۔ اول یہ کہ یہ  سڑکیں  غیر قانونی ہیں  کیونکہ یہ شہر کے کسی بھی بڑے پلان کا حصہ نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے ان آبادیوں کو مسمار کرنے کا حکم تو جاری کردیا مگر ان غیرقانونی سڑکوں کی تعمیر روکنے کے لیے کوئی حکم جاری نہیں کِیا۔رہائشیوں کا یہ دعویٰ بہت معقول معلوم ہوتا ہے کہ یہ سڑکیں اس لیے تعمیر کی جارہی ہیں کیونکہ گجر نالہ ناردن بائی پاس کو لیاری ایکسپرس وے سے جوڑتا ہے اور یہ بات دونوں اطراف کی زمین کوغیر معمولی پراپرٹی بناتی ہے جس کو ڈیولپر حضرات چھیننے کے لیے کوشاں ہیں۔ اِسی اثنا میں شہر کے قدرتی نالوں پر حکومت اور اشرافیہ کی جانب سےغیر قانونی تعمیرات کو نہ صرف مسمار کیا گیا ہے اور نہ ان تعمیرات کی باضابطہ طور پر (آفیشلی)  شناخت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے متاثرین کو ملنے والے معاوضےمیں نا انصافی پر بھی کوئی بات نہیں کی۔ یہ رقم 2 سال کے دورانیے پر مشتمل 15 ہزار روپے فی ماہ ہے۔اس سے ان کو کوئی گھر نہیں مل سکتا اور غربت و پسماندگی میں 2 سال جینے کےبعد یہ لوگ کسی اور نالے کے گرد گھر بنا لیں گے نتیجتاً کراچی میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

حالاں کہ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔ لیکن اس پر عمل درآمد ہونے کے لیے کوئی دورانیہ نہیں بیان کیا گیا اور نہ ہی اس کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔2018 میں جب سرکلرریلوے کی بازیافت کے لیے  مسمار کیا گیا توسپریم کورٹ نے1 سال کی مدت میں متبادل رہائش گاہیں فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کو احکامات جاری کیے تھے۔ لیکن 3 برس ہوچکے ہیں  اور اس پر کوئی عمل در آمد نہیں ہوا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اپنے احکام کی تعمیل کا کوئی مطالبہ  کِیا۔

تحریکِ انصاف کی حکومت بے گھر لوگوں کو مکان فراہم کرنا چاہتی ہے مگر یہ مزید لوگوں کو بے گھر بنا رہی ہے۔یہ حکومت تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیتی ہے لیکن گجر اور اورنگی نالے سے متصل آبادیوں کے مسمار ہونےکے نتیجے میں 30 ہزار طلبہ اسکول جانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

یہ تعجب کی بات نہیں کہ انٹرنیشنل ورلڈ جسٹس پروگرام کی فہرست میں پاکستان کے  نظامِ عدلیہ کا درجہ 128 میں سے 120 ہے۔ ملک کو تنازعات سے پاک بنانے کے لیے   اس نظام  کی  اصلاح اور اس کے غریب مخالف رویے کی تبدیلی نہایت اہم ہے ۔ اس بات پر عمل در آمد  ترجیح ہونی چاہیے۔

یہ آرٹیکل (انگریزی میں) 20  جون 2021 کو انگریزی روزنامہ ’’ڈان‘‘  میں شائع ہوا۔

انگریزی سے اردو میں ترجمہ: منہاج علی

تعارفِ مترجم: منہاج علی این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے طالبِ علم ہیں

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube