Tuesday, August 3, 2021  | 23 Zilhaj, 1442

قومی اسمبلی ہنگامہ آرائی پارلیمانی سیاست کیلئے اچھا شگون نہیں

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago

قومی اسمبلی، جو آئین پاکستان کا محافظ اور ملک و قوم کیلئے قانون سازی کا فریضہ سر انجام دینے والا مقدس ایوان ہے لیکن بجٹ پیش کئے جانے کے بعد سے پارلیمنٹ طوفانِ بدتمیزی کی لپیٹ میں رہا، جس کی مثال پہلے کبھی دیکھی نہ سنی۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف جب تقریر کرنے آئے تو ایوان میں بدنظمی اور شور شرابہ عروج پر پہنچ گیا۔ اپوزیشن لیڈر کو اپنی بجٹ تقریر مکمل کرنے میں 3 دن لگے۔ اس دوران ارکان قومی اسمبلی نے ایک دوسرے سے گالم گلوچ کی، جمہوری روایات کی دھجیاں اڑائیں، بدزبانی کی گئی، پارلیمنٹ ایک ایسی جگہ بن گیا جہاں بازاری زبان استعمال کی گئی، یہ پاکستان کی تاریخ کا انتہائی شرمناک اور تشویشناک عمل تھا۔

قومی اسمبلی میں چار دن تک جو تماشہ برپا رہا وہ نا صرف پاکستانیوں بلکہ ساری دنیا نے دیکھا، جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا، اس سے بدتر صورتحال بلوچستان میں اُس وقت پیش آئی جب وہاں بجٹ پیش کیا جانا تھا۔ وزیراعلیٰ جام کمال خان پر جوتے پھینکے گئے، ارکان اسمبلی پر گملے اور پتھر مارے گئے۔ اپوزیشن نے اسمبلی کے گیٹ پر تالے لگادیئے، قومی اسمبلی کے بعد بلوچستان اسمبلی میں ہنگامہ آرائی پارلیمنٹ اور پارلیمانی سیاست کیلئے اچھا شگون نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی جو لب و لہجہ اور زبان استعمال کرتے ہیں وہ انتہائی غیر پارلیمانی ہوتی ہے، بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں، حکومت میں ہونے کے باوجود اُن کا انداز سیاست آج بھی اپوزیشن والا ہے۔ مخالفین کی بات کو نہ سننے اور عدم برداشت کی ایک بدترین مثال اُس وقت سامنے آئی جب وزیراعلیٰ پنجاب کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی قادر مندوخیل کو تھپر رسید کیا بلکہ اپنے مخصوص انداز میں نازیبا جملوں سے بھی نوازا۔

ماہ رمضان میں فردوس عاشق اعوان نے خاتون اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سونیا صدف کو باقاعدہ ڈانٹنے کے انداز میں کہا کہ آپ کی حرکتیں ہی نہیں ہیں اے سی (اسسٹنٹ کمشنر) والی۔ اس کے علاوہ بھی مزید بہت کچھ کہا۔ رواں سال قومی اسمبلی کے اجلاس میں پرویز اشرف نے اسپیکر سے شکایت کی کہ خاتون وزیر(شیریں مزاری) نے ہمارے رکن کو جو اشارہ کیا میں لبوں پر نہیں لا سکتا۔

مراد سعید، علی امین گنڈا پور، علی نواز اعوان اور دیگر ممبر قومی اسمبلی جو لب و لہجہ اور زبان استعمال کرتے ہیں اُسے کسی بھی طور پر پارلیمانی زبان نہیں کہا جاسکتا۔ عمران خان نے ’کنٹینر سیاست‘ میں جو لب و لہجہ استعمال کیا، غیر مہذب، غیر سیاسی روایات کو پروان چڑھایا، آج وہی سوچ ان کے ممبر پارلیمنٹ کے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ بات سیاسی اختلافات سے بڑھ کر نفرت، انا اور عدم برداشت تک پہنچ گئی ہے۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی جس طرح آپس میں الجھے، ایک دوسرے کو دھکے دیئے اور سرعام گالم گلوچ کی، حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمان کے تقدس اور حرمت کو مل کر پامال کیا، وہ انتہائی شرمناک عمل تھا۔ کئی وفاقی وزیر اس ہنگامہ آرائی سے لطف انداز ہوتے رہے۔ جو کچھ پارلیمنٹ میں ہوا اس پر اظہار افسوس اور شرمندگی کی بجائے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے، ’اگر تم ہماری بات نہیں سنو گے تو ہم بھی تمہیں بولنے نہیں دیں گے‘۔

مسلم لیگ ن نے بھی اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ آج ہوا ہے اس کے بعد مصلحت کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ اسپیکر اسمبلی پارلیمنٹ کا کسٹوڈین اور غیر جانبدار ہوتا ہے مگر اسپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے جانبدارنہ انداز میں ہاؤس کو چلایا، جس کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی، اب اپوزیشن اسپیکر کی کسی بات پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے موجودہ پارلیمنٹ کے تین برسوں میں صرف 16 بار ایوان میں اپنا چہرہ دکھایا، پہلے پارلیمانی سال میں عمران خان 12 مرتبہ حاضر ہوئے، دوسرے سال صرف ایک دفعہ جبکہ تیسرے سال میں عمران خان صرف 3 مرتبہ قومی اسمبلی اجلاس میں شریک ہوئے۔

تقریریں، الزامات در الزامات، پروڈکشن آرڈر، واک آؤٹ اور احتجاج، کورم کا بار بار ٹوٹ جانا، ان سبھی مناظرکے ساتھ پارلیمنٹ تین سال تک مچھلی بازار بنا رہا۔ ایوان میں موجود ارکان اسمبلی اور وزراء کو نہ تو غریب، بے بس، لاچار، مظلوم عوام کی پروا ہے اور نہ مہنگائی میں سر تک ڈوبے ہوئے غریبوں کی فکر ہے۔ آٹا، چینی، سبزی، دالیں اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سےغریب آدمی کیلئے ایک وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ دوسری طرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود اشرافیہ کا یہ حال ہے کہ وہ اس بات پر ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں کہ تم نے ہمارے قائد کی تقریر میں ہنگامہ کیوں کیا، لہٰذا اب ہم بھی تمہیں بات نہیں کرنے دیں گے۔

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی اور غیر پالیمانی زبان سننے کے بعد عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے، جہاں ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں پر عیش کرنے والے ممبر قومی اور صوبائی اسمبلی صرف اپنے لیڈر کی انا کی خوشنودی کیلئے قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کررہے ہیں۔

ارکان پارلیمنٹ کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کھلے عام بازاری گالیاں دے رہے ہیں، کبھی بازار میں، کبھی ٹی وی ٹاک شو میں اور کبھی پارلیمنٹ میں۔ اپنی حرکات پر شرمندہ ہونے، قوم سے معذرت کرنے کی بجائے، ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ہنگامہ عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے نہیں تھا، غربت کے خاتمہ کیلئے نہیں تھا، بیروزگاری کے خاتمے کیلئے نہیں تھا بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، اپنی انا کی تسکین، حسد کی آگ کو بجھانے کیلئے سب کچھ ہوا۔ نہ پارلیمنٹ کی توقیر کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی پاکستان کے تقدس کا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی جو جگ ہنسائی ہوئی اس کا بھی انہیں احساس نہیں۔

غریب پاکستان کے امیر پارلیمنٹرین کی تنخواہ اور مراعات کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ ایک غریب ملک کے رہنماء کس طرح قوم کے پیسوں پر فیضیاب ہورہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ممبران صوبائی اسمبلی کی سالانہ تنخواہ 11 ارب 13 کروڑ، سندھ اسمبلی کے ممبران کی سالانہ تنخواہ ساڑھے 3 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے ممبران اسمبلی کی سالانہ تنخواہ 2 ارب 60 کروڑ روپے، بلوچستان کے 65 اراکین کی سالانہ تنخواہ 10 کروڑ روپے، جبکہ قومی اسمبلی کے اراکین کی سالانہ تنخواہ 12 ارب 30 کروڑ روپے اور 104 سینیٹرز تنخواہ کی مد میں سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد لیتے ہیں۔

آپ کو یہ جان کر بھی حیرت ہوگی کہ جتنی ان ممبران اسمبلیوں کی تنخواہیں ہیں، اس سے دوگنا زیادہ مراعات حاصل کرتے ہیں، اگر تنخواہیں 35 سے 40 ارب کے قریب ہیں تو ہاؤس رینٹ، گاڑی، گھر اور ٹکٹ، بیرون ملک دورے اور رہائش وغیرہ کی مد میں یہ خرچ سالانہ 85 ارب روپے کے قریب پہنچ جاتا ہے، حالانکہ ان میں سے 90 فیصد ممبران اسمبلی ایسے ہیں جن کی اپنی ملیں، کارخانے اور بیرون ملک کاروبار ہیں۔

پاکستان کے پارلیمنٹیرینز کا دیگر ممالک کے پارلیمنٹیرینز سے موازنہ کیا جائے تو آنکھیں کھل جائیں گی، بھارت جس کی بندرگاہوں سے روزانہ کروڑوں ڈالر کا سامان عالمی منڈیوں کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے، جس کے 2 لاکھ سے زائد صنعتی یونٹس کی بھٹیاں پورا سال گرم رہتی ہیں، جس کے فارم دنیا میں سب سے زیادہ پیداوار دیتے ہیں، انڈیا دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے، اس کا رکن اسمبلی یعنی لوک سبھا کا ممبر 2007ء تک 15 ہزار روپے تنخواہ لیتے تھے۔ لوک سبھا کے ارکان نے 15 ہزار سے 30 ہزار ماہانہ تنخواہ کرنے کیلئے طویل جدوجہد کی۔ لوک سبھا کے ارکان نے جب اپنی تنخواہوں میں اضافے کا سوال اٹھایا تو انہیں جواب ملا، جس ملک کے 4 کروڑ عوام فٹ پاتھ پر سوتے ہوں، جس ملک کے 50 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہوں، جس ملک کا ہُنر مند اوسطاً 200 روپے روزانہ کماتا ہو، وہاں پر عوامی نمائندوں کی تنخواہ کو یکمشت کیسے بڑھایا جاسکتا ہے۔ ان اراکین لوک سبھا کی تنخواہیں 2018ء کے بجٹ میں 50 ہزار روپے سے زائد نہیں ہیں، جس میں اس کا ہاؤس الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور فون بل بھی شامل ہے۔

لوک سبھا میں ابھی تک ایسے ممبران کی ایک بڑی تعداد ہے جو رکشوں میں اجلاس میں شرکت کیلئے پہنچتے ہیں، جبکہ پاکستان میں کوئی بھی سیاستدان ایسا نہیں جس کے پاس ذاتی گھر، گاڑی، بینک بیلنس نہ ہو۔ یہاں تو اسمبلیوں تک پہنچنے کیلئے 50، 50 کروڑ روپے خرچ کرنا معمولی کی بات ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ ہی وہ سونے کی کان ہے جس میں کروڑوں لگا کے ممبر بنو اور پھر اربوں کما لو۔ اس کے علاوہ ایک مثال ترکی کی پارلیمان کی ہے، 70 فیصد سے زائد اراکین اپنی تنخواہیں واپس سرکاری خزانوں میں جمع کرواتے ہیں اور اگر کسی غیر ملکی دورے پر جانا مقصود ہو تو یہ ممبران اپنے سفارتخانے میں یا سفیروں کے گھروں میں بطور مہمان ٹھہرتے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستانی ممبران اسمبلی کی اپنی مراعات تو ایک طرف، نہلے پہ دہلا یہ کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں اور ہر ایک کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے، ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری سے لے کر روزمرہ کے اخراجات پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہر چیئرمین کو گریڈ 17 کا پرائیویٹ سیکریٹری، گریڈ 15 کا ایک اسٹینو، ایک نائب قاصد، 1300 سی سی کی نئی گاڑی، رہائش پر فری فون کی سہولت بھی حاصل ہوتی ہے۔ ان کے ذاتی ملازمین کی تنخواہیں اور دفاتر کے روزمرہ اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ انہیں اجلاس شروع ہونے سے 3 روز پہلے اور 3 روز بعد تک کا ٹی اے ڈی اے دیا جاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق ن لیگ کے دور حکومت میں یہ 50 کمیٹیاں ساڑھے 4 ارب روپے خرچ کرچکی تھیں۔

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں حکومت کی جانب سے جون 2020ء میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ارکان پارلیمان کو ملنے والے سالانہ 25 ریٹرن ہوائی ٹکٹوں کے بدلے میں سفری واؤچر جاری کئے جائیں گے جو ارکان کے اہلخانہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ (ایک اندازے کے مطابق سفری واؤچر کی مالیت سالانہ 3 لاکھ روپے بنتی ہے۔) صرف یہی نہیں بلکہ سال 2019/20ء کے غیر استعمال شدہ ٹکٹس اور واؤچرز 30 جون 2020ء تک قابل قبول ہوں گے۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ قواعد کے تحت ارکان پارلیمنٹ اسلام آباد سفر کیلئے ہر سال 25 بزنس کلاس اوپن ریٹرن ٹکٹ کے مستحق ہیں۔

قوم کا درد بھرنے والے اور غریبوں کی نمائندگی کرنیوالے ارب پتی اور کروڑ پتی ارکان اسمبلی کی مراعات کا سلسلہ یہاں نہیں رکتا بلکہ ممبر پارلیمنٹ تنخواہ اور مراعات کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کیلئے 2800 روپے یومیہ الاؤنس اور 2 ہزار روپے ہاؤس الاؤنس بھی ملتا ہے۔ اس مراعات اور تنخواہ پر بھی عوامی نمائندے خوش نہیں ہیں، وہ عوامی خدمت کے بدلے میں اس سے زیادہ کے طلبگار ہیں، ان کی خواہشات کا اندازہ اس بل سے لگایا جاسکتا ہے۔ فروری 2020ء میں ارکان پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، مجوزہ بل کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 79 ہزار روپے کے برابر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ 29 ہزار روپے کے برابر کرنے کی تجویز تھی۔ سینیٹرز نے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ میں ترمیم کرکے اراکین کی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز دی تھی مگر یہ بل منظور نہ ہوسکا۔

وطن عزیز پر دو فیصد اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ ایوانوں میں 98 فیصد یہی طبقہ قابض ہے، عوام یہ بات سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ فرسودہ سسٹم یوں ہی چلتا رہے گا یا کوئی تبدیلی آئے گی۔ عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لگاکر آئے تھے وہ خود ایک بوسیدہ نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔ عوام آج بھی تبدیلی کیلئے پُرامید ہیں مگر یہ تبدیلی کون لائے گا؟، جو کچھ پارلیمنٹ میں ہوا وہ اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ یہ سیاستدان ملک چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی اجارہ داری کو اب ختم ہونا چاہئے، ملک میں ایک حقیقی جمہوری نظام کی ضرورت ہے، جس کی قیادت تعلیم یافتہ، بااخلاق، تہذیب یافتہ، نوجوان قیادت کے ہاتھوں میں ہو، وہی ملک میں مسلط بوسیدہ نظام کو تبدیل کرسکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. Ahnuf Asim  June 20, 2021 12:47 am/ Reply

    Pakistan now become dirty politics unmature behavior of all members

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube