Tuesday, August 3, 2021  | 23 Zilhaj, 1442

مقبوضہ کشمیر کے 2 ٹکڑے کرنے کی بھارتی سازش

SAMAA | - Posted: Jun 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 18, 2021 | Last Updated: 2 months ago

مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت جیلوں میں اور بھارت  نواز قیادت پر نوازشیں بند ہیں تاہم آزاد کشمیر کی قیادت کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ انتخابات کا موسم ہے اور بعض لوگ مظفرآباد پانے کے جنون میں کروڑوں روپے لٹا رہے ہیں۔ جو لیڈر 5 سال سے نظر نہیں آئے اب فعال ہوچکے ہیں۔

شنید یہ ہے کہ 25 جولائی کو وہ لوگ سب سے زیادہ ووٹ لیں گے جو کھلے عام کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر پاکستان کا صوبہ ہونا چاہیے۔ المیہ یہ ہے کہ اس دنگل میں کوئی ایک پارٹی بھی ایسی نہیں جسے اس پار کے معصوموں کی فکر ہو۔ مسلم کانفرنس بھی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹ منٹ چاہتی ہے۔ البتہ منظور قادر ایڈووکیٹ یہ جاننے کے باوجود کہ ہر حلقے میں دو چار سو ووٹوں سے زیادہ کچھ نہیں ملنا کے ایچ خورشید کی سوچ کے ساتھ لبریشن لیگ کے کارکنوں کو اسی دنگل میں اتار چکے ہیں۔ منظور قادر  کے منشور کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ کابینہ میں وزیر خارجہ اور دفاع کا اضافہ چاہتے ہیں۔

حریت رہنماء سید صلاح الدین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان، مجاہدین کشمیر کو اسلحہ مہیا کرے جو پاکستان کی ذمہ داری اور مجاہدین کا حق ہے. بے شک کشمیریوں کا یہ حق ہے کہ  بھارتی فورسز ان سے جو سلوک کریں کشمیری بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں لیکن کشمیری بارود لائیں کہاں سے کیوں کہ بین الاقوامی دباؤ کے باعث پاکستان تو یہ کام کر نہیں سکتا۔

لبریشن فرنٹ کے چئیرمین سردار صغیر ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ 25 جولائی کے عمل سے 73 برس قبل تقسیم کی گئی ریاست کشمیر کے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کر دی جائے گی۔ لہذا اس شر انگیز عمل سے دور اور گناہ کبیرہ سے دامن بچایا جائے۔ وفاقی حکومت کے اقدامات سے آزاد کشمیر کا انتخابی عمل غیر شفاف اور کشمیر، پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہونے سے خو پاکستان کو نقصان ہو گا لہذا وہ قوتیں جو مسئلہ کشمیر کو ساتھ لے کر چل رہی ہیں وفاق کو باور کرائیں کہ انتخابات کے لیے 6 ارب روپے کا انکار سمجھ میں آتا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات کا بوجھ اپنے سر پر اٹھائے۔ لیکن ریگولر بجٹ سے 4 ارب روپے کاٹ کر وفاقی وزیر امور کشمیر کی صوابدید پہ چھوڑ دینا، ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی آمدنی میں کمی، آزاد کشمیر اسمبلی اور جموں و کشمیر کے عوام کی توہین ہے۔ جاتی امرا سے تعلق کے باوجود ساری سیاسی پارٹیوں اور آزاد کشمیر کے عوام کو فاروق حیدر خان کے اس موقف کی حمایت کرنی چاہیے کہ وفاقی وزیر امور کشمیر کا کشمیری عوام کے بجٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ منظور نہ ہونے کے باعث ریاست میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے اور اس کے حل کے لیے وفاق کوئی غیر آئنی اقدام کرتا ہے تو اس کا جو نقصان ہو گا اس کا اندازہ قبل از وقت کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

یہ مسلم لیگ یا پی ٹی آئی کا مسئلہ نہیں پاکستان اور کشمیریوں کے تعلق کا مسئلہ ہے۔ مظفرآباد اسلام آباد تعلقات کراچی اسلام آباد کی طرح نہیں اس میں بہت فرق ہے اور ذمہ دار افراد کو اس فرق کا احساس بھی کرنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ عمران خان کسی سازش کا شکار نہیں ہوں گے۔

کشمیر کی جغرافیائی حیثیت جو مودی نے 5 اگست 2019 کو تبدیل کی تھی وہ اس سے مطمئن نہیں بلکہ مزید ٹکڑے کرنے کے درپے ہے۔ نئی چالیں سوچی جا رہی ہیں، نئی حکمت عملی پر کام ہو ریا ہے کئی منصوبوں پر غور ہو رہا ہے۔ آٹھ جون کو مقبوضہ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ایمرجنسی دلی طلب کیا گیا۔ جہاں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور ہوم سیکریٹری اے کے بھلہ سے اس کی کئی گھنٹے ملاقات ہوئی۔ وفاقی نمائندوں سے ملاقات کے فوری بعد سنہا نے ڈی جی پولیس کے ہمراہ  مقبوضہ علاقے کی سیاسی جماعتوں جو آج کل نئی دلی کی چہتی ہیں اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد لون سے ملاقات کی جب کہ اسی دوران مقبوضہ کشمیر میں اضافی فوج روانہ کر دی گئی۔ یہ سطور لکھنے تک 40 ہزار سے زائد  فورسز کے تازہ دستے کشمیر پہنچ چکے تھے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ شیوا سینا کے انتہاء پسند ہیں جنہیں کشمیریوں  کے قتل عام، خواتین کا ریپ اور دہشت گردی کی خاص تربیت دی گئی ہے۔ جموں اور جنوبی کشمیر کو ملانے والی مغل شاہراہ کو بغیر کسی وجہ کے بند کردیا گیا۔ لکھن پور سے ہزاروں کی تعداد میں غیر کشمیریوں کو جموں و کشمیر لایا گیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ ہے کہ رام ہال، کرالپورہ، کیرن، ٹیکی پورہ، کرناہ، راجواڑ، ماوراور کپواڑہ کے علاقوں میں بھارتی فوج کی بارڈر سیکورٹی فورس اورانڈین تبت بارڈر پولیس کے نئے کیمپ قائم کئے جارہے ہیں۔ جب کہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 18 ہزار بنکر تعمیر کرنے پر کام شروع ہے جن میں سے 8 ہزار مکمل بھی ہو چکے۔ کپواڑہ میں مختلف مقامات پر ملٹری کانوائے میں بڑی گاڑیوں کے علاوہ ٹینک اور توپیں راجواڑ کی طرف  جاتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔

مقامی صحافیوں کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز خبر دے رہے ہیں کہ  مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ دو روز سے 5 اگست 2019 سے چند دن قبل والی کیفیت ہے۔  لوگوں میں فوجی نقل و حرکت سے زبردست بے چینی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مختلف افواہوں، قیاس آرائیوں اور اندیشوں کا بازار گرم ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی منطق بیان کر رہا ہے۔ یہ افواہ زیادہ  گرم ہے کہ جموں خطے کو پھر سے ریاست کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جب کہ وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام برقرار رہے گی۔

دوسری افواہ ہے کہ وادی کے جنوبی حصے کو جموں میں ضم کر کے ایک نئی ریاست جموں قائم کی جائے گی اور شمالی حصے کو لداخ کے ساتھ شامل کر کے ریاست لداخ قائم کیے جانے پر سوچا جا رہا ہے ۔کشمیر جو 4 ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے موجود تھا، سولائزڈ معاشرہ ،مضبوط کلچر اور وسیع زبان رکھتا ہے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے اس کا نام  دنیا سے مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایک افواہ یہ بھی ہے کہ مودی حکومت کشمیری پنڈتوں کے لیے بھارت کے زیر انتظام ایک علیحدہ علاقے کا اعلان کرنے والی ہے تاکہ وہاں کشمیری پنڈتوں کو بسایا جا سکے۔ کشمیر میڈیا سروس نے ساؤتھ ایشین وائر کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں ایک اور منصوبہ بندی پر کام ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے کی سیاست سے مسلمانوں کا کردار ہمیشہ کے لیے ختم  اورانتظامی معاملات میں ان کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں اہم انتظامی تبدیلیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور جموں و کشمیر اسمبلی میں ہندو اکثریتی خطے کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں طریق کار وضع کیا جا رہا ہے اور رواں سال کے آخر میں باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ ان افواہوں کے جواب میں بھارت نے پھسپھسا بیان جاری کیا کہ فوج کی نقل و حمل معمول کی سرگرمی اور فوجی مشقیں ہیں۔ جب کہ پاکستان نے اس پر اکتفا کیا کہ “بھارت متنازعہ علاقے کی جغرافیائی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا ” بھارت کے اس اعلان کے باوجود  خدشات کو اس وقت  تقویت ملتی ہے جب  بھاجپا اورجموں کی ہندو تنظیموں کی طرف سے جموں کو الگ ریاست بنانے کا مطالبہ سامنے آنے لگتا ہے۔

ہندوں کی یہ دہشت گرد اور فاشسٹ تنظیمیں بے سبب  اس طرح کا مطالبہ نہیں کرتیں بلکہ بی جے پی حکومت کے کہنے پر کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں حکومت پاکستان کو آزاد کشمیر کی سیاست فتح کرنے کے لیے آزاد کشمیر کے بجٹ سے 4 ارب روپے کاٹ کر وفاقی وزیر امور کشمیر کو دینا اور آزاد کشمیر کی ذاتی آمدنی پر ہاتھ صاف کرنا یا آزاد کشمیر کی جاتی ہوئی حکومت کے ساتھ کوئی تنازعہ کھڑا کرنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ایسے اقدامات سے آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مایوس کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا اور نہ کوئی سیاسی فائدہ ملے گا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube