Tuesday, August 3, 2021  | 23 Zilhaj, 1442

بھارت اور نیوزی لینڈ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن ٹائٹل کیلئے مدمقابل

SAMAA | - Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کرونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک نے کھیلوں کی دنیا کے شیڈول کو بھی درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا لیکن اب کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔ کرونا ویکسی نیشن اور وبا کوکنٹرول کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں فٹبال، کرکٹ، ٹینس اور دیگر کھیلوں کے مقابلے شروع ہو گئے ہیں۔ برطانیہ کو کرکٹ کا گھر کہا جاتا ہے جہاں پہلی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل جمعہ سے ساؤتھمپٹن کے روز  باؤل اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ اور بھارت کے مابین کھیلا جائے گا جو 18 سے 22 تک جاری رہے گا جبکہ 23 جون ریزور دن ہو گا۔

برطانیہ میں کرونا پابندیوں میں نرمی کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب اسپورٹس ایونٹس دیکھنے کے لیے تماشائیوں کی محدود تعداد کو اسٹیڈیم میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل بھی 4 ہزار تماشائی دیکھ  سکیں گے۔ اس میں سے 2 ہزار ٹکٹ ہمشائر کاؤنٹی کلب فروخت کرے گا جبکہ 2 ہزار ٹکٹ آئی سی سی نے اپنے سپانسرزاور دیگر سٹیک ہولڈرز کے لیے مختص کیے ہیں۔ ہمپشائر کاؤنٹی کلب کا کہنا ہے کہ شائقین کرکٹ میں اس فائنل کو دیکھنے کے لیے زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے اور انہیں ٹکٹوں کیلئے  مقررہ تعداد سے کئی گنا زیادہ درخواستیں ویب سائٹ پر موصول ہوئی ہیں۔

نیوزی لینڈ نے کین ولیمسن کی قیادت میں فائنل ٹیسٹ کیلئے 15 رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے جس میں ٹام بلنڈل، ٹرینٹ بولٹ، ڈیون کونوے، کولن ڈی گرینڈ ہوم، میٹ ہنری، کائل جیمیسن، ٹام لیتھم، ہنری نکولس، اعجاز پٹیل، ٹم ساؤتھی، راس ٹیلر، نیل ٹیلر، بی جے واٹلنگ اور ول ینگ شامل ہیں۔  بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی ہیں اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں اجنکیا ربہانے، شبھمان گل، روہت شرما، چتیشور پوجارا، ہنوما ویہاری، وردیمان ساہا، روی چندرن ایشون، رویندرا جدیجا، جسپرت بمرا، ایشانت شرما، محمد شامی، امیش یادیو اور محمد سراج شامل ہیں۔

کیوی کپتان کین ولیمسن کہنی زخمی ہونے اور  بی جے واٹلنگ کمرکی تکلیف کی وجہ سے انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ لیکن اب فٹ ہو کر  ٹیم میں ان دونوں کی  واپسی سے نیوزی لینڈ کی  بیٹنگ مستحکم ہوگی۔ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل واٹلنگ کے ٹیسٹ کیریئرکا آخری میچ ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اس میچ کو فتح کے ساتھ یادگار بناتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہنا چاہتا ہوں۔ واٹلنگ نے دورہ انگلینڈ کے آغاز پر ہی ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ دورہ انگلینڈ کے لیے نیوزی لینڈ کا اسکواڈ 20 کھلاڑیوں پر مشتمل تھا جن میں سے ٹیسٹ چیمپئن شپ 15 کھلاڑیوں کو چنا گیا۔  باقی رہ جانے والے کھلاڑیوں میں ڈوگ بریسویل، جیکب ڈیفی، ڈیرل مچل، رچن رویندرا اور مچل سٹیٹنر شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ نے اپنے آخری 8 ٹیسٹ میچوں میں سے 7 ٹیسٹ میچ جیتے ہیں جبکہ انگلینڈ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ ڈرا ہوا ہے۔ طویل دورانیے کی کرکٹ میں کیویز بیٹسمین اور بلے باز شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

بھارت نے سن 2019 سے  تاحال آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، انگلینڈ، نیوزی لینڈ  کے خلاف 18 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے  12 جیتے چار ہارے اور دو ڈرا ہوئے۔ نیوزی لینڈ اور بھارت کے مابین نیوزی لینڈ کی سرزمین پر دو ٹیسٹ میچ کھیلے گئے تھے جن میں نیوزی لینڈ فتح یاب رہا تھا۔  نیوزی لینڈ نے سن 2019 کے بعد 17  ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 11 جیتے چارہارے اور دو ڈرا ہوئے۔ یہ ٹیسٹ میچ  انگلینڈ، پاکستان، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، بھارت  اور بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے۔ کیویز کرکٹ ٹیم فروری 2020 سے ٹیسٹ میچوں میں ناقابل شکست ہے۔

آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے لیے دونوں کرکٹ ٹیمیں  انگلینڈ  میں موجود ہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے گزشتہ دنوں انگلینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-0  سے کامیابی حاصل کر کے اپنے خطرناک ارادوں کا  اظہار کر دیا ہے۔ سن 1999 کے بعد انگلش سرزمین پر نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ سیریزمیں یہ پہلی کامیابی تھی۔ کیویز ٹیم گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آئی ہے جس کی فتوحات کا تناسب دیگر ٹیسٹ ٹیموں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سن 2014 کے بعد سے ٹیم کی کارکردگی قابل رشک ہے۔ سن 2014 سے سن 2021 تک نیوزی لینڈ نے 59 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں سے 32 ٹیسٹ میں کامیابی نصیب ہوئی اور 17 ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی۔ جبکہ 10 ٹیسٹ ڈرا ہوئے۔ اس سے قبل 2007  سے 2013  کے دوران کیویز نے 57 ٹیسٹ میچ کھیلے تھے جن میں سے وہ صرف 12 ٹیسٹ میچ جیت سکے تھے اور 27 میں ناکامی کیویز کا مقدر بنی تھی۔ 18 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے تھے۔ اس دورانیے میں نیوزی لینڈ کا ہار جیت کا تناسب انتہائی خراب تھا اور وہ صرف زمبابوے ویسٹ انڈیزاور بنگلہ دیش سے بہتر تھا مگر گزشتہ سات برسوں میں نیوزی لینڈ نے خود کو ایک ناقابل تسخیر ٹیم کی شکل میں ڈھالا اور فتوحات کے سلسلے کو بھی دراز کیا اور ہار جیت کے تناسب کے اعتبار سے بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔  بھارت نے ہوم گراؤنڈ پر انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریزمیں 3-1 سے شکست دے کر ٹیسٹ چیمپئن شپ میں جگہ بنائی تھی۔  نیوزی لینڈ اور بھارت کی  ٹیموں نے شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل کیلئے کوالیفائی کیا  ورنہ ان سے قبل آسٹریلیا اور انگلینڈ فائنل کیلئے دوڑ تھے۔

فائنل کی فاتح ٹیم کو ٹیسٹ چیمپئن شپ عصا  کے علاوہ 1.6 ملین امریکی ڈالر اور رنرز اپ ٹیم کو 8 لاکھ  امریکی ڈالر کی انعامی رقم ملے گی۔ اگر میچ نتیجہ خیز نہ ہو سکا تو دونوں ٹیموں کو مشترکہ فاتح قرار دیا جائے گا اور 2.4 ملین ڈالر کی رقم دونوں میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔ فائنل نتیجہ خیز نہ  ہونے کی صورت میں نیوزی لینڈ اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں مشترکہ طور پر یہ عصا رکھیں گی۔  پہلے یہ عصا ہر سال ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آنے والی کرکٹ ٹیم کو دیا جاتا تھا لیکن اب یہ عصا ٹیسٹ چیمپئن ٹیم کو دیا جائے گا۔ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ریٹنگ میں تیسرے نمبرپرآنے والی آسٹریلوی ٹیم کو  ساڑھے 4 لاکھ  ڈالر، چوتھے نمبر پر آنے والی انگلینڈ کی ٹیم کو 3 لاکھ ڈالر اور پانچویں نمبر پر آنے والی پاکستانی ٹیم کو 2 لاکھ ڈالر انعامی رقم ملے گی۔ جبکہ اس ٹیم چیمپئن شپ میں شریک دیگر ٹیموں ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کو ایک لاکھ ڈالر فی ٹیم ملیں گے۔

اولین ٹیسٹ چیمپئن شپ کرونا وائرس کوویڈ 19 کی وجہ سے متاثر ہوئی کیونکہ کرونا کے پھیلاؤ اور سفری پابندیوں کی وجہ سے ٹیسٹ سیریز کو ملتوی کرنا پڑا تھا۔ جس کا اثر ٹیم کی پوائنٹس ریٹنگ پر بھی  پڑا۔ آسٹریلیا کو بڑا دھچکہ  لگا جو کہ فائنل کا ایک مضبوط امیدوار تھا۔ کرونا وائرس پھیلاؤ کے سبب جنوبی افریقہ کے خلاف آسٹریلیا کی اوے سیریز 2 فروری 2021 میں منسوخ کرنا پڑی تھی جس کی وجہ سے وہ فائنل میں اپنی یقینی جگہ سے محروم ہو گیا۔ آسٹریلیا کو سلو بولنگ ریٹ کی وجہ سے پوائنٹس کم کر دیئے گئے تھے جس کا بھارت کو  فائدہ ہو گیا تھا۔ آئی سی سی کے عبوری سی ای او جیف ایلڈرائس کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے وسط میں کرونا کی وجہ سے سارا پلان متاثر ہوا جس کی نتیجے میں کئی ٹیسٹ سیریز کوری شیڈول کرنا پڑا اور آئی سی سی کو بھی بھی تبدیلیاں کرنی پڑی تھیں۔ چار سال ٹیسٹ چیمپئن شپ کے انعقاد کا منصوبہ اس لیے بنایا گیا تھا کہ پانچ روزہ کرکٹ میں دنیا بھر کے لوگوں کی دل چسپی پیدا کی جا سکے۔

آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز یکم اگست 2019 کو ہوا  تھا۔ آئی سی سی نے 10 سال قبل سن 2010 میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آئیڈیا پیش کیا تھا جس کے بعد دو مرتبہ 2013 اور 2017 میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کے انعقاد کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ آئی سی سی نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے 12 ملکوں میں ٹیسٹ چیمپئن شپ کیلئے 9 ملکوں کو شامل کیا۔ ان میں سے ہر ٹیم کو باقی آٹھ ٹیموں میں سے کم ازکم 6 ٹیموں کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنی تھیں جو کہ دو ٹیسٹ سے 5 ٹیسٹ پر مشتمل ہوں۔  ان میں 3 ٹیسٹ سیزیز  ہوم اور تین ٹیسٹ سیریز اوے یعنی بیرون ملک کھیلی گئی ہوں۔ ہرٹیم سیریز سے زیادہ سے زیادہ 120 پوائٹس حاصل کر سکتی  ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر دو ٹاپ ٹیمیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کھیلنے کی حقدار ہوں گی۔

بھارت نے سن 2013 میں مہندرا سنگھ دھونی کی قیادت میں چیمپئنز ٹرافی جیتی تھی جو بھارت کی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں آخری ٹرافی تھی اس کے بعد بھارت نے آئی سی سی کے 5 ٹورنامنٹ میں شرکت کی جس میں 4 مرتبہ اسے سیمی فائنلز میں شکست کا منہ دیکھا پڑا جبکہ ایک مرتبہ فائنل میں شکست ہوئی۔ بھارت کو سن 2016 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز نے ہرا دیا تھا۔ چیمپئنز ٹرافی سن 2017 کے فانئل میں  بھارت کو روایتی حریف پاکستان نے 180 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی تھی جس میں اوپنر فخرزمان کی 114 رنز کی طوفانی اننگز نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح بھارت کو  آخری مرتبہ 2019 میں انگلینڈ  میں ہونے والے  آئی سی سی ورلڈ کپ  کے سیمی فائنل میں  نیوزی لینڈ نے 18 رنز سے زیر کیا تھا جبکہ فانئل میں میزبان  انگلینڈ  کو نیوزی لینڈ کے خلاف  متنازع  رن پر فاتح قرار دیا گیا تھا جس کا اعتراف بعد میں کیا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن کے اعزاز کیلئے میدان میں اتر رہی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے پاس بہترین بلے باز اور  بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے والے بولرہیں۔  نیوزی لینڈ کو اپنے  فاسٹ بولنگ اسکواڈ کی وجہ سے بھارت پر برتری حاصل ہے کیونکہ زورباؤل کی وکٹ باؤنسی اور فاسٹ بولرز کیلئے سازگار ہے۔ بھارت نے مارچ کے بعد سے کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا  جبکہ نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔  کیویز اپنے فاسٹ بولرز  ٹرینٹ بولٹ، ٹم ساؤتھی نیل ویگنز کائیل جیمیسن پر انحصار کرے گی جبکہ ان کی معاونت کیلئے اسپنر اعجاز پٹیل ہوں گے جنہوں نے کیویز کو انگلینڈ کے خلاف دوسرا ٹیسٹ جتوانے میں کلیدی کردارادا کیا۔ بھارت نے بھی اسکواڈ میں پانچ فاسٹ بولر رکھے ہیں لیکن امکان ہے کہ وہ جسپرت بمرا، محمد شامی، محمد سراج، امیش یادیو اور ایشانت شرما میں سے تین کو حتمی الیون میں شامل کرے گا اور دو اسپن  آل راؤنڈر ریوندرا جدیجا اور روی چندرن ایشون کو ان کے ساتھ رکھے گا جو بہترین اسپن بولنگ کے ساتھ قابل اعتماد بیٹنگ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے پاس اچھے بلے بازہیں۔ بھارت کو کپتان کوہلی‘روہت شرما، شبمان گل، اجنکیا ریہانے اور وردیمان ساہا  کی خدمات حاصل ہیں تو کیویز کے پاس کپتان کین ولیمسن، ٹام لیتھم، راس ٹیلر، بی جے واٹلنگ، کولن ڈی گرینڈ ہوم، ٹام بلنڈل اور ڈیون کونوے جیسے بیٹسمین ہیں جوکسی بھی بولنگ کے سامنے مزاحمت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کونسی ٹیم حریف کو دو مرتبہ آوٹ کرنے  کے بعد مطلوبہ ہدف حاصل کر کے  ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن بنتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube