Monday, October 18, 2021  | 11 Rabiulawal, 1443

کشیریوں کی تحریک آزادی کامیاب کیوں نہیں ہوپارہی؟

SAMAA | - Posted: Jun 14, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 14, 2021 | Last Updated: 4 months ago

دنیا میں آزادی کی جتنی بھی تحریکیں چل رہی ہیں ان کا تقابلی جائزے لیا جائے تو کشمیریوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن ان کی تحریک سن 1947 میں جس مقام سے شروع ہوئی تھی آج ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھی بلکہ طویل سفر اور لازوال مالی و جانی قربانیوں کے بعد خاتمے کی طرف گامزن ہے۔

انیس سو 80 کی دہائی میں فلسطین سمیت دنیا کے بہت سے خطوں میں آزادی کی تحریکیں عروج پر رہیں اور کئی ملک اور قومیں آزاد بھی ہوئے جبکہ 27 سے زائد ممالک نے اقوام متحدہ کی ممبر شپ بھی حاصل کرلی لیکن جن تحریکوں کے ساتھ مسلم کا نام آیا وسط ایشیا کے علاوہ وہ سب آج بھی منجدھار میں پھنسی ہیں۔
بھارت میں کئی تحریکوں نے سر اٹھایا۔ ان میں سکھوں کی خالصتان تحریک نے جرنیل سنگھ بھندراں والا کی قیادت میں خاصی قوت حاصل کی۔ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں آپریشن بلیو اسٹار کے ذریعے یکم تا 10 جون 1984 سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل پر فوج کشی کرتے ہوئے عمارت زمین بوس اور جرنیل سنگھ بھنڈراں والہ سمیت کئی سو افراد کو ہلاک کیا گیا۔ سن 1981 سے اب تک سکھوں کی آزادی کی تحریک میں کل 21 ہزار 687 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں ایک ہزار 764 فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ لگ بھگ 20 ہزار افراد کی قربانی سے سکھ تحریک دنیا بھر میں پھیل چکی۔ اس عشرے کے دوران بھارت میں دیگر جن آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا ان میں مختلف ریاستوں میں ماؤ نواز تحریک زیادہ مقبول ہے۔ نکسلائیٹ تحریک کا آغاز نکسل پارٹی نے کیا تھا جو اب بھارت کی 20 ریاستوں آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، ہریانہ ، جھارکھنڈ ، کرناٹک ،کیرالا ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیسہ ، راجستھان، تامل ناڈو، تلنگانہ ، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال تک پھیل چکی۔ بھارتی فورسز کو سب سے زیادہ نقصان نکسل جنگجوؤں نے پہنچایا۔ ان کے پاس جدید اسلحہ راکٹ لانچرز انٹی گن میزائل اور جدید ذرائع کمیونیکیشن بھی موجود ہے۔ اتنے وسیع رقبے پر پھیلی نکسل تحریک میں اب تک مرنے والوں میں 3 ہزار 857 عام شہری، 2 ہزار 615 فورسز اہلکار، 4ہزار 114 علیحدگی پسند اور 252 دیگر افراد شامل ہیں۔ تحریک سے متعلقہ 4 ہزار افراد ہلاک ہوئے جب کہ انہوں نے ڈھائی ہزار فوجی ہلاک کیے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک میں مجموعی طور پر لگ بھگ 7 لاکھ انسانوں کی جانیں قربان ہوئیں اور 4 اکتوبر 1947 تا 6 نومبر 1947 صرف 4 ہفتوں کے دوران پونے دو لاکھ افراد کو سرکاری سرپرستی میں جموں شہر سے بسوں میں بھر بھر کر جنگلوں اور ندی نالوں میں لے جا کر مارا گیا۔ جب خون آلود بسوں کو ندی نالوں میں دھویا جاتا تو جموں شہر کے قریب سے گزرنے والی نہر خون سے سرخ اور گوشت کے لوتھڑے پانی میں بہتے نظر آتے۔جبکہ 80 کی دہائی سے اب تک سب سے زیادہ مالی و جانی نقصان بھی کشمیریوں ہی کا ہوا اور 95 ہزار 790 افراد شہید ہوئے جن میں 904 بچے بھی شامل ہیں۔اس دوران 22 ہزار 9 سو 10 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 7 ہزار 8 سو 80 بچے یتیم ہوئے۔ اسی عرصے میں بھارتی فورسز نے 11 ہزار 175 خواتین کا ریپ کیا۔ ایک لاکھ 43 ہزار 48 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 7 ہزار 99 افراد دورانِ حراست شہید کیے گئے۔ ایک لاکھ 8 ہزار 596 رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کو نذر آتش کیا گیا۔

جولائی 2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج نے 20 ہزار 873 عام شہریوں کو زخمی کیا۔ پیلیٹ گنوں کے بے دریغ استعمال سے 8 ہزار 355 زخمی اور ان کے چہرے داغ دار ہوئے جبکہ 73 افراد بینائی سے مکمل اور 207 ایک آنکھ سے محروم ہو گئے۔ کل 974 نوجوانوں کی دونوں آنکھیں زخمی اور 80 فی صد بینائی متاثر ہوئی۔ اسی دوران 18 ہزار 990 افراد گرفتار ہوئے۔ پانچ سو سے زائد مزارِ اور مساجد کو شہید اور ایک لاکھ 94 ہزار 451 املاک کو تباہ کیا گیا۔ مسلسل لاک ڈاﺅن، کرفیو، ہڑتالوں اور مسلحہ جھڑپوں سے کشمیر کی معیشت کو ایک ہزار ارب روپے کا نقصان پہنچا، 14 ہزار سے زائد افراد پر ٹارچر سیلوں میں تشدد کیا جا رہا ہے، دو نامور اور معروف رہنماوں مقبول بٹ، اور افضل گرو کو پھانسی دی گئی۔ 10 ہزار افراد لاپتی کر دیے گئے جبکہ انتظامیہ 4 ہزار کا اعتراف کرتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں اجتماعی گم نام قبریں نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ قبریں انہی معصوموں کی ہو سکتی ہیں۔

اتنے زیادہ جانی و مالی نقصان کے باوجود قابض بھارت پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا۔ قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روزانہ کا معمول ہے۔ کشمیری قربانیاں تو دے رہے ہیں لیکن اپنی تحریک کو آزادی کی تحریک تسلیم کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر اب بھی دنیا میں ایک قوم کی آزادی کا نہیں جنوبی ایشیا میں دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔

قومی آزادی کی تحریک اور دو ملکوں کے درمیان تنازعے میں بہت زیادہ فرق ہے جس وجہ سے تحریک توجہ حاصل نہیں کر سکی۔ اس میں قصور دونوں جانب کی کشمیری قیادت کا ہی ہے۔ سن 1947 میں دونوں جانب کی کشمیری قیادت یہ سمجھی کہ ان کے مقاصد پورے اور منزل مل گئی۔ بھارت پر بھروسہ شیخ عبداللہ کی بے وقوفی اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ قبل از وقت تھا۔ اس غلطی کا بعد میں آنے والی قیادتوں نے یا تو ازالہ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی یا وہ ویژن سے عاری تھیں۔

کے ایچ خورشید نے جب آزاد کشمیر تسیلم کرنے کا نظریہ دیا تو ایک بڑے گروپ نے ذاتی مفادات کے لیے پاکستان کے ذمہ داروں اور کشمیری عوام کو گمراہ کیا جس سے تحریک آزادی کشمیر کو نقصان ہوا سو ہوا، پاکستان کو بھی بہت بڑا نقصان ہوا۔ اگر اس وقت کے ایچ خورشید کے خلاف سازش اور ایک مثبت سوچ کو منفی پروپیگنڈے کے نذر نہ کیا جاتا تو آج پورا کشمیر آزاد ہو کر پاکستان میں شامل ہو چکا ہوتا۔

مقبوضہ کشمیر میں شیخ خاندان کی چالیں عیاں ہونے کے بعد وہاں کے نوجوانوں نے بھارتی فوجیوں کے سامنے سینے کھول دیے لیکن حریت کانفرنس کی سمت پھر بھی درست نہیں تھی کہ ان قربانیوں کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کر سکے۔ سیاست اور سفارت کاری اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے تھی جس کے لیے آزاد کشمیر کی حکومت ہی واحد پلیٹ فارم ہے۔ عمران خان نے کہا وہ کشمیریوں کے سفیر ہیں، بلاشبہ اچھی سفارت کاری کی لیکن سرحدی تنازعہ کے تناظر میں وزیر اعظم پاکستان اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا، مجاہدین کو اسلحہ نہیں دے سکتا جو بھارت کی 10 لاکھ فوج کو جموں و کشمیر میں ناکام کرنے کے لیے ضروری ہے۔

آزاد کشمیر کی حکومت کشمیریوں کی نمائندہ حکومت ہوتی تو وہ دنیا کے ساتھ امن دوستی ترقی اور برابری کے معاہدے کرتی پھر بھارت خلاف لابی سے اسلحہ لے کر مجاہدین تک پہنچاتی۔ اس پر دہشت گردی کا الزام آتا تو دنیا کو کہا جاتا ہمارے لوگوں کو آزاد کرو جنہیں بھارت نے قید کیا ہوا ہے۔ اس پر یو این او سمیت دنیا بھر میں سفارت کاری کرتی۔ کشمیر کا سفیر کہتا ہم 4 ہزار سال قبل مسیح کی ایک قوم ہیں ہماری زمین پر کیا گیا زبردستی کا قبضہ چھوڑو۔ لیکن پاکستان یہ نہیں کر سکتا نہ یہ کہہ سکتا ہے۔

بھارت دنیا کو کنفیوز کرتا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے بڑے حصہ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اس کے لیے بھارت نے کچھ کشمیری خریدے ہوئے ہیں جو یورپ اور جنیوا میں بیٹھ کر بھارتی پروپیگنڈے کی تائید کر رہے ہیں۔ چند ایک آزاد کشمیر میں بھی ہیں۔ اس منفی پروپیگنڈے کے باعث دنیا سمجھتی ہے دونوں ممالک قابض ہیں اور ان کی آپس کی لڑائی ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان اس لڑائی سے ظاہری طور پر پیچھے ہٹے اور کشمیریوں کو آگے لائے جس اس کے لیے ضروری ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو تسلیم کیا جائے۔ اسلام آباد سمیت دنیا بھر میں سفارت خانے کھولے جائیں اور دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں کے ساتھ رابطے پیدا کیے جائی۔

پاکستان کی حمایت اور سرپرستی کے بغیر کشمیری ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتے اور نہ کشمیری پاکستان کے بغیر زندہ رہنا چاتے ہیں لیکن حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ بھارت کشمیر کھا جائے گا ۔ وہ کشمیر کے پانیوں کے رخ موڑنے کی کوشش میں ہے۔ جب وہ ریلوے کے لیے 35 کلو میٹر سرنگ نکال سکتا ہے تو پانی بھارت لے جانے کے لیے 50 کلو میٹر سرنگ نکالنا کون سا مسئلہ ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا بہت آسان ہے مقبوضہ کشمیر کے بغیر پاکستان چلانا بہت مشکل ہو جائے گا کیوں کہ سمندر کے پانی کو صاف کر کے پائپ لائن کے ذریعے اسلام آباد تک لے جانا دشوار گزار مرحلہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی پاکستان کے ذمہ داروں کو درست فیصلہ کرنے اور بروقت سوچنے کہ قوت عطا فرمائے، آمین۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube