Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

شادی ہال، ہوٹل بند ہونےسےلاکھوں افراد کا روز گار متاثر

SAMAA | - Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago

مارچ 2020 سے کرونا وائرس کی وباء نے معاشرے کو اپنی گرفت  میں لیا ہوا ہے اس وقت سے انسانی زندگیوں کو خطرے میں ہونے کے علاوہ لوگوں کی معاشی صورت حال بھی ابتر ہوئی ہے اور یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

صنعتوں اور کاروبار کے بند ہونے سے سوائے چین کے خوش حال و ترقی یافتہ ممالک بھی گرتی معشیت کو سہارا دینے کی کوشش میں کامیاب نظر نہیں آتے، ترقی پذیر قوموں کی تو حالت ہی غیر ہے۔ ڈوبتی، آبلہ پا معشیت کے ساتھ وہ کیا لیپیں اور کیا تھاپیں۔

فلاحی ریاستوں نے تو اپنے عوام کو ماہانہ رقوم کی صورت میں سنبھالا دیا، لیکن اب تو وہ بھی پریشان ہیں۔ لاکھ سیاسی  اختلاف کریں حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں عمران خان کی پالیسی دنیا بھر میں سب سے بہتر رہی اسی لیے پاکستان کرونا وائرس سے نمٹنے کی بہترین حکمت عملی میں تیسرے نمبر پر رہا۔

سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ کم آمدنی والے افراد میں 12 ارب ڈالر تقسیم ہونے کے باوجود کرپشن کی ایک شکایت بھی نہیں آئی جو کرپشن فری معاشرے کی طرف سفر کی بہترین مثال ہے۔ ویکسینیشین کا عمل ابتداء میں تو بہت سست اور بے ترتیب تھا لیکن اب لگتا ہے کہ اسد عمر کے اعلان کے مطابق رواں سال کے آخر تک 6 کروڑ افراد کو ویکسینیشین ممکن ہو سکے گی۔

کرونا وائرس نے نہ صرف شعبہ صحت کو تہس نہس کر دیا بلکہ عوام کی روز مرہ آمدنی کو تقریبا ختم کر دیا۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا روز گار تقریبا ختم ہونے سے تو کئی گھروں میں فاقہ کشی کا عالم ہے ۔ فوڈ انڈسٹری سے متعلقہ افراد ہوٹل، ریسٹورینٹ کی بندش کے باعث مکمل طور پر بے روز گار ہو چکے جو کوئی دوسرا کام بھی نہیں کر سکتے۔ شادی ہال اور ہوٹل جو خود ایک بڑی انڈسٹری بن چکے ہیں سوا سال سے بند ہیں۔ بلکہ اس سے متعلقہ 46 سے زیادہ کاروباری شعبہ جات پر بھی فرق پڑا ہے۔

کراچی کے عوام شادیوں اور ہوٹلنگ میں کھانے پر خاصی توجہ دیتے ہیں،شادی پر دولہا اور دلہن ہی نہیں سارے گھر والے اور رشتہ دار حتی کہ مندوبین کا پہناوا، آرائش و زیبائش،  سب بہت خاص اور مختلف ہوتے ہیں جب کہ کھانے روایت سے ہٹ کر  ذائقہ دار اور خوب تر ہونے پر توجہ دی جاتی ہے۔ پہلے شادی کے  صرف تین بڑے فنکشن ہوا کرتے تھے، مہندی، بارات اور ولیمہ، مگر اب برائڈل  شاور اور شادی سے پہلے اور بعد کی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں ۔ دسمبر میں ایونٹ پلانرز کے پاس وسائل کم اور آرڈر زیادہ ہوتے ہیں۔ کوئی ایک دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی فنکشن نہ ہو یا کوئی شادی ہال خالی مل جائے۔ دسمبر کے سیزن  میں ہونے والے ایونٹس کی بکنگ سال پہلے یا اس سے بھی قبل کرائی جاتی ہے۔ اچانک طے ہونے والی شادی کے لیے  دسمبر میں شادی ہال ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ اگر کسی شادی ہال مالک سے وابستگی ہے اور کوئی پروگرام منسوخ ہو جائے تو ممکن ہے وہ مالک تعلق داری کی بنیاد پر جگہ فراہم کر دے ورنہ اس بارے میں سوچنا بھی وقت ضائع کرنے کے برابر ہے۔

اس سیزن کی شادیاں بکھرے خاندانوں کے ملاپ کا ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ کراچی کا موسم سب موسموں  سے زیادہ موافق ہوتا ہے، اسکولوں کی چھٹیوں کے باعث ملک بھر سے بچوں اور خواتین کو پروگراموں میں شرکت کی آسانی ہوتی ہے۔ کرسمس اور سردی نئے سال کی چھٹیوں کی وجہ سے بیرون ممالک  پاکستانی پیاروں کی خوشی میں شامل ہوتے ہیں اس لیے ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ بیرون و اندرون ملک بکھرے ہوئے رشتہ دار کسی خاص موقع پر اکٹھے ہوں تو وہ موقع شادی کی تقریب سمجھا جاتا ہے جو دسمبر ہر لحاظ سے موزوں ترین ہے۔ شادی ہال میں ایک ایونٹ کا  کرایہ ڈیڑھ سے 8 لاکھ روپے تک ہے۔ شادی ہالز کی قلت اور ان کے کرائے  میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ فلاحی مقاصد کے لیے مختص قطعہ آراضی پر تعمیر غیر قانونی سینکڑوں شادی ہالز کو مسمارکر دیا گیا۔ جب کہ پوش علاقوں میں یہ شادی ہال بینکوٹ ہال میں تبدیل ہو رہے ہیں جہاں مکمل ایرکینڈیشن سمیت فائیو اسٹار ہوٹل کی تمام سہولیات میسر کی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے بھی کرائے آسمانوں سے باتیں کرتے ہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں اس وقت  1500 سے زائد شادی ہال ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے شادی ہال میں بھی  30 سے 35 افراد ملازم یا دیہاڑی دار ہیں ۔ یہ ہال بند ہونے سے 60 ہزار سے زائد وہ افراد بے روز گار ہوئے جو ان ہالز میں کام کرتے تھے۔ جب کہ اس صنعت سے متعلقہ تمام شعبوں میں مجموعی طور پر 15 لاکھ افراد کا روز گار متاثر ہوا۔ جس سے ہزاروں گھروں میں سخت پریشانی ہے۔ شادی ہالوں کی بندش سے ہار پھول و ڈیکوریشن کے کاروبار سے وابستہ افراد کے علاوہ وڈیو میکرز اورفوٹو گرافرز بھی سخت تشویش میں مبتلا ہیں ۔ان کا کام تو مکمل ہی بند ہو چکا۔

کچھ عرصہ پہلے لوگ شادی کی تقریبات  گھر پر گلی میں یا علاقہ کی کسی کھلی جگہ پر خود ہی کرتے تھے مگر اب گھریلو تقریبات کے لیے بھی ایونٹ پلانرز سے رجوع کیا جاتا ہے۔ ایونٹ پلانرز خود ایک انجنیئرنگ ہے جہاں  تجربہ کار، تعلیم یافتہ اور ماہر عملے کے ساتھ  پلانرز شادی ہال ہو یا گھر تقریب کو سجانے سنوارنے کا پورا منصوبہ بتاتا اور مختلف نقش و نگار کی تصویروں اور ویڈیوز کی مدد سے پریزینٹیشن دیتا ہے،  یہ کام بھی لاکھوں روپوں کا ہے۔ اس شعبہ سے بھی ہزاروں افراد وابستہ ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہوئی ہے ۔

کراچی میں ہوٹل کا کاروبار بھی بہت وسعت پر ہے۔ جہاں  شہریوں کو نہ صرف لذیذ کھانے مہیا ہوتے ہیں بلکہ یہ خاندانوں کے لیے بہترین تفریحی مراکز بھی بن چکے۔ خاندان کئی دن پہلے ہوٹلنگ کا پروگرام ترتیب دیتے ہیں بلکہ یہ اب ایک پروگرام اور ماہانہ میزانیہ کا حصہ بن چکا۔ کرونا وائرس کی وباء سے قبل کراچی کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی ریسٹورنٹ خالی نہیں ملتا تھا۔ ریسٹورنٹ  ایسوسی ایشن کے مطابق ساڑھے 3 ہزار اے کلاس ریسٹورنٹ کے ساتھ 50 لاکھ افراد کا روز گار وابستہ ہے۔ اے کلاس ایسے ریسٹورنٹ کو کہا جاتا ہے جہاں دیسی اور کانٹی نینٹل  کھانے صاف ستھرے اور بہترین ماحول میں ملیں، اگر ہال ہے تو اے سی ہو۔ یہ ریسٹورنٹ بھی بند ہیں۔

حکومت نے تعمیراتی صنعت کو کھول کر نہ صرف ملکی معشیت کو ترقی دینے کی اچھی کوشش کی بلکہ یہ بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے بھی بہترین اقدام ہے۔ اسی طرح شادی ہال انڈسٹری اور ریسٹورینٹس کو کھولنے کے لیے سوچا جائے کہ ایسے کون سے حفاظتی اقدامات ہو سکتے ہیں جن کے استعمال سے اس صنعت کو کھول کر نہ صرف اربوں روپے ریونیو کمایا جا سکے، بلکہ ملک بھر میں لاکھوں افراد کا روز گار بحال ہو۔

عمران خان کے اسمارٹ لاک ڈاؤن ویژن نے ان برے حالات میں بھی  ملک کو گرنے نہیں دیا۔ توقع ہے کہ شادی ہال انڈسٹری کو بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی چھتری تلے محدود کاروبار کی اجازت دی جائے گی جہاں بچوں اور بوڑھوں کی شرکت پر پابندی ہو یا ویکسینیشین کی شرط نافذ کی جائے۔ ویکسینیشین کی شرط پر شادی ہال کھولنے سے ویکسینیشین کے عمل میں بھی تیزی آئے گی اور شادی ہال کاروبار بھی شروع ہو سکتا ہے جس سے ملک بھر میں ان گنت افراد کا روز گار بحال ہو سکے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube