Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کو کنٹرول کرنیوالا متنازع قانون

SAMAA | - Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Jun 10, 2021 | Last Updated: 4 months ago

برصغیر پاک و ہند میں صحافت کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے منحرفین نے اخبار شائع کرنے کی کوشش کی مگر چوں کہ وہ کمپنی کے افسروں کے مفاد میں نہیں تھا، اس لئے کلکتہ کی انتظامیہ نے وہ کوشش ناکام بنادی۔ تاہم بعد میں کمپنی کے ایک سابق سر پھرے ملازم جیمس آگسٹ ہکی نے اپنا اخبار شائع کر ہی لیا مگر اسے مستقل انتظامیہ سے لڑائی کا سامنا رہا اور بالآخر وہ اخبار بند ہوگیا اور ہکی کو جیل جانا پڑا۔

مقامی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں جیل بھیج دیا مگر ہکی صاحب جیل سے اخبار شائع کرتے رہے۔ پوسٹ آفس والوں نے ہکی گزٹ کی تقسیم روک دی تو ہاکروں کا انتظام کیا مگر چیف جسٹس کے معرکے کے بعد برصغیر کا پہلا اخبار بند ہوگیا۔ ہکی نے کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر پھر انگریزی کے علاوہ مقامی زبانوں میں اخبارات شائع ہونے لگے۔ یہ اخبارات کلکتہ کے علاوہ ہندوستان کے مختلف شہروں سے شائع ہوئے۔

اس وقت تک اخبارات کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی قانون نہ تھا، اب کمپنی کی حکومت کو تشویش ہوئی لہٰذا اخبارات کو کنٹرول کرنے کیلئے سن 1822 میں پہلی مرتبہ پرمٹ کا قانون نافذ کردیا گیا۔ اس قانون کے تحت اخبار کے اجراء کیلئے پرمٹ لازمی قرار پایا اور اخبار کو شائع ہونے سے پہلے سنسر کرنا ایڈیٹر کی قانونی ذمہ داری قرار پائی۔

راجہ رام موہن رائے پہلے سوشل ریفارمر تھے، وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز حکومت سے متاثر تھے اور کمپنی میں ملازمت کرتے رہے تھے، وہ کمپنی کے افسروں کے اس بیانیے پر یقین رکھتے تھے کہ انگریز ہندوستان کے عوام کی بہتری کیلئے آئے ہیں اور برطانوی حکومت کی پالیسیوں میں برطانیہ کے شہریوں اور ہندوستان کے شہریوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کیلئے اخبار کی اشاعت کیلئے پرمٹ اور سنسر کے بعد اخبار شائع کرنے کی شرط ہندوستان کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے برابر ہے کیونکہ برطانیہ میں اخبار کے اجراء کیلئے کسی قسم کے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت اخبارات کو سنسر کرتی ہے۔ راجہ صاحب نے پرمٹ کے قانون کیخلاف حکام سے اپیل کی اور مقامی عدالتوں سے انصاف طلب کیا۔

جب ہندوستان میں انہیں انصاف نہ ملا تو کسی دانا شخص نے مشورہ دیا کہ وہ لندن جاکر پریویو کونسل میں اپیل دائر کریں۔ اس وقت بحری جہاز سے برطانیہ جانے میں 9 ماہ کا عرصہ لگ جاتا تھا اور بحری سفر میں خاصی مشکلات بھی پیش آتی تھیں مگر راجہ صاحب کے عزم و استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ بحری جہاز کے ذریعے لندن گئے اور کونسل میں مقدمہ دائر کردیا لیکن ان کی عرض داشت اس نکتہ پر مسترد کردی گئی کہ برطانیہ میں رائج قوانین کا ہندوستان میں اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ ہندوستان کے شہری برطانیہ کے غلام ہیں۔

راجہ صاحب برطانوی عدالتوں کے فیصلوں سے اتنے مایوس ہوئے کہ انہوں نے یہ تاریخی اعلان کیا کہ پرمٹ لینے اور اخبار کو افسروں سے سنسر کراکے شائع کرنے سے بہتر ہے کہ اخبار ہی بند کردیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے قیام کے بعد سے میڈیا کے بحران کو بڑھانے اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔

مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021ء کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دور واپس لانے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، اس آرڈیننس کے تحت اس میڈیا اتھارٹی کے دائرہ کار میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی شامل ہوں گے۔

پریس کونسل پیمرا سمیت پہلے سے قائم تمام ادارے ختم ہوجائیں گے، اس میڈیا اتھارٹی کی ہیئت کچھ یوں ہوگی کہ اس کے چیئرمین اور ممبران کا تقرر وزیر اعظم کی سفارش پر صدر پاکستان کریں گے۔ اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ ان اراکین کا تعلق سول سوسائٹی سے ہوگا مگر سول سوسائٹی کی تنظیمیں ان اراکین کو نامزد نہیں کریں گی بلکہ وزارت اطلاعات ان اراکین کو تلاش کرے گی اور وزارت اطلاعات کے سیکریٹری کی تیار کردہ یہ فہرست وزیر اعظم کی منظوری سے صدر کو پیش کی جائے گی، جن کی منظوری سے چیئرمین اور اراکین کے تقررکا نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

اس قانون کے تحت اتھارٹی کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب عام طور پر خود مختار ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر میڈیا اتھارٹی کی ہیئت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملی طور پر یہ اتھارٹی حکومت کی نگرانی میں فرائض انجام دے گی۔ اس اتھارٹی کے تحت الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ڈائریکٹوریٹ، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ فلم ڈائریکٹوریٹ کام کریں گے۔ الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کیلئے بھی صوبائی، قومی اور عالمی سطح پر الگ الگ لائسنس لینے ہوں گے۔

ڈیجیٹل میڈیا کو بھی انٹرٹینمٹ، اسپورٹس نیوز، ٹورازم اور اس طرح کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک فرد صرف ایک شعبے کیلئے یوٹیوب چینل کا لائسنس حاصل کرسکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کیلئے بھی لائسنس فیس ہوگی اور کہیں ایسا مواد چلانے کی اجازت نہیں ہوگی جس میں صدر پاکستان، مسلح افواج اور عدلیہ کی بدنامی ہورہی ہو۔

قانون کے تحت شکایات کونسل قائم کی جائیں گی جس کے دفاتر اسلام آباد کے علاوہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایڈوائزری کونسل کا قیام بھی عمل میں آئے گا جس کے 8 اراکین ہوں گے جن میں سے 4 ارکان سرکاری افسر ہوں گے۔ اس ایڈوائزری کونسل کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے اور اس کونسل کو شوکاز نوٹس جاری کئے بغیر کسی اخبار، ٹی وی چینل کے علاوہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کیخلاف تادیبی کارروائی کا اختیار ہوگا۔ کونسل یہ کارروائی ایسے مواد کے شائع یا نشر کرنے پر کرے گی جو نظریہ پاکستان کیخلاف ہو اور جس سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو یا جو فحاشی پھیلائے گا تو ایسی صورتوں میں اپیلٹ کورٹ کے طور پر صدر ایک ٹریبونل قائم کریں گے۔

یہ ٹریبونل میڈیا کمپلینٹ کونسل کے فیصلوں کیخلاف اپیلوں کی سماعت کرے گا اور ویج بورڈ پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا، اس قانون کے تحت کوئی متاثرہ شخص ہائیکورٹ سے داد رسی حاصل نہیں کرسکے گا، صرف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہوگا اور اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر میڈیا پرسنز کو 3 سے 5 سال تک کی سزا دی جاسکے گی۔

ماضی میں جنرل ایوب خان نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے قوانین اور برطانوی ہند کے نافذ کردہ قوانین کو پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 1963ء میں ضم کردیا تھا۔ آزادئ صحافت پر تحقیق کرنے والے محققین نے اس کو سیاہ قانون قرار دیا تھا۔ اس قانون کے خلاف اخباری مالکان کی تنظیم اے پی این ایس، ایڈیٹروں کی تنظیم سی پی این ای اور صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے مشترکہ جدوجہد کی تھی، یہ صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کی پہلی مشترکہ جدوجہد تھی۔

اس جدوجہد کے نتیجے میں پورے ملک میں اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی تھی، جنرل ایوب خان کی حکومت کو پہلی دفعہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑی تھی اور حکومت نے تمام تنظیموں کے نمائندوں سے مذاکرات کئے تھے جس کے نتیجے میں ایڈیٹر کی آزادی ختم کرنے والی بعض شقیں ختم کرنی پڑی تھیں مگر صحافتی تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں سن 1988ء میں قائم مقام صدر غلام اسحاق خان کے دور میں یہ سیاہ قانون ختم ہوا تھا۔

موجودہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا یہ سامنے آیا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والی تمام تنظیموں نے اس مسودہ قانون پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021ء کو سیاہ قانون قرار دیا ہے اور پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے صحافیوں کے اس مؤقف کی حمایت کررہے ہیں، یوں ایک مشترکہ جدوجہد کے ذریعے عوام کی اظہار رائے کی آزادی کے حق اور آزادیٔ صحافت کو تحفظ مل سکے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube