Tuesday, November 30, 2021  | 24 Rabiulakhir, 1443

سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کو کیسے کنٹرول کیا جائے ؟

SAMAA | - Posted: Jun 9, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Jun 9, 2021 | Last Updated: 6 months ago

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کے اعدادوشمار کےمطابق پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جن میں سے سالانہ 1 لاکھ 60 ہزار افراد انتقال کرجاتے ہیں جبکہ دیگر افراد مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ہیں۔ پاکستان سستے ترین سگریٹس فروخت کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں ایک سگریٹ 2 روپے سے لے کر 10 روپے کی قیمت میں فروخت ہو رہا ہے۔ان سستے سگریٹس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے ٹوبیکو کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں نہ لانا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کو سالانہ سگریٹ نوشی کی وجہ سے 615 ارب روپے صحت کے حوالے سے نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن حکومت ہر سگریٹ کے پیکٹ پر 10 روپے کا ہیلتھ لیوی تک لگانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

 پاکستان میں 2 قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں جن میں برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس شامل ہے۔ ان  کمپنیوں کا مارکیٹ میں 95 فیصد حصہ ہے۔ ملک میں مقامی کمپنیاں بھی موجود ہیں جن کا مارکیٹ میں حصہ 5 فیصد ہے۔ اس وقت سگریٹ نوشی سے متعلق سب سے بڑی مہم چلائی جا رہی ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت جاری ہے اور اس مہم کے مطابق پاکستان کو سالانہ 77 ارب روپے ٹیکس چوری کا سامنا ہے۔ اندازہ کیجئے اگر 77 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے تو ان کمپنیوں کا منافع بھی اربوں روپے میں ہی ہوگا لیکن یہاں عجیب و غریب منطق پیش کی جاتی ہے کہ ٹیکس چوری وہ کمپنیاں کر رہی ہیں جن کا مارکیٹ شیئر صرف 5 فیصد ہے۔

پاکستان میں مقامی کمپنیوں کے سگریٹ زیادہ تر قانونی طریقے سے فروخت کیے جاتے ہیں۔ٹوبیکو کنٹرول سیل کے سابق سربراہ ڈاکٹر ضیاء الدین اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ ملک میں 11 سگریٹ برانڈ قانونی طریقے سے سگریٹ فروخت کر رہے ہیں جن میں گولڈ لیف،مارون، ریڈ اینڈ وائٹ اور گولڈ فلیک کےعلاوہ دیگر شامل ہیں جبکہ 26 برانڈز غیرقانونی سگریٹ کی فروخت میں ملوث ہیں جن میں پائن، میلانو، مالبرو انٹرنیشنل، بزنس کلب اور دیگر شامل ہیں ۔ پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے۔اگر سگریٹ کی غیر قانونی تجارت ہوتی ہے تو سب سے زیادہ فائدہ بھی یہی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

پاکستان میں سگریٹ کمپنیوں کیلئے بھی الگ الگ نظام ٹیکس موجود ہیں۔ سال 2019 تک 3 قسم کے ٹیکس نظام لاگو تھے۔ فرسٹ ٹیئر میں سستے سگریٹ جن پر کم ٹیکس رکھا گیا۔ سیکنڈ ٹیئر میں مہنگے سگریٹ، جن پر ٹیکس زیادہ تھا۔ پھر لایا گیا خصوصی تھرڈ ٹیئر جس میں سگریٹ کے وہ برانڈ رکھے گئے جو مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتے تھے اور ان پر درمیانہ ٹیکس لگایا گیا۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ سگریٹ سستے ہو گئے اور کم آمدن والے گھرانوں کے افراد میں سگریٹ نوشی 27 فیصد بڑھ گئی۔ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے سگریٹ دستیاب ہیں۔ اوسط سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت صرف 38 روپے ہے اور سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر سگریٹ کی قیمت 50 فیصد بڑھا دی جائے تو سگریٹ نوشی کو 50 فیصد کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلمپنٹ اکنامکس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان اگر انٹرنیشنل سگریٹ برانڈز کی قیمت بڑھائے تو خاص طور پر نوعمر اور نوجوان سستے برانڈز کی جانب راغب نہیں ہوں گے بلکہ سگریٹ نوشی یا تو کم کر دیں گے یا پھر ترک ہی کر دیں گے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے معاشی اور جانی نقصانات کو کم کرنے کا موثر ترین طریقہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس غیر قانونی عمل کی روک تھام کا سب سے موثر حل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا نفاذ ہے۔اس نظام سے پتہ چل سکے گا کہ کس فیکٹری نےکتنی سگریٹس بنائی اور پھر کہاں پر فروخت کی گئیں۔ اس سسٹم میں آنے کیلئے پاکستان نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ منظم جرائم اور بدعنوانی کی تنظیم (او سی سی آر پی) کےمطابق ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیاں نہ صرف سگریٹ کی غیرقانونی تجارت میں ملوث ہیں بلکہ پاکستان میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔سال 2007 سے حکومتی سطح پر ایک ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کرنے کی کوشش جاری ہے جس کا اب تک نفاذ نہ ہو سکا۔

اگست 2019 میں ایف بی آر نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کیلئے ایک ٹینڈر جاری کیا جس کی ڈیڈ لائن کو بار ہا بڑھایا جاتا رہا اور تقریبا 1 سال بعد ایف بی آر نے این آر ٹی سی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا۔ این آر ٹی سی نے جس کمپنی سے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنوایا اس کے تعلقات فلپ مورس سے ثابت ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مئی 2020 میں ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور نئے ٹھیکہ کی ہدایت کردی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کے باعث ہونے والے معاشی اور جانی نقصانات کو کم کرنے کا موثر ترین طریقہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube