Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

کرونا کی بھارتی قسم: پوری دنیا کیلئے خطرے کی گھنٹی

SAMAA | - Posted: May 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: May 26, 2021 | Last Updated: 5 months ago

فوٹو: فارن پالیسی

دنیا کے لیے خطرے کی ایک اور گھنٹی بج رہی ہے جو یہ ہے کہ کرونا وائرس کی بھارتی قسم بہت زیادہ تکلیف دہ اور خطرناک ہے اور یہ اب تک امریکہ سمیت 18 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے لیکن بھارت اسے  چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔

بھارتی حکومت نے کرونا کی بھارتی قسم شائع کرنے پر سوشل میڈیا کے علاقائی ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول چکی ہے اور پابند کیا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے ایسی کوئی پوسٹ شائع نہ کی جائے جس میں کرونا کی بھارتی قسم کا حوالہ ہو یا بھارت میں  کرونا کی ہولناک صورتحال کے بارے میں درست اعدادوشمار ہوں اور وہی کچھ شائع کیا جائے جو حکومت کہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس کی نئی قسم پیدا ہوئی ہے جو قابو میں نہیں آ رہی اور اگر یہ وبا دنیا میں گزشتہ سال کی طرح پھیل گئی تو اب تک کی جانے والی تحقیق صفر اور اس کی روشنی میں تیار ہونے والی ویکسین کی افادیت ختم ہو جائے گی۔ ماہرین کے مطابق یہ ویکسین کرونا کی بھارتی قسم کے لیے کارآمد نہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اس کا کوئی علاج یا حل تلاش کرنے کے بجائے  اسے چھپانے کی کوشش میں ہیں جس سے بھارت میں  روزانہ 4 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور 4 ہزار افراد ہلاک ہورہے ہیں۔ مردوں کو جلانے کے لیے لکڑی نہیں اس لیے ہزاروں مردے دریا گنگا میں بہا دئے گئے۔ گزشتہ ہفتہ  دنیا بھر کے میڈیا نے دریا کے خشک حصے میں پڑی لاشوں کو دکھایا لیکن بھارتی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

بین الاقوامی میڈیا  نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کرونا کی بھارتی قسم موجود ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کورونا کی بھارتی قسم امریکہ اور دنیا کے18 دیگر ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ بی بی سی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ کرونا کی ایک قسم جس کی شناخت سب سے پہلے بھارت میں ہوئی وہ برطانیہ کے مختلف علاقوں میں پھیل رہی ہے جو برطانیہ میں صورتحال کو معمول پر لانے کے راستے میں حائل ہے۔

برطانیہ کے 39 معروف سائنسدانوں اور ماہرین صحت نے ملک میں  بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ ویڈیو کانفرنس میں حکومت کی طرف سے ایک دستاویز پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ کرونا وائرس  کی بھارتی قسم برطانوی قسم سے 50 فیصد زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے جو موسم سرما میں مہلک لہر کا باعث بنی۔

بیلجیم میں لیوون یونیورسٹی میں ماہر حیاتیات ٹام وینزیلرز نے کہا کہ کرونا کی بھارتی قسم شاید سب سے زیادہ آسانی سے پھیلنے والے وائرس میں تبدیل ہوگئی ہے۔ بھارت میں یونیسیف کی نمائندہ ڈاکٹر یاسمین علی حق نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا کہ اس وائرس کی بھارتی قسم پر قابو پانے میں شاید سالہاسال لگیں۔ اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت میں مہلک وبا کی نئی لہر سے وبا کے خلاف عالمی کامیابیاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سے بچوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

India coronavirus: New record deaths as virus engulfs India - BBC News

بھارت میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر ایچ اوفرین روڈیریکو نے ایس او پیز پر عملدرآمد میں بھارت کی ناکامی کو بھارت کی موجود صورت حال کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا رویہ وہ نہیں تھا جس سے وبا کو روکنے میں مدد ملتی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد کے 46 فی صد اور اموات 25 فی صد بھارت میں ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت نے عوام کی غیر سنجیدگی کی بات کی ہے جبکہ مودی جی کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس حوالے سے دنیا کے ماہرین اور اداروں کی رائے اور تجویز کو ماننے کے بجائے اپنی ہی رٹ لگاتے ہیں جس میں نہ کوئی سائنس ہوتی ہے اور نہ منطق۔ تازہ ترین خطاب جو 3 اپریل 2021 کو کیا اس میں انہوں نے وبا پر قابو پانے کے لیے قوم سے نئے طریقے استعمال کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اپنے گھر کے دروازے اور بالکونی میں اتوار 5 اپریل کی رات 9 بجے 9 منٹ تک موم بتی، مٹی کے دیے، ٹارچ اورموبائل فون کی فلیش لائٹ جلائیں۔ جبکہ 20 مارچ کو قوم کے نام پیغام میں پردھان منتری نے لوگوں سے 22 مارچ کی شام 5 بج لت 5 منٹ تک تالی، تھالی اور گھنٹی بجانے کی اپیل کی تھی۔ تاہم لوگوں نے ان کی اپیل پر کچھ زیادہ ہی جوش و خروش دکھایا  اور گروپ کی شکل میں سڑکوں پر نکل کر تالیاں ، تھالیاں اور گھنٹیاں بجاتے رہے۔

کرونا وائرس کی وبا نے بھارت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا اور اس بیماری سے بچاؤ کے لیے اس کی کوئی بھی توہم پرستی کام آ رہی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کرکے لوگوں کو کوئی افاقہ ہو رہا ہے۔ یہ بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں گزشتہ سال کی طرح یہ وائرس پھیلا تو دنیا ایک مرتبہ پھر مکمل لاک ڈاؤن میں چلی جائے گی لہذا عقل مندی کا تقاضا ہے کہ جب تک بھارت اس وبا کو ختم نہیں کرتا اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ہر قسم کی آمدورفت بند  اور سرحدیں سیل کر دی جائیں۔ بھارتی عوام پر یہ آفت اور دنیا کے لیے خطرہ خود مودی اور شیو سینا نے نازل کیا لیکن تعصب کی آگ میں جلتے ہندو توا کے پیرو کار نفرت میں اتنے مگن ہیں کہ ان کی عقل سن ہو گئی۔ صحت عامہ کے شدید خطروں کے باوجود 12 کروڑ  سے زائد  ہندو یاتری گناہ دھونے کے لیے کمبھ میلے میں دریائے گنگا اور جمنا کے کنارے جمع ہوئے اور حکومت نے ان کو روکنے کی کوشش کی اور نہ کوئی وارننگ دی بلکہ 30 ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات اور 28 ارب روپے فنڈ مہیا کیے۔ وہ میلہ 49 دنوں تک جاری رہا جہاں 12 کروڑ افراد کا ایک جگہ جمع ہونا اور اتنے دنوں تک کنگا کے ڈیلٹا میں عارضی شہر بسانا جس کی آبادی برطانیہ اور اسپین کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہو تو پھر ایسی صورت میں ایس او پیز کا خیال کیسے رکھا جا سکتا تھا۔

بھارت میں صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ کرونا ٹیسٹ سے پہلے ہی بخار اور سانس رکنے کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں، مردوں کو جلانے کے لیے لکڑی ختم ہوچکی ہے اور سینکڑوں لاشیں دریائے گنگا میں بہائی جاچکی ہیں۔ ایک این جی او نے میڈیا کو بتایا کہ  گاؤں میں موت کی اطلاع  خواتین اور بچوں کی چیخ و پکار سے ملتی ہے جو کثرت سے سنائی دے رہی ہے۔ بھارت کی ویکسی نیشن کی مہم بھی انتہائی سست ہے اور گزشتہ 6 ہفتوں کے دوران روزانہ ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد نصف سے بھی کم ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں عالمی برادری کو سوچنا ہو گا کہ کرونا وائرس کی بھارتی قسم کو دنیا میں پھیلنے دیا جائے یا بھارت میں ہی روکا جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube