Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

مور بی بی اور کالا ڈوپٹہ

SAMAA | - Posted: May 16, 2021 | Last Updated: 1 month ago
Editing & Writing | Ambreen Sikander
SAMAA |
Posted: May 16, 2021 | Last Updated: 1 month ago

پاکستانی سیاست میں شروع ہی سے مردوں کا غلبہ رہا ہے، یا یوں کہیں کہ اسے مردوں سے زیادہ اور خواتین سے کم منسوب کیا گیا، تاہم مرحومہ بیگم نسیم ولی خان ایک ایسی شخصت تھیں جنہوں نے ایک ایسے وقت میں سیاست میں قدم رکھا جب خواتین کیلئے تعلیم بھی مکمل کرنا ایک گھٹن مرحلہ ہوتا تھا۔

شفیق شخصیت

سیاست کی وہ میزیں جہاں چاروں جانب مرد ہی نظر آتے تھے، بیگم نسیم ولی خان نے اپنی ہمت اور جدوجہد سے اپنا ایک الگ مقام بنایا، جو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کی سیاست بے شک ایک صوبے تک محدود رہی تاہم انہوں نے خواتین کے سیاست میں آنے کیلئے ایک نئی راہ متعین کی۔

خیبر پختونخوا کے سینیر و بزرگ سیاست دان اور قوم پرست رہنما فرید طوفان کے بیٹے حامد طوفان نے جب سما ڈیجیٹل نے مرحومہ بیگم نسیم ولی سے متعلق جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ سیاسی معاملات سے ہٹ کر بات کی جائے تو وہ بہت شفیق، انتہائی پیار کرنے والی ماں تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی یاد رکھتی تھیں۔ اگر آپ ان کا خیال رکھتے تو وہ آپ کا ڈبل خیال رکھتی۔

ابتدائی دور

انہوں نے مخلوط تعلیمی نظام سے اپنا سلسلہ شروع کیا اور بعد ازاں مردان کے سیکنڈر اسکول میں داخلہ لیا، تاہم 8 ویں جماعت کے بعد ان کے گھر والے ان کے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کے حامی نہ تھے، جس کی کئی وجوہات تھیں۔ امیرمحمد خان باچا خان کے سچے پیرو کار تھے اور وہ ان کی تعلیم کے حامی تھے۔

گھر والوں کی مخالفت کے باوجود بیگم نسیم نے چھپکے چھپکے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے میٹرک کے امتحان کا علم گھر والوں کو اخبار میں نتیجے آنے پر ہوا۔ میٹرک کے امتحان کی ان کو اس لیئے اجازت نہیں ملتی کیوں کہ امتحان بوائز اسکول میں دینا تھا۔ ولی خان سے شادی کے بعد انہوں نے پشاور یونی ورسٹی کے ہومی اکنامکس کالج میں داخلہ لیا۔

سیاست میں انٹری

ابتدا میں تعلیم کی طرح سیاست میں بھی آنے پر ان کی مخالفت کی گئی۔ خاندان کے مردوں کی طرح کئی خواتین بھی ان کی سیاست میں آنے کی حامی نہ تھی ،مگر یہاں بھی انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ان کی ہمت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے پستون اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے انہیں مور بی بی کا خطاب دیا۔

وہ برصغیر کی پہلی منتخب خاتون تھیں۔ وہ 1977 میں 2 سیٹوں پر جیتی تھیں، جب چارسدہ پشاور ضلع کا حصہ تھا اور صوابی مرداں ضلع کا حصہ تھا۔ انہوں نے دو الیکشن براہ راست جیتے۔

سال 1993 میں جب حکومت بننے جا رہی تھی تو اے این پی کی صوبائی اسمبلی کے تیئس ممبران تھے، اور مسلم لیگ کے 15 ممبران کامیاب ہوئے تھے۔ جس پر نواز شریف نے انہیں دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی تک کسی خاتون کو وزیراعلیٰ نہیں دیکھا ہے، ہم نے خاتون وزیراعظم تو دیکھ لیں اب خاتون وزیراعلیٰ بھی ہونی چاہیں۔ اس موقع پر نواز شریف نے بیگم نسیم ولی خان کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ ہی ہماری وزیراعلیٰ ہونگی۔

سیاسی جدوجہد

جس پر بیگم نسیم ولی نے کہا کہ میری سیاست کرسی کیلئے نہیں ہے، عوام کی خدمت کیلئے ہے، وزارت اعلیٰ کا عہدہ آپ کو مبارک ہو۔ جس کے بعد پیر صابر شاہ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ ان کی یہ ہی سیاسی جدوجہد، خدمات اور مضبوط اعصاب تھے کہ انہیں آئرن لیڈی کا خطاب ملا۔ وہ ایک ایسے وقت میں سیاست میں نکلیں کہ کوئی دوسری خاتون ان کے خاندان سے سیاست میں نہیں آئی تھی۔ باقی دیگر پارٹی رکن اور رشتے دار اس وقت حیدر آباد جیل میں قید میں تھے۔

کالا ڈوپٹہ

بیگم نسیم ولی خان نے اس وقت سیاست میں متحرک کردار ادا کیا جب پارٹی کے بیشتر کارکن اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دور میں زیرِ عتاب تھے۔ اس دور میں اُن کا کالا دوپٹہ، اُن کی سیاسی جدوجہد کی پہچان بن گیا۔

اُنہوں نے بھٹو حکومت کے خلاف اپنی پہلی سیاسی تقریر میں کہا تھا کہ وہ یہ کالا دوپٹہ اس وقت نہیں اُتاریں گی جب تک بھٹو حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ اس دوران ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے مل کر پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی بنیاد ڈالی تھی۔

ان کے بارے میں اکثر اس وقت کے وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کہ کاش میں نے ولی خان صاحب کی جگہ بیگم نسیم ولی خان کو گرفتار کیا ہوتا۔ اس دور میں عوامی جہدوجہد اور سیاسی تحریک کو عروج تک پہنچانے میں بیگم نسیم ولی کا کردار سب سے نمایاں ہے، جو کبھی فراموش نہیں ہوگا۔ وہ فیصلے کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔ جب کوئی سیاسی معاملہ ہوتا تھا تو منٹوں میں اس کا حل تلاش کرلیا کرتی تھیں، فیصلہ کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتی تھیں۔ انہیں جھوٹ اور منافقت سے شدید چڑ تھی۔ جو لوگ جھوٹ بولتے تھے یا کچھ غلط کرتے تھے وہ انہیں طریقے سے سمجھاتی تھیں اور بار بار نصحت کرتی تھیں، نہ ایسے لوگوں کو پسند کرتی تھیں اور نہ حوصلہ افزائی۔ وہ لوگوں کو سچ اور حق بات کہنے کی جانب راغب کرتی تھیں۔

گھریلو زندگی

سیاسی سرگرمیوں کے باوجود وہ گھر کو بھی مکمل وقت دیا کرتے تھیں۔ کھانے پینے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ کھانے میں وہ سادہ کھانا زیادہ کھاتی تھیں۔ جیسے ساگ ، سبزی، سالن ، وہ مٹن کی بھی شوقین تھیں، مگر زیادہ تر اپنے گھر کی ، کیٹر کی سبزیاں کھاتی تھیں۔ گھر میں ان کے سب سے قریب ان کی ایک بیٹی غلالئی تھی، مگر سنگین ولی خان سے انہیں زیادہ لگاؤ تھا۔ سنگین ولی خان کے 2008 میں انتقال نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور وہ بیمار رہنے لگیں۔ سیاست سے تو وہ 3 سال قبل ہی دور ہوگئی تھیں، تاہم بیٹے کی جدائی نے انہیں غم لگا دیا اور دن بدن ان کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ انہیں گھومنے پھرنے کا بھی بہت شوق تھا اور وہ مرحوم ولی خان کے ہمراہ یورپ، کابل، لندن وغیرہ بھی گئیں۔ جب کہ سوات کے علاقے مدین میں بھی ان کا گھر ہے۔ جہاں وہ اکثر قیام کیا کرتی تھیں۔

Image

بیٹے کی جدائی

شوہر کی جدائی سے متعلق حامد طوفان نے بتایا کہ شوہر کے انتقال کے بعد ان کی مصروفیات کافی عرصے محدود رہی۔ شوہر کی جدائی نے انہیں بس گھر تک محدود کردیا تھا، جہاں وہ اخبار پڑھتی یا ٹی وی پر حالات حاضرہ کے پروگرامز دیکھتی تھیں۔ سیاست سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مرحومہ بیگم نسیم ولی پہلے کی سیاست اور اب کی سیاست میں بہت فرق رکھتی تھیں۔ ان کے نزدیک پہلے کی سیاست اور سیاست کرنے والے نظریاتی اور مخلص لوگ ہوا کرتے تھے۔

سیاست یا کاروبار

موجودہ سیاست پر مرحومہ کا ماننا تھا کہ آج کل کی سیاست کاروبار سے زیادہ نہیں، آج کل کے سیاست دانوں نے اسے کاروبار سے باندھا ہوا ہے۔ جہاں سب کو اپنی پڑی ہے۔ آج کل نظریاتی لوگ کم نہیں بلکہ ختم ہوگئے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں کے اظہار خیال کو پسند کرتی تھیں، ان کا ماننا تھا کہ سوشل میڈیا ایسے لوگوں کی جگہ ہے، جو اپنی آواز یا اپنے مسائل میڈیا اور دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے لوگوں کیلئے بہترین ذریعہ ہے جس سے انہیں میڈیا تک رسائی مل سکتی ہے۔

اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حامد طوفان نے کہا کہ وہ ایسی شخصیت تھیں کہ پاکستان کیا دنیا بھر میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔ آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان سے متعلق مزید بتانے کیلئے میرے جذبات اور الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں ، ہم بس جنازے میں شرکت کیلئے ہی گاؤں جارہے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اجازت طلب کرلی اور یہاں ہماری گفتگو کا اختتام ہوا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube