پاک سعودی تعلقات پھر بہتری کی جانب گامزن،اختلافات کیوں ہوئے؟

SAMAA | - Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 3 months ago

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافتی اور سماجی اقدار کی بنیا پر مفاہمت اور دوستی ہمیشہ سے قائم ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات کی جڑیں دو طرفہ طور پر بہت گہری ہیں۔ گزرنے والی ہر دہائی میں سیاسی، سلامتی اور اقتصادی میدان میں پاک سعودی تعاون میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے عسکری، معاشی اور سیاسی تعلقات قائم رہے ہیں۔

سن 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو اس کے بیلنس آف پے منٹ کے مسائل سے نمٹنے کے لیے 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دی جس میں سے 3 ارب ڈالر فوری طور پر ادا کیے گئے تھے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والا زرمبادلہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ فروری 2019 میں دونوں ملکوں کی اسٹریٹیجک شراکت داری کی اہمیت میں اس وقت اور اضافہ ہو ا جب ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور دونوں اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آنا شروع ہوئی۔

پاک سعودی تعلقات میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب بھارت کی جانب سے کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے بلیک آؤٹ کو ایک برس مکمل ہونے پر پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ سعودی حکام کشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالنے کے لیے اوآئی سی کا اجلاس طلب کریں اور اگرسعودی عرب ایسا نہیں کر سکتا تو پاکستان کو علاقائی حمایت کے لیے کسی اور جانب رخ کرنا پڑے گا۔ سعودی عرب نے اس کا فوری اور سخت ردعمل دیا۔ اس نے فوری طور پر ایک ارب ڈالر قرضے کی واپسی کا مطالبہ کردیا جو کہ سن 2018 کے 3 ارب ڈالر قرضے کا حصہ تھا، نیز اس نے3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی مالیت کے ادھار تیل کی سہولت جس کی مدت مئی 2020 میں ختم ہوچکی تھی کا دوبارہ اجراء بھی نہیں کیا۔

شاہ محمود قریشی کا ردعمل اچانک نہیں تھا یہ سب کچھ اس وقت شروع ہوا تھا جب اٹل بہاری واجپائی کی سن 1998 تا سن 2002 کی حکومت میں بھارت کے وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ اقتصادی سفارت کاری کو استعمال کرتے ہوئے وہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان خصوصی تعلقات میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بعد میں آنے والے برسوں میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج کو دعوت دی جس کی وجہ سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا شاندار استقبال کیا اور پھر کچھ ماہ بعد سعودی عرب نے بھی نریندر مودی کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور اعلیٰ ترین اعزازات دے کر بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات کو بہت مضبوط بنائے جانے کا برملا اظہار کیا۔

سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ اقتصادی میدان میں بڑھتے ہوئے رابطوں اور اس کی کشمیر پر خاموشی نے اختلافات کو جنم دیا ہے اور پھردل کی بات پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے بیان کی صورت میں سامنے آ ئی۔ سعودی عرب کی پاکستان سے ناراضگی کی وجہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے فیصلے بھی رہے ہیں۔ ان میںسر فہرست سن 2015 میں سعودی قیادت میں یمن جانے والی اتحادی افواج کے حصے کے طور پر پاکستانی دستوں کو بھیجنے سے انکار تھا۔ یمن کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تو پاکستان کے ساتھ قربت اور میاں نواز شریف پر ذاتی احسانات کی وجہ سے سعودی عرب مطمئن تھا کہ پاکستان مدد کے لیے اپنی فوج بھیجے گا لیکن پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کی مخالفت کی وجہ سے معاملہ پارلیمنٹ میں چلا گیا اور میاں نواز شریف نے فوج بھیجنے سے انکار کرکے سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادیوں کو ناراض کردیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجودہ تناؤ کی وجوہات کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان نئے رشتے اور قربتیں بھی وجہ اختلاف ہیں۔ ایک جانب پاکستان اور ایران کے تعلقات مثبت اور مضبوط تر ہوتےجارہے ہیں تو دوسری طرف ایران اور سعودی عرب کی رقابت ہے جبکہ تیسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں۔ ان تعلقات اور رقابتوں نے جنوبی ایشیائی پڑوسیوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔

خارجہ پالیسی کی نزاکتوں اور عربوں کی حساسیت کو سمجھے بغیرشاہ محمود قریشی سعودی عرب کے 3 مخالف ممالک (ایران، ترکی اور ملائیشیا) کے ساتھ نئے اتحاد کی تشکیل پر اتفاق کیا تومحمد بن سلمان نے برہمی کا اظہار کیا۔ اس کے باوجود وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کریں گے اورجب کانفرنس کا وقت قریب آیا تو سعودی عرب کی طرف سے سفارتی چینلز سے یہ پیغام موصول ہوا کہ اگر وزیر اعظم ملائیشیا گئے تو نہ صرف دی ہوئی رقم واپس لی جائے گی بلکہ پاکستانیوں کو واپس بھجوانے جیسے انتہائی اقدامات بھی کیے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ وزیراعظم نے ملائیشیا جاتے ہوئے پہلے بادل ناخواستہ سعودی عرب جانے کا فیصلہ یہ سوچ کر کیا کہ وہ محمد بن سلمان کو منالیں گے لیکن ملاقات میں محمد بن سلمان اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ وزیراعظم نے سعودی عرب سے ہی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے معذرت کا پیغام متعلقہ ممالک کو بھجوایا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ 2 برسوں میں پاکستان کے قریبی برادر اسلامی ملک سے تعلقات انتہائی کمزور ترین سطح پر آگئے تھے۔ وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ اپنے پرانے اتحادی اور فائدہ مند دوست کو راضی کیا جائے اور پرانے تعلقات کو بہتر طور پر استوار کیا جائے۔

جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ بائیڈن انتظامیہ سے نئے انداز میں تعلقات بنانا چاہتا ہے اس لیے اس کی کوشش ہے کہ خطے میں زیادہ سے زیادہ ممالک اُس کے دوست بنیں۔ محمد بن سلمان بھی ایران کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی کا اشارہ دے چکے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں برف پگھل رہی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں سیکورٹی کلیدی اہمیت اختیار چکی ہے۔ جنرل قمر باجوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لئے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ سعودی حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ انہیں ایک مخلص اور اچھے دوست کی ضرورت ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک اتحاد کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی فوج کو تربیت دیتا رہا ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی فوج کا کردار زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ پاک سعودی تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک بار پھر عسکری قیادت اہم کردارا دا کررہی ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف دہشت گردی سے جنگ کے لیے بنائے جانے والے 41 ملکی اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ بلال اکبر کو سعودی عرب کا سفیر نامزد کیا گیا ہے۔ یقیناً وہ بھی پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بدلتے ہوئے تعلقات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر پاکستان کے سعودی عرب میں بھیجے گئے سفیروں کی تاریخ دیکھیں تو ان میں نیوی کے 3 سابق ایڈمرل اور آئی ایس آئی کے سابق چیف اسد درانی کو بطور سفیر سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔ ایڈمرل عزیز مرزا، حشام صدیق بھی اسی فہرست میں شامل ہیں۔ جس سے عمومی تاثر یہی ملتا ہے کہ پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بنیاد سفارتی سے زیادہ حفاظتی بنیادوں پر ہے۔

شاہ محمود قریشی کی نا تجربہ کاری اور وزارت خارجہ کی وجہ سے تعلقات میں جو کشیدگی آچکی ہے اُس اعتماد اوردوستی کی سابقہ فضا کو بحال کرنے میں پاکستان کی عسکری قیادت متحرک نظر آتی ہے۔ امکانات واضح ہیں کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کے ریاض کے دورے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی ضرور آئے گی۔ پاک سعودی تعلقات کے پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے سعودی قیادت بھی پاکستان کی سول قیادت سے زیادہ پاکستان کی عسکری قیادت پر ہی بھروسہ اور اعتماد کرتی ہے۔ حالیہ سعودی عرب کے دورے پر بھی وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ اہمیت پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کو ہی دی جارہی ہے۔

ماضی میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ جو تعاون کیا اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ وہ تاریخی دور کون بھول سکتا ہے جب سن 1974 میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہ کانفرنس منقعد کرائی تو اسے کامیاب بنانے میں سعودی حکمراں شاہ فیصل نےاہم کردار ادا کیا۔ سن 1982 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں سعودی عرب اور پاکستان کا سیکورٹی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہ فیصلہ ہوا کہ ضرورت پڑنے پر سعودی عرب اندرونی دفاع اور سلامتی کے لیے پاکستان کی فوج کو بلا سکتا ہے۔ اس کی مثال بھی سن 1983 سے سن 1987 کے دوران دیکھی گئی جب پاکستان کے تقریباً 15ہزار فوجی سعودی عرب میں مقیم رہے۔ اسی طرح جب سن 1990 سے سن 1991 کے دوران خلیجی جنگ چھڑی اور صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا تو اس وقت بھی پاکستان نے حفاظتی سطح پر سعودی عرب کے مؤقف کا ساتھ دیا اور فوج بھی بھیجی تھی۔

افغان جہاد کی مثال بھی سب کے سامنے ہے جب امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان نے سابقہ سوویت یونین کے خلاف اتحاد بنایا اس موقع پر سعودی عرب نےمالی طور پر امداد کی تاکہ پاکستان افغان مجاہدین کی حمایت کر سکے۔ سن 1998 میں جب پاکستان نے جوہری تجربہ کیا اس وقت بھی سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی ۔ اس دوران پاکستان پر بین الاقوامی سطح پر پابندیاں لگادی گئی تھیں۔ جس کے نتیجے میں جہاں چین نے سفارتی اور سیاسی لحاظ سے پاکستان کا ساتھ دیا وہیں سعودی عرب نے اقتصادی لحاظ سے پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کو تیل کے ساتھ ساتھ پیسے بھی دیے۔

خوش قسمتی سے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایسے مذہبی، سیاسی اور سماجی رشتوں میں جڑے ہیں کہ وہ موجودہ واقعات اور حالات سے نمٹ سکتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نےموجودہ دورہ سعودی عرب کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاک سعودی تعلقات تاریخی، بہت اہم، ہمیشہ اچھے رہے ہیں اور ہمیشہ بہترین رہیں گے۔ ہمارے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور ہمارے باہمی تعلقات کے بارے میں کوئی سوال اٹھانے کی ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp FaceBook

2 Comments

  1. Loiza  May 12, 2021 3:59 pm/ Reply

    Once again good article of Rashid Jamal, I really agree with his view and opinion. Best of luck.

  2. وسیم خان  May 12, 2021 4:47 pm/ Reply

    سعودی عرب اور پاکستان کے تعللقات اور ماضی کے حالات و واقعات پر ایک اچھئ تحرير ہے۔ رشید جمال صاحب بہت خوب اسی طرح غیر جانبدار تبصره کرتے رہا کریں۔

Leave a Reply to Loiza Cancel reply

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube