Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

تولی پیر روڈ منصوبہ کشمیر کاحسن بڑھادےگا

SAMAA | - Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: May 11, 2021 | Last Updated: 1 month ago

آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں 24 فٹ چوڑی تولی پیر لس ڈنہ روڈ کی حتمی منظوری آخری مراحل میں ہے اور اس پر کام عید الفطر کے فوری بعد متوقع ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد گھائیگہ سے حویلی تک بلند بالا پہاڑوں کی چوٹیوں اور گھنے جنگلات سے سانپ کی مانند بل کھاتی اس شاہراہ پر رنگ برنگی تتلیایوں جیسی اڑتی پھرتی گاڑیاں ایک مسحور کن منظر پیش کریں گی۔

منصوبے کے لیے قائم ایکشن کمیٹی کے چئیرمین سردار محمد لطیف خان ایڈوکیٹ، کمیٹی کے تمام اراکین اور پونچھ ڈویژن خصوصاً حویلی کے عوام مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کی کاوشوں سے یہ شاندار خواب اب بالآخر شرمندہ تعمیر ہونے کو ہے۔

وزیر تعمیرات عامہ چوہدری عزیز کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر کا کام عید الفطرکے بعد شروع ہو جائے گا۔ تقریبا گزشتہ 6 ماہ کے دوران اس منصوبے کے حوالے سے یہ عجب صورت حال رہی کہ انتہائی ٹھنڈے مذاج، صلاح جو نرم گو اور ٹیبل ٹاک کے ماہر سردار لطیف خان ایڈوکیٹ کی سربراہی میں قائم ایکشن کمیٹی نے پرتشدد تحریک چلائی۔ ایکشن کمیٹی کے طرز عمل پر اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن اس کے ہر رکن کے خلوص، محنت اور نیت پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی سچ ہے کہ یہ شور شرابہ نہ ہوتا تو اس منصوبہ کا مستقبل کچھ نہ تھا ۔ یہ منظر کسی ترقی یافتہ ملک یا یورپ سے کم خوبصورت نہیں ہو گا۔

بلاشبہ یہ سڑک ان پہاڑوں کی آن بان اور شان ہی نہیں بڑھائے گی بلکہ روز گار کا بھی بہت بڑا ذریعہ بنے گی لیکن اس کے لیے حکومت کو لس ڈنہ سمیت مختلف مقامات کو کمرشل قرار دے کر ماسٹر پلان تیار کرنا چاہیے لیکن ایسا نہ ہو کہ جنگلات کی زمین پر قبضہ شروع ہو جائے اور جس کی جہاں مرضی ہو وہاں تعمیرات شروع کردے۔

جن افراد کی آراضی سڑک کے کنارے پر ہیں ان کو بھی چاہیے کہ کسی بھی قسم کی تعمیرات جامع، معیاری اور آرکیٹکٹ انجینئر کے تیار کردہ نقشے کے مطابق ہونا چاہیے جو سیاحوں کے لیے کشش کا باعث بنے۔ میں یہاں یہ لکھنے کا حق استعمال کرتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا یہ دانشمندانہ فیصلہ تھا کہ سردار لطیف خان ایڈوکیٹ کو کمیٹی کا سربراہ چنا گیا۔ ان کی جگہ کوئی جذباتی نوجوان سربراہ ہوتا تو اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت میں شاید کچھ ہاتھ نہ آتا۔

ان سب لوگوں کے لیے مبارک باد جو سیاسی پارٹیوں خصوصاً حکومت اور اپوزیشن کی علاقائی قیادت کی خاموشی، لاتعلقی اور عدم تعاون کے باوجود اس منصوبے کے پر عمدرآمد کے لیے ڈٹے رہے۔ ان نادان دوستوں کا شکریہ جو دانستہ یا نادانستہ، اندرون خانہ یا ظاہری طور پر آزاد کشمیر کے اس عظیم معاشی کوریڈور کی مخالفت کرتے رہے۔ حتٰی کہ مخالفت میں بیانات تک دیتے رہے۔ میرے پاس کافی دلائل ہیں کہ اس منصوبے سے سفری سہولیات اور آسانیاں حویلی اور معاشی فائدہ راولاکوٹ شہر اور حلقہ نمبر 4 کے عوام کو ہی سب سے زیادہ ہو گا۔

آزاد کشمیر کے عوام کے لیے یہ خوش خبری کہ منجدھار میں پھنسی تولی پیر لس ڈنہ روڑ منصوبے کی ناؤ بھی ساحل پر پہنچنے والی ہے اور جس کا سنگنل بھی مل چکا ہے۔ بلا شبہ اس کا تمام کریڈٹ سردار محمد لطیف خان اور ان کی ایکشن کمیٹی کو ہی جاتا ہے۔ گو کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کا عوامی مطالبہ پر اس کا اعلان کر چکے تھے لیکن اعلان پر عمل درآمد کے لیے اگر لطیف خان کی قیادت میں قائم ایکشن کمیٹی شور شرابہ نہ کرتی تو وزیراعظم تک اس فائل کو ہی کوئی نہ پہنچاتا۔ جب تک یہ منصوبہ موجود رہے گا میاں محمد نواز شریف اور راجہ فاروق حیدر خان کو لوگ یاد کرتے رہیں گے۔

راجہ صاحب نے منصوبے کے معائنے کے دن عوامی مطالبہ پر سڑک کو 12 سے 24 فٹ چوڑا کرنے کی منظوری دی۔ حالاں کہ نواز شریف صاحب نے تو اس منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر 36 فٹ چوڑا کرنے کی منظوری دی تھی لیکن ان کے جانے کے بعد یہ منصوبہ سکڑتا گیا اور 12 فٹ چوڑائی تک رہ گیا تھا۔ راجہ صاحب نے 24 فٹ چوڑا کرنے کا اعلان کیا اور اپنے اعلان کی لاج بھی رکھی۔

کمشنر پونچھ مسعود الرحمان نے زمینی حقائق پر مبنی جو رپورٹ دی تھی وہ اس منصوبے کی تکمیل اور کامیابی کی بنیاد بنی۔ رپورٹ اتنی جامعہ اور مستند تھی کہ کسی بھی اتھارٹی کے لیے اس کو مسترد کرنا ممکن نہ رہا۔ ایکشن کمیٹی والے اگر میری بات رکھیں تو ایک عوامی شہری استقبالیہ پروگرام میں مسعود الرحمان کو شیلڈ پیش کریں تاکہ عوامی خدمت پر مامور بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی ہو۔

وزیر ترقیات چوہدری عزیز صاحب کی موجودگی بھی اس عظیم معاشی لکیر کو سیدھا کرنے کا سبب بنی۔ چوہدری عزیز نے اپنے حلقہ حویلی کے عوام سے انصاف ہی نہیں احسان بھی کیا ہے۔ بے شک اس منصوبے کی تکمیل سے مستقبل میں حویلی کے عوام کے لیے آسانیاں ہی آسانیاں ہیں سفری آسانیاں، مریضوں کو بروقت طبی امداد پہنچانے کی آسانیاں اور سب سے زیادہ معاشی صورت حال بہتر بنانے کی آسانیاں۔ چوہدری عزیز نے درست کہا کہ اس منصوبہ کی تکمیل راولاکوٹ شہر کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور بن بیک سے محمود گلی اور درہ حاجی پیر تک لوگوں کے لیے کاروبار کے بے انتہاء مواقع ہونگے۔

چوہدری صاحب نے اس کالم نویس کو بتایا کہ سڑک کا تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ موبلائزیش شروع ہو چکی ہے اور عید کے فوری بعد کام شروع ہو جائے گا جب کہ ایک ہفتے کے اندر اس کا باقائدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جائے گا۔ وہ اس منصوبے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ میرے حلقے کے عوام کے لیے یہ منصوبہ بہت اہم ہے اور میری سیاست کا حاصل بھی۔

راولاکوٹ ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہے۔ ہجیرہ کے راستے راولاکوٹ پہنچنے میں 5 گھنٹے اور تولی پیر روڑ کے ذریعے کہوٹہ سے راولاکوٹ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے۔ تمام اسپتال، تعلیمی اور سرکاری ادارے راولاکوٹ میں ہیں اور اب یہاں پہنچنے میں بہت آسانی ہو جائے گی۔

راولاکوٹ کے راستے اسلام آباد، باغ سدھن گلی سے مظفر آباد، ہجیرہ میر پور سے پہنجاب تک پہنچنے میں آسانی ہوجائے گی جس پر حکومت کے کچھ اخراجات بھی نہیں ہوں گے۔ حکومت کو ماسٹر پلان تیار کر کے الاٹمنٹ کرنی ہوگی جبکہ باقی تعمیرات تو کاروباری حضرات خود کریں گے اور حکومت کو ریونیو بھی حاصل ہوگا۔

آزاد کشمیر میں کوئی دوسرا مقام ایسا نہیں جہاں آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژن کی آسان رسائی ہو اور وہ اتنا خوبصوت اور بلندی پر بھی ہو۔ اگر حکومت آزاد کشمیر کی سمجھ میں بات آ گئی تو سالانہ اربوں روپے کا ریونیو حاصل کرے گی اور پورا آزاد کشمیر بہت بڑا سیاحتی کوریڈور بن جائے گا۔ اس مقام پر کم از کم ایک معیاری ہوٹل تو ہونا ہی چاہئے تاکہ سیاح وہاں قیام بھی کر سکیں۔ تمام متعلقین کو ایک مرتبہ پھر اس عظیم الشان منصوبے پر کام کے اجراء پر مبارک باد۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. ضیاء الرحمن  May 12, 2021 1:25 pm/ Reply

    اللہ کرے منصوبہ بروقت کامیابی سے مکمل ہو

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube