Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

اشرف صحرائی کا انتقال نہیں قتل ہوا

SAMAA | - Posted: May 7, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: May 7, 2021 | Last Updated: 6 months ago

جموں و کشمیر کے عظیم حریت رہنما محمد اشرف خان عرف اشرف صحرائی بدھ 5 مئی 2021 کو جموں کے علاقے ادھم پور کی بلوال جیل کے ٹارچر سیل میں تشدد سے انتقال کر گئے۔ مبینہ طور پر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ کئی روز سے کرونا وائرس میں بھی مبتلا تھے۔ مگر ان کے اہل خانہ کو اس کی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کو علاج کی سہولت مہیا کی گئی۔

جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے میڈیا بیان میں کہا ہے کہ سینئر مزاحمتی رہنما اور تحریک حریت کے چیئرمین، اشرف صحرائی کا انتقال نہیں ہوا بلکہ انہیں کیا گیا۔ یہ حادثہ دنیا کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ بھارت کی قید میں 14 ہزار مزید کشمیری رہنما اور سیاسی کارکنوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو سکتا ہے۔ دنیا بھارت پر دباؤ ڈالے کہ تمام کشمیری قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جیل میں اشرف صحرائی کی خراب صحت کے باوجود ادویات سے انکار قتل کرنے کا منصوبہ ہی تھا۔

اشرف صحرائی عمر رسیدہ تھے، انہیں بروقت طبی اور دیگر نگہداشت کی ضرورت تھی، لیکن غیر قانونی نظر بندی نے اہل خانہ کو مناسب دیکھ بھال کی اجازت دی اور نہ ہی حکومت نے ذمہ داری پوری کی۔ بھارتی حکومت منصوبہ بندی کے تحت پاکستان نواز جہاندیدہ قیادت کو ختم کر رہی ہے۔

اشرف صحرائی سچے پاکستانی تھے انہوں نے تمام مال و متاع پاکستان پر قربان کر دیا۔ وہ آزادی کے لیے حریت پسندوں کے ساتھ کھڑے اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ اسی لیے انہیں ہمیشہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جاتا رہا۔ لیکن انہوں نے سخت مشکلات میں بھی سیاسی نظریہ سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ صحرائی صاحب کو سچائی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ اپنے لیے منتخب کردہ راستے پر قائم رہے اور صبر و استقامت سے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا۔ وہ نہ ڈرے، نہ دبے، نہ جھکے اور نہ ہی بکے۔ بالآخر ان کو ختم کردیا گیا ۔

بدنی طور پر تو بھارت ان کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوا، لیکن ان کے افکار اور سوچ کو ختم کرنا مشکل ہو گا۔ چھیتر سالہ بزرگ حریت رہنماء اشرف صحرائی کو بدنام زمانہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت 12 جولائی 2020 کو صبح 5 بجے ان کی رہائش گاہ باغات برزلہ سری نگر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ علحیدگی پسندوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور بھارتی آئین کو نہیں مانتے۔ جس کا وہ برملا اظہار کرتے رہے۔ انسانی حقوق کے نگراں عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں نافظ ان کالے قوانین کو غیرقانونی قانون قرار دیا۔ اس قانون کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ دو دن کے لیے رہا کرنے کے بعد دوبارہ 3 ماہ کے لیے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اس طرح اس کو جتنا مرضی طول دیا جاسکتا ہے۔ اس دوران ادارے اور فورسز ان کو ٹارچر سمیت جو بھی سلوک کریں وہ کسی عدالت میں چیلینج نہیں کیا جا سکتا۔

جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی کے حامیوں پر کیا جاتا ہے۔ اشرف صحرائی کو ان کے دیرینہ ساتھی سید علی گیلانی کی حریت کانفرنس سے علیحدگی کے محض 2 ہفتے بعد گرفتار کیا گیا ۔ جہاں ٹارچر سیل میں ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔ ترجمان حریت کانفرنس شیخ عبد المتین نے بدھ کو بتایا کہ جموں کورٹ بلوال جیل میں اسیر رہنما علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔ تحریک آزادی کشمیر ایک عظیم رہنما سے محروم ہوگئی ہے۔ مسلسل قید اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ شدید علیل تھے، جیل میں طبیعت شدید خراب ہونے پر بھارتی قابض انتظامیہ نے صرف ایک روز پہلے انہیں اسپتال منتقل کیا۔

بھارتی جیلوں میں قید دیگر کشمیریوں کی زندگی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ تیئیس اپریل 2021 کو تحریک حریت جموں کشمیر کے کنوینر غلام محمد صفی نے بھی اشرف صحرائی کی گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تھا کہ محمد اشرف صحرائی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ان کو نہ تو کسی معالج تک رسائی ہے اور نہ ہی انہیں زندگی بچانے والی دوائیں دی جارہی ہیں۔ ۔جب کہ ایک آنکھ کی بینائی بھی متاثر ہوگئی ہے۔ جیل میں ان کا وزن 13 کلو گرام کم ہوا ہے۔ حراست میں رکھے گئے رہنما کو سفاک جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، وہ شدید بیمار ہیں۔ غلام محمد صفی نے بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے اداروں پر زور دیا تھا کہ محمد اشرف صحرائی اور دیگر قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لیں جو بھارت کی جیلوں میں بند ہیں اور بدترین تشددد برداشت کر رہے ہیں۔ حریت رہنما نے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت پر زور دیا جائے کہ اشرف صحرائی کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کرے۔ لیگل فورم برائے کشمیر نے ایک خط میں عالمی ادارہ صحت، ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ ، او آئی سی ہیومن رائٹس کمشنر ودیگر تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ وہ اشرف صحرائی سمیت بھارتی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی کے لیے بھارت پر دباؤ بڑھائیں مگر دنیا نے ان اپیلوں پر توجہ نہ دی اور ممتاز حریت پسند رہنماء کو جیل میں قتل کر دیا گیا۔

اشرف صحرائی، ممتاز حریت رہنما سید علی گیلانی کے سیاسی جانشین اور بااعتماد ساتھی تھے۔ سید علی گیلانی نے 19 مارچ 2018 کو اپنی جگہ اشرف صحرائی کو تحریک حریت جموں وکشمیر کا عبوری چیئرمین مقرر کیا تھا اور وہ انتقال تک اس عہدے پر بدستور فائز ہیں۔ محمد اشرف صحرائی کے فرزند جنید احمد صحرائی کو رواں برس 19 مئی کو سری نگر کے کنہ مزار نواح کدل میں ہونے والے ایک مسلح تصادم میں شہید کیا گیا تھا۔ وہ حزب المجاہدین کے کمانڈر تھے۔ تیس سالہ جنید صحرائی جنہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی نے 24 مارچ 2018 کو حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدرخان نے اشرف صحرائی کی دوران اسیری شہادت پر گہرے رنج و غم اور تعزیت کا اظہار تو کیا لیکن اشرف صحرائی کی قربانیوں کے مقابلے میں صرف ایک بیان ہی کافی نہیں خواہ وزیراعظم کا ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان کی سطح پر سوگ کا اعلان ہونا چاہیے تھا کم از کم آزاد کشمیر کا جھنڈا 3 دن تک سرنگو رہتا تو دنیا کو مثبت پیغام جاتا۔ اشرف صحرائی کے لیے 3 دن کا سرکاری سوگ کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن با اختیار لوگوں نے کچھ سوچ کر ہی فیصلہ کیا ہو گا۔

اشرف صحرائی صاحب کے انتقال کا مجھے ذاتی طور پر بہت افسوس ہوا۔ میں نے برہان وانی ایک تحریک ایک سنگ میل مقبوضہ کشمیر کے مہربان ساتھیوں کی خواہش پر ہی شائع کی تھی جس میں ان کی توجہ اور بھر پور سرپرستی شامل تھی۔ اس کتاب پر جناب اشرف صحرائی کا مقدمہ بھی درج ہے ۔ جس میں انہوں نے میرے اور کتاب کے بارے میں جو لکھا وہ میرے لیے اعزاز کی بات اور کتاب کی اہمیت کو دو چند کرتا ہے۔ اشرف صحرائی صاحب مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ یہ بات باعث تسکین ہے کہ کتاب کے مصنف بشیر سدوزئی نے سال 2016 میں شہید ہوئے نامور مجاہد برہان وانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اور اس واقع کے بعد یونین تاریخ کو سپرد قرطاس کرنے کی ایک بہترین اور احسن کوشش کی ہے اور جن اغراض و مقاصد کے پیش نظر اسے قارئین کی نذر کیا ہے وہ قابل تحسین و آفرین ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اس کتاب میں مسئلہ کشمیر سے متعلق تاریخ کے کئی گوشوں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے اور قارئین ان کی قیمتی آراء اور خیال آفرینی سے بھی مستیفیض ہوں گے۔ ان کی کاوشوں اور کوششوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے بہی خواہ سینکڑوں میل کی مسافت کے باوجود تحریک آزادی کے خدوخال سنوارنے میں اپنا فرض منصبی بخوبی ادا کر رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube