Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

بھارت میں کرونا کی صورتحال،پاکستان کی ہمدردی

SAMAA | - Posted: May 5, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: May 5, 2021 | Last Updated: 6 months ago

بھارت میں کرونا وائرس کی وبا سے روزانہ لگ بھگ 13 ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیں اور 50 لاکھ سے زائد ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ دو مئی 2021ء کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 86 ہزار 492 نئے کیسز رجسٹرڈ ہوئے تاہم امریکی این جی او جسٹس فار آل سمیت کے مطابق روزانہ متاثرین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور ہلاکتیں بھی 10 ہزار یومیہ سے زائد ہورہی ہیں۔

این جی او کی خبر کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ شمشان گھاٹ کے ذرائع کے مطابق گزشتہ 7 دنوں میں 50 ہزار سے زائد مرنے والوں کو جلایا جاچکا ہے جبکہ مسلمان یہودی اور عیسائی سمیت دیگر اقلیتوں کی تعداد کو بھی شامل کیا جائے تو روزانہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد لگ بھگ 13 ہزار روزانہ سے زیادہ ہی ہو گی۔ عام شہریوں کے لیے ریاست گجرات کی ایک مسجد میں 50 اور دارالعلوم دیوبند میں142 بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال قائم کیا گیا ہے جبکہ دارالعلوم میں ایک ہزار بستر تک توسیع دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہمیشہ مسلمانوں پر مظالم اور پاکستان کو بنیاد پرست، دہشت گرد ملک ثابت کرنے کی کوشش اور شدید نفرت کا اظہار کیا لیکن اس صورت حال میں بھارتی مسلمان ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں میں بھی بھارتی عوام کے لیے ہمدردی کا جذبہ جاگ اٹھا ہے۔ فیس بک پر بھارت میں کرونا لہر پر پاکستانیوں کو تشویش کی سرخی کے ساتھ 26اپریل 2021 کو میں نے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم کی کچھ تصویروں کے ساتھ پوسٹ شئیر کی کہ پاکستان کے حکمرانوں، سمیت کچھ روشن خیال این جی او کے نمائندوں اور خود ساختہ دانشوروں کو پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا سے بھارت میں انسانی جانوں کے نقصان پر اچانک ہمدردی اور محبت جاگ اٹھی۔ اس طرح کا ترس اور محبت ان کو کبھی بھی کشمیر کے عوام پر ہونے والے مظالم پر جاگتے محسوس نہیں ہوئی ۔ جی ہاں ایسا لگتا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کے لیے ان کے ایسے ہی جذبات ہیں جیسے عربوں کے فلسطینیوں کے لیے۔

یہ تو درست ہے کہ انسانیت جہاں تکلیف میں ہو افسوس اور ہمدردی ہونی چاہیے لیکن کرونا وائرس سے ہلاکتوں، اور فوجیوں کی جانب سے معصوم بچیوں کا جسم نوچنا اور بے گناہ نوجوانوں کے سینے چھلنے کرنے کے واقعات میں فرق محسوس کرنا چاہئے اگر مظلوموں کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ ہو تو اللہ کی طرف سے آنے والی وبا کسی حکمت سے خالی نہیں اس لیے کہ اللہ اپنی تخلیق پر ظلم نہیں کرتا۔ لیکن جہاں ریاست اپنے عوام پر ظلم کے ساتھ ستم بھی کرنے لگے وہاں درد دل رکھنے والوں کے دلوں میں محبت اور افسوس کا اظہار زیادہ دیکھا جانا چاہیے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ کشمیریوں پر مظالم کی تصویریں دیکھی جائیں تو ممکن ہے آپ کے دل سے ایسے ملک کے لیے بد دعا ہی نکلے جس نے ان مظلوم لوگوں کے لیے خوبصورت دنیا جہنم بنا رکھی ہے۔ میرے دل سے تو بد دعا ہی نکلتی ہے۔ اس پر کسی ایک فرد نے بھی میری تائید نہیں کی جن میں مذہبی جماعتوں کے کارکن اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی مذہب کی بنیاد پر نفرت کا اظہار نہیں کرتے بلکہ حقیقت پسندی اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ راولپنڈی سے ایم اے غنی خان نے کہا کہ بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے، ظالم حکمرانوں کی ہلاکت اور بھارتی ظالم افواج کی تباہی کے لیے دعا کرنی چاہیے لیکن بھارت کے مفلوک الحال عوام کے لیے ہمدردی کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں غنڈوں سے نفرت جائز ہے۔

غضنفر حنیف نے لکھا کہ دونوں ممالک کے بالادست طبقات کا مسئلہ ریاست جموں وکشمیر پر بیانیہ 70 سال سے ایک ہی ہے۔ اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ دانش انصاری لکھتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ کا قہر نازل ہو رہا ہے بھارت پر لیکن ہماری منافقت، لاپرواہی، دین سے دوری کی وجہ سے ہم بھی اس قہر کی زد میں آسکتے ہیں، خدا نخواستہ ۔

سہیل الیاس کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ٹکڑے ہونے سے زیادہ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط کرلیں. ہمارا ملک مضبوط ہاتھوں میں ہو تو انڈیا تو کیا ہم اسرائیل کو بھی انسانیت کا سبق سیکھا سکتے ہیں. طاقت اتنی ہندو دہشت گرد تنظیموں میں نہیں جتنی کمزوریاں انڈین مسلم تنظیموں میں ہیں۔

محمد حنیف خان لکھتے ہیں کہ ماشاء اللہ میرے بھی یہی جذبات ہیں۔ انڈیا پر اللہ کا قہر آیا ہوا ہے کیوں کہ وہ کشمیر میں ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ اللہ نے انڈیا کے کشمیریوں پر ظلم کی وجہ سے پوری دنیا کو اپنی وبا میں لپیٹا ہوا ہے۔ آج انڈیا ظلم ختم کرے کل رزلٹ دیکھ لے۔ پاکستانی این جی اوز نے کبھی اپنی ایمبولینسز کشمیر بھیجی؟ کشمیر نہیں بھیج سکتا تھا تو انڈیا ہی بھیج دیتا کہ کشمیر میں بھیج دو۔ انڈیا کی حکومت بشمول عوام وہ آستین کے سانپ ہیں جو سنبھلتے ہی ڈنک ماردیں گے یہ یقین رکھیں۔ کراچی سے بھوپال فورم کی چیئرپرسن شگفتہ فرحت کہتی ہیں کہ بے شک بشیر بھائی کشمیر میں ہمارے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ جو کچھ ظلم ہوا ہے اس پر تو میرا بھی دل چاہتا ہے کہ جا کر خود ہی ظلم کرنے والوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے چاہیں لیکن ابھی ہم میں انسانیت کی کوئی رمق باقی ہے خود ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کفار کے ساتھ نفرت نہیں کی بدلہ نہیں لیا بلکہ ہمیشہ یہی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ انہیں نیک ہدایت دے یہی ہمارا مذہب ہمیں سکھاتا ہے۔ سعیدہ وحید نے میری پوسٹ پر لکھا کہ آپ نے بلکل صحیح بات کی ہے لیکن ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ کسی کی مشکل میں اس کی مدد کرو بلکل درست فرمایا آپ نے۔ دنیا کشمیر میں لاک ڈاؤن پر خاموش ہے۔ پھر آپ نے دیکھا اللہ پاک نے پوری دنیا میں کیسا کیا عبرت کا مقام ہے۔ اگر سمجھ میں آجائے ابھی تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

عالمی ذرائع ابلاغ موجودہ صورتحال پر مودی حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے کہا ہے کہ کروناوائرس کی دوسری لہرمیں بھارت کا نظام صحت تباہ ہوگیا اور بھارتی حکومت نے شہریوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ اسپتالوں میں آکسیجن، بستراور دوائیں میسر نہیں ہیں، آسٹریلوی اخبار نے مودی حکومت کو ملک کی تباہی کا ذمے دار ٹھیرایا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق مودی کا بھارت کرونا وبا سے سب سے بری طرح متاثرہ ممالک میں شامل ہے جبکہ دی گارجین نے بھی بھارت میں جاری کورونا بحران کا ذمہ دار مودی حکومت کی غلطیوں کو قرار دیا ہے۔

ٹویٹر نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی حکومت کی درخواست پر بڑی تعداد میں ٹویٹس بلاک کردی گئی ہیں۔ کانگرس لیڈر راہول اور پریانکا گاندھی نے کہا کہ آکسیجن کی قلت اور آئی سی یو بیڈز کی کمی کے حالیہ بحران کی تمام تر ذمہ داری بی جے پی حکومت پر عائد ہو تی ہے۔ وزیر اعظم مودی تحفظ ، سمت اور قیادت کا احساس فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حیدرآباد سے مسلم رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا ہے کہ مودی کرونا وبا کو پھیلنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا سب سے بڑے ہندو میلے اور مغربی بنگال میں بڑی انتخابی ریلیوں کی اجازت دینے کا مودی حکومت کا فیصلہ ملک میں کرونا کو تیزی سے پھیلنے کا باعث بنا۔ جب مودی کو کرونا وبا کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے چاہیے تھے تو وہ اس وقت انتخابی ریلیوں سے خطاب میں مصروف تھے۔

بی جے پی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا ویکسینیشن پروگرام جاری ہے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اب تک صرف 10 فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی خوراک لگائی گئی ہے۔ وائرس کنٹرول کرنے کے لیے کم از کم 80 کروڑ افراد کو ویکسینیٹ کرنا ضروری ہے۔ جس کے لیے ابھی کافی وقت درکار ہے، اگر ہلاکتوں کی تعداد یہی رہتی ہے تو ویکسینیشین مکمل ہونے تک 50 لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube