سول سوسائٹی کا مقدمہ کشمیر دنیا تک پہنچانے کامطالبہ

SAMAA | - Posted: Apr 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 28, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: کشمیرمیڈیا سروس

اٹھائیس 28 اکتوبر 1947کو سری نگر ایئرپورٹ پر مسلحہ دستے اور جنگی سامان اتارا جارہا تھا، کشمیری اس کے خلاف رام باغ پل سرینگر میں احتجاج کررہے تھے لیکن بھارتی فورسز کو وہ احتجاج پسند نہیں آیا۔ صبح 10بجے فائرنگ کر کے 16افراد کو شہید، درجنوں کو زخمی و گرفتار کیا گیا ۔اس دن سے اب تک نہ احتجاج رکا اور نہ فائرنگ اور نتیجے کے طور پر اب تک 7لاکھ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بھارتی قبضے کے پہلے روز سے جاری ہے۔

شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے غنڈوں کو تو اس وقت ہندو پریشد کے بدمعاشوں کے ساتھ ملا کر مسلحہ کیا گیا۔ آزادی اور پاکستان کا نام لینے والوں کو چن چن کر قتل کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں کا سب سے زیادہ قتل عام  جموں میں ہواجہاں 3 دن کے اندر کٹھوعہ کے ندی نالے لاشوں سے ایسے بھرے کہ نکاسی بند اور پانی کھیتوں اور کھلیانوں تک پھیل گیا ۔ یورپین پریس نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ 3 دنوں میں ساڑھے تین لاکھ لوگوں کو قتل کیا گیا۔ محمود ہاشمی کی کتاب “کشمیر اداس ہے” جس نے بھی پڑھی وہ سن 1947میں شیخ عبداللہ، انتہاء پسند ہندوؤں اور حکومت کے اتحاد ثلاثہ کا مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم کے پہاڑ بھول نہیں سکتا۔

گزشتہ تین دہائیوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کو شہید 16ہزار کو غائب کردیا گیا اور 5اگست 2019 کے بعد تو کشمیر جیل بن چکا جبکہ اپریل 2021 شروع ہوتے ہی مظالم میں تیزی آئی۔ اس وقت وادی کشمیر کے چار اضلاع، شوپیاں، ترال، انت ناگ اور بارہ مولہ مکمل لاگ ڈاون میں ہیں اور تب سے اب تک 27 افراد کو شہید، 50 سے زائد گرفتار، ایک مسجد سمیت درجنوں گھروں کو مسمار یا نذر آتش کیا گیا اور کئی بستیاں اجاڑ دی گئیں۔ ان اضلاع میں نہ کوئی باہر جاسکتا ہے نہ اندر آسکتا ہے۔ لوگ گھروں میں بند ہیں۔ جن گھروں پر گولہ باری اور آگ لگائی جا رہی ہے ان کے مکین سڑکوں پر ہیں۔ فوج چاہے جس گھر میں گھسے وجہ بتائے بغیر تہس نہس کرے یا عزت کی پامالی نہ کوئی پوچھتا ہے اور نہ پوچھ سکتا ہے۔

بھارت کے اس ظلم کے خلاف مئوثر آواز  بلند نہیں ہورہی۔ اگر ہورہی ہے تو دنیا میں اس کا اثر کیوں نہیں ہے۔ آزاد کشمیر اسلام آباد کے نزدیک ہے اور راولپنڈی اسلام آباد میں لاکھوں کشمیری رہتے ہیں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اسلام آباد کے کسی ایک خاص مقام پر ایک لاکھ کشمیریوں نے جمع ہو کر کوئی پرامن احتجاج کیا ہو یا ایک لاکھ سے زائد افراد نے ایک یا دو گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی ہو۔

مجھے یاد نہیں کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر چکوٹی کی سڑک پر منعقد کی گئی ہو یا مظفر آباد سے جکوٹی تک ایک ملین افراد کا علامتی جلوس نکلا گیا ہو جس کی کوئی بین الاقوامی خبربن سکے۔ تاہم کراچی کی سول سوسائٹی ہر جمعہ کی نماز کے بعد کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتی ہے جس میں کشمیری برائے نام ہی شامل ہوتے ہیں۔ خیر کراچی میں مقیم کشمیری ان دنوں بلدیہ ٹاون کے انتخاب میں مصروف ہیں۔ یوتھ فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام اس جمعہ کو بھی مظاہرے میں سول سوسائٹی کے کارکنان، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں سمیت کئی نوجوانوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مظلوم کشمیری عوام سے اظہار یجہتی پر مبنی نعرے آویزاں تھے، پلے کارڈز اور بینرز پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والے مظلوم کشمیریوں کی تصویریں بھی آویزاں کی گئی تھیں۔ سردار نزاکت خان، جمشید احمد۔ڈاکٹر صابر ابومریم، بشیر سدوزئی، سرداراسد جمیل۔ آصف حسین سدوزئی، سلیم جے میمن، ثناءاحمد، زوہیب نوید، بشپ گلفام اور دیگر نے خطاب کیا۔

معروف کشمیری رہنما سردار نزاکت کا اس موقع پرحکومت پاکستان اور ارباب اقتدار سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو بنیادی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں نے اپنا سب کچھ پاکستان کے مستقبل کے لیے قربان کیا ہے۔ حکومت پاکستان کو اگر بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات بنانے ہیں تو بنائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن کوئی بھی کام کشمیر کاز کو پس پشت ڈال کر نہیں کرنے دیا جائے گا۔

پاکستان میں فلسطین اور کشمیر پر کام کرنے والی واحد این جی او، فلسطین فاءونڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ دنیا میں دواہم ترین مسائل ہیں، ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر، عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی نے شیطان بزرگ امریکہ اور اس کے چہیتے اسرائیل کو بڑھاوا دیا ہے۔

عالمی اداروں کی بے حسی اور مجرمانہ خاموشی اس بات کا سبب بنی ہے کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل 70 سال سے حل طلب ہیں۔ مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونیوں کا تسلط قائم ہے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی جاری ہے، کشمیر اور فلسطین دونوں مقامات پر امریکہ کی سرپرستی میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ کشمیری عوام کی قربانیاں فراموش نہیں ہونے دیں گے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کشمیر اور فلسطین کاز کے لیے ہر ممکنہ جدوجہد اور تعاون جاری رکھے گی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چئیرمین اور کراچی میں کشمیریوں کے مسائل پر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے توانا آواز جمشید احمد  نے کہا کہ بھارت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی انتہا کر دی ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برادری میں بھارت کے مظالم کو اٹھائے اور اس کو بے نقاب کرے۔

کالم نویس و مصنف بشیر سدوزئی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے میڈیا پر پابندیاں ہیں انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ جس قدر کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے دنیا تک ان مظالم کی اطلاعات میڈیا پابندیوں کے باعث نہیں پہنچ رہی۔ کشمیری دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں باہر نکلیں اور مظلوم کشمیری عوام پر ہونے والے ریاستی مظالم سے دنیا کو آگاہ کریں۔

کراچی میں کشمیر کمیونٹی کو ایک  سماجی پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ان کے مسائل ایوانوں تک پہنچانے کے لیے جدوجہد کرنے والے رہنما آصف سدوزئی نے کہا کہ اس وقت کشمیری مشکل میں ہیں اور ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دے ،سیسیلن جیمز اور بشپ گلفام جاوید نے کہا کہ پاکستان کی اقلیت برادری بھارت کی ریاست دہشت گردی کی بھر پور مذمت کرتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جس طرح پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور خیال رکھا جاتا ہے بھارت بھی اقلیتوں کو جینے کا حق دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو اپنی زمین پر جینے کا حق دیا جائے۔

یوتھ فورم فار کشمیر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذہیب نوید نے کراچی کی سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یوتھ فورم فار کشمیر ہر جمعہ کو دنیا بھر میں احتجاج کرتی ہے تا کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی تازہ صورت حال سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ خاتون سماجی کارکن ثناء احمد نے کہا کہ پاکستانی خواتین مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پرزور مذمت کرتی ہیں اور کشمیری خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔

مظاہرین نے کشمیری عوام کے حق میں نعرے بازی کی اور بھارت کے مظالم کے خلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی کی پر زور مذمت کرت ہوئے پاکستان زندہ باد اور بھارت مردہ باد سمیت لے کے رہیں گے آزادی اور ہے حق ہمارا آزادی کے فلک شگاف نعرے بھی بلند کئے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ کراچی میں مقیم لاکھوں کشمیری اس طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔ اکثریت سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے حالاں کہ وہ اس طرح کے مظاہرے میں شرکت کر کے اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube