Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

واجدشمس الحسن کے انکشافات جو اُن کی کتاب میں نہیں

SAMAA | - Posted: Apr 8, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 8, 2021 | Last Updated: 6 months ago

سابق سفیر واجد شمس الحسن کی کتاب ’بھٹو خاندان میری یادوں میں‘ پر سینئر صحافی حامد میر، جاوید چوہدری، مجاہد بریلوی، رؤف کلاسرا اور دیگر قلم کاروں کا تبصرہ کرنا، ایک ماہ میں ہی کتاب کے پہلے ایڈیشن کا فروخت ہوجانا اور پنجاب و خیبر پختونحوا کے چھوٹے چھوٹے شہروں سے کتاب کی مانگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کتاب میں کچھ ایسا ضرور ہے جسے لوگ پڑھنا چاہتے ہیں۔

کتاب کے ’مرتب‘ کی حیثیت سے راقم نے چاہا کہ کتاب کے پس منظر کے علاوہ کچھ وہ باتیں بھی قلمبند کی جائیں جو فی الحال اس میں شامل نہیں تاہم وہ اگلے ایڈیشن کا حصہ ہوں گی جو رمضان کے بعد متوقع ہے۔

واجد شمس الحسن سے میری پہلی ملاقات 1993ء میں اس وقت ہوئی جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ پینو راما سینٹر سے واجد صاحب کی سرپرستی میں ہفت روزہ ’سنہرا دور‘ کا آغاز ہوا، اکثر شام کے بعد واجد صاحب پینوراما سینٹر آتے اور اپنے مخصوص انداز میں سگار سلگاتے اور دھیمے لہجے میں رہنمائی کرتے۔ وہ انگریزی اخبار جس کا نام انہوں نے ’پنچ’  تجویز کیا تھا، اسے باقاعدہ طور پر شائع کرنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے مگر ایک دن انہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں برطانیہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر مقرر کردیا ہے۔

واجد صاحب لندن چلے گئے اور ان کا لگایا ہوا پودا ’سنہرا دور‘ 1998ء تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ اس دوران ہمارا بھی لندن آنا جانا رہا، جب بھی لندن جانا ہوتا واجد صاحب ایک پُرتکلف اور محبت بھری شام ہمیں ضرور دیا کرتے تھے۔ 4 اپریل 2015ء کی بات ہے کہ مشتاق لاشاری کے ساتھ مل کر واجد صاحب کا ایک طویل انٹرویو کیا، اس کے ساتھ ہی ہم نے واجد صاحب سے درخواست کی کہ ہم ان کی یادداشتوں کو قلم بند کرنا چاہتے ہیں۔ واجد بھائی کیوں کہ انگریزی اخبار سے وابستہ رہے ان کی خواہش تھی کہ کتاب کو انگریزی زبان میں آنا چاہئے، میرا جب بھی لندن جانا ہوتا دو تین کیسٹ میں گفتگو ریکارڈ کرلیا کرتا تھا۔ یہ سلسلہ تین چار سال تک جاری رہا۔

واجد بھائی جو کچھ لکھتے وہ ہمیں بھیج دیا کرتے تھے، یوں میرے پاس اتنا مواد جمع ہوچکا تھا کہ اسے کتاب کی شکل دی جاسکتی تھی لیکن واجد بھائی کی ناساز طبیعت کی وجہ سے کتاب کا کام تقریباً رک گیا تھا، واجد صاحب کی خواہش تھی کہ کتاب کے فائنل پروف کیلئے مجاہد بریلوی یا میں لندن آجائیں۔ لیکن کرونا کی پابندیوں کی وجہ سے لندن جانا ممکن نہیں تھا، سو کتاب کی پرنٹنگ اور تقسیم کاری کی ذمہ داری واجد صاحب نے مجاہد بریلوی اور ہمارے کندھے پر ڈال دی۔

کتاب مارکیٹ میں آتے ہی ایک ماہ میں فروخت ہوگئی، آخر اس کتاب میں ایسا کیا ہے جس کی بناء پر کتاب بین دھڑا دھڑ اسے خرید رہے ہیں۔ اس کا ذکر ہم آگے کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ  کچھ اور باتوں کا بھی تذکرہ ہوگا جو کتاب میں شامل نہ ہوسکیں، جنہیں آئندہ ایڈیشن میں تفصیل کے ساتھ  شائع کیا جائے گا۔

واجد صاحب نے بتایا کہ جب بی بی کی وصیت سامنے آئی تو اس پر بھی شکوک و شبہادت پیدا کئے گئے۔ ’میں بے نظیر بھٹو کی ہاتھ کی لکھائی سے اتنا واقف ہوں کہ اگر مجھے دور سے بھی دکھائیں گے تو میں بے نظیر کی ہینڈ رائٹنگ پہچان لوں گا۔ محترمہ نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ ’’واجد بھائی میں کچھ لکھ کر چھوڑ کر جانا چاہتی ہوں‘‘ مجھے تو کبھی اس بات کا یقین ہی نہیں تھا کہ بی بی کے ساتھ اس طرح کا سانحہ پیش آجائے گا جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اس بات کا 100 فیصد یقین تھا کہ ان کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے اور وہ ہوگیا‘۔

واجد صاحب لکھتے ہیں کہ ’محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کا ایک بہت بڑا سانحہ تھا، آصف علی زرداری بہت مضبوط اعصاب کے مالک اور بہادر آدمی ہیں، اس حادثے کو برداشت کرنا بھی بڑی بہادری اور ہمت کا کام تھا۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو متحد رکھا۔ صورتحال کو بڑی دانائی اور سمجھداری سے کنٹرول کیا، انہوں نے جذباتی اور بکھرے ہوئے لاکھوں کارکنوں کو دلاسہ دیا‘۔

زرداری صاحب اپنے قریبی دوستوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں کتنا پیار کرتے ہیں اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے۔ واجد صاحب نے بتایا کہ ’ایک دن صدر پاکستان آصف علی زرداری کا فون آیا، انہوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے، جس انداز میں انہوں نے کہا میں سمجھا کہ وہ ناراض ہیں، میں نے کہا میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی پرنس چارلس کے ڈنر کی ویڈیو دیکھی ہے، اس میں آپ کی شیروانی کا کالر دو انچ ڈھیلا تھا، اس کا مطلب ہے کہ آپ کا وزن کم ہورہا ہے۔ میں نے جب پہلے دیکھا تھا اس وقت آپ کا کالر اتنا زیادہ ڈھیلا نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک ہے، زرداری صاحب نے کہا آپ فوری طور پر اپنا مکمل چیک اپ اور ٹیسٹ کرائیں۔ دوسرے دن جب ڈاکٹرز نے میرا مکمل چیک اپ اور ٹیسٹ کیے تو معلوم ہوا کہ میں واقعی بیمار ہوں اور میری رپورٹ درست نہیں آئی تھیں۔ میرا ہیموگلوبین بہت کم تھا، شوگر بڑھی ہوئی تھی، وائٹ سیل بہت بڑھ گئے تھے، گردے بھی کام نہیں کررہے تھے، یہ یقیناً پریشانی کی بات تھی۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی ویڈیو سے انہوں نے پہچان لیا تھا کہ میں بیمار ہوں۔

اس سوال کے جواب میں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دونوں ادوار میں ایٹمی دھماکہ کیوں نہیں کیا؟، پر واجد صاحب نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی عالمی سیاست پر گہری نظر تھی، ان کا یہ تدبر اور وژن تھا کہ ہم ایٹم بم کا کئی بار کولڈ ٹیسٹ کرکے اس بات کا یقین کرچکے ہیں کہ ہمارا تجربہ کامیاب رہا ہے، اب صرف ایٹم بم کو ایکسپوز کرنے کی ضرورت تھی۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور میں ایٹمی دھماکہ اس لئے نہیں کیا کہ ساری دنیا پاکستان کے پیچھے لگ جاتی، ورنہ بے نظیر اپنے دور حکومت میں ایٹمی دھماکہ کرسکتی تھیں مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ محترمہ نے کہا تھا کہ اگر ہم نے پہلے دھماکہ کیا تو امریکا، اسرائیل اور بھارت دنیا بھر میں ہمارے خلاف محاذ کھڑا کردیں گے، ہمارے پر بہت زیادہ پابندیاں لگادی جائیں گی۔

سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری کی پارٹی سے غداری اور احسان فراموشی کے بارے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ پرانا انٹیلی جنس کا آدمی تھا، اسے پارٹی میں پلانٹ کیا گیا ہوگا، ایجنسیوں کا ایک طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندے سے فوری کام نہیں لیتے، وہ اسے پالتے رہتے ہیں تاکہ اُس کی اہمیت بڑھتی رہے، پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آپ سے کہتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہیں اتنا عرصہ پالا پوسا ہے، اب تمہاری قربانی کا وقت آگیا ہے، اب تم ہمارے لئے کام کرو۔ یہی فاروق لغاری کے ساتھ ہوا، اسے ہماری حکومت برطرف کرنے کیلئے استعمال کیا گیا‘۔

فاروق لغاری نے واجد صاحب پر جھوٹے الزامات لگا کر ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار کروایا اور انہیں سیف ہاؤسز اور جیل میں رکھا گیا۔ ذہنی اور جسمانی تشدد کے تمام تر طریقوں کے باوجود فاروق لغاری اور بعد میں سیف الرحمن، واجد صاحب کو توڑنے اور ان کی وفاداری تبدیل کرانے میں ناکام رہے۔ واجد صاحب نے بے نظیر بھٹو سے اپنے اعتماد، یقین اور بھروسے کے رشتے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

بے نظیر بھٹو اپنے آخری وقت تک واجد صاحب پر بے پناہ اعتماد اور بھروسہ کرتی تھیں، انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور برطانوی فارن آفس کو بتادیا تھا کہ مجھ سے جب بھی رابطہ کرنا ہو آپ صرف واجد صاحب سے بات کریں گے۔ واجد بھائی کا بے نظیر بھٹو کے ساتھ جو رشتہ تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود شہادت سے دو دن پہلے یعنی 25 دسمبر 2007ء کو واجد صاحب کو فون کیا، ان کی خیرت معلوم کی اور کافی دیر تک گفتگو کرتی رہیں۔ اس وقت بھی واجد صاحب نے محترمہ سے کہا کہ آپ اپنی جان کیوں خطرے میں ڈال رہی ہیں، آپ لندن واپس آجائیں اور یہاں سے الیکشن مہم چلالیں۔

واجد صاحب نے یہ بھی بتایا کہ سردار عطاء اﷲ مینگل اور محمود خان اچکزئی لندن میں محترمہ سے ملنے آئے، انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے کہا کہ آپ یہ اعلان کردیں کہ حکومت میں آنے کے بعد ہم صوبوں کو مکمل خود مختاری دیں گے۔  ہم بلوچستان اور سرحد میں آپ کو سپورٹ کریں گے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ’’میں صوبوں کو خود مختاری دینے کیلئے تیار ہوں مگر جو خود مختاری آپ چاہتے ہیں وہ ممکن نہیں ہے، ہم اقتدار میں آنے کے بعد تمام جماعتوں کو ملاکر صوبوں کی خودمختاری کا مسئلہ حل کریں گے‘‘۔ سردار عطاء اﷲ مینگل اور محمود خان اچکزئی چاہتے تھے کہ سن 1940ء کی قرارداد پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی کے تحت صوبوں کو خود مختاری دی جائے۔

برطانیہ اور امریکا کی اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ واجد صاحب کا کہنا ہے کہ ایک وقت تھا کہ امریکا اور برطانیہ کے فارن آفس کے افسر ہمارے فون کا جواب بھی نہیں دیا کرتے تھے اور جب ان کی پالیسی میں تبدیلی آئی تو امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بے نظیر بھٹو سے خود رابطہ کیا بلکہ پرویز مشرف اور بے نظیر کی دبئی میں ملاقات بھی شیڈول کروائی۔ واجد صاحب مزید بتاتے ہیں کہ برطانوی وزیر خارجہ (فارن سیکریٹری) جیک اسٹرا نے بے نظیر بھٹو سے ایک ملاقات میں کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں پاکستان میں حقیقی جمہوریت آئے، انتخابات ہوں اور تمام جماعتوں کو حصہ لینے کی اجازت ہو، پاکستان میں حالات ایسے پیدا ہوگئے ہیں کہ کسی وقت بھی کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ پرویز مشرف کی زندگی خطرے میں ہے، ان پر تین بار حملہ ہوچکا ہے، آخری حملے میں تو وہ بال بال بچ گئے تھے، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ پرویز مشرف کسی حادثے کا شکار ہوجائیں ان کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ اور منصفانہ الیکشن ہوجائیں‘۔

کتاب کا اہم حصہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت اور قتل کی انکوائری ہے جس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ بے نظیر بھٹو کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔ حکومت نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو جو ورک پلان دیا تھا اس میں بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش شامل نہیں تھی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے کہا گیا تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ بے نظیر بھٹو کی موت کس ہتھیار سے ہوئی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جانب سے کوتاہی ہوئی ہے، پاکستان میں جب ہماری حکومت تھی تو محترمہ کے قتل کی فوری طور پر تحقیقات ہونی چاہئے تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آپ اقتدار میں ہوتے ہوئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کرسکتے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ اگر بی بی اس حملے میں بچ بھی جاتیں تو 100 گز کے بعد ان پر دوبارہ حملہ ہوتا، انہوں نے اس دن یہ طے کرلیا تھا کہ آج بی بی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

واجد شمس الحسن نے اپنی کتاب کا آغاز اپنے بچپن سے کیا ہے، جب ان کی عمر 6 سال تھی، انہیں قائداعظم محمد علی جناح، سردار عبد الرب نشتر اور مولانا حسرت موہانی جیسی ہستیوں سے ملنے، تحریک پاکستان کے نظریے اور قیام پاکستان کے مقاصد کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملا، یہی وجہ ہے کہ ان کی رگوں میں پاکستان کی محبت دوڑتی ہے اور وہ اپنے کالموں میں قائد اعظم کے نظریے کا پرچار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اپنی کتاب میں این آر او، ممیو گیٹ، بے نظیر بھٹو کی شہادت، امریکا سے تعلقات جیسے موضوعات پر گفتگو کی ہے جو اس سے پہلے سامنے نہیں آئیں۔ ایک سینئر صحافی، کالم نگار اور سابق ہائی کمشنر کی حیثیت سے واجد شمس الحسن اپنی کتاب ’بھٹو خاندان میری یادوں میں’ کے ذریعے پاکستان کی تاریخ کے پوشیدہ اوراق پہلی بار منظر عام پر لائے ہیں۔

راقم رشید جمال شعبہ صحافت سے 1993ء سے وابستہ اور کراچی سے شائع ہونے والے میگزین رہبر کے ایڈیٹر ہیں، جن کے مختلف اخبارارت میں کالم اور انٹرنیشنل جنرل میں ریسرچ پیپر بھی شائع ہوتے ہیں۔ آپ سندھ دوراہے پر، سندھ پنجاب تضاد، بلوچستان مسئلہ کیا ہے، مسئلہ کراچی اسباب و حل سمیت 14 کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube